نبی کریمﷺ کی شہادت

ابو یعلی، طبرانی اور حاکم نے اپنی مستدرک میں اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر میں نو؍۹ بار قسم کھاکر یہ کہوں کہ حضرت رسول اللہﷺ شہید ہیں تو میں اسے زیادہ پسند کروں گا بہ نسبت اس کے کہ میں ایک بار قسم کھا کر کہوں کہ آپ شہید نہیں ہوئے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بھی بنایا اور شہید بھی۔

حضور کی شہادت کے ثبوت میں بخاری اور بیہقی کی روایت

بخاری اور بیہقی میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ مرضِ وفات میں فرماتے تھے میں اس وقت تک اس کھانے کی تکلیف بدستور محسوس کرتا رہا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور اب اس کھانے نے میری شہ رگ کو قطع کردیا ہے۔
اس حدیث کے بموجب حضورﷺ جب شہید ٹھہرے تو نص قرآنی سے قبر انور میں آپ کا زندہ ہونا بھی ثابت ہوگیا خواہ عموم لفظ سے ہو یا مفہوم موافق سے۔ امام بیہقی نے کتاب الاعتقاد میں فرمایا انبیاء علیہم السلام کو قبضِ ارواح کے بعد ان کی روحیں لوٹا دی جاتی ہیں۔ لہٰذا شہیدوں کی طرح وہ بھی (یقینی طور پر) اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔
امام قرطبی نے تذکرہ میں صعقہ کی حدیث کو اپنے شیخ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ موت عدم محض کو نہیں کہتے بلکہ وہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شہداء اپنے قتل اور موت کے بعد زندہ ہیں۔ رزق دیئے جاتے ہیں اور نعمائے الٰہی کی خوشخبری حاصل کرتے ہیں اور یہ امور دنیا میں زندوں کی صفات سے ہیں۔ جب شہداء کا یہ حال ہے تو انبیاء علیہم السلام تو بطریقِ اولیٰ اس کے مستحق ہیں اور یہ بات تحقیق کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو زمین نہیں کھاتی نیز یہ کہ نبی اکرمﷺ کی ملاقات شب ِ معراج بیت المقدس میں اور آسمانوں میں انبیاء علیہم السلام سے ہوئی اور آپ نے موسی علیہ السلام کو ان کی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا اور آنحضرتﷺ نے یہ بھی بتایا کہ آپ سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ وغیر ذالک۔
پس یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوگئی کہ انبیاء علیہم السلام کی موت صرف اس امر کی طرف راجع ہے کہ وہ ہم سے اس طرح غائب کردئیے گئے ہیں کہ اب ہم (عادۃً) ان کو نہیں پاسکتے۔ اگرچہ زندہ موجود ہیں اور ان کا حال ایسا ہے جیسے ملائکہ کرام کا کہ وہ بھی زندہ ہیں اور موجود ہیں لیکن انہیں ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں دیکھ سکتا جو اللہ کے ولی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف سے خصوصی کرامتوں کے ساتھ نوازا ہے۔
علامہ باورزی سے دریافت کیا گیا کہ حضورﷺ وفات کے بعد زندہ ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں! آنحضرتﷺ زندہ ہیں۔
استاد عبدالقاہر بن طاہر بغدادی فقیہ اور اصولی جو شافعیہ کے استاد ہیں مسائل الجاجرمیین کے جوابات میں فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب متکلمین محققین نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ اپنی وفات کے بعد زندہ ہیں اور اپنی امت کی طاعات کے ساتھ خوش ہوتے ہیں اور گناہگاروں کے گناہوں سے غمگین ہوتے ہیں اور ان کی امت میں جو ان پر درود بھیجتا ہے وہ انہیں پہنچتا ہے۔
یہی استاذ ابو منصور فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام بوسیدہ نہیں ہوتے اور زمین بھی ان کے کسی حصے کو نہیں کھا سکتی۔
دیکھئے موسی علیہ السلام اپنے زمانے میں فوت ہوئے اور ہمارے نبیﷺ نے خبر دی کہ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔
اور حدیث معراج میں بھی آپ نے فرمایا کہ میں نے انہیں چھٹے آسمان پر دیکھا اور آدم علیہ السلام کو آسمانِ دنیا پر دیکھا اور ابراہیم علیہ السلام کو جب دیکھا تو انہوں نے مرحبا کہا۔
جب ہمارے لئے یہ اصل ثابت ہوگئی تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ وفات کے بعد زندہ ہوگئے اور وہ ﷺ بھی اپنی نبوت پر بدستور قائم ہیں۔ یہ استاذ عبدالقاہر کے کلام کا آخری حصہ ہے۔
شیخ السنہ حافظ الحدیث ابوبکر بیہقی کتاب الاعتقاد میں فرماتے ہیں قبض ارواح کے بعد انبیاء علیہم السلام کی روحیں انہیں لوٹا دی جاتی ہیں تو وہ شہداء کی طرح بالیقین اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور آنحضرتﷺ نے بھی یہ ارشاد فرمایا اور آپ کا ارشاد یقینا سچا ہے کہ ہم امتیوں کا درود حضور ﷺ پر پیش کیا جاتا ہے اور ہمارا سلام بھی حضورﷺ کو پہنچتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔
پھر امام بیہقی نے فرمایا کہ ہم نے حیاتِ انبیاء پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے نیز فرمایا کہ آنحضرت ﷺ روح مبارک قبض ہونے کے بعد بھی اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اس کے برگزیدہ اور ساری مخلوق میں بہترین اور پسندیدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان پر درود ہو، اے اللہ، ہمیں ان کی سنت پر زندہ رکھ اور ان کی ملت پر موت دے اور ہمیں ان کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں جمع کر بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے، باورزی کا جواب ختم ہوا۔
شیخ عفیف الدین یافعی فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ پر ایسے حالات وارد ہوتے ہیں کہ جن میں وہ آسمانوں اور زمینوں کے حقائق کا مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ انبیاء علیہم السلام کو مردہ نہیں، بلکہ زندہ دیکھتے ہیں جیسا کہ نبی کریمﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں زندہ دیکھا۔
امام یافعی فرماتے ہیں کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے جو چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کو بطور معجزہ مل سکتی ہیں وہ اولیاء اللہ کو بطور کرامت مل سکتی ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ایسی چیز نہ ہو جس میں دعوتِ معارضہ پائی جائے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان باتوں کا انکار سوائے جاہل کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔
امام یافعی نے فرمایا کہ ا نبیاء علیہم السلام کی حیات میں علماء اعلام کے بے شمار روشن بیانات موجود ہیں لیکن ہم اسی قدر پر اکتفا کرتے ہیں۔


فصل:
اور بہر حال دوسری حدیث، تو اس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند میں اور ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں۔ ابو عبدالرحمن مقری کے طریق سے کی ہے جو حیوۃ بن شریح سے اور وہ ابو صخر سے وہ یزید بن عبداللہ بن قسیطہ سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
مَا مِنْ اَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلاَّرَدَّ اللّٰہُ اِلَیَّ رُوْحِیْ حَتّٰی اَرُدَّ عَلَیْہِ السَّلَام
(ترجمہ) کوئی شخص مجھ پر سلام نہیں بھیجتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری روح میری طرف لوٹا دی ہوتی ہے یہاں تک کہ میں اس کو اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
اس میں شک نہیں کہ ظاہر الفاظِ حدیث سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات آپ کی رُوحِ اقدس آپ کے جسمِ اطہر سے جدا ہوتی ہے حالانکہ یہ امر احادیث مذکورہ بالا کے منافی ہے۔
میں نے اس حدیث پر غور کیا، تو مندرجہ ذیل جوابات میرے ذہن میں آئے۔
جواب اوّل: اور یہ بہت کمزور جواب ہے کہ راوی کو حدیث کے کسی لفظ میں غلطی لگی ہے جس کی وجہ سے یہ اشکال پیدا ہوا۔ علماء نے اس قسم کی کئی غلطیوں کا ذکر احادیث کثیرہ کے ذیل میں کیا ہے لیکن اصل اس کے خلاف ہے۔ اس لئے راوی کی غلطی کا دعویٰ قابل اعتماد نہیں۔
جواب دوم: یہ نہایت قوی جواب ہے اور اس کو وہی پاسکتا ہے جسے عربیت میں پورا کمال حاصل ہو۔ وہ یہ ہے کہ
رَدَّ اللّٰہُ جملہ حالیہ ہے اور عربی قاعدہ کے مطابق جب فعل ماضی جملہ حالیہ واقع ہو تو وہاں قَدْ ضرور مقدر ہوتا ہے جیسے اس آیت میں
اَوْجَآئُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُہُمْ
یعنی
قَدْ حَصِرَتْ اسی طرح یہاں بھی چونکہ فعل ماضی جملہ حالیہ واقع ہوا ہے۔ اس لئے لفظ قَدْ مقدر مانا جائے گا اور جملہ ماضیہ کو ہر سلام بھیجنے والے کے سلام سے پہلے تسلیم کرنا ہوگا۔ نیز یہ کہ حتّٰی یہاں تعلیل کیلئے نہیں بلکہ محض حرفِ عطف ہے جو واؤ کے معنی دیتا ہے۔
اس تقدیر پر حدیث کا مفہوم یوں ہوگا کہ:
جو شخص بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے وہ اس حال میں سلام بھیجتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سلام بھیجنے سے پہلے ہی میری روح مجھے لوٹادی ہوتی ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
اشکال صرف اس گمان کی بنا پر پیدا ہوا ہے کہ جملہ حالیہ
ردّ اللّٰہ استقبال کے معنی میں ہے اور یہ کہ حتی تعلیلہ ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں۔
ہماری اس تقریر سے اشکال کی جڑ منقطع ہوگئی۔ پھر معنیٰ کے اعتبار سے بھی اس کی تائید اس طرح ہوتی ہے کہ اگر لفظ
رَدَّ کو استقبال کے معنیٰ میں لیا جائے تو سلام کرنے والے کے سلام کی تکرار کے ساتھ آنحضرتﷺ کی روحِ مبارک کے لوٹائے جانے کی تکرار بھی لازم آئے گی اور روحِ مبارک کے بار بار لوٹائے جانے سے یہ لازم آئے گا کہ روحِ اقدس جسم مبارک سے بارہا جدا ہو اور روحِ پاک کے جسم اطہر سے بارہا جدا ہونے میں دو خرابیاں لازم آئیں گی۔
ایک یہ کہ جسم مبارک سے روحِ اقدس کے بار بار نکلنے کی وجہ سے حضورﷺ کو تکلیف ہونا، یا کم از کم اس تکرارِ خروجِ روحِ مبارک کا حضورﷺ کی عظمت و بزرگی کے منافی ہونا۔
دوسرے یہ کہ روح کا بار بار نکلنا اور جسم میں داخل ہونا شہدا وغیرہم کی شان کے ہی خلاف ہے کیوں کہ ان کے بارے میں یہ بات کہیں ثابت نہیں ہوئی کہ عالمِ برزخ میں ان کی روحیں بار بار جدا ہوتی ہیں اور بار بار ان کے جسموں میں واپس آتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ تو اس بات کے سب سے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کی روح مبارک ہمیشہ آپ کے جسم اقدس میں رہے اور یہی اعلیٰ مرتبہ ہے جسے حضورﷺ کی شان کے لائق کہا جائے۔
ایک تیسری خرابی بھی لازم آتی ہے اور وہ یہ کہ روحِ اقدس کا جسم مبارک سے بار بار نکلنا اور پھر واپس آنا نص قرآن کے خلاف ہے۔ کیوں کہ قرآن مجید نے اس بات پر دلالت کی کہ موت صرف دو مرتبہ ہے اور حیات بھی صرف دو مرتبہ اور اس بار بار روح کے نکلنے اور واپس آنے سے تو بے شمار موتیں لازم آتی ہیں اور یہ قرآن کریم کی روشنی میں صراحتہً باطل ہے۔
اس کے علاوہ ایک چوتھی خرابی بھی لازم آتی ہے اور وہ احادیثِ متواترہ سابقہ کی مخالفت ہے اور جو چیز قرآن مجید اور سنت ِ متواترہ کے خلاف ہو اس کی تاویل واجب ہے اور اگر وہ تاویل کو قبول نہ کرے تو اس کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں۔ لہٰذا اس حدیث کا اس معنیٰ پر حمل کرنا واجب ہے جو ہم اس سے پہلے ذِکر کرچکے ہیں۔
جواب سوم: لفظ
رَدَّ ہمیشہ مفارقت پر ہی دلالت نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ کبھی مطلق صیرورۃ سے ہی کنایہ کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول میں شعیب ں سے حکایتہ وارد ہوا۔
قَدِ افْتَرَیْنَا عَلیَ اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ
(ترجمہ) ہم اللہ پر بہتان باندھنے والے قرار پائیں گے اگر تمہاری ملت میں آجائیں۔
یہاں عود کے لفظ سے مطلق صیرورۃ مراد ہے۔ یہ نہیں کہ پہلے ان کی ملت سے شعیب ں نکل گئے تھے اور اب وہ نکلنے کے بعد واپس آنے کی بات کر رہے ہوں کیونکہ شعیب ں کبھی بھی کفار اور مشرکین کی ملت میں نہ تھے۔
اور اس حدیث میں تو اس لفظ
رَدَّ کے استعمال میں ایک بہت بڑی خوبی یہ پائی جاتی ہے کہ اسے لفظی مناسبت کی رعایت کیلئے لایا گیا ہے کیوں کہ بعد میں حَتّٰی اَرُدَّ ں فرمایا۔ یعنی ابتدائے کلام میں رَدَّ کا لفظ اس لئے لایا گیا کہ آخر میں اَرُدَّ ارشاد فرمانا تھا۔
جواب چہارم: اور وہ بہت قوی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ردِّ روح سے یہ مراد نہیں کہ وہ بدن شریف سے جدا ہوکر بدنِ مبارک میں واپس آتی ہے۔ بات یہ ہے کہ نبی کریمﷺ عالمِ برزخ میں ملکوت کے احوال اور مشاہدہ الٰہی میں بالکل اسی طرح مشغول اور مستغرق ہیں جس طرح دنیا کی حیاتِ ظاہری میں ہوتے تھے۔ لہٰذا اس مشاہدہ اور استغراق کی حالت سے افاقہ کو ردِّ روح سے تعبیر فرمایا ہے۔
اس کی نظیر علماء کا وہ قول ہے جو حدیثِ معراج میں واقع ہونے والے لفظ استیقظت کی تشریح میںو ارد ہوا ہے۔ یہ لفظ بعض حدیثِ معراج میں مروی ہے۔ حدیث کی عبارت یہ ہے
فَاسْتَیْقَظْتُ وَاَنَا بِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
یہاں لفظ
استیقاظ سے نیند سے بیدار ہونا مراد نہیں، کیوں کہ معراج نیند میں نہیں ہوا۔ بیداری میں ہوا۔ اس لئے آنحضرتﷺ کی مراد عجائب ملکوت کے مشاہدے میں مشغولیت سے افاقہ ہے۔
(امام سیوطی نے فرمایا) کہ لفظ
رَدَّ کی تاویل میں اس وقت میرے نزدیک یہ جواب سب سے زیادہ قوی ہے اگرچہ اس سے پہلے جواب ثانی کو ترجیح دے چکا ہوں۔
جواب پنجم: لفظ
رَدَّ اس بات کو مستلزم ہے کہ حضورﷺ کی روح مبارک بدنِ اقدس ہی میں رہے کیوں کہ کوئی وقت ایسا نہیں جب کہ کوئی نہ کوئی شخص آپ پر درود و سلام نہ بھیجتا ہو۔ لہٰذا حضورﷺ کی روح شریف کا بدن مبارک میں ہروقت ہونا ضروری ہے۔
جواب ششم: کہا جاسکتا ہے کہ پہلے حضورﷺ کو بذریعہ وحی ہی بتایا گیا ہو مگر بعد میں آپ کی طرف وحی کی گئی کہ آپ قبر شریف میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، لہٰذا دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں، کیوں کہ دونوں میں تقدم و تاخر پایا جاتا ہے۔
امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ وہ جوابات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیئے ہیں اور ان میں سے کوئی جواب میں نے کسی سے منقول نہیں پایا۔ پھر یہ جوابات لکھنے کے بعد میں نے تاج الدین فاکہانی مالکی کی کتاب
الفجر المنیر فیما فضل بہ البشیر النذیر کو دیکھا اس میں انہوں نے جو کچھ فرمایا وہ حسب ذیل ہے۔
ترمذی میں روایت کی گئی کہ جب کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دوں۔
اس حدیث سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرتﷺ ہمیشہ کیلئے زندہ ہیں۔ اس لئے کہ یہ عادۃً محال ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا وقت پایا جائے کہ حضورﷺ پر کوئی درود و سلام نہ بھیج رہا ہو، خواں دِن ہو یا رات۔
اگر اعتراض کیا جائے کہ
رَدَّ اللّٰہُ اِلَیَّ رُوْحِیْ کے ساتھ آنحضرتﷺ کا ہمیشہ زندہ ہونا مطابقت نہیں رکھتا کیوں کہ اس حدیث سے تو یہ لازم آتا ہے کہ ایک لحظہ میں آپ کئی بار زندہ ہوں اور کئی بار وفات پائیں _____ اس لئے کہ کائنات میں ہر وقت کوئی نہ کوئی آپ پر ضرور درود و سلام بھیجتا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا، بلکہ ایک ہی لمحہ میں بے شمار لوگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر سلام بھیجتے ہیں۔
تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہاں مجاز کے طور پر رُوح سے نطق مراد لیا گیا ہے گویا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ
اِلاَّ رَدَّ اللّٰہُ اِلَیَّ نُطْقِیْ
حضورﷺ علی الدوام زندہ ہیں مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حیات کے ساتھ ہر لحظہ نطق بھی حضور کے لئے ثابت ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر سلام بھیجنے والے کے سلام کے وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نطق عطا فرما دیتا ہے۔
یہاں پر علاقہ مجاز تلازم ہے کیوں کہ نطق کے لئے روح لازم ہے بالفعل ہو یا بالقوۃ۔ لہٰذا حضورﷺ نے احد المتلازمین سے دوسرے کو تعبیر فرمایا اور ایک کا ذِکر فرما کر دوسرے کو مراد لیا۔
اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ روح دوبار سے زیادہ نہیں لوٹتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
رَبَّنَا اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ
(ترجمہ) اے ہمارے رب! تونے دو دفعہ ہمیں موت دی اور دوبار ہمیں زندہ کیا۔
یہ عبارت شیخ تاج الدین فاکہانی کے کلام کی ہے ان کا یہ جواب میرے بیان کردہ جوابات کے علاوہ ہے۔ لہٰذا برتقدیر تسلیم یہ ساتواں جواب ہوگا۔
مگر یہ جواب میرے نزدیک درست نہیں۔ کیوں کہ اس کی ظاہری عبارت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ عالمِ برزخ میں زندہ ہونے کے باوجود نطق نہیں فرماسکتے۔ بلکہ اسی وقت حضور کو نطق دیا جاتا ہے جب کوئی سلام کرنے والا انہیں سلام کرتا ہے اور یہ قید لگانا بہت قبیح بلکہ ممنوع ہے۔ اس لئے کہ عقل و نقل دونوں اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں۔
نقل اس لئے کہ جو روایات نبی کریمﷺ و دیگر انبیاء علیہم السلام کے برزخی حالات کے متعلق وارد ہوئی ہیں وہ اس بات کی تصریح کرتی ہیں کہ انبیاء علیہم السلام جس طرح چاہیں برزخ میں بولتے ہیں اور انہیں کسی بات سے روکا نہیں جاتا۔ کسی روایت میں یہ وارد نہیں ہوا کہ کسی نبی کو برزخ میں بولنے سے منع کیا جاتا ہے۔ بلکہ تمام مومنین اور اسی طرح شہداء وغیرہم سب عالمِ برزخ میں جو کچھ چاہتے ہیں بولتے ہیں اور ان کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں اور برزخ میں کسی کیلئے بولنے کی ممانعت مروی نہیں ہوئی۔ سوائے اس شخص کے جو وصیت کئے بغیر مر جائے۔
چنانچہ ابو الشیخ بن حیان نے کتاب الوصایا میں قیس بن قبیصہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وصیت کے بغیر مر جائے گا اسے مُردوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ عرض کیا گیا، یا رسول اللہ! کیا مُردے مُردوں سے کلام بھی کرتے ہیں؟ فرمایا، ہاں صرف کلام نہیں بلکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی زیارت بھی کرتے ہیں۔
اس کے بعد امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ امام تقی الدین سبکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان نقل فرماتے ہیں کہ
انبیاء اور شہداء علیہم السلام قبروں میں اس طرح زندہ ہیں جس طرح وہ دنیا میں زندہ تھے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے اپنی قبر میں نماز پڑھی۔ کیوں کہ نماز کے لئے زندہ جسم کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح شب معراج میں انبیاء علیہم السلام کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ سب اجسام کی صفات ہیں۔
انبیاء علیہم السلام کے حقیقی طور پر زندہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دنیا کی طرح برزخ میں بھی ان کے جسموں کو دنیاوی کھانے پینے کی ضرورت ہو، رہے اور ادراکات! جیسے علم اور سمع، تو بلاشک انبیاء علیہم السلام کیلئے وہ حاصل ہیں اور یہی حال باقی وفات یافتہ لوگوں کا ہے۔ انتہیٰ
اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فاکہانی کے جواب کے خلاف عقل و نقل کی شہادت کا ذِکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے نطق کو سلام کی قید سے مقید کرنے کے خلاف عقل کی شہادت یہ ہے کہ بعض اوقات حضورﷺ کو نطق اور گویائی سے روک دینا قید اور عذاب ہے، اسی لئے تارکِ وصیت کو اس قسم کی سزا دی جائیگی اور نبیﷺ ایسے امور سے منزہ ہیں لہٰذ نطق سے روک دینا حضورﷺ کی شان کے لائق نہیں ہوسکتا۔
حیاتِ دنیا میں نہ وفات کے بعد جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے مرضِ وفات میں سیدہ فاطمۃ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا
لا کربۃ علی ابیک بعد الیوم یعنی آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔
جب شہداء اور عام مومنین باستثناء ان لوگوں کے جنہیں عذاب دیا جائیگا نطق اور گویائی سے نہیں روکے جائیں گے تو حبیبِ خدا حضرت محمد رسول اللہﷺ کو نطق سے کیوں کر روکا جاسکتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کو گویائی سے باز رہنے کی تکلیف کیسے دی جاسکتی ہے۔
جواب ہفتم: شیخ تاج الدین فاکہانی کے بیان سے ایک اور جواب نکلتا ہے جسے ہم دوسرے طرز میں بیان کرتے ہیں وہ یہ کہ روح سے مراد نطق ہے اور رَدَّ سے مراد جدائی کے بغیر بدستور موجود رہنا ہے، جیسا کہ تیسرے جواب میں بیان کیا گیا۔
اسی طرح اس حدیث میں دو مجاز پائے گئے ایک مجاز رَدَّ کے لفظ میں اور دوسرا لفظ روح میں۔ پہلا مجاز استعارۂ تبعیہ ہے اور دوسرا مجاز مرسل۔
اس میں اور تیسرے جواب میں فرق یہ ہے کہ تیسرے جواب میں لفظ رَدَّ میں صرف ایک مجاز ہے اور یہاں ایک مجاز لفظ رَدَّ میں ہے اور دوسرا لفظ روح میں۔
اس جواب (ہفتم) کی تقدیر پر مضمونِ حدیث کا خلاصہ یہ ہوگا کہ جب بھی کوئی سلام بھیجنے والا مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو میرے نطق کو اللہ تعالیٰ میرے لئے موجود اور باقی رکھتا ہے تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے سکوں۔
جواب ہشتم: اس جواب سے ایک اور جواب پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لفظ روح سے کنایہ کے طور پر سمع مراد لی جائے اور حدیث کے یہ معنیٰ کئے جائیں کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کو خرقِ عادت کے طور پر ایسی قوت شنوائی عطا فرماتا ہے کہ آپ سلام بھیجنے والے کی آواز کو خواہ وہ کتنی ہی دُور سے کیوں نہ ہو سن لیتے ہیں اور کسی پہنچانے والے کے واسطہ کے بغیر سن کر اس کا جواب بھی دیتے ہیں۔ یہاں معتاد قوتِ سمع مراد نہیں۔ دنیا میں بھی حضورﷺ کی یہی حالت تھی اور آپ خارقِ عادت باتیں سن لیتے تھے۔ چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضورﷺ
اطیط السماء آسمان کے چرچرانے کی آواز سنتے تھے۔ جیسا کہ کتاب المعجزات میں ہم نے بیان کردیا ہے مگر بعض اوقات یہ حالت نہ رہتی تھی۔ (یعنی بطور خرق عادت آوازیں سننے کی طرف کسی حکمت کی بناء پر حضورﷺ کی توجہ نہ رہتی تھی) لیکن پھر وہ حالت لوٹ آتی تھی یعنی عدم التفات کا حال التفات سے بدل جاتا تھا اور کوئی چیز آپ کو اس سے روک نہ سکتی تھی۔ آنحضرتﷺ کی حالت برزخ میں بعینہٖ وہی ہے جو دنیا میں تھی۔
جواب نہم: اس جواب سے ایک اور جواب نکالا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ لفظ روح سے حضورﷺ کی سمع معتاد ہی مراد ہے اور لفظ رَدَّ سے مراد ملکوتی استغراق اور مشاہدہ حق تعالیٰ سے افاقہ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ حضورﷺ کو اس وقت سلام بھیجنے والوں کی طرف مخاطب ہونے کیلئے اپنے مشاہدہ اور استغراق ملکوتی سے لوٹا دیتا ہے اور جواب دینے کے بعد حضورﷺ اپنی پہلی حالت کی طرف واپس آکر استقرار ملکوتی اور مشاہدہ حق تعالیٰ میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
جواب دہم: اس بیان سے ایک اور جواب نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ رَدِّ روح سے مراد یہ ہے کہ حضورﷺ برزخ میں جن اعمال میں مشغول ہیں مثلاً امت کے اعمال کو دیکھنا۔ ان کی برائیوں سے ان کے لئے استغفار کرنا۔ ان سے مصائب دور ہونے کی دعا فرمانا۔ اطرافِ زمین میں برکت دینے کیلئے آمد و رفت رکھنا اور امتِ مرحومہ میں سے جو صالحین فوت ہوجاتے ہیں ان کے جنازوں پر تشریف لانا وغیرہ ذلک۔ ان تمام اعمال سے حضورﷺ کو فراغت حاصل ہوجائے۔
بے شک حضورﷺ برزخ میں انہی امور میں مشغول رہتے ہیں جن کا ہم نے ذِکر کیا جیسا کہ احادیث و آثار میں وارد ہے اور چونکہ آپ پر سلام بھیجنا افضل ترین عمل اور سب سے بڑی قربت ہے اس لئے حضور ں پر سلام بھیجنے والوں کے لئے یہ خاص عنایت ہوگی کہ حضورﷺ اس کو شرف عطا فرمانے اور اس کے سلام کا بدلہ دینے کیلئے اپنے اہم مشاغل سے فارغ ہوکر اس کی طرف توجہ فرمائیں۔
یہ کل دس جواب ہیں جن کا میں نے خود استنباط کیا ہے۔ جاحظ کہتے ہیں کہ فکر و حفظ جب آپس میں ملتے ہیں تو عجیب و غریب باتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔
جواب یازدہم: اس کے بعد مجھ پر گیارہواں جواب ظاہر ہوا اور وہ یہ کہ روح سے روحِ حیات مراد نہیں، بلکہ خوشی و راحت مراد ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ یہاں فروح کی را پر ضمہ بھی پڑھا گیا ہے اس تقدیر پر یہ معنیٰ ہوئے کہ آنحضرتﷺ کو سلام بھیجنے والوں کے سلام سے نہایت خوشی و مسرت اور راحت و فرحت حاصل ہوتی ہے کیوں کہ حضور ں اپنے لئے سلام کو بہت پسند فرماتے ہیں اور یہ خوشی حضور ں کو سلام کا جواب دینے پر آمادہ کرتی ہے۔
جواب دواز دہم: پھر بارہواں جواب میری سمجھ میں آیا اور وہ یہ کہ روح سے وہ رحمت مراد ہے جو درود کے ثواب سے پیدا ہوتی ہے۔ علامہ ابن اثیر نے النہایہ میں فرمایا کہ لفظ روح جس طرح قرآن مجید میں کئی معنیٰ میں آیا ہے اسی طرح حدیث میں بھی معانی متعددہ میں وارد ہے۔ لفظ روح کا غالب استعمال اسی روح کے معنیٰ میں ہے جس کے ساتھ جسم زندہ رہتا ہے، اس کے علاوہ قرآن، وحی، رحمت اور جبرئیل پر بھی لفظ روح کا اطلاق کیا گیا ہے۔
ابن منذر نے اپنی تفسیر میں حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی کہ انہوں نے
فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ میں لفظ روح کو فتح را کی بجائے ضمہ کے ساتھ پڑھا اور کہا کہ روح کے معنیٰ رحمت ہیں۔ اس سے پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت گزرچکی ہے کہ رسول اللہﷺ پر قبر انور میں درود اس طرح داخل کیا جاتا ہے جس طرح لوگوں پر ہدایا داخل کئے جاتے ہیں۔ اس حدیث میں لفظ صلـوٰۃ سے ثوابِ صلوٰۃ مُراد ہے اور یہ اللہ کی رحمت اور اس کا انعام ہے۔
جواب سیز دہم: اس کے بعد تیرھواں جواب مجھ پر منکشف ہوا اور وہ یہ کہ لفظ روح سے مراد وہ فرشتہ ہے جو حضورﷺ کی قبر انور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کر دیا گیا ہے اور جو حضور کی امت کا سلام حضور کی خدمت میں پیش کرتا ہے لفظ روح جبرئیل ں کے علاوہ دوسرے فرشتوں کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، امام راغب فرماتے ہیں کہ اشراف ملائکہ کا نام ارواح رکھا جاتا ہے۔ انتہیٰ
رَدَّ اللّٰہُ اِلَیَّ رُوْحِیْ کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اس فرشتے کو جو میری قبر انور پر متعین ہے میری طرف بھیج دیتا ہے تاکہ وہ مجھے سلام پہنچادے۔
یہ وہ جوابات ہیں جو میری سمجھ میں آئے۔ واللّٰہ اعلم
تنبیہ: شیخ تاج الدین فاکہانی کے کلام میں دو ایسی باتیں آگئیں ہیں جن پر تنبیہ کرنا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ انہوں نے اس حدیث
اِلاَّ رَدَّ اللّٰہُ کو ترمذی کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ یہ غلط ہے کیوں کہ اصحابِ کتب ستہ میں سے صرف ابو داؤد نے اس کی تخریج کی ہے جیسا کہ حافظ جمال الدین منسری نے اطراف میں ذِکر کیا ہے۔
دوسرے یہ کہ فاکہانی نے اس حدیث کو لفظ
رد اللّٰہ علیٰ سے وارد کیا۔ سنن ابی داؤد میں یہ حدیث اسی طرح ہے۔ لیکن بیہقی نے رَدَّ اللّٰہُ اِلَیَّ (روحی) کے الفاظ سے روایت کی ہے اور یہ بہت ہی لطیف اور مناسب ہے کیوں کہ (الیٰ اور علیٰ) کے دونوں صلوں میں لطیف فرق پایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ لفظ رَدَّ جب عَلٰی کے ساتھ متعدی ہو تو اہانت کے معنیٰ میں آتا ہے اور الیٰ کے ساتھ متعدی ہو، تو عزت و اکرام کے معنیٰ دیتا ہے۔ صحاح میں ہے رَدَّ عَلَیْہِ الشَّیْ ئَ اِذَا لَمْ یَقْبَلْہُ یعنی رد علیہ الشی اس وقت بولتے ہیں جب اسے کوئی قبول نہ کرے اور واپس کردے اسی طرح ایک یہ محاورہ بھی ہے کہ رَدَّ عَلَیْہِ اِذَا اَخْطَاہُ یعنی جب کسی کی بات کو غلط قرار دینا ہو تو ردعلیہ کہا جاتا ہے نیز محاورہ ہے۔
رَدَّہٗ اِلٰی مَنْزِلِہٖ وَرَدَّ اِلَیْہِ جَوَابًااَیْ رَجَعَ
(ترجمہ) لوٹا د یا اس کو اس کے گھر کی طرف اور لوٹادیا اس کی طرف جواب
اس محاورہ میں رد لوٹانے کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
امام راغب کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہے
(۱) یَرُدُّوْ کُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ (۲) رُدُّوْہَا عَلَیَّ (۳) نُرَدُّ عَلٰی اَعْقَابِنَا تینوں جگہ لفظ رد پہلے معنیٰ میں آیا ہے اور (۱) فَرَدَدْنَاہُ اِلٰی اُمِّہٖ (۲) وَلَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ (۳) ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ (۴) ثُمَّ رُدُّوْا اِلَی اللّٰہِ مَوْلَاہُمُ الْحَقُّ
چاروں جگہ لفظ رَدَّ دوسرے معنیٰ میں وارد ہوا ہے۔
فصل: امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کہ لفظ
رَدَّ کے ایک معنیٰ سونپنے اور سپرد کرنے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے۔
رَدَدْتُّ الْحُکْمَ فِیْ کَذَا اِلٰی فَلاَنٍ اَیْ فَوَّضْتُہٗ اِلَیْہِ
(ترجمہ) میں نے فیصلہ فلاں کے سپرد کردیا
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْ ئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ
وَلَوْرَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ انتہیٰ
جواب چہار دہم: اس بیان کی روشنی میں حدیث زیر نظر سے متعلق چودہواں جواب نکلتا ہے اور وہ یہ کہ
رَدَّ اللّٰہُ اِلَیَّ رُوْحِیْ سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سلام بھیجنے والوں کے سلام کا جواب دینا رسول اللہﷺ کے سپرد فرمادیتا ہے۔ اس تقدیر پر کہ روح سے رحمت مراد لی جائے اور یہ واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو صلوٰۃ ہوتی ہے وہ رحمت ہی ہے تو گویا بارگاہِ رسالت میں جو شخص بھی سلام بھیج رہا ہے وہ اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ یعنی رحمت کا طلبگار ہے۔ رحمتِ الٰہی کی یہ طلبگاری اس حدیث کے معنیٰ کو ثابت کرنے کیلئے ہے کہ جو شخص ایک بار مجھ کو درُود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دَس درود نازل فرمائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ کا درُود اس کی رحمت ہی کے معنیٰ میں ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس امرِ رحمت کو اپنے محبوب ﷺ کے سپرد فرمادیا کہ حضور علیہ السلام بارگاہِ رسالت میں سلام بھیجنے والے کیلئے دعا فرمائیں اور حضور علیہ السلام کی دُعا قطعاً یقینا قبول ہوگی۔ لہٰذا جو رحمت سلام بھیجنے والے کو حاصل ہوگی وہ صرف حضور علیہ السلام کی برکتِ دعا اور حضور پر سلام بھیجنے کی وجہ سے ہوگی اور یہ ایک لحاظ سے سلام بھیجنے والے کے سلام کو قبول کرنے اور اس کو ثواب دینے کی سفارش قرار پائے گی۔
اس تقدیر پر لفظ روحی میں جو اضافت ہے وہ بادنیٰ ملابست ہوگی اور یہ اسی طرح ہے جیسے حدیثِ شفاعت میں وارد ہوا کہ انبیاء علیہم السلام امرِ شفاعت کو ایک دوسرے کی طرف سونپیں گے۔ یہاں تک کہ امرِ شفاعت حضورﷺ کی طرف پہنچے گا اور حدیثِ معراج میں وارد ہے کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی تو مجھے ابراہیم و موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ملے اور انہوں نے قیامت کا تذکرہ کیا بالآخر سب نے ابراہیم علیہ السلام پر معاملہ چھوڑ دیا۔ انہوں نے جواب دیا مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر موسی علیہ السلام پر چھوڑا انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ پھر انہوں نے اس معاملے کو عیسیٰ علیہ السلام پر چھوڑ دیا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اس صورت میں حدیث کے یہ معنیٰ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اس رحمت کا معاملہ جو سلام بھیجنے والے کو میری وجہ سے حاصل ہوگی۔ مجھ پر چھوڑ دیتا ہے تو میں اس رحمت کیلئے بذاتِ خود اس طرح دعا کا اہتمام کرتا ہوں کہ سلام بھیجنے والے کے سلام کے جواب میں لفظِ سلام بولتا ہوں اور اس کے حق میں دُعا کرتا ہوں۔
جواب پانزدہم: اس کے بعد پندرھواں جواب میری سمجھ میں آیا کہ روح سے مراد وہ رحمت و رافت ہے جو آنحضرتﷺ کے قلب مبارک میں امت کیلئے پائی جاتی ہے اور وہ رحمت جو آپ کی جبلتِ مقدسہ میں شامل ہے۔
بعض اوقات حضورﷺ ان لوگوں پر غضب ناک ہوجاتے ہیں جن کے گناہ زیادہ ہوجائیں اور وہ محرمات کے مرتکب ہوں۔
چونکہ آنحضرتﷺ پر درود بھیجنا، گناہوں کی مغفرت کا سبب ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے خود ارشاد فرمایا:
اِذَنْ تَکْفِیْ ہَمُّکَ وَیُغْفَرُ ذَنْبُکَ
یعنی اس وقت جب کہ تم درود شریف کی کثرت کرو گے تو غم سے محفوظ کر دیئے جاؤ گے اور تمہارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ لہٰذا آپ نے یہ بتایا کہ جو شخص بھی آپ پر سلام بھیجتا ہے خواہ اس کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ آپ کی فطری رحمت آپ کی طرف لوٹ آتی ہے اور آپ بہ نفسِ نفیس اس کے سلام کا جواب عطا فرماتے ہیں اور اس شخص کے سابقہ گناہ آپ کیلئے اس کے سلام کا جواب دینے سے رکاوٹ کا موجب نہیں ہوسکتے۔
یہ بہت عمدہ فائدہ اور نہایت عظیم الشان بشارت ہے۔ یہ فائدہ نفی عام کے موقع پر
مِنْ استغراقیہ لانے سے حاصل ہوتا ہے۔
لفظ
مِنْ زائدہ لانے سے استغراق نفی پر نص ہوگئی اور اس بات کا احتمال جاتا رہا کہ یہاں عام کا ذِکر ہے اور خاص مراد ہے۔
یہ ان جوابات کا آخری جواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر فرمائے اگر اس کے بعد کوئی اور جواب مجھ پر منکشف ہوا تو اس کو بھی ان کے ساتھ شامل کردیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے احسان و کرم کے ساتھ توفیق دینے والا ہے۔
اس کے بعد میں نے اس حدیث کو امام بیہقی کی کتاب حیات الانبیاء میں ان الفاظ میں مروی پایا۔
وَقَدْ رَدَّ اللّٰہُ اِلَیَّ رُوْحِیْ یعنی امام بیہقی نے اس روایت میں لفظ قد صراحۃً ذِکر کردیا ہے۔ اس پر میں نے خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کیا اور یہ بات نہایت پختہ اور مستحکم ہوگئی کہ جن روایات میں لفظ قد مذکور نہیں ہوا وہاں محذوف ہے یا راویوں کے تصرف سے یہ لفظ چھوٹ گیا ہے۔
ان پندرہ جوابات میں سے دوسرے جواب میں میں نے اسی توجیہہ کو پسند کیا تھا اور اب تو اس روایت کی وجہ سے تمام توجیہات اور جوابات پر صرف اسی توجیہہ اور جواب کو راجح قرار دیتا ہوں۔ لہٰذا یہی جواب سب سے زیادہ قوی ہے اور اس بناء پر حدیث کی مراد یہ ہے کہ وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ پر حضور کی روحِ مبارک کو ہمیشہ کیلئے لوٹا دیا ہے لہٰذا آپ علی الدوام زندہ ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی شخص آپ پر سلام بھیجے تو چونکہ آپ زندہ ہیں اس لئے آپ اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔
اس تقدیر پر یہ حدیث ان احادیث کے مطابق ہوگئی بلکہ ان ہی حدیثوں میں سے ایک حدیث قرار پاگئی جو قبر انور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات کے ثبوت میں وارد ہیں اور کسی وجہ سے بھی یہ حدیث ان احادیث کے منافی نہ رہی جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات کی مثبت ہیں اور اللہ ہی کے لئے حمد ہے۔ اسی کے لئے منت و احسان ہے۔
بعض حفاظِ حدیث نے کہا کہ اگر ہم ایک حدیث کو ساٹھ طریقوں سے نہ لکھیں تو صحیح طور پر ہم اسے سمجھ ہی نہ سکیں کیوں کہ مختلف طرق میں ایک دوسرے کی روایت پر کچھ نہ کچھ زیادتی پائی جاتی ہے۔ کبھی متن کے الفاظ میں اور کبھی اسناد میں، اس طرح جو امور ناقص طریق سے واضح نہیں ہوتے وہ اس طریق سے واضح ہوجاتے ہیں جن میں زیادتی پائی جاتی ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم
 

ہوم پیج