آئینۂ مودودیت

دیباچہ

مودودی صاحب نے جس آئینہ میں اسلام اور مسلمین کو دیکھا ہے، کاش وہ اس میں کبھی اپنی شکل و صورت بھی ملاحظہ فرماتے تو ان پر حقیقت حال منکشف ہو جاتی۔


مودودی صاحب کی نگاہِ بصیرت
مودودی صاحب کی نگاہِ بصیرت کا کمال یہ ہے کہ جدھر اٹھتی ہے اور جس پر پڑتی ہے اسے کمزوریاں ہی کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اسلام پر غور کیا تو جاہلیت ہی جاہلیت نظر آئی۔ مسلمانوں کو دیکھا تو سب نقلی ہی دکھائی دئیے، اصلی ایک بھی نظر نہ آیا۔ صوفیاء و مشائخ کو ملاحظہ فرمایا تو سب جاہلیت کے مصلّے پر سربسجود ملے۔ مجتہدین کو پرکھا تو ایک بھی اس قابل نہ نکلا کہ اس کے علوم و منہاج کی پابندی اختیار کی جائے۔ مجددین کو ٹٹولا تو ان میں بھی کوئی کامل نظر نہ آیا۔ سب ناقص و نامکمل ہی ثابت ہوئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر نظر ڈالی تو ان میں بھی لغزشیں اور غلطیاں موجود پائیں۔ بعض خلفائے راشدین پر نگاہ پڑی تو وہ بھی نااہل اور فرمانِ خدا و رسول کے مخالف نظر آئے۔ کچھ انبیاء کرام علیہم السلام کو دیکھا تو انہیں بھی بڑے بڑے گناہوں کا مرتکب پایا۔ ایک اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات باقی ہے جس تک ان کی نگاہِ عیب جو کی رسائی محال نظر آتی ہے اس لئے کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتے اور اگر بفرضِ محال دیکھ پائیں تو غالباً بے تحاشا بول اٹھیں کہ خدایا تیرا نظام حکومت درست نہیں۔ انبیاء سے لے کر عوام تک ساری خدائی کی حالت بگڑی ہوئی ہے اور تو عرش پر بیٹھا دیکھ رہا ہے۔


مختصر یہ کہ جس آئینہ پر ان کی نظر جمی ہوئی ہے اس میں انہیں کوئی بے داغ و بے عیب نظر نہیں آتا۔ اب ہم وہی آئینہ ان کے آگے رکھ کر ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اسی آئینہ میں خدا را اپنی صورت بھی ملاحظہ فرمایئے۔ آپ کے اسلامی نظام اور حکومت الٰہیہ کے نعروں، صالحیت اور اجتہادی بصیرت کے غلغلوں اور معرفت نفس و تزکیہ باطن کے دعاویٰ کی اصلی صورت آپ کو نظر آ جائے گی

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

سبب تالیف
نومبر ۱۹۵۰ء میں مودودیوں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور اس نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کے سلسلہ میں آپ لوگ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ میں نے کہا کہ بعض امور میں مودودی صاحب سے ہمیں اختلاف ہے۔ جب تک وہ رفع نہ ہو جائے ہم تعمیل ارشاد سے قاصر ہیں۔ آخرکار یہ طے پایا کہ مولانا مودودی صاحب سے بالمشافہ گفتگو ہو کر اختلافات کا تصفیہ ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ میں لاہور گیااور ۲۵؍ نومبر کو رات کے ۹ بجے (مولانا مودودی صاحب کے مقرر کردہ وقت پر) ان کی کوٹھی پر پہنچا۔ مولانا غلام محمد صاحب ترنم صدر صوبہ پنجاب جمعیت العلماء پاکستان اور مولانا شاہ عبد الاحد صاحب ناظم شعبہ نشریات جمعیت اور ملک ممتاز صاحب منیجنگ ایڈیٹر نیوز پریس آف پاکستان و مولانا سید محمود احمد صاحب رضوی مدیر رضوان لاہور و مولانا محمد ارشد صاحب پناہوی نائب ناظم جمعیت میرے ہمراہ تھے۔ مولانا مودودی صاحب سے ملاقات ہوئی اور باقاعدہ سب کا تعارف مولانا موصوف سے کرایا گیا۔


ساڑھے نو بجے گفتگو شروع ہو کر ٹھیک بارہ بجے ختم ہوئی جو اسی وقت قلم بند ہو گئی تھی اور میرے ہمراہیوں کی تصدیق کے ساتھ پمفلٹ کی صورت میں مکالمہ کاظمی و مودودی کے نام سے منجانب جمعیت العلماء پاکستان لاہور میں شائع کی گئی۔ پھر دوبارہ وہ ملتان میں طبع ہو کر شائع ہوئی۔ زمیندار احسان و دیگر اخبارات و رسائل نے بھی اسے بالاقساط شائع کیا۔


اس سے پہلے مودودی صاحب کے مخصوص اعتقادات اور جدید اصول و نظریات سے مجھے پوری طرح واقفیت نہ تھی اس لئے ان کی تحریک کے متعلق میں نے اب تک اظہارِ خیال نہیں کیا تھا۔


اس گفتگو کے بعد ان کے بعض نظریات مجھ پر واضح ہو گئے اس لئے میں نے ان کی تحریک پر غور کیا اور ان کی بعض کتابیں دیکھیں۔ ان کے مطالعہ سے جو نتائج میں نے اخذ کئے ان کا اظہار اس کتاب کے حصہ اول و دوم میں تفصیل کے ساتھ کر دیا ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہو گا کہ مودودی صاحب نے اکابر امت اور سلف صالحین سے الگ اپنے لئے ایک نئی راہ نکالی ہے جس پر وہ اپنی جماعت کے ساتھ گامزن ہیں۔


انہیں اپنی اجتہادی بصیرت پر اتنا غرور ہے کہ وہ اپنے وضع کردہ اصول و نظریات کے سامنے کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔ انہوں نے اکابر امت پر جو شدید نکتہ چینی کی ہے اس کتاب کے دونوں حصوں کو پڑھ کر ناظرین کرام اس کا صحیح اندازہ کر سکیں گے۔


مودودی صاحب نے قوم سے اپنے نظریات تسلیم کرانے کا عجیب طریقہ ایجاد کیا ہے۔ وہ کسی جگہ اپنے مجتہد یا مجدد ہونے کا اقرار نہیں کرتے مگر انہوں نے اپنے اندازِ بیان سے اپنی جماعت کے ایک ایک فرد کے ذہن میں یہ بات راسخ کر دی ہے کہ اس وقت تک مجھ جیسا مجتہد اور مجدد پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح مہدویت کے بارہ میں ان کا رویہ، یہ ہے کہ ابھی تک انہوں نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا مگر ایک طرف تو انہوں نے امام مہدی کی کچھ ایسی من گھڑت خصوصیات لکھ دی ہیں جو بظاہر ان کے حسب حال ہیں، دوسری طرف اپنی ذاتِ گرامی کو ان ہی خصوصیات و اوصاف کا حامل بنا کر قوم کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ ایک شخص اپنے عقیدت مندوں سے کہے کہ سبز لباس پہننے والا آدمی ولی اللہ ہوتا ہے، جو اپنے منہ سے اپنے ولی ہونے کا دعویٰ نہ کرے۔ پھر خود ہی سبز لباس پہن کر ان کے سامنے آ جاتا ہے اور اپنی ولایت کا دعویٰ نہیں کرتا۔ اب بتایئے کہ ایسے آدمی کو (باوجودیکہ وہ اپنی زبان سے ولی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا) مدعی ولایت سمجھا جائے گا یا نہیں؟ مودودی صاحب نے بالکل یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ گویا انہوں نے زبانِ قال کی بجائے زبانِ حال سے ادعائے مہدویت فرمایا اور اس طرح قوم کے ذہن میں اپنی مہدویت کا تصور جمانے کی کوشش کی۔


مجددین و مجتہدین حتیٰ کہ صحابہ کرام اور خلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر انہوں نے جو کڑی نکتہ چینی کی ہے اس نے اس حقیقت کو اور بھی واضح کر دیا کہ وہ اپنا مقام امت محمدیہ میں سب سے بلند سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ایک شخص دوسرے کی اصولی غلطی اسی وقت نکال سکتا ہے جب کہ اس کی قوتِ علمیہ اس کے بارہ میں اس دوسرے سے قوی اور بالا تر ہو۔


مجتہد سے، اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے (جس پر اسے اجر ملتا ہے) مگر اس غلطی کو غلطی قرار دینا بھی مجتہد ہی کا کام ہے۔ مودودی صاحب نے اکابر امت کی جن باتوں کو غلط قرار دیا ہے اگر وہ انہیں اجتہادی غلطی ہی کہہ دیتے تو ہمیں ان سے ایسا شکوہ نہ ہوتا۔ حالانکہ ان کا یہ منصب بھی نہ تھا مگر انہوں نے بزرگانِ امت کے حق میں اس تخفیف کو اپنے لئے خفت اورکسرِ شان سمجھا اور اپنی مستقل قوتِ اجتہادیہ کے نشہ میں کسی کی پروا نہ کی، جس سے واضح ہے کہ وہ اپنے سامنے کسی کو کچھ نہیں سمجھتے۔


ان حالات میں تحریک مودودیت میرے نزدیک امت مسلمہ کے لئے ایک خوفناک فتنہ ہے جس کے فساد کا ہر پہلو اصلاح کے خوبصورت پردہ میں چھپا ہوا ہے اس لئے ایک ادنیٰ ترین خادم دین ہونے کی حیثیت سے میں نے اپنا فرض سمجھ کر یہ کتاب لکھی۔ اس موضوع پر اگر پوری وضاحت سے اظہارِ خیال کیا جائے تو غالباً کئی ضخیم جلدیں تیار ہو جائیں گی۔ لیکن اپنی انتہائی عدیم الفرصتی کے باعث میں نے اختصار سے کام لیا ہے۔ اس کے باوجود بھی مضمون اتنا طویل ہو گیا کہ ناظرین کی سہولت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے مجھے اس کے دو حصے کرنے پڑے۔


میں نے اس کتاب (آئینۂ مودودیت) میں جو کچھ لکھا ہے، بفضلہ تعالیٰ وہ حق و صداقت پر مبنی ہے جس کا کوئی معقول جواب (سوائے رجوع کے) ان شاء اللہ مودودیوں سے نہ ہو سکے گا۔ ان کے پاس ہمارے ہر اعتراض کا صرف ایک جواب ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ حکومت کے آلہ کار اور ذاتی مفاد کے پرستار ہیں۔ اس کے متعلق میں صرف اتنا کہوں گا کہ
لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین (جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہو) ہم اپنے رب کریم کو حاضر و ناظر اور گواہ کر کے کہتے ہیں کہ نہ ہم حکومت کے آلہ کار ہیں اور نہ ارکانِ حکومت سے ہمارا کوئی تعلق بلکہ کسی سیاسی جماعت یا اسمبلی کے کسی امیدوار سے بھی ہمارا قطعاً کوئی تعلق اور لگاؤ نہیں۔ نہ اس اشاعت سے ہمارا کوئی ذاتی یا دنیوی مفاد وابستہ ہے بلکہ اس سلسلہ میں ہم مالی نقصانات سے جس قدر زیر بار ہو چکے ہیں، وہ ہماری قوت سے کہیں زیادہ ہے۔


میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی جبکہ ایسے لوگوں کی طرف سے اس قسم کے ذلیل، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سنتا ہوں جو پاکیزگی اخلاق اور تزکیہ نفس کے ساتھ صالحیت کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ان لوگوں کے دل میں اگر ذرہ برابر بھی خوفِ خدا ہوتا تو یہ ایسی دروغ گوئی اور کذب بیانی سے کام نہ لیتے پھر یہی نہیں کہ مودودی جماعت کے افراد ہی اس اکذب الحدیث میں مبتلا ہیں بلکہ ان کے امیر الصالحین مولانا مودودی صاحب بذاتِ خود بھی ہم پر یہی الزام تھوپ رہے ہیں۔


میں ان کی خدمت میں عرض کروں گا کہ کیا بغیر دلیل شرعی کے اس قسم کی سوء ظنی ان کے نزدیک کتاب و سنت کی روشنی میں جائز ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو جو لوگ قرائن قویہ کے ماتحت آپ کے بارہ میں حکومت ہند کے آلۂ کار ہونے کا گمان رکھتے ہیں۔ آپ ان کی تصدیق فرمائیں گے؟ مجھے امید ہے کہ انصاف پسند حضرات مودودیوں کے اس کذب صریح کی پروا نہ کرتے ہوئے اس مضمون کو غور سے پڑھ کر حق و باطل میں امتیاز کرنے کی کوشش کریں گے۔


اس کے بعد بزرگان و برادرانِ ملت سے میں یہ استدعا کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر آپ کے دل میں مقدس اسلام کی کچھ بھی وقعت ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے محبوب وطن پاکستان میں صحیح اسلامی نظام رائج ہو تو مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان کو مستحکم کرنے کی کوشش کیجئے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کی مکمل تنظیم کے لئے کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو جایئے، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا۔


اگر اس وقت آپ نے ذرا بھی تساہل سے کام لیا تو اس کے نتائج بہت افسوس ناک ہوں گے۔ پھر وقت نکل جانے کے بعد آپ کا تأسف بے سود ہو گا۔


مجھے قوی امید ہے کہ با احساس حضرات ضرور اس طرف متوجہ ہوں گے۔


سید احمد سعید کاظمی امروہوی غفرلہٗ
یکم فروری ۱۹۵۱ء
بروز پنجشنبہ

اگلا صفحہ
 

ہوم پیج