جمعیت علمائے پاکستان

مکتوبِ خصوصی


جمعیت علماء پاکستان کا قیام حضرت علامہ کاظمی شاہ صاحب کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام حضرت علامہ کاظمی شاہ صاحب کا خط (ملاحظہ ہو)

 

سیدی و مولائی
مستشار العلماء المشائخ الاعلام! ادامکم اللّٰہ بالعز والاکرام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
یہ امر آپ جیسے اہل بصیرت حضرات سے مخفی نہیں کہ اس دور پر آشوب کے حالات و واقعات امت مسلمہ کے لئے خطرناک سے خطرناک تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہر ایک قوم و جماعت ان ہولناکیوں کو محسوس کرتے ہوئے ان سے تحفظ اور اپنی باعزت بقا کی کوششوں میں سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے لیکن ہم اہل سنت نے ایسے حالات کی نزاکت کا احساس نہ کبھی پہلے ہی کیا اور نہ آج اس کی طرف ہماری توجہ ہے۔ دنیا کے گوشہ گوشہ میں بیداری کی لہر دوڑ گئی مگر ہم ویسے ہی خوابِ غفلت میں مدہوش ہیں۔ سوء اتفاق سے اگر کبھی مجتمع ہوئے بھی تو متفرق ہونے کے لئے ملے تو جدا ہونے کے واسطے! اس کے برعکس اغیار نے ہمیشہ موقع شناسی سے کام لیا۔ حالات کی رفتار کا گہری نظر سے اندازہ کیا اور جو قدم اٹھایا برمحل اور مقتضائے حال کے مطابق اٹھایا۔ چنانچہ ان کی وہ مشہور شخصیتیں اور جماعتیں جو اب سے قریبا دو (۲) سال قبل تک نظریۂ پاکستان اور اس کے قیام کی شدید ترین مخالفت کرتی رہیں اور آج قیام پاکستان کے بعد بھی ان جماعتوں کے بیشتر افراد پاکستان کی مخالفت ہی کئے جاتے ہیں، بایں ہمہ ان کی دو رُخی پالیسی اور موقع شناسی برابر کارفرما ہے۔ جب انہیں قیام پاکستان کا یقین ہو چلا تو انہوں نے حیرت انگیز طور پر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور کچھ ایسا رسوخ پیدا کیا کہ ان کا ایک فرد ایک ہی جست میں منصب دستور پر فائز المرام ہو کر پاکستان کی اسمبلی پر بھی چھا گیا۔ دوسری طرف انہی جماعتوں کی پیش بینی کے ما تحت تحفظ و دفاعِ پاکستان اور اس کی حمایت کا ریزولیشن پاس کر کے اعلان کر دیا کہ ہمارے سابقہ اختلافات ختم ہو گئے۔ اب ہم جماعتی طور پر پاکستان کی پوری حمایت اور اس کے واسطے ہر ممکن قربانی کریں گے اور اس طرح یہ لوگ حکومت پاکستان کی نظر میں سرمۂ چشم بن کر سما گئے اور اب پاکستان میں آئین شرعیہ کے نفاذ کے مطالبہ کی آوازیں بلند کر کے عامۃ المسلمین سے بھی خراجِ تحسین و عقیدت حاصل کر رہے ہیں۔ ہر چند کہ یہ مذکورہ مطالبہ نہایت مستحسن ہے لیکن اس پردہ میں ان کے اغراض و مقاصد بھی کارفرما ہیں جو نہ صرف اہل سنت کے مفاد بلکہ ہمارے وجود کو فنا کر دینے والے ہیں۔ ان حالات کے باوجود ہم ہیں کہ اسی خوابِ خرگوش میں خرّاٹے لے رہے ہیں۔ ہمارے تشتت و انتشار کا آج بھی وہی عالم ہے جو پہلے تھا۔ نہ ہم پہلے کچھ تھے، نہ آج کسی شمار میں ہے۔ حالانکہ بفضلہ تعالیٰ عامۃ المسلمین میں ہماری اکثریت ہے، پھر بھی ہمارا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس سے بڑھ کر ہماری بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے۔ ادھر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے ہمیشہ مسلم لیگ کی حمایت کی، اس کا ساتھ دیا اور قیام پاکستان کے سلسلہ میں اپنی تمام کوششیں صرف کر دیں۔ جانی و مالی قربانیوں میں کوئی دریغ نہیں کیا۔ بحمد اللّٰہ! اپنے اور بیگانوں کی شدید مخالفتوں کے باوجود پاکستان قائم ہو گیا مگر ہماری عدم تنظیم نے ہمیں یہ وقت دکھایا کہ آج اس حکومت پاکستان میں جس کا قیام ہماری قربانیوں کا نتیجہ ہے، ہمیں کوئی امتیاز و وقار حاصل نہیں۔ نہ ہماری خدمات کا کوئی نتیجہ! بلکہ ہمارا مذہب و مسلک جان و مال، عزت و آبرو سب کچھ شدید ترین خطرات میں محصور نظر آتے ہیں۔ مستقبل قریب میں جو طوفانی انقلاب رونما ہوتا نظر آ رہا ہے، اس کی تہہ میں ہمارے مخالفین کی طاغوتی طاقتیں ہمارے کچلنے او رحرف غلط کی طرح مٹا دینے کے در پے نظر آتی ہیں۔ اندریں حالات بھی اگر خدانخواستہ ہمیں ہوش نہ آیا اور ہم اسی طرح غیر منظم اور منتشر رہے تو اس کا انجام ظاہر ہے۔


محترم! ہر جماعت کا وجود و اثر اس کے اہم کارہائے نمایاں کی بنا پرتسلیم کیا جاتا ہے۔ انفرادی کام کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ نہ انفرادی زندگی و عزت کوئی زندگی و عزت ہے۔ اس لئے اب تک جو ہوا سو ہوا، اس پر افسوس کا وقت نہیں رہا۔ اب اگر ہم عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہنے اور اپنے صحیح مذہب و مسلک کی بقا کے خواہشمند ہیں تو ہمیں
گزشتہ را صلوٰۃ آئندہ را احتیاط کے پیشِ نظر فی الفور اور ضرور بالضرور ایک مرکز پرجمع اور ایسی وسیع و مستحکم تنظیم کے ساتھ منظم ہونا پڑے گا کہ ہمارا ایک فرد بھی ہم سے جدا نہ رہے اور پھر پوری قوت و ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کی فتح و نصرت کی امید پر میدانِ عمل میں نکل آئیں۔ حالات کتنے ہی بد سے بدتر سہی! لیکن الحمد للّٰہ کہ ہم اس کی رحمت سے نا امید نہیں۔ ابھی ہمارا مرض قابل علاج ہے۔ آفتاب امید کی شعاعیں چمکتی نظر آتی ہیں۔ خدا کی رحمت ہماری حرکت کی منتظر ہے۔ ہمیں کسی کو گرانا نہیں بلکہ اپنے گرے ہوؤں کو اٹھانا ہے۔ ہمارا مقصد کسی سے برسرِ پیکار ہونا نہیں، نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ کسی مذہبی یا سیاسی جماعت سے متصادم ہوں۔ ہم تو اہل سنت کی تسبیح کے بکھرے ہوئے دانوں کو وسیع تنظیم کے مضبوط رشتہ میں پرونا اور ایک امیر اہل سنت کی قیادت میں منظم و مجتمع کر کے یہ چاہتے ہیں کہ دولت خدا داد پاکستان کی ایسی صحیح دینی و ملی خدمت کریں کہ وہ آئین شرعیہ کے مکمل نفاذ و اجراء کے ساتھ صحیح معنی میں اسلامی حکومت بن جائے کیونکہ یہ مطالبہ درحقیقت انہی اہل سنت کا حق و فرض ہے جو ہمیشہ قیام پاکستان کی حمایت اور اس کے لئے جدو جہد کرتے رہے ہیں۔ اس مبارک مقصد اعظم کے لئے کافی غور و خوض کے بعد جمعیۃ العلماء پاکستان کی تشکیل کی گئی ہے۔ موجودہ تشکیل عارضی اور اس وقت کے لئے ہے جب تک جمعیت کا مرکزی افتتاحی اجلاس منعقد ہو۔ مرکزی اجلاس میں جدید انتخاب ہو کر با ضابطہ مرکزی جمعیت قائم کی جائے گی۔ یہ اجلاس بتواریخ ۲۶، ۲۷، ۲۸؍ مارچ ۴۸ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار ملتان میں منعقد ہو رہا ہے جس کے لئے پاکستان کے جمہور علماء و مشائخ اہل سنت کو دعوت دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کا سالانہ جلسہ بھی منعقد ہو گا۔ خدا کے لئے اس موقع پر ضرور بالضرور تشریف لایئے اور امت مسلمہ و حکومت اسلامیہ پاکستان کو صحیح راہِ عمل پر گامزن ہونے کی تبلیغ و ہدایت فرما کر عند اللہ ماجور و عند الناس مشکور ہونے کی کوشش فرمایئے۔


جناب کی شرکت خاص طور پر نہایت ضروری ہے۔ ازراہِ کرم جواب بالصواب سے جلد از جلد مشرف فرمایئے تاکہ زادِ راہ حاضرِ خدمت کیا جائے۔ والسلام مع الاکرام

فقیر سید احمد سعید کاظمی امروہی غفرلہٗ
مہتمم مدرسہ عربیہ انوار العلوم، ملتان شہر کچہری روڈ
۴؍ مارچ ۴۸ء




باسمہٖ سبحانہٗ تعالٰی
دعوت نامہ

منجانب جمعیت العلماء پاکستان (ملتان شہر)
حضرت محترم! دام بالمجد والکرم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
یہ امر جناب سے مخفی نہیں کہ علماء جمہور اہل سنت ابتدا سے قیام پاکستان کی حمایت اور اس کے حصول کے لئے پوری جدو جہد کرتے رہے ہیں۔ قیام پاکستان کی راہ میں جو لوگ حائل رہے وہ صرف غیر مسلم ہی نہ تھے بلکہ اپنی بد قسمتی سے کچھ مسلمان بھی تھے جو ان کی ہمنوائی اور ہماری مخالفت کرتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام مخالفین کی کوششوں کو ناکام فرما کر محض اپنے فضل وکرم سے امت مسلمہ کو پاکستان کی دولت عطا فرمائی۔


نیز یہ حقیقت بھی جناب پر روزِ روشن کی طرح آشکارا ہے کہ عامۃ المسلمین نے حصولِ پاکستان کے لئے جس قدر جدو جہد کی، وہ صرف اس مقصد کے پیشِ نظر تھی کہ دولت پاکستان میں خالص اسلامی حکومت ہوگی اور اس کا دستور و نظام خالص اور صحیح اسلامی دستور و نظام ہو گا۔ مسلمانوں نے اس مقصد عظیم کے لئے جو قربانیاں دیں اور اس راہ میں ان کو جس قدر آلام و مصائب اور قیامت خیز خونی انقلاب سے دوچار ہونا پڑا، دنیا کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے لیکن اگر اب بھی وہ مقصد حقیقی حاصل نہ ہوا تو یہ ملت اسلامیہ کی انتہائی بد قسمتی بلکہ اس کی موت ہو گی اور یہ سب قربانیاں خاک میں مل جائیں گی۔ اس وقت ہر ایک جماعت اپنے مقاصد کے پیشِ نظر میدانِ عمل میں گامزن ہے۔ ہمارا مقصد اعظم صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ لاکھوں مسلمانوں کی یہ خونی قربانیاں ضائع نہ ہوں۔ پاکستان صحیح معنوں میں اسلامی حکومت قرار پائے اور اس میں اسلامی آئین و قوانین کا پوری طرح نفاذ ہو اور اس کے ساتھ مذہب اہل سنت کا پورا پورا تحفظ ہو۔ ہم طویل مدت سے جمود و تعطل اور تغافل و تکاسل میں مبتلا ہیں۔ ہم نے اس وقت تک اپنی مکمل و مستحکم تنظیم کی طرف کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا تھا۔ اب زمانہ کی رفتار ہمیں ٹھکرا ٹھکرا کر مجبور کر رہی ہے کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ منظم ہو کر ایک مرکز پر جمع ہو جائیں اور اپنی اجتماعی قوت سے اپنے مذہب و ملت کی حفاظت کے لئے تیار ہو جائیں۔ مبادا کہ زمانہ کی طاغوتی طاقتیں ہمیں کچل کر رکھ دیں اور ہم ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہو جائیں۔ اس اہم ضرورت کے پیشِ نظر جمعیۃ العلماء پاکستان کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے۔ جس کا مرکزی افتتاحی اجلاس بتواریخ ۲۶، ۲۷، ۲۸؍ مارچ ۱۹۴۸ء ملتان میں منعقد ہونا قرار پایا ہے۔ لہٰذا نہ صرف خدا و رسول اور دین حنیف کے لئے بلکہ اپنی بقائے بالایمان و عزت کے لئے بھی اس اہم ضرورت کا شدت کے ساتھ احساس فرماتے ہوئے ہم خدام دین و ملت کی دستگیری و رہنمائی فرمائیے اور ایسی صراطِ مستقیم پر چلایئے جو ہمیں منزل مقصود پر پہنچا دے۔
اگر خدا نخواستہ اس وقت آپ نے موجودہ حالات کی نزاکت کا صحیح اندازہ و احساس نہ فرمایا تو مستقبل قریب میں اس کے جس قدر خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ ان سب کی ذمہ داری سے جناب کی ذاتِ گرامی بھی مستثنیٰ نہیں ہو سکتی اور قیامت کے دن جمہور اہل سنت آپ کے دامن گیر ہوں گے اس لئے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اجلاس ہٰذا کی دعوت قبول فرما کر مژدہ تشریف آوری سے مطلع فرمائیں تاکہ مجلس استقبالیہ جناب کے قیام و طعام و دیگر ضروریات کا باحسن وجوہ انتظام کر سکے۔

وما علینا الا البلاغ المبین۔ والسلام مع الاکرام۔

اس کے جواب میں نہایت مایوسانہ جواب حضرت کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس کا جواب الجواب ممدوح نے مندرجہ ذیل عطا فرمایا۔

ازدفتر مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم کچہری روڈ ملتان شہر
مؤرخہ ۱۱؍ مارچ ۱۹۴۸ء
سیدی و سندی و مولائی۔
ادام اللّٰہ تعالیٰ برکاتکم ومتعنا بطول حیاتکم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

کرم نامہ تشریف لایا۔ دلی شکریہ! جامع المتفرقین جل مجدہٗ
اگر ہمیں دولت تنظیم عطا فرما سکتا ہے تو وہ اس کے لئے دامن قابلیت دینے پر بھی قادر ہے۔ ہم تو لَا یَیْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ کے پیشِ نظر اس کی رحمتوں کے امیدوار ہیں۔ السعی منا والاتمام منہ (جل مجدہ)


بار بار بن کر بگڑنے سے گھبرائیے نہیں۔ ان شاء اللہ آنحضرت کے تلخ تجربے اس میدان میں مشعل راہ ثابت ہوں گے۔ آپ فرماتے ہیں میری شرکت مفید تو کہاں غیر مفید بھی نہ ہو گی۔ قبلہ! مفید کو تو اس وقت رہنے دیجئے۔ کلام اللیل یمحوہ النہار ہمارے لئے یہ کیا کم ہے کہ آنحضرت کی تشریف آوری غیر مفید ثابت نہ ہو۔ اسکے سوا اور ہم چاہتے ہی کیا ہیں۔


جواباً جو کچھ ارقام فرمایا ہے اٰمنا وصدقنا! لیکن تشریف کو شروط موانع سے مشروط فرمانا یقینا ورود منع کے قابل ہے اس لئے اگر لانسلم کے ساتھ مؤدبانہ گزارش کی جائے کہ تشریف آوری لا بشرط شیٔ کے مرتبہ سے ہونی چاہئے تو غالباً آپ ناراض نہ ہوں گے۔


فردوسی کے شعر میں جو بے مثال تصحیح فرمائی، داد سے بے نیاز ہے۔ خوردن کے ساتھ برخاستن کو کتنی اچھی مناسبت ہے یعنی اتنا کھایا کہ کھاتے کھاتے رفع کے لئے اٹھنا پڑا۔ ہاں جناب کھانے کے بعد اٹھنے کی ضرورت نہ ہوتی تو آدم علیہ السلام گندم کھا کر جنت سے کیوں اٹھتے۔ مگر مطمئن رہئیے۔ راشن کی قلت کی وجہ سے ان شاء اللہ یہاں ایسا موقع نہ آئے گا۔


قبلہ! نمازِ جمعہ کے بعد ہی سہی! مگر اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ اور اس کے رسول ﷺ کا واسطہ! تشریف ضرور لائیں۔

ایکہ بس آمدنت باعث آبادی ما

والسلام مع الاکرام
آپ کا کاظمی غفرلہٗ


تعارف جمعیت العلماء پاکستان
جس کو حضرت علامہ مولانا مفتی سید احمد سعید صاحب کاظمی
ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان نے سالانہ کانفرنس مؤرخہ ۱۰، ۱۱، ۱۲؍ دسمبر ۱۹۵۵ء کے لئے مرتب فرمایا

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

الحمد للّٰہ الولی القدیر والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ الذی ہو اغنی العالم فی ذی الفقیر وعلٰی اٰلہ الذین ما احد منہم الامن ہٰذہ الشمس مستنیر وعلٰی اصحابہ الذین ہم کالنجوم بایہم اقتدیتم فہو للصراط المستقیم قمر منیر۔ اما بعد فایہا العلماء الا عالم والمشائخ الاکارم۔

یارائے سخن نہیں کہ آپ جیسے آفتاب ہائے فلک علم و کرم کے روبرو کیونکر اپنی بے بضاعتی و تہی دامنی کا چراغ دکھاؤں لیکن امتثالاً للامر لب کشائی پر مجبور ہوں کہ کیوں نہ جماعت کے ماضی کی داستان، حال کا بیان اور مستقبل کے خلجان آپ کی خدمت میں پیش کر کے آپ کی ہدایات و احکام کی تعمیل کے لئے تازہ سر و سامان سے آمادئہ عمل ہو جاؤں۔ وباللّٰہ التوفیق وعلیہ التکلان۔


وجہ قیام جمعیۃ العلماء پاکستان
حضرات! ۱۹۴۷ء کے قیامت خیز، حشر انگیز اور ہنگامہ پرور حالات و واقعات سے کون درد ملت رکھنے والا حساس مسلمان ناواقف ہے۔ پھر جسد ملت کے ہر زخم پر مرہم رکھنے کا مامور گروہ یعنی علماء دین متین کیونکر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہتے۔ انہیں تو دربارِ نبوت سرکار ابد قرار ﷺ سے انبیاء بنی اسرائیل کی نیابت کا عہدہ سپرد ہوا ہے
کان انبیاء بنی اسرائیل تسوسہم (مشکوٰۃ و نسائی) میں ان کا سیاسی دستور العمل بھی متعین فرما دیا گیا ہے۔ پھر بھی اگر غفلت و جمود کی تاریکیوں میں سے آپ نہ نکلتے تو کیاآپ کا جواب ہوتا اس روز جو یَوْمَ تُبْلَی السَّرَائِرُ کا مظہر ہو گا؟ اور کیا منہ دکھاتے آپ اس دربارِ عالی وقار میں جہاں آپ کو مَا تَقُوْلُ فِیْ حَقِّ ہٰذَا الرَّجُل کا مخاطب ٹھہرایا جاتا اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ سے اس وقت آپ بے شک بے اعتنائی کر لیتے لیکن جائے پناہ ہوتی آپ کے لئے اس وقت جب کہ ہمارا یہ نمائشی علم و تقویٰ ہماری بے عمل و پُر غفلت زندگی کی بدولت ہمارے منہ پر مارا جاتا۔


حضرات! یہی ترہیب و وعید ہماری بیداری کا سبب بنی اور چند درد دل رکھنے والے علماء و افاضل اٹھے اور انہوں نے قیام پاکستان کے چھ ماہ بعد مارچ ۱۹۴۸ء میں بمقام ملتان آپ کی اس جمعیت کی بنیاد رکھ کر چار دانگ عالم میں اس کی دعوتِ عام اور تنظیم خاص کا صور پھونک دیا۔ وہ روحیں جو عشق نبی امین و حب دین متین میں سرشار تھیں اس آواز پر والہانہ لبیک کہتی ہوئی دوڑیں اور تمام پاکستان میں قلیل سی مدت میں شاخیں قائم کر کے اس مرکزی تنظیم جمعیۃ العلماء پاکستان کے تحت خدمت دین و ملک میں سرگرم عمل ہو گئیں۔


حضرات! یہ ہے وہ علت فاعلی، جس پر آپ کی جمعیت کا قیام عمل میں آیا اور یہ ہے وہ علت غائی جس کے لئے اس ادارہ کا تنظیم پذیر ہونا لازمی سمجھا گیا، جس کے آپ حضرات ارکانِ ذی شان ہیں۔


جہادِ کشمیر
حضرات! بھارت کی نوخیز لادین حکومت کے برسرِ اقتدار آتے ہی لا دینی کے پردے میں مسلمانوں پر اس کے ہاتھوں بے پناہ مظالم کا وہ طوفان آیا کہ اس نے اس کی منافقت کے پردے چاک کر کے رکھ دئیے اور ہندوستان کے اندر ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے باہر پاکستان کی سرحدوں پر خطہ کشمیر کی خالص مسلم آبادی میں قیامت برپا ہو گئی۔
شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔


حضرات! وہ منظر دیکھنے کے قابل تو نہیں تھا لیکن مغموم دلوں اور اشکبار آنکھوں کو بدقسمتی سے یہ سب کچھ دیکھنا پڑا۔ کشمیر سے آنے والے بیکس مہاجرین کی زبان ان حالات کو بیان کرنے سے قاصر تھی جو زبانِ حال پکار پکار کر عیاں کرتی ہوتی تھی۔ جمعیت خاموش کیسے رہ سکتی تھی، اللہ کا نام لے کر اٹھی اور ان بیکس، نادار، مجبور و مقہور بندگانِ خدائے پاک کے زخمی دلوں پر جہاں مرہم رکھا، وہاں بھارت سے اٹھنے والے درندہ صفت کفار و مشرکین کی مظلوم مسلمانوں کے مقابلہ میں بربریت و بہیمیت کا وہ دندان شکن جواب دیا کہ کشمیر کی تاریخ میں آپ کی خدماتِ جلیلہ سنہری حروف میں قلمبند ہو کر تا ابد یادگار رہیں گی۔ اس جدو جہد کی مکمل سرگزشت تو رودادِ جمعیت مطبوعہ ۱۹۴۹ء میں ملاحظہ فرما لیجئے۔ مختصر یہ کہ جمعیت کی جانب سے اسلحہ، جیپ گاڑیاں اور مجاہدین کشمیر کی ضرورت کی ہر قسم کی اشیاء مہیا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی۔ حکومت کے سول اور فوجی حکام کے مشوروں اور ہدایات کے مطابق ہر قسم کی جانی و مالی امداد کی گئی۔ ایک عظیم الشان وفد مرتب فرما کر خود صاحب صدر محاذِ کشمیر پر تشریف لے گئے۔ جابجا مجاہدین کشمیر کے جلوسوں میں تقریریں کیں اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کے مصالح و محاسن بتلا کر تازگی ایمان و ایقان کا سامان بھی فراہم فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہی سے وہ سامان بھی تقسیم فرمایا جو ان میں تقسیم کے لئے جمع کیا گیا تھا۔


دستور سازی
حضرات! محاذِ کشمیر کے ساتھ ساتھ مہاجرین کشمیر و بھارت کی شب و روز کی آمد پر ان کی پذیرائی اور بحالی سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی تھی چنانچہ اس ضمن میں بھی جمعیت کی خدمات کسی سرگرمیٔ عمل کی خدمات سے کم نہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ جس پر جمعیت کو سب سے زیادہ توجہ مبذول کرنے کی ضرورت تھی وہ دستور سازی کا مسئلہ تھا کیونکہ تدوین دستور پر ہی مملکت پاکستان کی موت و حیات کا دارو مدار تھا۔ بد قسمتی سے یہ مسئلہ آج تک اربابِ حکومت اور عوام کے مابین مابہ النزاع بنا ہوا ہے لیکن غیر اسلامی دستور کی مخالفت و مدافعت میں جمعیت آج بھی اپنے دلوں میں کوئی شائبہ وہن و جبن نہیں پاتی، جس طرح اس وقت نہیں پاتی تھی۔ دستور ساز اسمبلی کے اندر اور باہر ہر جگہ دستور اسلامی کی تدوین و ترتیب کی تائید و حمایت کے لئے وہ اپنی تمام سرگرمیاں وقف کئے رہی بلکہ جہادِ کشمیر، پذیرائی و بحالی مہاجرین وغیرہ، تمام مسائل جمعیت کے نزدیک ثانوی حیثیت کے حامل ہیں۔ ان پر جس قدر التفات کیا گیا، اس کا سبب محض یہی داعیہ تھا کہ حکومت نے عامۃ المسلمین سے آئین اسلامی کا وعدہ کر رکھا تھا ورنہ انگریزی اور ملکی حکومت کے درمیان ہمارے نزدیک کوئی فرق نہ سمجھا جاتا اور ہم بلا وجہ حکومت کے کسی پھڈے میں ٹانگ نہ پھنساتے، جس طرح آج تک ہم مسلمانوں کی مذہبی و ملی خدمات بجا لانے تک ہی اپنی سرگرمیاں محدود رکھے رہے اسی طرح آج بھی ہم اسی گوشۂ خمولی پر قناعت کئے رہتے لیکن اسلامی آئین سازی کا وعدہ کرنے والی جماعت (خواہ وہ مسلم لیگ ہو یا برسرِ اقتدار طبقہ) کے ساتھ تعاون کرنا اور اس کی ہر مشکل میں ہاتھ بٹانا، ہم نے اسلامی فریضہ جان کر ہر نوع کی جانی و مالی قربانی دینا ضروری سمجھا۔ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا، ہماری مساعی بارآور ہوئیں۔ دستوریہ نے قرار دادِ مقاصد باتفاق آراء پاس کر کے اپنے اس وعدئہ دستور سازی اسلامی کی تصدیق و توثیق کر دی جس کا وعدہ مسلم لیگ کی یوم نشاۃ ثانیہ اور تاسیس پاکستان کے یوم اول سے قوم و ملت کے ساتھ کیا جا رہا تھا اسی وعدہ پر اعتماد کرتے ہوئے تو قبل از تقسیم کے تمام ہندوستانی مسلمانوں نے قائد اعظم کا ساتھ دیا تھا۔ اسی وعدہ کی امید ایفاء کے بھروسہ پر آج بھی ملت پاکستان، پاکستان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتی ہے۔ اگر آج اس آئین کا ایک شوشہ بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف ترتیب دے کر قوم پر ٹھونسا جائے تو یہ اتنا بڑا تشدد ہو گا کہ تاریخ عالم اس کی مثال نہیں پیش کر سکے گی اور قوم اس ظلم عظیم کو اپنے حواس بجا رکھتے ہوئے کسی حال میں برداشت نہیں کر سکے گی۔


یہ خیالات تھے، جن کو پیشِ نظر رکھ کر جمعیت نے اس مسئلہ کے حل کرنے کے لئے اپنی تمام کوششیں وقف رکھیں اور بالآخر قرار دادِ مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد دستوریہ نے کیا کیا اور اربابِ حکومت نے قرار دادِ مقاصد کے ساتھ کیا کیا مذاق برتا۔ پاکستان کا آٹھ سالہ دورِ حکومت شاہد ہے اور دستور کہ اپنی جگہ ساکت و صامت ہے۔ ہماری کوششیں اور جدو جہد کی تمام تدبیریں قرار دادِ مقاصد کے بعد ختم نہیں ہو گئیں۔ وہ اس کڑی کا پہلا قدم تھا جو بحمدہٖ تعالیٰ کامیاب ہوا۔ اصل کوشش اور جدو جہد کا اب وقت ہے۔ حکومت کا دستور کے حق میں سرد مہری اور اس کا لا ابالی پن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہمیں اور آپ سب کو پوری مضبوطی اور منظم طریقہ کے ساتھ حکومت پر زور دینا ہے کہ یہاں اسلامی دستور کو جلد از جلد نافذ کرے۔


تحریک تحفظ ختم نبوت
حضرات! زمانہ ساکن نہیں، متحرک ہے۔ اس کی کروٹیں بعض اوقات ایسی غیر متوقع اور خلافِ امید ہوتی ہیں کہ انسانی فہم و خرد، رہنمائی کرنا تو کجا اس کے سمجھنے سے بھی قاصر ہوتی ہے

ستبدی لک الایام ما کنت جاہد
ویأتیک بالاخبار من لم تزودٖ

ورفع الدہر کیف ما دار: زمانے کی گردشوں سے بچتے، کتراتے اور بوقت ضرورت مقابلہ کرتے ہوئے جمعیۃ کی اسلام پسند و ملت پرور سرگرمیاں جاری تھیں کہ فتنۂ قادیانیت کے بھیانک عزائم نے ملت کو چونکا دیا اور تمام قومیں متفقہ طور پر تحفظ ختم نبوت کی غرض سے اپنے اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے استیصالِ فتنۂ قادیانیت پر پوری طرح متوجہ ہونے کے لئے مجبور ہو گئیں۔ ظاہر بات ہے کہ پاکستان کو مسلمانوں نے جان و مال کی بے حد و حساب قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے تو وہ لوگ جو عامۃ المسلمین کے ساتھ بلکہ خود پاکستان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھتے، انہیں کیا حق ہے کہ اس مملکت میں برسرِ اقتدار آئیں۔ مسلمانانِ عالم کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ نے بتاکید فرمایا کہ

لا نبی بعدی، لا نبی بعدی، لا نبی بعدی۔

بنا بریں محض اخلاص اور تدوین کی بناء پر مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان نے اس میدان میں مضبوط قدم رکھا۔ اس تحریک میں حصہ لینے، قوم کا ساتھ دینے اور ملت کی رہنمائی کا فرض بجا لانے کے جرم عظیم کی پاداش میں طوق وسلاسل، قید و بند، ضبط و نہب کے تمام آلام و مصائب کے پہاڑ بلائے ناگہانی کی طرح جہاں عام قوم مسلم پر ٹوٹے، وہاں اکابر ارکانِ جمعیت کو بھی اس کا تختۂ مشق بنایا لیکن بحمدہٖ تعالیٰ جمعیت اس ابتلائے عظیم میں بھی کامیاب نکلی اور اپنے فرضِ منصبی سے غافل نہ رہ کر قوم کے سامنے سرخرو ہوئی۔


لیکن اس انتشارِ عظیم سے کارکنانِ جمعیت ایام قید و بند میں مبتلا رہنے کی وجہ سے بہت ضروری کام انجام نہ دے سکے اس لئے ضرورت تھی کہ تبلیغ و تنظیم کے امور کو مکمل کرنے کے لئے ارکانِ جمعیت اپنی جدو جہد کو بروئے کار لائیں۔ چنانچہ اگست ۱۹۵۴ء میں اس کا سلسلۂ جدید شروع کیا اور مارچ ۱۹۵۵ء میں جمعیت کا نیا دستور، جدید اصول و ضرورت کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دے کر مجلس عاملہ کے غور و فکر کے بعد منظور و رائج ہوا۔


اگست ۱۹۵۴ء سے اپریل ۱۹۵۵ء تک کی وہ سرگرمیاں جو جمعیت نے دکھائیں اس کا مختصر خاکہ رودادِ جمعیت نمبر ۲ میں ملاحظہ فرمائیں۔ اپریل ۱۹۵۵ء کے بعد جمعیت نے کیا کیا، اس کا مختصر اور اہم حصہ پیش کرتا ہوں


حضرات! ہمارا ملک ماضی قریب میں جس بحران میں مبتلا رہا، وہ آپ سے مخفی نہیں۔ اس کا نتیجہ جو کچھ ظاہر ہوا وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن ملک و ملت کو اس کے سبب جس کے سب سے بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا وہ آئین اسلامی کا التواء ہے۔ کچھ بعید نہ تھا کہ خواجہ ناظم الدین کی سابق وزارتِ عظمیٰ کا مرتب شدہ آئین جو کسی حد تک آئین اسلامی کا آئینہ دار تھا، جزوی حک و اضافہ کے بعد نافذ ہو جاتا، اگر اس تعطل غیر مختتم سے سابقہ نہ پڑ جاتا۔ بہر حال
عَسٰی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْئًا وَّہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ کے بمصداق ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی کوئی خیر مضمر رکھی ہو اور اپنے ظہور کے وقت وہ ہماری لا انتہا مسرت و انبساط کی موجب ہو لیکن دستورِ اسلامی کے حصول کی جدو جہد میں ہمیں اپنے فرضِ منصبی سے غافل نہیں رہنا ہے اور ہر اس مخالف آواز کو جس نے سیکولر اسٹیٹ کا نعرہ بلند کرنے کی مذموم کوشش کی، جیسا کہ سابق وزیر قانون کمار دتہ نے ایک بیان میں کہا تھا۔ اسی طرح ایک پریس کانفرنس میں اور جلسۂ عام میں مسٹر سہروردی صاحب نے اپنے سابقہ نعرہ کا اعادہ فرمایا تھا کہ دستوریہ کو توڑ دو اور ایکٹ ۳۵ء کو بحال و برقرار رکھو کا دندان شکن جواب دیا گیا۔ غرضیکہ جہاں ہم اپنے فرضِ منصبی سے غافل نہیں، آپ سے بھی گزارش ہے اور تمام مسلمانوں سے بھی، کہ متفقہ طور پر اس کا مطالبہ جاری رکھیں۔


جماعت اسلامی
قید و بند اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے ایام میں جمعیۃ مرکزیہ کے صدرِ معظم و محترم حضرت علامہ ابو الحسنات قادری مدظلہ العالی کو جماعت اسلامی کے ارکان و اکابر سے عموماً اور امیر جماعت اسلامی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی سے خصوصاً ملاقاتیں رہیں۔ اسارت سے نجات پانے کے بعد بھی متعدد بار طرفین نے ایک دوسرے کو کافی قریب سے دیکھا اور سمجھا۔ گو ہمیں اس جماعت کی آراء و افکار سے کامل اتفاق نہیں لیکن مدلل طور پر ہم نے اپنا اختلاف کبھی ان پر ظاہر بھی تو نہیں کیا تھا۔


اختلاف کے اظہار کا ایک وہ طریقہ ہے جو بعض دوسرے علمی و مذہبی حلقوں سے ظہور پذیر ہوا کہ افہام و تفہیم کی بجائے لعن و طعن کا زور اس شان سے کھول دیا گیا کہ

اور ضد بڑھتی ہے ناصح ترے سمجھانے سے

کا مصداق ہے۔


دوسرا طریقہ وہ ہے جو ہمارے اور مولانا مودودی صاحب کے درمیان طے ہوا تھا کہ صاحب موصوف کی تصانیف میں جو بات قابل اعتراض ہو وہ ان پر واضح کر دی جائے اور وہ اس کی اصلاح کر دیں۔ جب ہم سے ملک کے افراد نے متواتر اور پیہم اصرار و استفسار کیا اور ہم سے ہماری قرار داد مطبوعہ ۵۰ء در مکالمہ کاظمی و مودودی کے حوالہ سے موجودہ شور و ہنگامہ سے متاثر ہو کر میدانِ تبلیغ میں واضح طور پر آنے کے لئے مجبور کیا تو ہم نے اختلاف کے اول طریقۂ اظہار کے علی الرغم، دوسرا طریقۂ اظہار اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ چنانچہ ۲۶؍ مئی ۱۹۵۵ء کو مرکزی ایوانِ خاص کا اجلاس بلایا گیا اور اس میں متفقہ طور پر یہ قرار داد پاس کی گئی کہ علماء کرام کی ایک ایسی سب کمیٹی مرتب کی جائے جو مودودی صاحب کی تصانیف کا بغور مطالعہ کر کے قابل اعتراض اقتباسات اخذ کرے۔ چنانچہ اس قرارداد کے بموجب حضرت علامہ سید المفسرین امام المتکلمین الحاج سید شاہ ابو البرکات سید احمد صاحب حضرت مولانا ابو الخیرات سید محمود احمد صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد حسین صاحب ناظم جامعہ نعیمیہ لاہور اور حضرت مولانا مفتی اعجاز ولی صاحب رضوی بریلوی اور حضرت مولانا عبد الاحد صاحب اور مولانا حکیم غلام معین الدین صاحب نعیمی نائب ناظم اعلیٰ جمعیت مرکزیہ پر مشتمل سب کمیٹی بنا دی گئی جس نے تقریباً اکثر کتابوں کا بغور مطالعہ کر کے تمام قابل اعتراض عبارتوں کا انتخاب کر کے خدمت میں بھیج دیا، جنہوں نے ان کو وصول کر کے دستخط وصولی مرحمت فرما دئیے۔ اس درمیان میں مولانا مودودی صاحب سے برابر سلسلۂ مکاتیب جاری رہا اور افہام و تفہیم کی راہیں ہموار ہوتی رہیں لیکن مولانا مودودی صاحب کی آخری تحریر جو اس ضمن میں موصول ہوئی وہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔
لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا۔ بہرحال اس مسئلہ کا آخری تصفیہ ابھی جمعیت کے زیر غور ہے۔


مراکش
مراکش اور الجزائر وغیرہ کے مسلمان ہم سے جدا نہیں۔ عالم کے تمام مسلمہ ملت کے افراد رشتۂ اخوت میں باہم منسلک و منظم ہیں۔ بفحوائے
المسلم للمسلم کالبنیان یشد بعضہ بعضًا کالجسد اذا اشتکے عینہ اشتکی کلہٗ (او کما قال) وہاں درد ہوا، یہاں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ ان پر ظلم ہوا تو ہم مبتلائے الم ہو گئے۔ جمعیۃ العلماء نے اس ظلم کے خلاف منظم صدائے احتجاج بلند کی، جلسے کئے گئے، قرار دادیں منظور کی گئیں، تجاویز منظور ہوئیں اور اربابِ اقتدار کو اس ظلم و ستم کے انسداد کی تدبیر کرنے پر متوجہ کیا گیا۔


ایام ماضیہ کے اکابر و اسلاف
بزرگانِ کرام قوم کی زندگی کا مدار اس کے اسلاف نامدار کی روایات کے احیاء پر موقوف ہے۔ اگر یہ روایات زندہ نہ رہیں تو قوم بھی سمجھو کہ لقمۂ اجل ہو گئی۔ ان روایات کے زندہ رکھنے ہی کے لئے قوم کے اکابر و سلف صالحین کی یاد تازہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ جب اس ضرورت کو ہر قوم محسوس کرتی ہے تو اہل سنت و جماعت ہی اس سے غفلت میں کیوں پڑی ہے۔ جمعیت نے ملت کو اس فرض کی بجا آوری پر متوجہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ملت کے ذی شعور افراد نے جمعیت کی آواز پر لبیک کہا اور تمام ملک میں جمعیت کے زیر اہتمام یا اپنے طور پر جابجا جلسے منعقد کئے اور یہ تقریریں شاندار طریقہ پر منائی گئیں۔


موقعہ بموقعہ سرکلروں کے ذریعہ ملت اور شاخوں کو یاد دہانی کرائی جاتی رہی۔ چنانچہ ملک بھر میں یوم صدیق اکبر، یوم فاروق اعظم، یوم عثمان ذو النورین، یوم علی المرتضیٰ اور یوم شہادت امام حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کے متواتر جلسے کر کے شاندار طریقوں سے منائے گئے اور جہاں تک ممکن و موزوں ہوا جمعیت کے ارکان نے ملک کے دور دراز گوشوں اور علاقوں تک پہنچ کر ان تقریبوں میں شمولیت کی، ملت کو خطاب کیا اور اپنے اسلاف کی روایاتِ پاکیزہ کو متاع عزیز جان کر گوشۂ دل میں جا گزیں رکھنے کی تلقین کی۔


یوم استقلال پر یوم دستور
اگست ۱۹۵۵ء میں جمعیت کے زیر اہتمام و ہدایات جابجا جلسے منعقد ہوئے اور ان میں ایک ہی مضمون کی قرار دادیں منظور کر وا کر حکومت کی خدمت میں بھیجی گئیں کہ ہمیں صرف اسلامی دستور چاہئے۔ اگر اسلامی دستور نہ بنایا گیا تو پاکستان کا عدم و وجود برابر ہے۔ قوم کو اس سے اور کسی فائدہ کی توقع ہی نہ تھی۔


شعبۂ تبلیغ
جمعیت مرکزیہ کے ماتحت ادارہ بزم تنظیم جو کہ عرصہ سے معطل تھا، از سرِ نو اس کا قیام زیر صدارت حضرت علامہ مولانا غلام محمد صاحب ترنم عمل میں لایا گیا، جس کا نام بزم تنظیم شعبۂ تبلیغ مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان رکھا گیا۔


اس شعبہ کے ذمہ تبلیغی رسائل و ٹریکٹ کی نشر و اشاعت کا کام ہے۔ یہ بزم ماہ بماہ ایسے رسائل شائع کرتی ہے جو کہ عوام کو اسلام کی صحیح واقفیت بہم پہنچائیں اور ان میں اللہ و رسول کی محبت و اشاعت کے جذباتِ صالح راسخ کریں چنانچہ تاہنوز یہ بزم اپنے زیر اہتمام چار رسالے شائع کر چکی ہے۔


سیلاب
حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی تفاصیل تو آپ کو اخبارات کے ذریعے معلوم ہو چکی ہو گی۔ ہم کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس قیامت صغریٰ میں لقمۂ اجل ہونے والے مسلمانوں کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ہمارے جو بھائی مالی نقصان کا شکار ہوئے ہیں ان کو نعم البدل عطا فرمائے اور جو اس ابتلاء سے محفوظ رہے ہیں انہیں عبرت اندوزی و موعظت نیوشی کی توفیق عطا فرمائے۔


سیلاب کے قیامت نما طوفان نے جہاں دوسری جماعتوں کو ہمدردی کے لئے اٹھایا، وہاں جمعیت کی طرف سے سیلاب زدہ علاقوں پر پہنچ کر ہر قسم کی اعانت کی گئی۔ ملتان میں جمعیت العلماء پاکستان اور مدرسہ انوار العلوم کی طرف سے غلہ، کپڑے اور منہدم مکانوں کی تعمیر کے لئے نقد روپیہ بھی تقسیم کیا گیا۔ لاہور میں جمعیت مرکزیہ کی طرف سے شیخ حاجی ابراہیم صاحب اور دیگر لنڈے بازار کے تاجروں نے اوڑھنیاں، کمبل، پارچہ جات، ادویہ اور ماچس، مٹی کا تیل وغیرہ ٹرکوں میں لے جا کر متاثرہ مقامات پر خود جا جا کر تقسیم کیں اور ایک ہزار روپیہ مرکزی جمعیت کی طرف سے ملتان کی مقامی جمعیۃ العلماء پاکستان کو بھیجا گیا جو مولانا سید مسعود علی صاحب صدر شعبہ جمعیۃ العلماء پاکستان ملتان و مفتی مدرسہ انوار العلوم نے سیلاب زدہ علاقوں میں بذاتِ خود جا کر نقد و جنس اور پارچہ جات کی صورت میں مصیبت زدگانِ سیلاب کو پہنچایا۔


اب میں ان حضرات سے اپیل کرتا ہوں جو فضل ایزدی سے اس قیامت نما سیلاب سے محفوظ رہے ہیں، وہ اپنے اس ابتلا میں پھنسے ہوئے مسلمان بھائیوں کی ہمدردی سے غفلت نہ برتیں اور بیش از بیش امداد کرنے میں دریغ نہ کریں۔ جاڑا سر پر ہے اور یہ اپنا سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتا دیکھنے اور کچھ نہ کر سکنے والے آپ کے مسلمان بھائی کھلے آسمان کے نیچے جسم کو گرم رکھنے کے سامان سے محروم، بچوں، بڈھوں، بیماروں، عورتوں اور مردوں کے غول کے غول دانے دانے کو بھی ترس رہے ہیں۔ جمعیۃ العلماء پاکستان نے حسب توفیق جس قدر امداد ہو سکی عام مسلمانوں کی معاونت سے بہم پہنچانے میں دریغ نہیں کیا لیکن سمندر میں قطرہ کی کیا وقعت، لہٰذا آپ کو قوم کے آڑے وقت میں پوری تن دہی سے کام کرنا اور غریبوں کو بچانا چاہئے۔


تعارف کے سلسلہ میں جمعیت کے مختصر کارناموں کو صرف اس لئے پیش کیا گیا ہے کہ قوم کو یہ احساس رہے کہ جمعیت العلماء پاکستان بفضلہ تعالیٰ اپنی بساط کے موافق دین و ملت کی خدمات کے کسی گوشہ میں پیچھے نہیں رہی اور یہ احساس قوم کے آگے بڑھنے اور آئندہ مقاصد میں جمعیۃ العلماء پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے میں ممدو معاون ثابت ہو۔


یہ حقیقت ہے کہ جمعیت کے تمام کارنامے قوم و ملت کے حساس و فعال افراد ہی کے کارنامے ہیں۔ کیونکہ جمعیت ملت کے ان افراد ہی کے مجموعہ کا نام ہے۔ میں اپنی قوم کے متاعِ عزیز حساس و فعال افراد اور دردِ دل رکھنے والے بزرگوں سے مخلصانہ اور مؤدبانہ اپیل کروں گا کہ وہ اسی تعارف کے ذیل میں اپنی جمعیت کے ان کارناموں کو پیشِ نظر رکھ کر آئندہ ہر مرحلہ میں اپنی حمیت دینی اور احساسِ مذہبی کا ثبوت دیتے ہوئے ان روایات کو دہراتے رہیں گے۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلاَّ الْبَلاَغ
                                 

ہوم پیج