دستورِ پاکستان

دستورِ پاکستان پر حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی کا یہ مقالہ کتنا بصیرت افروز اور سبق آموز ہے؟ اس کا صحیح اندازہ ہر اس مخلص مسلمان کو ہو سکتا ہے جو اپنے ذاتی جذبات و خواہشات کو اللہ رب العزت اور حضرت خاتم نبوت ﷺ کی مرضیات کے مقابلہ میں ہیچ و لاشے سمجھ کر صفائے قلب، رفعت فکر اور وسعت نظر سے اس کا مطالعہ کرے اور مادی و دنیوی عروج و ترقی کی خواہش کے ساتھ روحانی و اخروی فلاح و بہبود بھی اس کے پیش نظر ہو۔


اس مقالہ میں نظام انسانیت کے تحفظ، خلافت الٰہیہ کے مقصد، فطری آزادی کے تقاضے، قیودِ غلامی سے رہائی کے جذبے، وطنیت کے صحیح مفہوم، انقلابات کے اسباب، تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بنیادی وجوہ و نظریات، قائد اعظم و قائد ملت مرحومین و دیگر گورنران وزرائے اعظم پاکستان کے موثق مواعید و مسلسل اعلانات، قرار دادِ مقاصد کی منظوری اور پھر اسلامی دستور کے متعلق تمام مسلمانوں کے متفقہ مطالبے اور اس سلسلہ میں دین و شریعت سے متعلق صاحب دین و شریعت، ان کے شاگردوں جانشینوں اور پھر ان کے تابعین کی معتبر و مستند توضیحات و تشریحات، کتاب و سنت اور فقہ ائمہ کی تفسیر و تعبیر اور ان کے لزوم کی ضرورت۔ غرض اکثر و بیشتر ضروری و اہم جزئیات پر بہترین انداز میں روشنی ڈالی ہے۔امید ہے کہ یہ مقالہ اہل فکر و نظر کے لئے یقینا بصیرت افروز ثابت ہو گا۔

آل پاکستان سنی کانفرنس منعقدہ ۱۰؍ ۱۱؍ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۵۵ء کو لاہور میں یہ مقالہ پڑھا گیا۔
 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْـکَرِیْمِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ ط

اما بعد! کسی چیز کے جائز اور فطری تقاضوں کا بلا روک ٹوک پورا ہوتا رہنا اس کی آزادی ہے۔ جس کے حصول کا جذبہ موجودات عالم کے ذرہ ذرہ میں فطری طور پر موجود ہے۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس مقتضائے طبیعت اور قانونِ فطرت سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ فضائے عالم میں آزادی کے جس قدر جذبات افراد ممکنات کی آغوش میں الگ الگ کروٹیں بدل رہے ہیں حقیقت انسانیہ کے بساطِ رفیع پر وہ سب اجتماعی صورت میں مضطرب اور بے تاب نظر آتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک مشت خاک انسان ان تمام کی حقیقتوں کا مرکز و معدن اور ملجا و ماویٰ ہے۔ انسانی فطرت میں حصول آزادی کے جذبات کا اندازہ لگانے سے پہلے نظام عالم پر اگر ایک متجسسانہ نظر ڈالی جائے تو حقیقت واقعیہ بخوبی آشکار ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے سَنُرِیْہِمْ اٰیَاتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (عنقریب ہم اپنی قدرت کی نشانیاں ان کو آفاق عالم میں دکھائیں گے اور ان کے نفسوں میں یہاں تک کہ یہ چیز ان کے لئے اچھی طرح روشن ہو جائے کہ بے شک وہی حق ہے۔)


سب سے پہلے عناصر اربعہ ہی کو لیجئے۔ زمین جو طبعاً مائل بہ پستی ہے اگر کسی قسر قاسر سے زبردستی اس کو اس کے جز طبعی سے جدا کر دیا جائے مثلاً مٹی کا ایک ڈھیلا کوئی شخص اپنی پوری طاقت سے آسمان کی طرف پھینکے تو وہ بحالت مجبوری اپنے جز طبعی سے اٹھ کر بلندی کی طرف ضرور جائے گا مگر اس کی طبیعت میں قسر قاسر کی جکڑ بندیوں سے آزادی حاصل کرنے کے جذبات ضرور اس جدو جہد میں مصروف ہیں کہ اس قاسر و جابر کی گرفت ذرا ڈھیلی ہو اور اس کی قوت کچھ کمزور ہو تو اس قید غلامی سے نجات پا کر حیز طبعی کی آغوش میں آزادی کا سانس لینے کا موقع ہاتھ آئے۔ چنانچہ جب پھینکنے والے کی طاقت کا زور ختم ہو جاتا ہے تو اپنی طبعی موت سے وہ ڈھیلا پھر اپنے حیز طبعی میں واپس آ کر آزادی کی خوشگوار فضا میں پہنچ جاتا ہے خواہ یہ آزادی اور غلامی کی طبعی اور قسری تقاضوں کی کشمکش غیر شعوری طور پر ہی کیوں نہ ہو لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اصل فطرت کے خلاف ہر ماحول غلامی ہے اورفطری تقاضوں کا پورا ہونا ہر فرد عالم کے لئے حقیقی آزادی ہے۔


اسی طرح ہوا کی کیفیت ہے اگر اس کو کسی چیز میں بند کر کے پانی کی گہرائیوں میں زبردستی پہنچا دیا جائے تو غلامی کی زنجیروں میں مقید ہو کر وہ یقینا اپنے حیز طبعی سے دور کسی غیر طبعی مستقر میں اسی طرح پہنچ جائے گی جس طرح مٹی کا ڈھیلا آسمان کی بلندیوں کی جانب پہنچا تھا لیکن اس کے طبعی جذبات آزادی کا پتا اس وقت لگے گا جب پانی کی گہرائیوں میں مضبوط بندشوں کو توڑ کر ہوا کے ظرف کا منہ کھول دیا جائے۔ اس وقت وہ اجزائے ہوائیہ بڑی تیزی کے ساتھ اس سے باہر آئیں گے اور سطح آب کو چیرتے پھاڑتے راہِ آزادی سے ہر سنگ گراں کو ہٹاتے ہوئے اپنے مرکز اصلی اور مستقر طبعی پر پہنچ جائیں گے۔


آگ کی بھی یہی کیفیت ہے کہ اس کے مضطرب اور بے تاب شعلے ہمیشہ بلندی کی طرف چڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ ان کا رخ بلندی کی جانب سے پستی کی طرف لانے کی لاکھ کوشش کریں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ طبیعت کے باقی رہتے ہوئے طبعی رجحانات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔


بھڑکتے ہوئے شعلوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ غیر طبعی قید و بند سے تنگ آ کر انتہائی بے چینی، پریشانی اور اضطراب کے عالم میں قید غلامی سے نجات حاصل کرنے اور اپنے مستقر طبعی تک پہنچنے کے لئے بے تابانہ جدو جہد کر رہے ہیں۔


پانی کا بھی یہی حال ہے۔ اگر اس کو اس کے مکان اصلی سے زبردستی جدا کر دیا جائے تو وہ ہر آن جبر و استبداد کی قوتوں کے ختم ہونے کا منتظر رہے گا اور جب بھی اس کو موقع ملے گا، اپنے مقام اصلی کی طرف نہایت خاموشی کے ساتھ واپس آ جائے گا۔


مقید پرندوں کا اپنے آشیانوں کے لئے تڑپنا اور پانی کی مچھلیوں کا سطح آب کے لئے بے تاب ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی فطرت کے خلاف جکڑ بندیوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدو جہد نہ کرے۔


اس میں شک نہیں کہ جس طرح دیگر افراد ممکنات پر گردشِ زمانہ کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بعض چیزیں اپنے مکانِ طبعی اور مستقر اصلی سے جدا ہو کر قسر قاسر کی قید و بند میں مبتلا ہو جاتی ہیں بالکل اسی طرح انسان بھی حوادثاتِ زمانہ کا شکار ہو کر اس قسم کے ماحول سے دوچار ہوتا ہے یعنی بیماری، آزادی، مظلومیت و دیگر مصائب و آلام کی طرح طبیعت انسانیہ کے خلاف مملوکیت اور غلامی کا حال بھی انسان پر طاری ہو جاتا ہے۔ جن اصولوں کے ماتحت ہمارے دیگر مصائب و آلام کا ازالہ ہو سکتا ہے بالکل انہی کے تحت مملوکیت اور غلامی کی زنجیریں بھی کاٹی جا سکتی ہیں یعنی جس طرح صرف کلمہ شریف پڑھ لینے سے کوئی بیمار اچھا نہیں ہو جاتا بالکل اسی طرح بمجرد اسلام لانے کے مملوکیت اور غلامی ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ اور بات ہے کہ اسلام نے جس طرح بیماروں مظلوموں اور مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی رعایت اور مروت کے طریقے تعلیم فرمائے ہیں اسی طرح مملوکوں اور غلاموں کے متعلق بھی نیک برتاؤ اور حسن سلوک کے احکام صادر کئے ہیں۔ غلامی اور مملوکیت سے رہائی پانے کے لئے اسلام نے بالکل مستقل اور جداگانہ طور پر ایسے اصول بنی نوع انسان کے سامنے رکھ دئیے ہیں جن پر کاربند ہونے کے بعد جس طرح دیگر تکالیف سے نجات مل سکتی ہے اسی طرح مملوکیت اور غلامی سے بھی بآسانی چھٹکارا حاصل ہو سکتا ہے۔


مختصر یہ کہ حصول آزادی کا جذبہ انسان کا فطری جذبہ ہے اور اس کے لئے صحیح طور پر جدو جہد کرنا اس کا طبعی اور پیدائشی حق ہے۔


اس مقام پر یہ شبہ پیدا کرنا صریح نافہمی پر مبنی ہو گا کہ جب آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے تو اس کے اقوال و اعمال خواہشات و نفسیات پر دین و مذہب کی قیود اور جکڑ بندیاں کیونکر جائز ہو سکتی ہیں۔ لامذہب لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض عرصہ سے پیش ہوتا رہا ہے جس کی بنیاد حقیقت انسانیہ سے لاعلمی کے سوا کچھ نہیں۔


واقعہ یہ ہے کہ انسانی حقیقت ایک ایسے لطیف اور نورانی جوہر کا نام ہے جس کو لطیفہ ربانی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس جوہر لطیف کے ارد گرد تمام حقائق کائنات کو جمع کر دیا گیا ہے اور اس لحاظ سے اگر یہ کہہ دیا جائے کہ انسان خلاصۂ ممکنات اور مجموعۂ کائنات ہے تو بے جا نہ ہو گا۔


نفس ناطقہ انسانی اور لطیفۂ ربانی کے پس و پیش تمام حقائق موجودات کو بالکل اسی ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہے جس ترتیب سے ایک شہنشاہ کے گرد و پیش اس کا پورا ملک تمام رعیت فوج و لشکر، ملازمین و خدام، افسران و حکام، اعیانِ دولت، ارکانِ مملکت، امراء و وزراء جمع ہوتے ہیں۔ ان میں ان کے احوال و طبائع کی طرح مناصب و مراتب کا بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ کسی میں عجز و نیاز ہے کسی میں تکبر و غرور، کوئی سست اور کاہل الوجود ہے، کوئی چست و چالاک، کوئی مطیع و فرماں بردار ہے کوئی عاصی و نافرمان، کوئی تندخو غضبناک خون خوار ہے اور کوئی حلیم و رحیم نرم دل بردبار لیکن شہنشاہ ایسی زبردست قوت و طاقت رکھتا ہے کہ ہر متواضع اور مغرور، سست اور چالاک، عاصی و مطیع، خونخوار و بردبار پر حکم چلا رہا ہے اور ہر ایک سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لے رہا ہے۔ سلطنت کے تمام امور نہایت حسن و خوبی کے ساتھ سر انجام ہو رہے ہیں اور ملک کا گوشہ گوشہ امن و عافیت کا گہوارہ بنا ہوا ہے اور اگر خدانخواستہ شہنشاہ کی حاکمانہ گرفت ڈھیلی پڑ جائے اور قوتِ متصرفہ کمزور ہو جائے، قوانین شاہی کی پابندیوں میں ضعف و اضمحلال کے آثار پیدا ہونے لگیں گے۔ ملک و رعیت کے حالات کی طرف توجہ نہ کی جائے، ما تحت حکام و وزراء کی نقل و حرکت پر شہنشاہ کی نگرانی نہ رہے تو یقینا پورا ملک تباہ و برباد ہونا شروع ہو جائے گا۔ تندخو خونخوار وزارء سرکش اور طاغی حکام علم بغاوت بلند کر دیں گے۔ لا قانونیت کا دور دورہ شروع ہو جائے گا۔ جو سرکش اور باغی وزیر جس صوبے اور علاقے کو چاہے گا اپنی بغاوت کی آماجگاہ بنا کر جبر و تشدد، خونریزی اور سفاکی شروع کر دے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ باغی وزراء شہنشاہ کو قیدی بنا کر مرکزی حکومت پر خود قابض ہو جائیں اور اس طرح ملک اور رعایا سب تباہی اور بربادی کے گڑھے میں جا گریں۔


خالق فطرت نے اجسام و ارواح، جواہر و اعراض، خلق و امر کی تمام حقیقتوں کو سمیٹ کر نفس ناطقۂ انسانی کے آس پاس جمع کر دیا اور اس مجموعۃ الحقائق کا نام انسان رکھ دیا۔ روحانیت کو جسمانیت سے ملا دیا۔ ملکیت کے ساتھ سبیعت و بہیمیت کی سرکش طاقتوں کو بھی دامن انسانیت سے وابستہ کر کے اس کا پابند و محکوم بنا دیا۔ گویا وہ نفس ناطقۂ انسانی اور لطیفۂ ربانی ایک شہنشاہ ہے۔ عالم خلق و امر اس کا ملک ہے۔ خلق و امر کی سب حقیقتیں اس کی رعایا ہیں۔ ملکیت اور شیطنت، سبعیت و بہیمیت کی زبردست طاقتیں اس کے درباری اور حکام و وزارء ہیں جن پر وہ لطیفۂ ربانی اپنے طبعی تقاضوں کے مطابق حکومت کر رہا ہے۔ ربانی قانون اور رحمانی آئین نافذ کر کے عالم انسانیت میں متصرف اور حکمران ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت الٰہیہ کا ظہور اسی میں ہے اور
اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ کی تفسیر یہی ہے۔


اب اگر اس مملکت انسانیہ میں نفس ناطقۂ انسانی ان تمام مختلف حقیقتوں اور سرکش طاقتوں کو اپنے تحت تصرف نہ رکھے اور احکام ربانی و آئین جہانبانی کی جکڑ بندیوں کو ان سرکش اور باغی وزراء سے اٹھا لے اور ہر ایک کو شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ دے تو بلا شبہ عالم انسانیت تباہی اور بربادی کے گڑھے میں جا پڑے گا۔ بہیمیت اپنی خواہشات کو پورا کرے گی۔ سبعیت اپنی خونخواری کے تقاضوں کی طرف دوڑے گی۔ حیوانیت اپنا کام شروع کر دے گی۔ شیطنت علم بغاوت بلند کر کے نظام انسانیت کو تہ و بالا کر کے رکھ دے گی اور لا قانونی پیدا ہونے سے مادی مملکتوں میں جو افراتفری اور تباہی و بربادی کے حالات پیدا ہوتے ہیں بالکل وہی حالات مملکت انسانیہ میں پیدا ہو جائیں گے اور ممکن ہے کہ بہیمیت و سبعیت اور حیوانیت و شیطنت کی زبردست طاقتیں قانونی جکڑ بندیوں کے ختم ہو جانے پر جوہر انسانیت کا صفایا کر دیں اور اس طرح عالم انسانیت حیوانیت و سبعیت اور بہیمیت و شیطنت کی آماجگاہ بن جائے۔ نفس ناطقۂ انسانی کے انہی فطری تقاضوں اور لطیفۂ ربانی کے طبعی مقتضیات کو ہم دینی احکام اور مذہبی جکڑ بندیوں سے تعبیر کرتے ہیں اور ہم نے واضح طور پر بیان کر دیا کہ ان احکام اور جکڑ بندیوں کے بغیر کسی مملکت کا نظام بر قرار نہیں رہ سکتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ نظام انسانیت کے تحفظ کی خاطر اصول انسانیت کی پابندی کی جائے۔


آج دنیائے انسانیت میں جو انقلاب رونما ہوا ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ نفس ناطقہ انسانی کی حاکمانہ گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ اس کی آمرانہ قوتیں ضعیف ہو گئیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ مملکت انسانیہ کے ہر گوشہ سے سرکش طاغوتی طاقتیں ابھر آئیں اور انہوں نے انسانیت کے مقدس آئین کے احترام کو مذہبی جکڑ بندی سے تعبیر کر کے اس کے خلاف واویلا مچانا شروع کر دیا بلکہ انسانیت کے خلاف محاذ قائم کر کے جوہر انسانیت کو فنا کرنے کی مہم شروع کر دی۔ انسانوں کی اکثریت جوہر انسانیت سے محروم ہو گئی۔ غارت گری کا دروازہ کھل گیا۔ ہر طرف درندگی و خونخواری کے مظاہرے ہونے لگے۔ ظالم و سفاک درندے انسانی صورتوں میں انتہائی بے رحمی کے ساتھ انسانیت کا خون بہانے لگے۔ حیوانیت اور بہیمیت کے انداز میں فحاشی اور بے حیائی کی گرم بازاری شروع ہو گئی اور بالآخر انسانی ہاتھوں سے خرمن انسانیت نذرِ آتش ہو کر رہ گیا۔

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

ان تفصیلات کی روشنی میں یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ انسان مِنْ حَیْثُ ہُوَ انسان کی حقیقت نفس ناطقۂ انسانی ہے اور وہ جوہر لطیف حسن الوہیت کی بے مثال تجلی ہے اس لئے اس کا میلان طبع خالق کائنات کے سوا کسی اور کی جانب نہیں ہو سکتا اور اس کا صحیح اور جائز فطری تقاضا باری تعالیٰ کی رضا جوئی اور معرفت قرب خداوندی ہی میں منحصر ہونا لازمی و ضروری ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہر وہ اصول و آئین جو انسان کے مذکورہ فطری تقاضوں کے خلاف ہو یقینا اس کے لئے غلامی کی قید و بند اور اس کی راہِ آزادی میں سنگ گراں ہے اور اس قسم کی قید و بند سے نکلنا ہی آزادی کی فضا میں سانس لینے کے مترادف ہے۔


تاریخ عالم میں افراد انسانی کی کشمکش، کفر و اسلام کی جنگ، خیر و شر کا ظہور، حق و باطل کا تقابل انسان کی اس حقیقت جامعہ کا آئینہ دار ہے۔ نفس ناطقۂ انسانی کی گرفت سے جو حقیقت نکل گئی۔ اسی نے موقع پا کر اپنے طبعی تقاضوں کو پورا کرنا شروع کر دیا اور جہاں وہ لطیفۂ ربانی عالم انسانیت میں بسنے والی حقیقتوں پر اپنی پوری قوت اور حاکمانہ شان سے متصرف رہا۔ وہاں مزاجِ انسانیت حد اعتدال سے متجاوز نہ ہونے پایا اور اس کے نظام میں بھی کسی قسم کا خلل و اضطراب واقع نہ ہوا۔


یہ امر بھی اہل بصیرت سے مخفی نہیں کہ حق پرست اور صداقت پسند انسانوں نے غلامی قید و بند کے خلاف جب بھی علم جہاد بلند کیا اور حصول آزادی کی جدو جہد کی، اس میں ہوا و ہوس، طمع نفسانی، حصول مال و منال، ملکیت و وطنیت کا کوئی جذبہ کبھی کارفرما نہیں ہوا بلکہ ان کا مطمح نظر ہمیشہ یہی رہا کہ طاغوتی طاقتوں کے قید و بند کو توڑ کر حیوانیت اور درندگی کے خونخوار پنجوں سے بے کس اور مظلوم انسانیت کو نجات دلائی جائے تاکہ وہ اپنے مرکز اصلی کی طرف جانے، انسانیت کے بلند مقامات حاصل کرنے اور طبعی تقاضوں کے موافق باری تعالیٰ کی رضا جوئی اس کے قرب و معرفت کے حصول جیسے مقاصد عظیمہ میں کامیاب اور فائز المرام ہو۔


گردشِ زمانہ کے ساتھ انسانیت کی جکڑ بندیوں اور انسانوں کی غلامی و محکومی کے جتنے دور آئے ان میں سرزمین ہندوستان پر انگریزوں کے اقتدار کا دور خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ایشیا کے بر اعظم ہندوستان میں اقتدار کی باگ ڈور جب انگیز کے ہاتھ آئی تو اس نے اس کے باشندوں کا جائزہ لیا۔ اس نے دیکھا کہ یہاں چھوٹی چھوٹی قوموں کے علاوہ دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان آباد ہیں۔ دونوں قوموں کی تاریخ اس کے سامنے تھی۔ اس نے تاریخ کی روشنی میں دونوں قوموں کی ذہنیت کو سمجھنے کی کوشش کی۔


اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں سے پہلے ہندوستان میں ہندو قوم ہی آباد تھی اور سارا ملک اسی کے تسلط اور اقتدار کے ماتحت تھا مگر حکمرانی کی صحیح قابلیت کی بجائے وطن پرستی کا جذبہ جو مشرکانہ ذہنیت کے لوازم سے ہے، پوتر بھومی کا تصور بن کر ہندو قوم کے دماغوں پر چھایا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے سوا کسی ملک میں اس قوم کا نام و نشان کبھی نہیں پایا گیا اور حدود وطنیت سے یہ قوم کبھی آگے نہیں بڑھی اور اسی لئے اصول جہانبانی سے بھی ہمیشہ ناآشنا رہی۔


تاریخ ہند میں کوئی ایسا دور نہیں ملتا جس میں پورا ملک ایک نظام حکومت کے ماتحت ہو۔ وطن پرستی کے مختلف نظریات و جذبات کے ماتحت یہ عظیم ترین ملک ہمیشہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور راجواڑوں میں منقسم رہا۔


انگریز نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ زمین کی پوجا کرنے والی پست ہمت قوم وطن پرستی کے قعر سے نکل کر آسمانِ انسانیت اور قومیت انسانیہ کے اوج کمال کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتی۔ وطن کی زمین میں رہائش نصیب ہو جانا ہی اس قوم کے مطمئن ہو جانے کے لئے کافی ہے اس لئے انگریز حصول اقتدار کے بعد ہندو قوم کی طرف سے چنداں خوفزدہ نہ تھا مگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ اس کے لئے سوہانِ روح تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مسلمان قوم کا نظریہ وطن پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہے۔ وہ کسی خاص ملک کو اپنا وطن نہیں سمجھتا بلکہ اس کا نظریہ یہ ہے

ہر ملک، ملک ماست کہ ملک خدائے ماست

عہد رسالت کی ۲۳ سالہ تاریخ، پھر خلافت راشدہ کا ۳۰ سالہ زمانہ اور اس کے علاوہ مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی کا دور اس کے پیشِ نظر تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ انسانیت کی علمبردار مسلمان قوم زمین کی پستی میں رہ کر آسمان کی بلندیوں پر نظر رکھتی ہے۔ یہ قوم حجازِ مقدس کی خشک پہاڑیوں اور عرب کے وسیع ریگستان سے اٹھی اور ساری دنیا پر چھا گئی۔ جس نے اقوام عالم کو قید غلامی سے آزاد کرایا، وہ خود غلامی کی زنجیروں میں کیونکر باندھی جا سکتی ہے؟


انگریز نے ان تصورات سے متاثر ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ اس قوم کو اس وقت تک قابو نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس کے اس جوہر انسانیت کو مغلوب نہ کر دیا جائے جو اس کے دماغ میں جہاد اور حکمرانی کا جذبہ پیدا کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ اگر اس کے دین و مذہب پر کوئی پابندی عائد کر کے اسے اپنے سانچہ میں ڈھالا جائے تو یہ غیور قوم کسی حال میں اس کو برداشت نہیں کرے گی اس لئے اس نے مسلمانوں کے مذہبی افعال و اعمال پر کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی جو انہیں ناگوار ہو۔ مسجدوں، مدرسوں، خانقاہوں، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سب چیزوں کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے عجیب طریقہ سے کام لیا کہ بقول شخصے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور وہ طریقہ یہ تھا کہ انگریز نے اسلامی معاشرہ کے ہر گوشے اور مسلمان قوم کی زندگی کے ہر شعبہ میں مغربیت اور عیسائیت کے زہریلے جراثیم کو اس طرح پیوست کر دیا کہ مسلمان قوم کی اکثریت اسلام کے لئے ننگ و عار ہو گئی اور اس کا جوہر انسانیت مغرب زدہ ہو کر بہیمیت اور حیوانیت سے مغلوب ہو کر رہ گیا۔


اس بیان سے میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی قوم مغربیت سے متاثر نہیں ہوئی یا یہ کہ تمام افراد یکساں طور پر متاثر ہوئے، نہیں بلکہ میرا مقصد صرف مسلمانوں کے تاثر کو ظاہر کرنا ہے۔ دوسری قوموں سے میں اس وقت بحث کرنا نہیں چاہتا اور یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ مغربیت کے وہ اثرات تمام افراد میں یکساں ظاہر نہیں ہوئے بلکہ ان کا ظہور مختلف نوعیتوں سے ہوا۔ بعض افراد مغربیت زدہ ہو کر لادینی کا شکار ہو گئے۔ بعض اخلاقی طور پر متاثر ہوئے۔ کچھ لوگ مذہبیت کے دائرہ میں رہتے ہوئے مغربیت کے اس طوفان میں اپنے جذبات کی قوتیں کھو بیٹھے اور ان کی طبیعتوں پر جمود و خمود طاری ہو گیا۔ بعض طبیعتیں ذہنی طور پر اس طرح متاثر ہوئیں کہ ان کے خالص اسلامی نظریات میں مغربیت کا رنگ پیدا ہو گیا اور ان کے علاوہ ایسے لوگ بھی رہے جن کی پاک طبیعتوں پر اس طوفان کا قطعاً کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ تاریکی کے اس دور میں بھی آسمانِ ہدایت کے تارے بن کر چمکتے رہے۔


انگریز کے دورِ حکومت کی خصوصیات پر بحث کرنے کا یہ موقع نہیں۔ صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ غیر ممالک میں آ کر اس کے باشندوں کو اپنے سانچہ میں ڈھال لینا ان کی فطری صلاحیت اور قدیم ذہنیت پر چھاپہ مار کر ڈیڑھ سو برس تک اپنی غلامی کی زنجیروں میں باندھے رکھنا اور جاتے وقت غیر شعوری طور پر مفلوج کر جانا انگریز کے دورِ حکومت کی وہ خصوصیت ہے جس کی مثال بمشکل ہی ملے گی۔


غلامی اور محکومیت کی قید سے نکلنے کی طاقت کسی میں ہو یا نہ ہو مگر چونکہ وہ ایک غیر فطری چیز ہے اس لئے اس کے خلاف نفرت اور حقارت کے جذبات کا ہر محکوم اور غلام کے دل میں پایا جانا لازمی امر ہے۔


اس اصول کے ماتحت ہندوستان کے باشندوں نے بھی انگریزوں کی قید غلامی سے نکلنے اور آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ہر ایک کی جدو جہد اس کے نظریہ کے مطابق تھی۔ وطن پرستوں نے آزادی کی جدو جہد وطن کے لئے کی اور خدا پرستوں نے خدا کے لئے۔


صرف یہی نہیں بلکہ جن لوگوں کا مطمح نظر مال و منال اور حصولِ اقتدار تھا انہوں نے اپنے اسی مقصد کو سامنے رکھ کر آزادی کے لئے حرکت شروع کی۔ گویا سفر سب کا ایک تھا مگر منزلِ مقصود ہر ایک کی جداگانہ۔


آزادی کا مفہوم تو یہ ہی تھا کہ ہمارے جائز اور فطری تقاضے بلا تکلف پورے ہوتے رہیں مگر چونکہ خلل پذیر مزاج انسانیت کے لئے ناجائز امور کا جائز اور غیر فطری تقاضوں کا فطری قرار پا جانا واقعی محل تعجب نہیں اس لئے اگر غیر معتدل اور مخبط مزاج رکھنے والے انسانی افراد سبعی بہیمی اور حیوانی جذبات و خواہشات کو اپنی طبیعت ثانیہ بنا لیں اور انہیں کے بلا تکلف پورا ہونے کے لئے سر توڑ کوششوں کا نام حصولِ آزادی کی جدو جہد رکھ لیں تو کچھ بعید نہیں۔


اس حقیقت کے سمجھ لینے کے بعد ہمیں اس بات پر ذرا بھی تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ ہندوستان کے رہنے والے انسانوں بلکہ بعض مسلمانوں نے بھی انگریزوں کی غلامی سے نکلنے کے لئے جو کوشش کی اس میں للّٰہیّت اور حق تعالیٰ کی رضا جوئی کے بجائے وطن پرستی اور حصولِ جاہ و اقتدار کا جذبہ کیوں پایا گیا؟


مختصر یہ کہ غلامی کی قید و بند سے نکلنے کے لئے سب نے ہاتھ پاؤں مارے۔ ایک دوسرے سے مختلف نظریات و جداگانہ مقاصد اپنے ذہنوں میں لئے ہوئے حصولِ آزادی کی راہ میں علم آزادی لہراتے اور انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے دوش بدوش چلتے رہے۔ کوئی حصولِ پاکستان کا نعرہ لگاتا اور کوئی اکھنڈ بھارت کا۔ کوئی کہتا ہے کہ میں پہلے ہندوستانی ہوں، اس کے بعد ہندو یا مسلمان۔ کوئی کہتا ہے کہ میں پہلے مسلمان ہوں اس کے بعد ہندوستانی۔ بالآخر یہ نظریاتی اختلاف رنگ لایا۔ اکھنڈ کا پاکھنڈ ہو گیا اور وطن پرستوں نے اسی کو اپنا غایت و مقصود سمجھ کر غنیمت جانا اور پاکستان کا مطالبہ کرنے والوں نے بھی اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیا۔


اس مختصر مقالہ میں اتنی گنجائش نہیں کہ میں ان خونی واقعات کی تفصیل بیان کروں جو تقسیم ملک کے ضمن میں ظہور پذیر ہوئے۔ دنیا کی تاریخ اس خونی انقلاب کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے جس میں کسی قوم کے لاکھوں افراد بغیر کسی جرم کے بیک وقت انتہائی بے رحمی، سفاکی اور بے دردی کے ساتھ قتل کر دئیے گئے ہوں اور ہزاروں بے گناہ معصوم بچوں کو خونخواری اور درندگی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا ہو۔ بے قصور پاکدامن عورتوں کی عصمت و عفت برباد کر کے انہیں ایسے بھیانک، خوفناک اور ناقابل تصور طریقوں سے قتل کیا ہو کہ جو انسانیت کیا حیوانیت کے لئے بھی باعث ننگ و عار ہوں۔ لاکھوں انسانوں کا تباہ و برباد ہو کر بے کسی اور مظلومیت کے حال میں ترکِ وطن کرنا وحشت و بربریت، خونخواری و درندگی کی تاریخ میں وہ پہلا واقعہ ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔


نیز سرِ دست میں اس بحث میں بھی نہیں پڑنا چاہتا کہ قیام پاکستان کی راہ میں کیا کیا مشکلات پیش آئیں۔ ہاں، اتنا ضرور عرض کروں گا کہ تیس کروڑ ہندوؤں کی مخالفت قیام پاکستان کی راہ میں حائل نہ ہو سکی لیکن مسلمان کہلانے والی مٹھی بھر جماعت نے ہندوؤں کا ساتھ دے کر پاکستان کو وہ نقصان پہنچایا جس کو صدیوں تک ہماری نسلیں نہیں بھول سکتیں۔
باقی تمام تفصیلات سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف مسئلہ کشمیر کو سامنے رکھ لینے سے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ اگر شیخ عبد اللہ، غلام محمد بخشی اور ان ہی جیسے اللہ اکبر کے نعروں سے گھبرا کر بندے ماترم کے گیت گانے والے ہندوؤں کے نمک خوار بھارتی ایجنٹ ملت اسلامیہ کے ساتھ غداری نہ کرتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ آج وادیٔ کشمیر کے کسی گوشہ میں کوئی مسلمان ہندوؤں کا غلام ہوتا۔

من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم
کہ بامن ہرچہ کرد آں آشنا کرد

حصولِ آزادی کے بعد ا س کی بقا کے لئے ملکی استحکام کا مرحلہ سامنے آتا ہے جس کے ضمن میں سب سے پہلا نمبر ملک کا دستور و آئین ہے۔
 

اگلا صفحہ                                   

ہوم پیج