صمصام
جس میں اس قول کا رد بلیغ کیا گیا ہے کہ
(نعوذ باللہ)
ملائکہ و رسل کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو طاغوت کہنا جائز ہے
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن۵ط


علاماتِ قیامت میں سے ایک یہ ہے کہ آخری زمانہ میں فسق و فجور، کفر و الحاد، بے دینی و گمراہی اور فتنہ و فساد کا زور ہو گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت انسانی دنیا
ظہر الفساد فی البر والبحر کا عبرتناک منظر پیش کر رہی ہے۔ غیر اسلامی دنیا سے قطع نظر عالم اسلام ہر قسم کے فتنہ و فساد کا آماجگاہ بنا ہوا ہے۔


قیام پاکستان سے ہم یہ توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے کہ ہماری یہ نوزائیدہ اسلامی حکومت پھر ایک بار خلافت راشدہ کا نمونہ پیش کر دے گی اور وہ تمام منکرات و منہیات جو مسلمانانِ متحدہ ہندوستان کے دامن پر ایک بدترین و بدنما داغ کی صورت میں نمایاں ہیں یکسر نہیں تو اکثر و بیشتر نیست و نابود ہو جائیں گے لیکن واحسر تاکہ ہمارا یہ خواب ابھی تک شرمندئہ تعبیر نہ ہو سکا اور انواع و اقسام کے فتنے ہر طرف سے سر ابھار رہے ہیں۔ اقتدار پسند، جاہ پرست اور سرمایہ دار طبقوں، جماعتوں اور شخصیتوں کی پیدا کردہ سیاسی و معاشی الجھنوں، مرزائیت، کمیونزم، سوشلزم جیسے دین و اخلاق کے دشمن فتنوں کے علاوہ بزعم خود توحید و سنت اور اصلاحِ امت کے مدعیوں کی فتنہ انگیزیاں اصلاح کے آہنی پردہ کے پیچھے قصر ایمان کی تخریب و انہدام پر تلی ہوئی ہیں۔ ان کی شورشوں نے مسلمانوں میں ایسا افتراق و انشقاق پیدا کر دیا ہے کہ امت مسلمہ کو ایک مرکز پر جمع کرنا دشوار ہو گیا ہے۔ اس موقع پر ہم سیاسی و معاشی کشمکش اور دوسری طبقاتی الجھنوں پر بحث نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت مخلص مسلمانوں کو ایک خطرناک ترین مذہبی فتنے کی طرف توجہ دلانا ہے اور وہ فتنہ وہابیت و دیوبندیت ہے۔


دیوبند کے وہابی مولویوں نے متحدہ ہندوستان میں کبھی مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع نہ ہونے دیا۔ انہوں نے بات بات پر امت مسلمہ کو مشرک بنایا اور تکفیر و تفسیق کے ذلیل ترین حربوں سے اسلامی اتحاد ویگانگت کی قبا کو پارہ پارہ کر دیا۔ متحدہ قومیت کے پرچار سے بھولے بھالے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی کے حلقوں میں جکڑ دینا چاہا اور حتی الامکان جکڑ دیا۔ مگر جب دشمنانِ اسلام نے ان کی ان خدماتِ جلیلہ کا قطعاً غیر متوقع اور خلافِ امید صلہ دیا تو انتہائی ذلت اور خواری کے ساتھ اسی پاکستان میں آ کر پناہ لی جس کے قیام کی مخالفت میں وہ ایڑی چوٹی کا زور صرف کر کے خاسر و ناکام ہو چکے تھے۔ کاش پاکستان کے نام کا احترام کرتے ہوئے وہ اپنے ناپاک جذبات و خیالات کی تبلیغ و اشاعت سے باز رہتے مگرشورش پسند جماعتوں سے اس قسم کی توقعات قائم کرنا اپنے کو فریب اور ہلاکت میں مبتلا کرنا ہے۔ انہوں نے یہاں قدم جماتے ہی اپنی حق دشمنی اور حق پرستوں کی دلآزاری کا سلسلہ شروع کر دیا اور اب ان کا یہ جال پاکستان کے گوشہ گوشہ میں پھیلتا جا رہا ہے۔ تبلیغ توحید کے دلفریب پردے میں توہین رسالت کی ایسی خاکِ سیاہ چھان رہے ہیں جو چہرئہ ایمان کو سیاہ و بے نور کر رہی ہے۔ وہ
قال اللّٰہ وقال الرسول کہہ کہہ کر اللہ و رسول کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔ توہین رسول مقبول ﷺ کا کوئی پہلو جو ان کے تصور میں آ سکتا ہے اس کو نمایاں کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اب تک تو وہ حضور اکرم ﷺ کی ذات پاک سے علم غیب، معصومیت عن الخطا، شفاعت کلیہ اور حیاتِ حقیقی و جسمانی کی نفی کے ساتھ ہی (نعوذ باللہ) حضور ﷺ کی غلطیوں کا اظہار و اعلان کرتے تھے اب ان کی دریدہ دہنی اس حد تک پہنچ گئی کہ (العیاذ باللہ) جہل باری تعالیٰ کے قائل ہوتے ہوئے ملائکہ و رسل کو طاغوت کہنا جائز قرار دیتے ہیں۔


عامۃ المسلمین یہ سن کر متحیر و مضطر ہوں گے لیکن ابھی چند سطور پڑھنے کے بعد ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور ان خود ساختہ علمبرداران توحید و سنت کا پردہ تلبیس چاک ہو کر رہ جائے گا۔


اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وہابیت و نجدیت کے پر جوش مبلغ مولوی غلام خاں صاحب نے، جن کی شخصیت اور تبلیغی نوعیت سے پنجاب اور بالخصوص مسلمانانِ اہل ملتان بخوبی واقف ہو چکے ہیں، اپنے استاد مولانا حسین علی صاحب کی تقریروں کا مجموعہ بلغۃ الحیران فی ربط آیات القرآن مرتب کیا ہے جس کے سرورق پر یہ عبارت مرقوم ہے
از زبدۃ المفسرین عمدۃ المحدثین رئیس الفقہا الصوفی الصافی مولانا حسین علی عم فیضہ الحنفی المجددی تلمیذ ارشد مولانا رشید احمد القطب الجنجوہی قدس سرہٗ و مولانا محمد مظہر نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بانی مظہر العلوم سہارن پور۔


پھر صفحہ ۴ پر یہ عبارت مرقوم ہے
یہ تقریریں جو آگے آتی ہیں حضرت صاحب نے غلام خاں سے قلمبند کروائی ہیں اور بذاتِ خود ان پر نظر فرمائی ہے۔
مولوی غلام خاں کے ان حضرت صاحب اور مولانا رشید احمد صاحب القطب الجنجوہی کے تلمیذ ارشد مولوی حسین علی صاحب ساکن واں بھچراں ضلع میانوالی کا، ہم ناظرین کرام سے اتنا تعارف کرا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ وہی مولوی حسین علی صاحب ہیں جنہوں نے قدوۃ المحققین زبدۃ العلماء الراسخین حضرت پیر روشن ضمیر عارف کامل سید مہر علی شاہ صاحب قدس سرہ العزیز پر کفر کا فتویٰ صادر کیا تھا اور حضرت ممدوح علیہ الرحمۃ سے مناظرہ بھی کیا تھا۔ اس مناظرہ میں مولوی حسین علی صاحب کی جو حالت ہوئی تھی اس کی تفصیل تو ان ہی حضرات سے معلوم ہو سکتی ہے جو اس مجلس مناظرہ میں موجود تھے۔ ہمیں اجمالی طور پر اتنا معلوم ہے کہ حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف رحمۃ اللہ علیہ کو فتح و نصرت حاصل ہوئی تھی جو اولیاء کرام کو منجانب اللہ حاصل ہوا کرتی ہے۔


اب میں برادرانِ اسلام پر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ مولوی غلام خاں کے حضرت صاحب نے اس کتاب میں کیا کیا گل فشانیاں فرمائی ہیں۔ ان شاء اللہ میں اس پوری کتاب کے مباحث پر تنقید کروں گا۔ سر دست آپ کے ایک اعجب العجائب تفسیری نکتہ یعنی لفظ طاغوت کے معنی کی تشریح کو پیش کرتے ہوئے یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اس تشریح کا مقصد ملائکہ و رسل کی انتہائی توہین کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ ملاحظہ ہو ص ۴۳ بلغۃ الحیران۔ آیت کریمہ
فمن یکفر بالطاغوت کی تفسیر میں فرماتے ہیں
اور طاغوت (۱) کا معنی
کل ما عبد من دون اللّٰہ فہو الطاغوت اس کے معنی (۲) بموجب طاغوت اور ملائکہ اور رسول کو بولنا جائز ہو گا یا مراد خاص شیطان ہے۔ انتہیٰ بلفظہٖ۔


مسلمانو! عبرت کی نگاہوں سے دیکھو اور حیرت کے کانوں سے سنو کہ دیوبندی وہابیوں کے یہ زبدۃ المفسرین عمدۃ المحدثین صوفی صافی غلام خاں کے حضرت مولانا حسین علی صاحب کس دیدہ دلیری اور دریدہ دہنی کے ساتھ ملائکہ کرام اور رسل عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو (نعوذ باللہ) طاغوت کہنا جائز قرار دے رہے ہیں۔


اب آپ لفظ طاغوت کے صحیح اور مرادی معنی ملاحظہ فرمایئے جن کی تحقیقی تشریح مستند اہل لغات اور نہایت معتبر و جلیل القدر مفسرین کرام نے فرمائی ہے۔


طاغوت طغیان سے مشتق ہے اور مبالغہ کے لئے آتا ہے۔ طغیان کے اصل معنی ظلم اور معاصی میں حد سے گزرنے کے ہیں۔ ملاحظہ ہو منجد (ص ۴۸۴) طغی الرجل اسرف فی الظلم والمعاصی انتہٰی اور دستور العلماء جو اصطلاحاتِ علوم و فنون میں نہایت نفیس اور معتبر کتاب ہے اس کی جلد دوم (ص ۲۷۷) پر مرقوم ہے (الطغیان)
مجاوزۃ الحـد فی العصیان انتہٰی۔ یعنی نافرمانی میں حد سے گزر جانے کو طغیان کہتے ہیں۔


چونکہ اصل معنی ہر مشتق میں ضرور ملحوظ رہتے ہیں اس لئے اہل لغت اور علمائے مفسرین و محدثین نے طاغوت کے معنی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا
ہو فعلوت من طغی بالقلب کل رأس فی الضلال او الساحر او الکاہن ومردۃ الکتابی۔ مجمع بحار الانور جلد دوم ص ۳۱۱ یعنی طاغوت فعلوت کے وزن پر (مبالغہ کا صیغہ) طغی سے ماخوذ ہے قلب (مکانی) کے ساتھ یعنی یہ مقلوب العین واللام ہے۔ طاغوت ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو گمراہی میں سردار ہو یا ساحر یا کاہن یا سرکش اہل کتاب کو طاغوت کہا جاتا ہے۔ منجد ص ۴۸۴ پر ہے (الطاغوت) کل متعد کل رأس ضلال الشیطان الصارف عن طریق الخیر۔ کل معبود دون اللّٰہ۔ یعنی ہر اس شخص کو طاغوت کہتے ہیں جو حد سے گزر جانے والا ہے اور گمراہی کا ہر سردار طاغوت ہے۔ شیطان جو لوگوں کو خیر کے رستہ سے پھیرنے والا طاغوت ہے اور اللہ کے سوا ہر معبود کو طاغوت کہتے ہیں۔


لیکن یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ اللہ کے سوا ہر معبود سے وہی معبود مراد ہے جس میں طغیان کے یہ معنی یعنی ظلم اور معاصی میں حد سے گزرنا پائے جاتے ہیں یا وہ معبود لوگوں کے ظلم اور معاصی میں حد سے گزرنے کا سبب ہو سکے۔ جس میں طغیان کے یہ معنی نہ پائے جائیں وہ طاغوت کی تعریف میں شامل نہیں۔ کیونکہ ہر مشتق میں اس کے اصل ماخذ اور مشتق منہ کے معنی کا پایا جانا ضروری ہے ورنہ اشتقاق صحیح نہ ہو گا۔


فرشتوں اور رسولوں اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے علاوہ ہر معبود من دون اللہ یا بذاتِ خود ظلم و معاصی میں حد سے زیادہ متجاوز ہوتا ہے۔ جیسے شیطان اور ساحرو کاہن وغیرہ کہ ان کے طغیان میں کسی کو ذرہ بھر شک و شبہ نہیں ہو سکتا یا اس تجاوز و طغیان کا سبب ہوتا ہے جیسے اصنام و اوثان کہ ان چیزوں میں طغیان کے معنی صفت بحال متعلق کے طور پر پائے جاتے ہیں۔ چونکہ بتوں میں طغیان کی یہ نجاست مبالغہ کے ساتھ پائی جاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مبالغۃً ان بتوں کو عین نجاست قرار دیا اور قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
فاجتنبوا الرجس من الاوثان نجاست سے بچو جو عین اوثان ہے۔


بخلاف اللہ کے نیک بندوں کے، کہ وہ طغیان اور سرکشی سے بالکل پاک ہیں۔ ان میں یہ تمرد اور سرکشی و خبث و نجاست جو لوازم طغیان ہیں۔ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ میں بھی موجود نہیں۔ چہ جائیکہ مبالغہ کے ساتھ یہ صفات خبیثہ ان میں پائی جائیں۔


تو جب لفظ طاغوت کے اصل ماخذ ہی سے وہ پاک اور مبرہ و منزہ ہیں تو پھر اس لفظ کا ان پر بولنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض عبارات میں معبود
من دون اللہ کو طاغوت نہیں کہا۔ حالانکہ بعض رسولوں اور فرشتوں کی بھی عبادت کی گئی مگر چونکہ ان کی ذواتِ قدسیہ طغیان کے معنوں سے پاک اور مبرہ ہیں اس لئے ان کو طاغوت کہنا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔


حیرت ہے کہ غلام خاں کے حضرت صاحب اور قطب جنجوہی کے ارشد تلمیذ نے فرشتوں اور رسولوں کو کیونکر طاغوت کہہ دیا۔ ہر ادنیٰ عقل والا انسان بھی اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ فرشتے معصوم ہیں اور انبیاء و رسل علیہم السلام طغیان و معاصی کی بنیادوں کو منہدم کرنے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ اگر نعوذ باللہ وہ بھی طاغوت ہوں تو ان کی نبوت و رسالت کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔ ان کی مقدس ذاتیں ابتدا سے ہر قسم کی سرکشی تمرد و طغیان سے پاک ہوتی ہیں۔ اب جو شخص ان کو طاغوت کہتا ہے اور ان پاک بازوں کے لئے طغیان کے معنی ثابت کرتا ہے تو اس کے متعلق اس کے سوا اور کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مقصد اس تلبیس کے ذریعہ ملائکہ و رسل کی توہین اور ان پر معاذ اللہ شیطنت، سرکشی، گمراہی وغیرہ کے احتمالات کا دروازہ کھول کر ان کی مقدس تعلیم و ہدایت سے خلق اللہ کو روگرداں کرنا ہے۔
العیاذ باللّٰہ والیہ المشتکی۔


اب تفاسیر معتبرہ سے طاغوت کے معنی نقل کرتا ہوں تاکہ ناظرین کرام پر یہ امر بخوبی واضح ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں کو طاغوت کہنے والا تمام مفسرین کے خلاف جا رہا ہے اور ملائکہ و رسل کرام علیہم السلام کی مقدس شان میں سخت ترین گستاخی کر رہا ہے۔


سنیئے تفسیر ابن عباس ص ۳۰ پر ہے
الطاغوت الشیطان انتہٰی
تفسیر خازن جلد اول ص ۲۲۹ پر ہے
(فمن یکفر بالطاغوت) یعنی الشیطان وقیل ہو الساحر والکاہن وقیل ہو کل ما عبد من دون اللّٰہ تعالٰی وقیل کل ما یطغی الانسان فہو طاغوت فاعول من الطغیان۔ انتہٰی
معالم التنزیل جلد اول ص ۲۲۹ پر ہے
(فمن یکفر بالطاغوت) یعنی بالشیطان وقیل کل ما عبد من دون اللّٰہ فہو طاغوت وقیل کل ما یطغی الانسان فاعول من الطغیان۔ انتہٰی
تفسیر مدارک مصری جلد اول ص ۱۰۱ پر ہے
(فمن یکفر بالطاغوت) بالشیطان والاصنام۔ انتہٰی
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لفظ طاغوت کے تحت تفسیر کبیر جلد دوم ص ۳۲۰ پر ارقام فرماتے ہیں
ذکر المفسرون فیہ خمسۃ اقوال (الاول) قال عمرو مجاہـد وقتـادۃ ہـو الشیـطان (الثانی) قال سعید بن جبیر الکاہن (الثالث) قال ابو العالیۃ ہو الساحر (الرابع) قال بعضہم الاصنام (الخامس) انہ مردۃ الجن والانس وکل ما یطغی والتحقیق انہ لما حصل الطغیان عند الاتصال بہٰذہ الاشیاء جعلت ہٰذہ الاشیاء اسباب للطغیان کما فی قولہ رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ۔ انتہٰی
روح المعانی پارہ ۳ ص ۱۲ پر ہے
فمن یکفر بالطاغوت ای الشیطان وہو المروی عن عمر بن خطاب والحسین بن علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم وبہ قال مجاہد وقتادہ وعن سعید بن جبیر وعکرمۃ انہ الکاہن وعن ابی العالیۃ انہ الساحر وعن مالک بن انس کل ما عبد من دون اللّٰہ وعن بعضہم الاصنام والاولی ان یقال بعمومہ سائر ما یطغی ویجعل الاقتصار علی بعض فی تلک الاقوال من باب التمثیل۔ انتہٰی
بیضاوی شریف ص ۱۶۶ پر ہے
فمن یکفر بالطاغوت بالشیطان او الاصنام او کل ما عبد من دون اللّٰہ او صد عن عبادۃ اللّٰہ تعالٰی فعلوت من الطغیان قلب عینہ ولامہ۔ انتہٰی
تفسیر ابو سعود جلد اول ص ۵۰۷ پر
اولیاء ہم الطاغوت کے تحت ارقام فرماتے ہیں ای الشیطان وسائر المضلین عن طریق الحق۔ انتہٰی
علامہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ بیضاوی شریف ص ۱۶۶ پر
اولیاء ہم الطاغوت کے تحت ارقام فرماتے ہیں ای الشیاطین او المضلات عن الہوٰی والشیطان وغیرہما۔ انتہٰی
ان تمام عبارات منقولہ میں طاغوت کے جو معنی بیان کئے گئے ہیں ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ساحر و کاہن، شیطان و اصنام طاغوت ہیں اور ہر معبود من دون اللہ جو انسان کو گمراہ کرنے والا اور اس کی گمراہی کا سبب ہے قرآنی اصطلاح میں طاغوت کہا جاتا ہے۔ خیر سے روکنے والے اور طریق حق سے گمراہ کرنے والے سرکش جن اور انسان طاغوت ہیں۔ مولوی حسین علی نے تفاسیر میں بعض مقامات پر
کل ما عبد من دون اللّٰہ سے دھوکا کھایا اور ما کے عموم میں ملائکہ و رسل علیہم السلام کو شامل کر لیا مگر یہ نہ سمجھا کہ جن علماء و مفسرین نے طاغوت کے معنی بیان کرتے ہوئے کل ما عبد من دون اللّٰہ کہا ہے انہوں نے وہاں یہ تصریح بھی فرما دی ہے کہ طاغوت طغیان سے مشتق ہے۔ جیسا کہ خازن، معالم، کبیر، روح المعانی اور بیضاوی سے ہم ابھی نقل کر چکے ہیں۔


قاضی بیضاوی علیہ الرحمۃ نے تصریح فرمائی کہ
فعلوت من الطغیان۔ یعنی طاغوت فعلوت کے وزن پر (مبالغہ کا صیغہ) طغیان سے مشتق ہے اور خازن و معالم دونوں تفسیروں میں صاف مرقوم ہے


فاعول من الطغیان۔ یعنی طاغوت فاعول کے وزن پر طغیان سے مشتق ہے۔ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے ایک معمولی سمجھ والا انسان بھی نہایت آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ لفظ طاغوت جب طغیان سے مشتق ہے تو اس میں طغیان کے معنی لازماً ہوں گے اور چونکہ یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اس لئے اس میں مبالغہ کے ساتھ طغیان کا ہونا ضروری ہے تو یہ بات کس قدر واضح ہے کہ


کل ما عبد من دون اللّٰہ کے جن افراد پر طاغوت صادق آئے گا ان میں مبالغہ کے ساتھ طغیان کے معنی کا ہونا یقینی امر ہے۔
اب بتایئے کہ ملائکہ کرام اور انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں مبالغہ کے ساتھ طغیان کا پایا جانا تو درکنار طغیان کا تصور بھی ان کے حق میں نہیں ہو سکتا تو پھر ما کے عموم میں وہ کس طرح شامل ہو سکتے ہیں۔ مفسرین کرام نے آفتاب سے زیادہ روشن عبارات میں تصریحات فرمائیں کہ طاغوت وہی ہے جس سے طغیان سرزد ہو اور وہ اس وصف طغیان کے باعث فی نفسہٖ مذموم و متمرد ہو۔ دیکھئے تفسیر روح البیان جلد ۳ ص ۴۰۷ پر ہے
(فمن یکفر بالطاغوت) ہو کل ما عبد من دون اللّٰہ مما ہو مذموم فی نفسہٖ ومتمرد کالانس والجن والشیاطین وغیرہم فلا یرد عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام۔ انتہٰی
سبحان اللہ! اس عبارت نے تو صداقت و حقانیت کے پرچم لہرا دئیے اور طاغوت وہابیت کے پرخچے اڑا دئیے۔ دیکھئے امام اجل علامہ اسمٰعیل حقی بروسوی قدس سرہ العزیز نے طاغوت کے معنی بیان کرتے ہوئے ارقام فرمایا
ہو کل ما عبد من دون اللّٰہ
یہ عبارت بلفظہا وہی ہے جو گنگوہی صاحب کے شاگرد رشید نے بلغۃ الحیران میں لکھی ہے لیکن علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے
مما ہو مذموم فی نفسہٖ الخ سے اس ما کا بیان کر دیا جس کے عموم میں مولوی حسین علی نے ملائکہ اور رسولوں کو شامل کر کے (معاذ اللہ) ان کو طاغوت کہنا جائز قرار دیا ہے۔ علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمۃ نے اس حقیقت کو اچھی طرح واضح فرما دیا کہ عبارت مذکورہ کل ما عبد من دون اللّٰہ میں صرف وہی افراد شامل ہیں جن کے طغیان کے معنی یعنی سرکشی (ظلم و عصیان) میں حد سے تجاوز کرنا پائے جائیں اور وہ اس وصف ذمیم کی وجہ سے مذموم فی نفسہٖ ہوں جیسے انس و جن اور شیاطین (جو متمرد و مذموم ہیں) پھر فرماتے ہیں


فلا یرد عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام یعنی جب کل ما عبد من دون اللّٰہ کے معنی یہ ہوئے کہ ہر وہ معبود من دون اللہ طاغوت ہے جو مذموم فی نفسہٖ اور متمرد (سرکش) ہو تو اب یہ اعتراض وارد نہ ہو گا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی معبود من دون اللہ ہونے کی وجہ سے طاغوت ہیں۔ اس تصویر پر عیسیٰ علیہ السلام اور (ملائکہ و دیگر صالحین کرام) جن کی عبادت کی گئی طاغوت کی تعریف میں اس لئے نہیں آتے کہ طاغوت وہ معبود من دون اللہ ہے جو متمرد (سرکش) اور مذموم فی نفسہٖ ہو چونکہ وہ مقدسین مذموم فی نفسہٖ نہیں اور ان میں کسی قسم کا تمرد وغیرہ نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا ان پر طاغوت کی تعریف صادق نہیں آتی۔ صاحب تفسیر روح البیان کی اس نورانی تفسیر سے شکوک و اوہام کی تمام ظلمتیں کافور ہو گئیں۔


اس بیان میں صاحب روح البیان متفرق نہیں بلکہ ہر مفسر نے اپنے مخصوص اندازِ بیان میں اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ رسل و ملائکہ و دیگر صالحین (اگرچہ ان کی عبادت کی گئی ہو مگر وہ پھر بھی) طاغوت نہیں (کیونکہ طاغوت وہی ہو سکتا ہے جس میں طغیان کے معنی پائے جائیں) دیکھئے روح المعانی پارہ ۳ ص ۱۲ سے جو عبارت ہم نقل کر چکے ہیں اس میں طاغوت کے معنی میں بعض صحابہ و تابعین وغیرہم سے پانچ قول نقل کئے ہیں


۱۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ و حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے
فرمایا طاغوت شیطان ہے حضرت مجاہد و حضرت قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔
۲۔ سعید بن جبیر اور عکرمہ فرماتے ہیں طاغوت کاہن ہے۔
۳۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ طاغوت ساحر ہے۔ اور
۴۔ حضرت مالک بن انس فرماتے ہیں کہ
کل ما عبد من دون اللّٰہ کو طاغوت کہتے ہیں۔
۵۔ بعض مفسرین کا مذہب ہے کہ طاغوت اصنام ہیں۔ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں
والاولی ان یقال بعمومہ سائر ما یطغی ویحمل الاقتصار علٰی بعض فی تلک الاقوال من باب التمثیل۔ انتہٰی
یعنی بہتر یہ ہے کہ لفظ طاغوت کو عام رکھا جائے اور اس کے مفہوم عام میں بقیہ ان تمام چیزوں کو شامل کر لیا جائے جو سرکش اور طاغی ہیں اور ان اقوال میں جو بعض افراد پر اقتصار کیا گیا ہے اسے باب تمثیل پر محمول کیا جائے۔


یہ عبارت اس مطلب میں صریح ہے کہ
کل ما عبد من دون اللّٰہ سے وہی معبود من دون اللّٰہ مراد ہیں جن میں طغیان کے معنی پائے جائیں، ملائکہ اور رسول ہرگز مراد نہیں کیونکہ وہ طغیان سے پاک ہیں۔


امام فخر الدین رازی اور علامہ سید محمود الوسی صاحب روح المعانی نے اپنی تفسیروں میں طاغوت کے معنی میں پانچ قول نقل کئے ہیں
۱۔ شیطان ۲۔ ساحر ۳۔ کاہن ۴۔ اصنام  ۵۔ پانچویں قول میں عنوان بیان مختلف ہے۔


صاحب روح المعانی نے فرمایا
کل ما عبد من دون اللّٰہ اور امام رازی نے اس کی بجائے فرمایا
مردۃ الجن والانس، وکل ما یطغی طاغوت کی تفسیر میں کل ما عبد من دون اللّٰہ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے لیکن امام رازی نے اس کی بجائے مردۃ الجن والانس وکل ما یطغی ارقام فرما کر واضح فرما دیا کہ ما عبد سے مراد سرکش اور متمرد جن و انس ہیں اور وہ چیزیں ہیں جو طاغی ہونے کے باعث مذموم فی نفسہٖ ہیں۔ دونوں عبارتوں میں صرف عنوان مختلف ہیں، معنوں میں کوئی فرق نہیں۔


اس کے بعد امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے جو محاکمہ فرمایا ہے اس نے اس مفہوم کو اور بھی واضح کر دیا۔ فرماتے ہیں
والتحقیق انہ لما حصل الطغیان عند الاتصال بہٰذہ الاشیاء جعلت ہٰذہ الاشیاء اسبابا للطغیان کما فی قولہ رب انہن اضللن کثیرا من الناس۔ انتہٰی۔
تفسیر کبیر جلد دوم ص ۳۲۰ یعنی تحقیق یہ ہے کہ جب ان اشیاء کے ساتھ اتصال ہونے کے وقت طغیان حاصل ہوا تو ان اشیاء کو طغیان کا سبب قرار دے دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے


اے میرے رب بے شک ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا یعنی ان اشیاء کو طاغوت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ اتصال ہونے سے طغیان حاصل ہوتا ہے۔ اس تقریر پر طاغوت وہی ہو گا جس کے ساتھ اتصال ہونے سے طغیان حاصل ہو۔ ظاہر ہے کہ ملائکہ کرام اور رسل عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اتصال ہونے سے ایمان، ہدایت اور ہر قسم کی رحمت و برکت حاصل ہوتی ہے۔ طغیان تو ان سے دور ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس صورت میں انہیں طاغوت قرار دینا کیونکر صحیح ہو گا؟


اس بیان سے بھی ثابت ہو گیا کہ
ما عبد من دون اللّٰہ میں ملائکہ و رسل ہرگز شامل نہیں اور صاحب روح البیان نے ما عبد من دون اللّٰہ کے بیان میں جو مما ہو مذموم فی نفسہٖ متمرد فرمایا ہے، عین حق ہے اور وہ اپنے اس بیان میں متفرد نہیں بلکہ امام رازی اور صاحب روح المعانی جیسے جلیل القدر علماء مفسرین کی عبارتیں ان کی تائید میں موجود ہیں۔


علاوہ ازیں مولانا گنگوہی صاحب کے شاگرد رشید نے یہ بھی نہ دیکھا کہ
ما عبد من دون اللّٰہ میں کلمہ ما ہے من نہیں۔ ایک مبتدی بھی جانتا ہے کہ کلمہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور من ذوی العقول کے لئے۔ ملائکہ و رسل کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کامل العقل ہوتے ہیں۔ اگر اس عبارت میں وہ مراد ہوتے تو ما عبد کی بجائے من عبد ہوتا۔
اگر
ما عبد من دون اللّٰہ میں ملائکہ و رسل شامل ہوں تو آیت کریمہ انکم وما تعبدون من دون اللّٰہ حصب جہنم میں بھی ما ہے۔ اس کے عموم میں بھی یہ مقدسین شامل ہو کر (معاذ اللہ) حصب جہنم قرار پائیں گے۔ العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ۔


اب ہم اس مقصد کو واضح کرنے کے لئے علماء مفسرین کی عبارات پیش کرتے ہیں کہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور
ما عبد من دون اللّٰہ میں فرشتے اور رسول شامل نہیں۔ دیکھئے تفسیر معالم التنزیل جلد ۴ ص ۲۶۲ پر آیت کریمہ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کے تحت علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ ارقام فرماتے ہیں
وزعم جماعۃ ان المراد من الاٰیۃ الاولی الاصنام لان اللّٰہ تعالٰی قال انکم وما تعبدون من دون اللّٰہ۔ انتہٰی
یعنی ایک جماعت نے کہا کہ آیت کریمہ سے اصنام مراد ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے
وما تعبدون فرمایا۔ اگر اس سے فرشتے اور انسان (رسول اور دیگر صالحین کرام) مراد ہوتے تو ومن تعبدون فرماتا۔ اسی طرح خازن میں ہے اور تفسیر مدارک جلد ۳ ص ۶۹ پر اسی آیت کے تحت مرقوم ہے
علی ان قولہ وما تعبدون لا یتنا ولہم لان مالمن لا یعقل الا انہم اہل عناد فزید فی البیان۔ انتہٰی


یعنی علاوہ ازیں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول
وما تعبدون فرشتوں اور رسولوں کو شامل نہیں اس لئے کہ کلمہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے لیکن چونکہ وہ مشرکین اہل عناد سے تھے اس لئے کلمہ ما کے مفہوم کو بیان کرنے کے لئے اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُولٰئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْن کو زیادہ کہا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی (جو آیت حصب جہنم کے بعد ہے) کلمہ ما تخصیص کے لئے نہیں بلکہ اس کے معنی مرادی کو بیان کرنے کے لئے ہے اور یہ بیان صرف اس لئے نازل ہوا کہ ابن زبعری نے کلمہ ما کے عموم میں فرشتوں اور رسولوں کو عناداً شامل کر لیا تھا جیسا کہ کل ما عبد من دون اللّٰہ فہو الطاغوت میں کلمہ ما کے عموم میں گنگوہی صاحب کے شاگرد رشید مولوی حسین علی نے فرشتوں اور رسولوں کو شامل کر لیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ابن زبعری نے (معاذ اللہ) انہیں حصب جہنم (دوزخ کا ایندھن) بنانے کے لئے شامل کیا تھا اور مولانا گنگوہی صاحب کے شاگرد رشید نے ان پاکبازوں کو نعوذ باللہ طاغوت ثابت کرنے کے لئے شامل کیا ہے لیکن اہل حق کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے ان نورانی بندوں کو جس طرح حصب جہنم کہنا کفر و ضلال ہے بالکل اسی طرح طاغوت کہنا بھی کفر و الحاد ہے۔


امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر کبیر جلد ۶ ص ۱۳۳ پر آیت کریمہ
اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کے تحت فرماتے ہیں (وثانیہا) انہ لم یقل ومن تعبدون بل قال وما تعبدون وکلمۃ ما لا تتناول العقلاء۔ انتہٰی


یعنی ابن زبعری کے اعتراض کے ساقط ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے
ومن تعبدون نہیں فرمایا بلکہ وما تعبدون فرمایا اور کلمہ ما عقلاء کو شامل نہیں ہوتا۔


تفسیر روح البیان میں اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
وما تعبدون سے مراد اصنام (بت) ہیں: وذٰلک بشہادۃ ما فانہا لما لا یعقل فخرج عزیر وعیسٰی وملٰئکۃ۔ انتہٰی


یعنی اس آیت میں جو ہم نے اصنام مراد لئے ہیں تو یہ مراد لینا کلمہ ما کی شہادت کی وجہ سے ہے۔ اس لئے کہ ما غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔ لہٰذا عزیر اور عیسیٰ اور ملائکہ علیہم الصلوٰۃ والسلام اس سے نکل گئے۔ تفسیر ابو سعود (برحاشیہ تفسیر کبیر) جلد ۶ ص ۳۳۷ پر علامہ ابو سعود آیت مذکورہ
انکم وما تعبدون کے تحت فرماتے ہیں
وما تعبدون عبارۃ عن اصنامہم لانہا التی یعبدونہا کما یفصح عنہ کلمۃ ما وقد روی ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حین تلا الاٰیۃ وقال لہ ابن الزبعری خصمتک ورب الکعبۃ الیست الیہود عبدوا عزیراً والنصارٰی المسیح وبنو ملیح الملائکۃ رد علیہ بقولہ علیہ السلام ما اجہلک بلغۃ قومک اما فہمت ان ما لما لا یعقل۔ انتہٰی


یعنی
وما تعبدون عبارت ہے ان کے اصنام سے اس لئے کہ وہ اصنام ہی کی عبادت کرتے تھے۔ جیسا کہ کلمہ ما بتا رہا ہے۔ مروی ہے کہ جب حضور سید عالم ﷺ نے آیت مبارکہ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّم تلاوت فرمائی تو ابن زبعری نے حضور ﷺ سے کہا کہ رب کعبہ کی قسم میں حضور پر غالب آ گیا۔ کیا یہود نے عزیر علیہ السلام کی اور نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کی اور بنو ملیح نے ملائکہ کی عبادت نہیں کی؟ تو حضور اقدس ﷺ نے اس پر رد فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ما اجہلک بلسان قومک۔ الخ اے ابن زبعری تو اپنی قوم کی زبان سے کیسا جاہل ہے۔ کیا تو نہیں سمجھتا کہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے۔


اصول کی مشہور کتاب منار (نور الانوار کے متن) میں ہے
واختلف فی خصوص العموم فعندنا لا یقع متر اخیا وعند الشافعی رحمۃ اللّٰہ یجوز ذٰلک۔ انتہٰی ص ۲۰۶
یعنی عام میں ایسی تخصیص جو ابتداء ہو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک موصولا اور مفصولا دونوں طرح جائز ہے لیکن امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک موصولا جائز ہے، مفصولا جائز نہیں۔


امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلک پر اعتراض ہوتا تھا کہ دیکھئے
اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّم میں جو ما ہے وہ ہر معبود من دون اللہ کو شامل ہے جس میں رسول فرشتے و دیگر صالحین سب داخل ہیں۔ ان کو آیت کریمہ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَا الْحُسْنٰی اُولٰئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْن سے تراخی کے ساتھ خاص کیا گیا۔
اس کے جواب میں مصنف علیہ الرحمۃ کی عبارت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے صاحب نور الانوار مبحث اقسام البیان ص ۲۰۳، ۲۰۴ پر ارقام فرماتے ہیں
وقولہ تعالٰی انکم وما تعبدون من دون اللّٰہ لم یتناول عیسی لانہ خص بقولہ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَا الْحُسْنٰی لان کلمۃ مالذوات غیر العقلاء وعیسٰی علیہ السلام ونحوہ لم یدخل فی عموم کلمۃ ما۔
یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو یہ آیت شامل نہیں۔ یہ بات نہیں کہ
اِنَّ الَّذِیْنَ سبقت لَہُمْ مِّنَا الْحسْنٰی سے انہیں خاص کیا گیا ہے اس لئے کہ کلمہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی مانند (دیگر رسول اور فرشتے و صالحین جن کی عبادت کی گئی) کلمہ ما کے عموم میں داخل نہیں۔ (جب کلمہ ما کے عموم میں وہ داخل ہی نہیں تو وصل یا فصل کے ساتھ انہیں خاص کرنے کے کیا معنی؟)


اس مقام پر کلام سابق میں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا تھا کہ محاورہ اہل لسان میں کلمہ ما جب غیر ذوی العقول کے لئے تھا تو ابن زبعری نے اہل زبان ہونے کے باوجود یہ سوال کیوں کیا؟ اس کا جواب صاحب نور الانوار اس طرح ارقام فرماتے ہیں
لکن ابن الزبعری انما سأل تعنتا وعناداً ولذالک قال لہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما اجہلک (۱) بلسان قومک اما علمت ان ما لغیر العقلاء ومن للعقلاء۔ انتہٰی
فرماتے ہیں کہ ابن زبعری کا یہ سوال باوجود علم کے محض تعنت و عناد پر مبنی ہے۔ اسی لئے حضور اقدس ﷺنے اس سے فرمایا تو اپنی قوم کی زبان سے کس قدر جاہل ہے۔ تو نہیں جانتا کہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور من ذوی العقول کے لئے۔


تصریحات سابقہ سے یہ مقصد پوری طرح واضح ہو گیا کہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے۔ اس میں فرشتے اور رسول شامل نہیں۔ لہٰذا دیوبندیوں کے قطب العالم مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کے تلمیذ رشید اور غلام خاں کے حضرت صاحب (مولوی حسین علی) نے
کل ما عبد من دون اللّٰہ فہو الطاغوت میں کلمہ ما کے عموم میں فرشتوں اور رسولوں کو شامل کر کے جو ان پر لفظ طاغوت بولنا جائز قرار دیا ہے وہ قطعاً باطل بلکہ رسل وملائکہ علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شدید ترین توہین اور گستاخی ہے۔ (العیاذ باللہ الکریم)


ہمارے اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ طاغوت کے معنی
کل ما عبد من دون اللّٰہ مفسرین نے نقل کئے ہیں لیکن یہ تسلیم نہیں کرتے کہ اس کلمہ ما کے عموم میں فرشتے اور رسول شامل ہیں اس لئے کہ کلمہ ما حسب تصریحات علماء مفسرین غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور اگر ان تصریحات سے قطع نظر کر لی جائے تب بھی فرشتے اور رسول اس عموم میں شامل ہو کر طاغوت نہیں ہو سکتے کیونکہ طاغوت طغیان سے مشتق ہے۔ ہر مشتق میں مشتق منہ کے اصل معنی کا پایا جانا ضروری ہے ورنہ اشتقاق صحیح نہ ہو گا۔


دیکھئے بیضاوی شریف میں اشتقاق کے معنی اس طرح مرقوم ہیں
کون اللفظ مشارکًا فی المعنی والترکیب (اشتقاق کے معنی ہیں مشتق۔ مشتق منہ کا معنی اور ترکیب میں باہم شریک ہونا)


فرشتے اور رسول طغیان کے معنی سے پاک ہیں۔ انہیں شرعاً یا عرفاً بھی سبب طغیان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے وہ کسی طرح طاغوت نہیں ہو سکتے۔ طاغوت وہی ہو سکتا ہے جو خود طاغی ہو یا دوسروں کو طغیان کی طرف کھینچنے والا ہو یا اس میں طغیان کے معنی صفت بحال متعلق کے طور پر پائے جائیں جس کی وجہ سے انہیں شرعاً یا عرفاً سبب طغیان کہا جا سکے۔


مفسرین کرام نے طاغوت کے معنی میں کل ما عبد من دون اللّٰہ ارقام فرمایا لیکن فرشتوں اور رسولوں کو آج تک کسی نے طاغوت نہیں کہا۔


اب اس امر پر روشنی ڈالتا ہوں کہ فرشتوں اور رسولوں کو (معاذ اللہ) طاغوت کہنے کی صورت میں ازروئے قرآن مجید کیسے شدید مفاسد لازم آتے ہیں


دیکھئے
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اُولٰئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْن۔
اس کی تفسیر میں علامہ خازن رحمۃ اللہ علیہ تفسیر خازن جلد اول ص ۲۲۹ پر ارقام فرماتے ہیں
یعنی الکفار والطاغوت اہل النار الذین یخلدون فیہا دون غیرہم۔
یعنی کفار اور طاغوت اہل نار ہیں۔ صرف وہی اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اب اگر (نعوذ باللہ) فرشتے اور رسول بھی طاغوت ہوں تو ان کو بھی مخلد فی النار کہنا پڑے گا۔ (معاذ اللہ)


دور کیوں جایئے۔ اسی آیت کریمہ کو لے لیجئے جس کی تفسیر کرتے ہوئے مولوی حسین علی صاحب نے فرشتوں اور رسولوں کو طاغوت ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ (الاٰیۃ) اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ہر طاغوت (۱) کے ساتھ کفر کرنا فرض قرار دیا ہے۔ حتیّٰ کہ اگر کوئی شخص ایک طاغوت پر ایمان رکھتا ہے وہ بھی مومن باللہ نہیں ہو سکتا۔ اب اگر (معاذ اللہ) فرشتے اور رسول بھی طاغوت ہوں تو (معاذ اللہ) ان کے ساتھ کفر کرنا بھی فرض ہو گا حالانکہ فرشتوں اور رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے۔


اگر یہاں یہ شبہ کیا جائے کہ اس آیت میں کفر سے مراد طاغوت کی معبودیت کا انکار ہے اور ظاہر ہے کہ مومن جس طرح اصنام وغیرہ کی معبودیت کا منکر ہے اسی طرح فرشتوں اور رسولوں کی معبودیت کا منکر ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انکار معبودیت کو کفر سے تعبیر کرنا اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جب کہ طاغوت سے فرشتے اور رسول مراد نہ ہوں کیونکہ اصنام وغیرہ کی معبودیت کو کفر سے تعبیر کرنا جائز ہے مگر فرشتوں اور رسولوں کی معبودیت کے انکار کو کفر نہیں کہہ سکتے۔ جیسے
کفرت باللات والعزی کہنا بلاشبہ جائز ہے لیکن کفرت بعیسٰی علیہ السلام یا کفرت بمحمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا کفرت بجبریل علیہ السلام کہنا کسی طرح جائز نہیں۔


اس تفصیل سے بھی واضح ہو گیا کہ فرشتے اور رسول طاغوت نہیں ہو سکتے۔
اور سنیئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَوْلِیَاؤُہُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ۔
یعنی کافروں کے اولیاء طاغوت ہیں۔ وہ انہیں نور سے ظلمتوں کی طرف نکال کر لے جاتے ہیں۔


اگر فرشتے اور رسول بھی طاغوت ہوں تو یہ بھی نور سے ظلمتوں کی طرف لے جانے والے ہوں گے حالانکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نوری مخلوق اور معصوم ہیں اور رسول ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لاتے ہیں اور ان کا معصوم ہونا بھی ایک حقیقت ثابتہ ہے۔


قرآن مجید میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یّتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ
کافرین چاہتے ہیں کہ اپنے مقدمات طاغوت کی طرف لے جائیں اور انہیں اپنا حکم بنائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ طاغوت کے ساتھ کفر کریں۔


اگر معاذ اللہ رسول بھی طاغوت ہوں تو ان کے ساتھ بھی کفر کرنا ضروری ہو گا۔ نیز ان کے پاس اپنے جھگڑے اور مقدمات لے جانا اور انہیں اپنا حکم بنانا ناجائز ہو گا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْل۔
اور دوسری جگہ فرمایا
فَلاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ۔ الآیۃ


اس کے علاوہ بے شمار مفاسد لازم آتے ہیں جن کو ہم بخوفِ طوالت بیان نہیں کر سکتے۔ طالب حق منصف مزاج کے لئے یہ مختصر مضمون کافی ہے اور سرکش متعصب کے لئے دفتر کے دفتر بھی کافی نہیں۔


الحمد للّٰہ! ہم نے روشن دلیلوں سے ثابت کر دیا کہ فرشتے اور رسول طاغوت نہیں ہو سکتے۔ جو شخص انہیں طاغوت کہتا ہے وہ خود طاغوت ہے اور اپنے ماننے والوں کو نورِ ایمان سے نکال کر کفر کی تاریکیوں میں لئے جا رہا ہے۔


مسلمانو! تم ایسے لوگوں سے پرہیز کرو۔ کہیں تم بھی ان کے ساتھ نورِ ہدایت سے محروم ہو کر ضلالت کی تاریکیوں میں گم نہ ہو جاؤ۔


اللّٰہم ارنا الحق حقًا وارزقنا اتباعہ والباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ و نورِ عرشہٖ سیدنا ومولانا و ملجأنا ومأوانا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ واولیاء امتہ وعلماء ملتہ اجمعین۔ اٰمین یا رب العٰلمین۔

ہوم پیج