الاھداء
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

الاستفسار

ایک دوست نے مجھے دیوبندیوں کا ایک رسالہ دکھایا جس میں اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف حسب ذیل مضمون درج تھا۔


رب نے مشورہ طلب فرمایا
ایک صاحب حدیث بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں جو ابن حذیفہ سے مروی ہے، حضور ﷺ نے فرمایا بے شک میرے رب نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ طلب فرمایا۔ (الامن والعلی ص ۸۵)


اور اس حدیث کی تخریج کو امام احمد اور امام ابن عساکر کی طرف منسوب کیا۔ اہل عقل خوب جانتے ہیں کہ کسی کا دوسرے سے مشورہ لینا احتیاج و عاجزی پر دلالت کرتا ہے یا کم از کم مشورہ اس واسطے ہوتا ہے کہ غلطی کا احتمال نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف نہ احتیاج و عاجزی کی نسبت درست ہے اور نہ وہاں غلطی کے احتمال کا امکان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی تاویل یوں کر لی جائے کہ یہ مشورہ عزت افزائی کی خاطر ہے مگر دوسری طرح بھی اس میں کچھ گفتگو ہو سکتی ہے۔ مثلاً ابن حذیفہ نام کا کوئی صحابی بھی نہیں ہوا۔ خیر اس بات کو بھی کتابت کی غلطی کہہ کر کاتب کے سر منڈھ دیا جائے گا اور کہا جا سکتا ہے کہ ابن حذیفہ نہیں۔ حذیفہ درحقیقت تھا مگر اس کو کیا کیجئے کہ مسند احمد ص ۳۸۲ : ۴۰۸ میں اس صحابی کی بہت سی روایات ہیں مگر ایسی جھوٹی روایات کا نام و نشان بھی نہیں۔ ضعیف اور وضعی احادیث بیان کرنا بھی اگرچہ جرم ہے مگر یہ تو نہ حدیث وضعی ہے نہ ضعیف بلکہ سرے سے اس کا کہیں ذکر ہی نہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس جھوٹی حدیث کو مسند احمد میں بتانے والا ہمارے دوستوں کے نزدیک مجدد مأۃ حاضرہ بھی ہے۔ اگر مجدد ایسے ہی ہوتے ہیں تو ہمارا ایسے مجددوں کو دور ہی سے سلام ہے۔ (الصدیق ملتان بابت ماہ ذیل الحجہ ۱۳۷۸ ھ)


مضمون بالا میں سے کسی دیوبندی نے سیدنا اعلیٰ حضرت مجدد مأۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب الامن والعلیٰ کے ص ۸۵ سے اللہ تعالیٰ کے مشورہ طلب کرنے کی طویل حدیث کے ایک جملہ کا ترجمہ نقل کیا ہے اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اس نقل کردہ حدیث مبارکہ کو محض اس لئے جھوٹا قرار دیا ہے کہ مشورہ طلب کرنا غلطی کا احتمال دور کرنے اور احتیاج و عاجزی کی بنا پر ہوتا ہے۔ رب تعالیٰ جب ان باتوں سے پاک ہے تو اس کے لئے مشورہ طلب کرنا کیونکر ممکن ہو گا۔ لہٰذا یہ حدیث غلط اور جھوٹی ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ


۱۔ کیا یہ حدیث بروایت ابن حذیفہ حدیث کی کسی کتاب میں موجود ہے یا نہیں۔
نیز یہ کہ
۲۔ امام احمد اور امام ابن عساکر کی طرف اس کی نسبت درست ہے یا نہیں اور
۳۔ ابن حذیفہ نام کا کوئی صحابی ہوا ہے یا نہیں۔ یہ بھی دریافت طلب امر ہے کہ
۴۔ مشورہ طلب کرنا ہمیشہ احتیاج و عاجزی کی بناء پر اور غلطی دور کرنے کے لئے ہوتا  ہے یا کبھی اس کے بغیر بھی مشورہ طلب کیا جاتاہے نیز یہ کہ
۵۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی مخلوق سے کوئی مشورہ طلب کیا ہے یا نہیں؟ ان تمام امور کا جواب پوری تحقیق و تفصیل کے ساتھ مطلوب ہے۔


جواب
بدعقیدگی اور گمراہی کی اصل بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ اور اس کے رسول ﷺ کے افعال مقدسہ کا قیاس اپنے افعال پر کر لیا جائے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ یاد رکھیئے
اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے علاوہ ہم اپنے مشوروں کے متعلق اگر یہ کلیہ تسلیم کر لیں کہ ہمارا مشورہ طلب کرنا غلطی کا احتمال دور کرنے کے لئے یا احتیاج و عاجزی کی بنا پر ہوتا ہے۔ تو ممکن ہے کہ کسی حد تک اسے صحیح کہا جا سکے لیکن اللہ اور رسول ﷺ کے مشورہ کو بھی اس کلیہ میں شامل کرنا باطل محض ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ معاذ اللہ، اللہ و رسول ہماری مانند ہیں۔ غلطی کا احتمال دور کرنا بھی حاجت ہے اور عاجزی بھی احتیاج کو مستلزم ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں اور حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے محتاج نہیں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ دونوں غنی، بے پرواہ اور احتیاج سے پاک ہیں جیسا کہ عنقریب دلائل کی روشنی میں واضح کیا جائے گا۔


ایک صحیح اور واقعی حدیث کو جو کتب احادیث میں موجود ہے اور معترض علم حدیث سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اسے معلوم کرنے سے قاصر رہا۔ محض اپنی رائے ناقص پر اعتماد کر کے جھوٹی حدیث کہہ دینا بلکہ اپنے زعم باطل کی بنا پر یہ دعویٰ کر دینا کہ اس حدیث کا کہیں ذکر ہی نہیں، بد ترین جہالت و ضلالت کا مظاہرہ ہے۔ دیکھئے یہ مبارک حدیث مسند امام احمد جلد پنجم و کنز العمال جلد ششم اور خصائص کبریٰ جلد دوم تینوں کتابوں میں موجود ہے


ان ربی استشارنی فی امتی ماذا فعل بہم فقلت ما شئت یا رب ہم خلقک وعبادک واستشارنی الثانیۃ فقلت لہٗ کذالک فاستشارنی الثالثۃ فقلت لہٗ کذالک فقال تعالٰی انی لن اخزیک فی امتک یا احمد و بشرنی ان اول من یدخل الجنۃ معی من امتی الفامع کل الف سبعون الفا لیس علیہم حساب ثم ارسل الی فقال ادع تجب وسل تعط فقلت لرسولہٖ او معطی ربی سئولی قال ما ارسلنی الیک الا لیعطیک الحدیث۔ (حم (احمد) وابن عساکر عن حذیفۃ) کنز العمال جلد ششم ص ۱۱۲ حدیث ۱۷۳۵ و خصائص کبریٰ جلد دوم ص ۲۱۰، اخرج احمد و ابو بکر الشافعی فی الغیلانیات و ابو نعیم وابن عساکر عن حذیفۃ بن الیمان و مسند امام احمد جلد ۵ مطبوعہ مصر صفحہ ۳۹۳۔
(ترجمہ) بے شک میرے رب کریم نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ طلب فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کیا، اے میرے رب جو کچھ تو چاہے وہی کر، وہ تیری مخلوق اور تیرے بندے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ مجھ سے مشورہ لیا۔ میں نے وہی جواب دیا۔ اس نے تیسری دفعہ مجھ سے مشورہ طلب فرمایا۔ میں نے پھر وہی عرض کیا۔ پھر میرے رب کریم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اے احمد (ﷺ) بے شک میں تیری امت کے معاملہ میں تجھے ہرگز رسوا نہ کروں گا اور مجھے بشارت دی کہ میرے ستر ہزار امتی سب جنتیوں سے پہلے میری ہمراہی میں داخل جنت ہوں گے۔ ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے جن سے حساب تک نہ لیا جائے گا۔ پھر میرے رب نے قاصد بھیجا کہ میرے حبیب تو دعا کر تیری دعا قبول کی جائے گی اور مانگ تجھے دیا جائے گا۔ میں نے اپنے رب کریم کے قاصد سے کہا کہ کیا میرا رب میری ہر مانگی ہوئی چیز دے گا؟ تو اس قاصد (فرشتہ) نے عرض کی کہ حضور اسی لئے تو رب تعالیٰ نے آپ کو پیغام بھیجا ہے کہ آپ جو کچھ بھی مانگیں آپ کو عطا فرمائے۔


آگے یہ حدیث مبارک طویل ہے جس میں حضور سید عالم ﷺ نے اپنے اور اپنی امت مکرمہ کے بہت سے فضائل و محامد بیان فرمائے۔ ہم نے قدرِ ضرورت پر اکتفا کیا ہے۔


معترض کا قول تو یہ تھا کہ اس جھوٹی حدیث کا کہیں ذکر ہی نہیں لیکن بحمدہٖ تعالیٰ ہم نے ثابت کر دیا کہ مسند امام احمد و کنز العمال اور خصائص کبریٰ میں یہ حدیث موجود ہے۔ کنز العمال میں تو اس کی تخریج صرف امام احمد اور امام ابن عساکر کی طرف منسوب ہے لیکن خصائص کبریٰ میں ان کے علاوہ ابو بکر شافعی (امام بزار) اور ابو نعیم کی طرف بھی اس حدیث کی تخریج کو منسوب کیا ہے۔ وللّٰہ الحجۃ السامیہ۔


اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت رحمۃ اللہ علیہ نے الامن والعلیٰ میں مسند امام احمد کا نام نہیں لکھا صرف اتنا تحریر فرمایا
الامام احمد وابن عساکر عن حذیفۃ (الامن والعلیٰ ص ۱۲۳ مطبوعہ مطبع اہل سنت و جماعت بریلی) اور الفاظ حدیث کنز العمال جلد ششم سے نقل فرمائے اور کتاب کا حوالہ نہیں دیا تاکہ ان منکرین و مخالفین کے ادعائے علم و فضل کی حقیقت آشکارا ہو۔


الحمد للہ! اہل علم نے دیکھ لیا کہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد ملت قدس سرہ العزیز علم و فضل کا وہ بحر ذخار ہیں جس کے ساحل تک بھی منکرین کی رسائی نہیں۔ ذالک فضل اللّٰہ۔


رہا ابن حذیفہ کا معاملہ تو یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ کنز العمال اور خصائص کبریٰ اور مسند امام احمد تینوں میں عن حذیفۃ موجود ہے۔ نیز الامن والعلیٰ مطبوعہ مطبع اہل سنت و جماعت بریلی شریف ص ۱۲۳ پر اور اسی طرح الامن والعلیٰ شائع کردہ نوری کتب خانہ لاہور کے ص ۱۲۳ پر عن حذیفۃ موجود ہے۔ البتہ صابر الیکٹرک پریس کی مطبوعہ کے ص ۸۵ پر کاتب کی غلطی سے عن کی بجائے ابن لکھا گیا جسے کوئی معمولی سمجھ والا انسان بھی مصنف کی طرف منسوب نہیں کر سکتا مگر جو شخص تعصب و عناد کے جوش میں ایک ایسی عظیم و جلیل حدیث کو نہیں مانتا جو کتب احادیث میں موجود ہے تو وہ اس حقیقت ثابتہ کو کیونکر تسلیم کرنے لگا ہے۔


چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمارا آپس میں مشورہ طلب کرنا تو احتیاج و عاجزی کی بنا پر اور غلطی کے احتمال کو دور کرنے کے لئے ہو سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا مشورہ طلب کرنا احتیاج و عاجزی اور ازالۂ احتمالِ غلطی کے لئے قطعاً نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ دونوں غنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بندوں کے مشورہ سے غنی ہونا تو ظاہر ہے اور حضور نبی کریم ﷺ امت کے ساتھ مشورہ فرمانے سے اس لئے غنی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر آسمان سے وحی الٰہی آتی ہے۔ نیز یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ تمام کائنات سے زیادہ علم اور عقل والے ہیں۔ اس لئے حضور ﷺ ہرگز کسی کے مشورہ کے محتاج نہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو
وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ فرما کر مشورہ کرنے کا حکم فرمایا اور حضور علیہ الصلوٰۃ نے اپنے رب کریم کے ارشاد کی تعمیل میں اپنے غلاموں سے مشورہ فرمایا۔ صرف اس لئے کہ انہیں مشورہ کی تعلیم دیں اور مشورہ کو ان کے لئے رحمت بنائیں اور انہیں استخراج رائے صحیح میں اجتہاد کی رغبت دلائیں اور ان سے مشورہ لے کر ان کی شان بڑھائیں اور ان کے دلوں کو خوش کریں۔


دیکھئے صاحب روح المعانی آیت کریمہ
وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ کے تحت اسی مضمون کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں
ویؤیدہٗ ما اخرجہٗ ابن عدی والبیہقی فی الشعب بسند حسن عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما قال لما نزلت وشاورہم فی الامر قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اما ان اللّٰہ ورسولہٗ لغنیان عنہا ولٰـکن جعلہا اللّٰہ تعالٰی رحمۃ لامتی۔ (روح المعانی پ ۴ ص ۹۴)
اور اس مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے ابن عدی نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے سند حسن کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ جب آیت کریمہ
وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا
لوگو! خبر دار ہو جاؤ۔ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول دونوں مشورہ سے غنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میری امت کے لئے رحمت بنایا ہے۔


اسی طرح تفسیر ابن جریر میں ہے
عن الربیع وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ قال تلک امر اللّٰہ نبیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یشاور اصحابہٗ فی الامور وہو یاْتیہ الوحی من السماء لانہٗ اطیب لانفسہم۔
(ترجمہ) حضرت ربیع سے روایت ہے
وشاورہم فی الامر نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مشورہ طلب امور میں حضور کے صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر وحی آسمانی آتی ہے۔ صرف ان کے دلوں کو خوش کرنے کی خاطر۔
اسی مقام پر ابن جریر میں ایک اور حدیث ہے جس کے الفاظ ہیں
وان کنت عنہم غنیا
اے حبیب ﷺ آپ اپنے صحابہ کی تالیف کے لئے ان سے مشورہ کر لیا کریں اگرچہ آپ ان سے غنی ہیں۔ (تفسیر ابن جریر پ ۴ ص ۹۴)


اور تفسیر کبیر میں ہے
(الخامس) وشاورہم فی الامر لا لتستفید منہم راْیا وعلما لٰـکن لکی تعلم مقادیر عقولہم الخ۔
یعنی آپ کو مشورہ کرنے کا حکم اس وجہ سے نہیں دیا کہ آپ ان سے کسی قسم کی رائے یا علم کا استفادہ کریں بلکہ اس لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کے اقوال و افہام آپ کے سامنے ظاہر ہو جائیں اور ان کی محبت کے انداز سامنے آ جائیں۔


اس کے چند سطر بعد امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
(السادس) (وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ) لا لانک محتاج الیہم ولٰـکن لاجل انک اذا شاورتہم فی الامر اجتہد کل واحد منہم فی استخراج الوجہ الاصلح الخ۔
(ترجمہ) اے حبیب ﷺ آپ ان سے مشورہ فرمائیں اس لئے نہیں کہ آپ ان کے محتاج ہیں لیکن جب آپ ان سے مشورہ فرمائیں گے تو آپ کے غلاموں میں سے ہر شخص وجہ اصلح کے استخراج میں کوشش کرے گا۔ (تفسیر کبیر جلد ۳ ص ۱۲۰)
تفسیر نیشا پوری میں اس آیت کریمہ
وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ کے تحت مرقوم ہے
وقد ذکر العلماء لامر الرسول بالمشاورۃ مع انہٗ اعلم الناس واعقلہم فوائد منہا انہا توجب علو شانہم ورفعۃ قدرہم الخ۔ (تفسیر نیشا پوری پ ۴ ص ۱۱۹)
(ترجمہ) باوجود اس بات کے کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ علم اور عقل والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مشورہ کا امر فرمایا۔ علماء نے اس کے کئی فائدے ذکر کئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ان سے مشورہ فرمانا ان کی علو شان رفعت قدر و منزلت اور ان کے اخلاص و محبت کے زیادہ ہونے کا موجب ہے۔


الحمد للہ! ان روایات و عباراتِ علماء مفسرین سے یہ امر آفتاب سے زیادہ روشن ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا مشورہ طلب فرمانا، احتیاج و عاجزی کی وجہ سے ہرگز نہیں، نہ کسی غلطی کے احتمال کو دور کرنے کے لئے ہے بلکہ ایسی حکمتوں اور فائدوں کی بنا پر ہے جن کا تصور بھی معترض کے ذہن میں نہیں اور ہم نے انہیں بالتفصیل بیان کر دیا۔


پانچویں سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے مشورہ طلب فرمایا ہے۔ دیکھئے تفسیر ابن جریر میں آیت کریمہ
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ کے تحت ایک حدیث نقل فرمائی جو حسب ذیل ہے
عـن سعیـد عن قتادۃ وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ فاستشار الملٰئکۃ فی خلق آدم فقالوا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ الحدیث (تفسیر ابن جریر پارہ ۱ ص ۱۵۸)
(ترجمہ) آیت کریمہ
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ کی تفسیر میں حضرت سعید حضرت قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں فرشتوں سے مشورہ طلب فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ الاٰیۃ
تفسیر عرائس البیان میں اسی آیت کے تحت ہے
فعرفہم عند المشورۃ مع الملٰئکۃ خلوہم من المحبۃ۔ (تفسیر عرائس البیان جلد اول ص ۱۹)
(ترجمہ) فرشتوں سے مشورہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے جذبۂ محبت سے خالی ہونے کی بات انہیں بتا دی تھی۔
تفسیر مدارک میں اسی آیت کے تحت مرقوم ہے
اولیعلم عبادۃ المشاورۃ فی امورہم قبل ان یقدموا علیہـا وان کان ہو یعلمہ بعلمہٖ وحکمتہ البالغۃ غنیا عن المشاورۃ۔ (تفسیر مدارک جلد اول ص ۳۹)
یا اس لئے فرشتوں سے
اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس بات کی تعلیم دے کہ وہ اپنے کام کرنے سے پہلے مشورہ کر لیا کریں اگرچہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور اس کی حکمت بالغہ مشورہ سے غنی ہے۔
تفسیر نیشا پوری میں ہے
والفائدۃ فی اخبار الملٰئکۃ بذٰلک اما تعلیم العباد المشاورۃ فی امورہم وان کان ہو بحکمۃ البالغۃ غنیا عن ذٰلک واما ان یسئلوا ذٰلک السوال ویجابوا بما اجیب۔ (تفسیر نیشا پوری پارہ اول ص ۲۰۹)
(ترجمہ) فرشتوں کو یہ خبر دینے میں یا یہ فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کاموں میں مشورہ کرنے کی تعلیم دے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کی وجہ سے مشورہ کرنے سے غنی ہے اور یا یہ فائدہ ہے کہ فرشتے یہ خبر سن کر
اَتَجْعَلُ فِیْہَا کے ساتھ سوال کریں اور انہیں اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ کے ساتھ جواب دیا جائے۔
تفسیر سراج منیر میں ہے
وفائدۃ قـولہٖ ہٰذا للملٰـئکۃ تعلیـم الـمـشـاورۃ او تعـظـیـم شـان المجعول۔ (تفسیر سراج المنیر جلد اول ص ۴۲)
(ترجمہ) فرشتوں سے
اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ فرمانے کا فائدہ تعلیم مشاورت یا تعظیم شان مجعول ہے۔ اسی طرح تفسیر جمل جلد اول ص ۳۸ پر ہے، تفسیر بیضاوی جلد اول، تفسیر کشاف جلد اول ص ۲۰۹، تفسیر کبیر جلد اول ص ۳۸۲، روح المعانی پارہ ۱ ص ۲۰۳، روح البیان جلد اول ص ۹۴ پر ہے۔


ان تمام عبارات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مشورہ کی تعلیم دینے اور آدم علیہ السلام کی تعظیم و دیگر حکمتوں کی بنا پر آدم علیہ السلام کے پیدا کرنے سے پہلے فرشتوں سے مشورہ لیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ ثابت ہوا کہ مشورہ لینا ہمیشہ احتیاج و عاجزی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا بلکہ حکمتوں پر بھی مبنی ہوتا ہے۔ پھر یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ فرشتوں سے مشورہ فرمانا اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف نہیں تو حضور نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنا کیونکر عظمت خداوندی کے منافی ہو سکتا ہے؟


مشورہ کے معنی اور معترض کی غلط فہمی کا ازالہ
لفظ مشورہ عرب کے قول شرت العسل سے ماخوذ ہے یعنی میں نے شہد کو اس کی جگہ سے نکال لیا۔ مشورہ کے معنی ہیں استخراج الرائے بیضاوی میں ہے
المشورۃ استخراج الرأی بمراجعۃ البعض الی البعض۔ (مفردات راغب ص ۲۷۲)
خلاصہ یہ ہے کہ کسی کی طرف رجوع کر کے اس کی رائے کے استخراج کا نام مشورہ ہے۔ مشورہ میں یہ ضروری نہیں کہ متکلم و مخاطب میں سے ہر ایک کی رائے کا استخراج ہو بلکہ صرف مخاطب کی رائے لینا بھی کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ متکلم ہے اور فرشتے مخاطب۔ اللہ تعالیٰ نے
اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃ کہہ کر فرشتوں کی رائے لی اور فرشتوں نے اَتَجْعَلُ فِیْہَا کہہ کر اپنی رائے ظاہر کر دی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مَاذَا اَفْعَلُ بِہِمْ فرما کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رائے لی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ما شئت یا رب ہم خلقک وعبادک اور اللہ تعالیٰ کا یہ مشورہ لینا اور رائے طلب فرمانا بالکل ایسا ہے جیسے اپنے نبیوں یا فرشتوں یا کسی فرد مخلوق سے کسی بات کا پوچھنا اور سوال فرمانا قرآن کریم میں بے شمار آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے استفسارات و سوالات مذکور ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا اَوَلَمْ تُؤْمِنْ اے ابراہیم! کیا تو ایمان نہیں لایا؟ ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا بَلٰی کیوں نہیں؟ میں ضرور ایمان لایا۔
اسی طرح قیامت کے دن نبیوں سے سوال فرمائے گا
مَاذَا اُجِبْتُمْ اے نبیو! بتاؤ تم کیا جواب دئیے گئے؟
نیز عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت فرمائے گا
وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰـہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اے عیسیٰ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو۔
نیز موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا
وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی اے موسیٰ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟
اگر مشورہ کرنا یعنی کسی کی رائے دریافت کرنا، احتیاج اور عاجزی پر منحصر ہو تو کسی بات کا پوچھنا بھی معاذ اللہ لا علمی اور احتیاج پر مبنی ہو گا۔ لہٰذا معترض نے جہاں حدیث استشارہ کا انکار کیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے سوالات کی تمام آیات کا بھی انکار کر دے اور اگر سوالات میں حکمت کا قائل ہے تو استشارہ میں اسی حکمت کا کیوں انکار کرتا ہے؟

فوضح الحق حق الوضوح وللّٰہ الحجۃ البالغۃ
 

ہوم پیج