ایک اہم دینی علمی تحقیق

جانوروں اور زراعت میں کسی جانور یا حصہ زراعت کے تعین کے فعل کا جائز یا ناجائز ہونا معین کرنے والے کی نیت اور اعتقاد پر موقوف ہے اور اس مقرر کردہ جانور کے گوشت کی حلت و حرمت کا مدار ذابح کی نیت، حال اور قول پر ہے۔


اگر مقرر کرنے والا بزرگانِ دین کو (معاذ اللہ) مستقل بالذات، متصرف فی الامور (نعوذ باللہ) انہیں مستحق عبادت مانتا ہے اور اس کا یہ اعتقادہے کہ جو جانور یا حصہ زراعت کسی بزرگ کے لئے نامزد کر دیا گیا ہے وہ عند اللہ کسی دوسرے مصرف میں صرف کرنا گناہ ہے اور اس بزرگ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال شرعاً حرام اور موجب ضرر ہے تو فعل مذکور ایسا ہی کفر و شرک قرار پائے گا جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں مشرکین عرب، بحیرہ، سائبہ وغیرہ کے نام سے جانور اپنے اصنام و اٰلہہ کے لئے نامزد کر کے انہیں اپنی طرف سے حرام قرار دے دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انہیں مفتری، کذاب قرار دیا اور ان کی سخت مذمت فرمائی۔ البتہ محض اس اعتقاد اور نامزدگی کے باعث وہ جانور حرام نہیں ہوں گے جب تک کہ ان کا ذابح کوئی مرتد یا مشرک و کافر، غیر کتابی نہ ہو یا انہیں غیر اللہ کے نام پر ذبح نہ کیا جائے یا ان کا خون بہانے سے غیر اللہ کی تعظیم و تقرب مقصود نہ ہو۔


ہاں اس میں شک نہیں کہ عقیدئہ مذکورہ کے ساتھ مقرر شدہ جانوروں کو اگر مقرر کرنے والا شخص اسی عقیدئہ کفریہ کی حالت میں اللہ کے نام پر ذبح کر دے تب بھی ذبیحہ مرتد ہونے کی وجہ سے اور اراقۃ الدم لتعظیم غیر اللہ کے باعث ان کا گوشت حرام ہو گا، حلال نہیں ہو سکتا۔


لیکن اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان کلمہ گو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والوں کی طرف بلا دلیل ایسے عقائد کفریہ منسوب کر کے معاذ اللہ انہیں کافر و مرتد بنانا مسلمان کا کام نہیں، مومن کو کافر و مرتد قرار دینے والا خود کفر و ارتداد کے وبال میں مبتلا ہے۔


نَسْأَلُ اللّٰہَ السَّلَامَۃَ عَنْ ہٰذِہِ الْبَلیَّۃِ۵ط
شرک کے معنی ہیں
الاشراک ہو اثبات الشریک فی الالوہیۃ بمعنٰی وجوب الوجود کما للمجوس۵ او بمعنٰی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام۵ط
یعنی شرک کرنا وہ اثباتِ شریک ہے الوہیۃ میں بمعنی وجوب وجود، جیسا کہ مجوس کے لئے ہے یا بمعنی استحقاق عبادت جیسا کہ بتوں کی عبادت کرنے والوں کے لئے ہے۔ (شرح عقائد نسفی ص ۶۱)


خلاصہ یہ کہ شرک کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو الٰہ ماننا اور الوہیت صرف وجوب وجود یا استحقاقِ عبادت کا نام ہے لہٰذا جب تک کسی غیر اللہ کو واجب الوجود یا مستحق عبادت نہ مانا جائے اس وقت تک شرک نہیں ہو سکتا۔


واجب الوجود اسے کہتے ہیں جس کا ہونا عقلاً ضروری ہو اور نہ ہونا عقلاً محال ہو۔


مجوسی اپنے اعتقاد میں دو واجب الوجود مانتے ہیں۔ ایک یزداں (خالق خیر) دوسرا اہرمن (خالق شر) وہ مشرک ہیں اس لئے کہ انہوں نے الوہیت بمعنی وجوب وجود کو غیر اللہ کے لئے ثابت کیا اور بتوں کی عبادت کرنے والے اپنے باطل معبودوں کو واجب الوجود تو نہیں مانتے لیکن انہیں مستحق عبادت مان کر الوہیت کے دوسرے معنی (استحقاق عبادت) ان کے لئے ثابت کرتے ہیں۔ لہٰذا دونوں مشرک ہوئے۔ یہاں اتنی بات ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ اللہ کی ہر صفت ذاتیہ اس کے استحقاق عبادت کا مناط و مدار ہوتی ہے جس کا کسی کے لئے ثابت کرنا استحقاق عبادت اور الوہیت کا ثابت کرنا ہے اور ظاہر ہے جو صفت استحقاق عبادت کا مناط ہے خواہ وہ علم ہو یا قدرت، تصرف ہو یا خالقیت ضروری ہے کہ ذاتی اور مستقل ہو ورنہ افراد ممکنات کا (معاذ اللہ) مستحق عبادت ہونا لازم آئے گا کیونکہ عطائی غیر مستقل، حادث صفات، افرادِ مخلوق میں پائی جاتی ہیں۔


معلوم ہوا کہ استحقاقِ عبادت کے لئے صفاتِ مستقلہ لازم ہیں۔ چونکہ صفاتِ مستقلہ مناط استحقاق عبادت ہیں اس لئے ان کا وجود وجودِ الوہیت کو مستلزم ہو گا۔


خلاصۂ کلام یہ ہے کہ استحقاقِ عبادت کے لئے صفاتِ مستقلہ لازم ہیں اور صفاتِ مستقلہ کے لئے استحقاقِ عبادت لازم ہے کہ کسی کو مستحق عبادت کہنا اس کے لئے استقلالِ ذاتی کو ثابت کرنا ہے اور کسی کو مستقل بالذات ماننا اسے مستحق عبادت قرار دینا ہے۔


اس بیان کی روشنی میں یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ کسی مسلمان پر ہرگز حکم شرک نہیں لگتا تاوقتیکہ وہ غیر اللہ کے لئے وجوبِ وجود یا کوئی صفت مستقلہ مناط استحقاق عبادت ثابت نہ کرے۔


یہی وجہ ہے کہ جمہور متکلمین نے معتزلہ کو مشرک قرار نہیں دیا حالانکہ وہ بندہ کو خالق افعال مان کر اس کے لئے صفت خالقیت ثابت کرتے ہیں جو صفت مستقلہ ہونے کی صورت میں مناط استحقاق عبادت ہے لیکن چونکہ وہ بندے کو مستقل بالذات خالق نہیں مانتے اس لئے انہیں مشرک قرار نہیں دیا گیا۔


ثابت ہوا کہ اولیائے کرام کو غیر مستقل متصرف ماننے والے اور ان کے اختیاراتِ علم و قدرت، تصرفات کو مقید باذن اللہ تسلیم کرنے والے مسلمان ہرگز ہرگز کافر و مشرک نہیں۔ انہیں مشرک کہنے والا خود مشرک ہے۔ لہٰذا یہ حکم شرک یقینا مفتیانِ شرک کی طرف لوٹے گا۔
تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ مِنْہُمْ وَفِیْہِمْ تَعُوْدُ ۵
قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رو سے مومن کے حق میں بدگمانی حرام ہے۔ فقہائے کرام نے بھی بالخصوص اس قسم کے مسائل میں مومن کے لئے اسأۃ ظن کو ناجائز قرار دیا ہے۔ قال اللّٰہ تعالٰی
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ ۵
اے ایمان والو! اکثر گمانوں سے بچو۔ بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔


حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم نور مجسم فخر دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث (رواہ الشیخان)
بدگمانی سے دور رہو۔ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔


دوسری حدیث میں ہے
افلا شققت عن قلبہ حتّٰی تعلم اقالہا ام لا۔ (رواہ مسلم)
تو نے اس کے دل کو چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تجھے معلوم ہو جاتا کہ اس نے (دل سے کلمہ) کہا ہے یا نہیں۔
سیدی عبد الغنی نابلسی شرح طریقۂ محمدیہ میں ناقل ہیں
قال الامام سیدی احمد رزوق انما ینشاء الظن الخبیث عن القلب الخبیث۔
امام سیدی احمد رزوق نے فرمایا خبیث گمان صرف خبیث دل میں پیدا ہوتا ہے۔ پاک دلوں میں ناپاک گمان کی گنجائش نہیں ہوتی۔


شرح وہبانیہ، در مختار وغیرہا میں اس مسئلہ کے ذیل میں ہے
لانا لا نسئ الظن بالمسلم انہٗ یتقرب الی الاٰدمی بہٰذا النحر
ہم کسی مسلمان کے حق میں ہرگز یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس فعل ذبح کے ذریعے کسی آدمی کا تقرب حاصل کرتا ہے۔
رد المحتار جلد ۵ ص ۲۱۸ میں اس کے تحت ہے
ای علٰی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وہٰذا بعید من حال المسلم
یعنی تقرب علیٰ وجہ العبادۃ اس لئے کہ تقرب علیٰ وجہ العبادۃ ہی کفر کا موجب ہے اور ایسا تقرب مسلمان کے حال سے بہت بعید ہے۔


خوب یاد رکھیئے مسلمان اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے ساتھ محبت و عقیدت رکھتے ہیں مگر انہیں الٰہ نہیں مانتے۔ کسی قسم کا استقلالِ ذاتی ان کے لئے ثابت نہیں کرتے۔ نہ انہیں مستحق عبادت جانتے ہیں۔ نہ واجب الوجود، محض عباد اللہ الصالحین سمجھتے ہیں اور جو جانور یا حصہ زراعت یا کوئی چیز از قسم نقد و جنس وغیرہ ان کے لئے مقرر کرتے ہیں اس کو ان کا ہدیہ جانتے ہیں اور وصال یافتہ بزرگوں کے لئے ایصالِ ثواب کی نیت کرتے ہیں۔ اسی قصد و نیت کے ساتھ اگر وہ کسی جانور یا غیر جانور کو بزرگانِ دین کی طرف منسوب کر کے ان کے نام پر اسے مشہور بھی کر دیں تب بھی جائز ہے اور وہ چیز حلال اور طیب ہے۔ اسے مَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ کے تحت لا کر حرام قرار دینا باطل محض اور گناہِ عظیم ہے۔


عہد رسالت میں صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں کھجوروں کے درخت اور دودھ پینے کے جانور پیش کرتے تھے جن کا ذکر احادیث صحیحہ میں مفصل موجود ہے اور اس میں بھی کسی مسلمان کو شک کرنے کی گنجائش نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے محبوبوں کی خوشنودی رحمت و برکت کا موجب اور دفع بلیات و آفات کا باعث ہے۔


اسی طرح بعد از وفات بھی ایصالِ ثواب کے طور پر بزرگانِ دین کے لئے کسی چیز کا مقرر کرنا عہد رسالت میں پایا گیا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ
ان ام سعد ماتت فای الصدقۃ افضل قال الماء فحفر بئرا وقال ہٰذہ لام سعد۔ (مشکوٰۃ شریف ص ۱۶۹ رواہ ابو داؤد والنسائی)
سعد کی ماں کا انتقال ہو گیا، کون سا صدقہ بہتر ہو گا؟ فرمایا پانی بہتر رہے گا۔ تو انہوں نے ایک کنواں کھدوا دیا اور یہ کہہ دیا کہ یہ کنواں سعد کی ماں کا ہے۔


اگر کسی وصال یافتہ بزرگ کے لئے کسی چیز کا نامزد کرنا موجب حرمت قرار دیا جائے تو معاذ اللہ وہ کنواں جو حضرت ام سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے نام پر مشہور ہو گیا تھا حرام اور اس کاپانی نجس قرار پائے گا۔ العیاذ باللہ


اب اصل مسئلہ کی طرف آیئے۔ بزرگوں کے نام پر جو جانور وغیرہ مشہور کئے جائیں اگر ان جانوروں پر اولیاء اللہ کے لئے نذرِ شرعی مانی جائے جو حقیقتاً عبادت ہے تو ایسا ناذر مرتد ہے۔


لانہٗ اشرک باللّٰہ باثبات الالوہیۃ لغیرہٖ تعالٰی
کیونکہ اس نے غیر اللہ کے لئے الوہیت ثابت کرنے کی وجہ سے شرک کیا۔
لیکن اس کے اس شرک کی وجہ سے وہ جانور حرام نہیں ہو گا جب تک کہ وہ اسے بقصد تقرب بغیر اللہ ذبح نہ کرے۔ (کما سیاتی)


اور اگر اولیاء کی نذر محض نذرِ لغوی یا عرفی بمعنی ہدیہ و نذرانہ ہو یا وصال یافتہ بزرگ کے لئے بقصد ایصالِ ثواب کوئی جانور وغیرہ نامزد کر دیا اور نذرِ شرعی اللہ کے لئے ہو تو یہ فعل شرعاً جائز اور باعث خیر و برکت ہے۔


نذر بغیر اللہ کا مدار ناذر کی نیت پر ہے۔ اگر ناذر نے تقرب لغیر اللہ کا قصد کیا ہے اور متصرف فی الامور اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی مخلوق کو مانا ہے تو یہ نذر کفر و شرک ہے اور اگر اس کا ارادہ تقرب الی اللہ ہے اور بزرگانِ دین کو ثواب پہنچانا مقصود ہے تو ایسی نذر للاولیاء قطعاً جائز ہے اور اس کا نذر ہونا مجازاً ہے کیونکہ نذرِ حقیقی اللہ کے لئے خاص ہے۔ فتاویٰ ابی اللیث میں ہے


الناذر لغیر اللّٰہ ان قصد بالنذر التقرب الٰی غیر اللّٰہ وظن انہٗ یتصرف فی الامور کلہا دون اللّٰہ فنذرہٗ حرام باطل وارتدادہٗ ثابت وان قصد بالنذر التقرب الی اللّٰہ وایصال الثواب للاولیاء ویعلم انہٗ لا تتحرک ذرۃ الا باذن اللّٰہ ویجعل الاولیاء وسائــل بینہٗ وبین اللّٰہ فی حصول مقاصدہ فلا حرج فیہ وذبیحتہٗ حلال طیب
۔
غیر اللہ کی نذر ماننے والے نے اگر اپنی نذر سے غیر اللہ کی طرف تقرب کا ارادہ کیا اور یہ گمان کیا کہ تمام امور میں میت ہی متصرف ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ تو اس کی نذر حرام اور باطل ہے اور اس کا مرتد ہونا ثابت ہے اور اگر اس نے اس نذر سے تقرب الی اللہ کا ارادہ کیا اور اولیاء اللہ کو ثواب پہنچانے کی نیت کی اور وہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی ذرہ متحرک نہیں ہوتا اور وہ اولیاء اللہ کو اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان وسائل قرار دیتا ہے تاکہ اس کے مقاصد حاصل ہو جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کا ذبیحہ حلال و طیب ہے۔


یہاں یہ بات ضرور یاد رکھیئے کہ اس جگہ تقرب سے مطلق تقرب مراد نہیں بلکہ تقرب علی وجہ العبادۃ مراد ہے۔ جیسا کہ ہم شامی جلد خامس سے ابھی یہ عبارت نقل کر چکے ہیں۔
(قولہٗ انہٗ یتقرب الی الاٰدمی) ای علٰی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وہٰذا بعید من حال المسلم۔ یعنی مطلق تقرب الی الآدمی موجب کفر نہیں بلکہ صرف تقرب علی وجہ العبادۃ موجب کفر ہے۔


نذر اولیاء کے متعلق حدیقہ ندیہ میں سیدی عبد الغنی نابلسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
والنذر لہم بتعلیق ذالک علٰی حصول شفاء او قدوم غائب فانہٗ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین لقبورہم
اولیائے اللہ کے لئے جو نذر مانی جاتی ہے اور اسے مریض کی شفا حاصل ہونے یا غائب کے آنے پر معلق کیا جاتا ہے تو وہ نذر مجاز ہے اس سے اولیاء اللہ کے قبور پر خادمین کے لئے صدقہ کرنا مراد ہوتا ہے۔


طبقات کبریٰ جلد دوم ص ۶۸ میں امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ سیدی شاذلی رحمۃ اللہ علیہ سے ناقل ہیں
کان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یقول رأیت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال اذا کان لک حاجۃ واردت قضائہا فانذر للنفیسۃ الطاہرۃ فلوفلسا۔ فان حاجتک تقضٰی
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے سیدی شاذلی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرمایا کہ وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا حضور ﷺ فرماتے تھے جب تجھے کوئی حاجت درپیش ہو اور تو اس کے پورا ہونے کا ارادہ کرے تو سیدہ نفیسہ طاہرہ کی نذر مان لے اگرچہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔ بے شک تیری حاجت پوری ہو جائے گی۔


معلوم ہوا کہ قضایٔ حاجات کے لئے اولیاء کی نذر ماننا جائز ہے جبکہ کسی قسم کے فسادِ عقیدہ کا خطرہ نہ ہوا۔ اسی طرح تفسیرات احمدیہ ص ۲۹ میں تحت آیۂ کریمہ
وَمَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہ مرقوم ہے۔
ومن ہٰہنا علم ان البقرۃ المنذرۃ للاولیاء کما ہو الرسم فی زماننا حلال طیب
اور یہاں سے معلوم ہوا کہ بے شک وہ گائے جس کی نذر اولیاء کے لئے مانی جائے جیسا کہ ہمارے زمانہ میں رسم ہے حلال و طیب ہے۔


جو لوگ نذرِ اولیاء کو شرک قرار دیتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس نذر سے مراد نذرِ شرعی نہیں بلکہ اسے بربنائے عرف نذر کہا جاتا ہے اور اس ایصالِ ثواب اور ہدیہ کو نذر کہنا شرعاً جائز ہے۔ جیسا کہ طبقاتِ کبریٰ جلد دوم ص ۶۸ لامام الشعرانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل پیش کی گئی ہے اور تفسیرات احمدیہ کا یہ حوالہ بھی مرقوم ہے۔


آخر میں حضرت شاہ رفیع الدین کی عبارت مزید نقل کی جاتی ہے۔ وہ اپنے رسالہ نذر میں تحریر فرماتے ہیں
نذرے کہ ایں جا مستعمل میشود نہ بر معنی شرعی است چہ عرف آنست کہ آنچہ پیش بزرگانِ مے برند، نذر و نیاز می گویند
جو نذر کہ اس جگہ مستعمل ہوتی ہے وہ اپنے معنی شرعی پر نہیں بلکہ معنی عرفی پرہے اس لئے جو کچھ بزرگوں کی بارگاہ میں لے جاتے ہیں اس کو نذر و نیاز کہتے ہیں۔


حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جو معترضین کے نزدیک مسلم علمائے راسخین میں سے ہیں انفاس العارفین ص ۴۵ میں تحریر فرماتے ہیں
حضرت ایشاں در قصبہ ڈا سنہ بزیارت مخدوم اللہ دیہ رفتہ بودند و شب ہنگام بود درآں محل فرمودند، مخدوم ضیافت مامیکنند و میگویند چیزے خوردہ روید توقف کردند تا آنکہ اثر مردم منقطع شد و ملال بر یاراں غالب آمد، آنگاہ زنے بیامد، طبقِ برنج و شیرینی برسرو گفت نذر کردہ بودم کہ اگر زوجِ من بیاید، ہماں ساعت ایں طعام پختہ بہ نشینند گان درگاہ مخدوم اللہ دیہ رسانم دریں وقت آمد، نذر ایفاء کردم۔


حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ قصبہ ڈاسنہ میں مخدوم اللہ دیا کی زیارت کو گئے۔ رات کا وقت تھا، اس جگہ فرمایا کہ مخدوم ہماری ضیافت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کچھ کھا کر جانا۔ حضرت نے توقف فرمایا یہاں تک کہ آدمیوں کا نشان منقطع ہو گیا۔ ساتھی اکتا گئے۔ اس وقت ایک عورت اپنے سر پر چاول اور شیرینی کا طبق لئے ہوئے آئی اور کہا کہ میں نے نذر مانی تھی کہ جس وقت میرا خاوند آئے گا اس وقت یہ کھانا پکا کر مخدوم اللہ دیا رحمۃ اللہ علیہ کے دربار میں بیٹھنے والوں کو پہنچاؤں گی، وہ اسی وقت آیا میں نے اپنی نذر پوری کی۔


در مختار، بحر الرائق وغیرہ نے جس نذر اولیاء کو حرام اور باطل قرار دیا ہے، علامہ شامی وغیرہ فقہا نے اس کے وجوہ بھی بیان فرمائے ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ وہ مخلوق کی نذر ہے اور نذر چونکہ عبادت ہے اس لئے مخلوق کے لئے جائز نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ منذور لہ میت ہے اور میت میں مالک ہونے کی صلاحیت نہیں، تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر اس نے یہ اعتقاد کیا کہ میت ہی متصرف فی الامور ہے۔ اللہ تعالیٰ نہیں تو اس کا یہ اعتقاد کفر ہے۔ (شامی جلد دوم ص ۱۳۹)


ہم تفصیلاً لکھ چکے ہیں کہ نذرِ شرعی (جو عبادت ہے) ہرگز کسی غیر اللہ کے لئے جائز نہیں، نہ میت کو اشیاء منذورہ کا مالک سمجھنا درست ہے، نہ غیر اللہ کو اللہ کے سوا متصرف فی الامور جاننا جائز ہے۔ اس اعتقادِ فاسد کے ساتھ نذرِ اولیاء کو آج تک کسی نے جائز نہیں کہا۔ محل نزاع تو یہ امر ہے کہ صحیح اعتقاد کے ساتھ اولیائے کرام کے لئے لفظِ نذر بمعنی عرفی بولنا یا دل میں اس کی نیت کرنا یا اسی نیت سے ان کے مزارات پر کوئی چیز لانا جائز ہے یا نہیں؟


ہمارے نزدیک جائز ہے۔ جیسا کہ تحریر مختار لرد المحتار جلد اول صفحہ ۱۲۳ میں علامہ رافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ونذر الزیت والشمع للاولیاء یوقد عند قبورہم تعظیما لہم ومحبۃ فیہم جائز ایضا لا ینبغی النہی عنہ۔ ۱ھ


تیل اور شمع کی نذر ماننا اولیاء اللہ کے لئے کہ وہ چراغ روشن کئے جائیں۔ ان کی قبروں کے نزدیک ان کی تعظیم اور محبت کے لئے تو یہ بھی جائز ہے، اس سے منع کرنا بھی مناسب نہیں۔


اور منکرین اسے حرام کہتے ہیں۔ الحمد للّٰہ اس کے ثبوتِ جواز میں ہم متعدد عبارات نقل کر چکے ہیں اور منکرین اس کے عدم جواز پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔


رہا یہ امر کہ مزاراتِ اولیاء پر جا کر یا سیدی فلاں یٰاولی اللّٰہ اقض حاجتی اعنی وغیرہ الفاظ بولنے کو فقہاء نے ناجائز قرار دیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ ایسے الفاظ قبورِ اولیاء پر بولتے ہیں وہ مشرک ہیں۔


بے شک فقہاء نے اس سے منع فرمایا ہے لیکن اسی فساد عقیدہ اور متصرف بالاستقلال سمجھنے کی بناء پر جس کی تفصیل ہم ابھی رد المحتار سے نقل کر چکے ہیں ورنہ اس کے بغیر نذر اولیاء ممنوع نہیں۔ دیکھئے صحیح ابن عوانہ، مصنف ابن ابی شیبہ اور معجم الطبرانی الکبیر میں حدیث شریف
اعینونی یاعباد اللّٰہ (مدد کرو میری اے اللہ کے بندو) وارد ہے۔ حصن حصین ص ۲۲ اور شامی جلد ثابت ص ۳۵۵ کے منہیہ میں ہے


قرر الذ یادی ان الانسان اذا ضاع لہٗ شئ وارد ان یردہ اللّٰہ سبحانہٗ علیہ فلیقف علٰی مکان عال مستقبل القبلۃ ویقراء الفاتحۃ ویہدی ثوابہا للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثم یہدی ثواب ذٰلک لسیدی احمد بن علوان ویقول یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علٰی ضالتی والا نزعتک من دیوان الاولیاء فان اللّٰہ یرد علٰی من قال ذالک ضالۃ ببرکتہٖ اجہوری مع زیادۃ کذافی حاشیۃ شرح المنہج الداؤدی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی ۱ ھ منہ (شامی جلد ثالث ص ۳۵۵)


زیادی نے تقریر کی کہ بے شک انسان کی کوئی شے جب ضائع ہو جائے اور وہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی ضائع شدہ چیز اس پر لوٹا دے تو اسے چاہئے کہ قبلہ کی طرف منہ کر کے اونچی جگہ پر کھڑا ہو اور سورئہ فاتحہ پڑھے اور اس کا ثواب نبی کریم ﷺ کے لئے ہدیہ کرے پھراس کے ثواب کا ہدیہ سیدی احمد بن علوان کے لئے کرے اور کہے یا سیدی احمد اے ابن علوان اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کی تو میں آپ کو دیوانِ اولیاء سے اتار دوں گا تو بے شک اللہ تعالیٰ واپس کر دیتا ہے اس کہنے والے پر اس کی گم شدہ چیز کو ان کی برکت سے۔


دیکھئے فقہائے کرام کے کلام میں یا سیدی احمد یا ابن علوان وارد ہے اور ان لم ترد علی ضالتی میں ان ہی کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ رد ضالہ کا فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ احمد بن علوان کی طرف اس کی اسناد مجازِ عقلی ہے۔ اس پر جو دلیل ہے وہ قائل کا خود مومن و موحد ہونا ہے۔ جیسا کہ انبت الربیع البقل (موسم ربیع نے سبزی کو اگایا) اگر مومن کہے تو مجازاً عقلی ہو گا اور دہریہ کہے تو اسناد حقیقی ہونے کی وجہ سے یہ قول کفر خالص قرار پائے گا۔ نداء اولیاء کے مسئلہ میں ندا کرنے والے کا مومن و موحد ہونا جوازِ ندا کی روشن دلیل ہے۔ بعض لوگ اس ندائے منقولۂ بالا (یا سیدی احمد یا ابن علوان) کے جواب میں یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ تو ایک عمل ہے۔ اس سے مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ جواباً عرض ہے کہ عمل ہی سہی لیکن جب غیر اللہ کو مخاطب کر کے ندا کرنا آپ کے نزدیک شرک ہے تو ایسے الفاظ جو شرک پر دال ہوں یا موہم شرک ہوں کسی عمل میں ان کا تلفظ کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کلماتِ کفریہ بکتا رہے مثلاً یا عزٰی اقض حاجتی (اے عزی میری حاجت پوری کر دے) کہے اور جب اسے روکا جائے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں تو محض عمل کی نیت سے الفاظ پڑھتا ہوں تو کیا کوئی عاقل متدین اس کو ایسے الفاظ بولنے کی اجازت دے سکتا ہے۔


مختصر یہ کہ مستقل بالذات، متصرف فی الامور سمجھ کر کسی ولی کو ندا کرنا ہمارے نزدیک بھی شرک ہے لیکن معطی و حاجت روائے حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کو مانتے ہوئے اور اولیاء کرام کو محض وسیلہ واسطہ سمجھ کر انہیں پکارنا ہرگز ناجائز نہیں۔


دیکھئے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ عزیزی میں فرماتے ہیں
ونیست صورت استمداد مگر ہمیں کہ محتاج طلب کند حاجت خود از جناب عزت الٰہی بتوسل روحانیت بندہ کہ مقرب و مکرم درگاہِ والا است و گوید خداوندا بہ برکت ایں بندہ کہ تو رحمت و اکرام کردئہ اور ابر آوردہ گردان حاجت مرا، یا ندا کندآں بندئہ مقرب و مکرم را کہ اے بندئہ خدا ولی وے شفاعت کن مراد بخواہ از خدا تعالیٰ مطلوب مرا، تا قضا کند حاجت مرا، پس نیست بندئہ درمیان مگر وسیلہ و قادر و معطی و مسئول پروردگار است تعالیٰ شانہٗ ودر وے ہیچ شائبۂ شرک نیست چنانکہ منکر وہم کردہ(فتاویٰ عزیزی جلد دوم ص ۱۰۷)
اور نہیں ہے صورت استمداد مگر یہی کہ محتاج طلب کرے اپنی حاجت بارگاہِ رب العزت سے اللہ تعالیٰ کے مقرب و مکرم بندے کی روحانیت کے توسل سے اور کہے اے اللہ، اس بندے کی برکت سے جس پر تو نے اپنی رحمت اور اپنا اکرام فرمایا ہے میری حاجت کو پورا کر دے یا پکارے اس بندئہ مقرب و مکرم کو کہ اے خدا کے بندے اور اللہ کے ولی میری شفاعت کر اور اللہ تعالیٰ سے میرا مطلوب مانگ تاکہ وہ میری حاجت پوری فرما دے پس نہیں بندہ درمیان میں مگر وسیلہ اور قادر و معطی حقیقی اور مسئول پروردگار ہے جس کی شان بہت بلند و بالا ہے اور اس میں شائبہ شرک کا نہیں ہے جیسا کہ منکر وہم کرتا ہے۔


ملاحظہ فرمایئے اس عبارت میں ولی اللہ، صاحب قبر کے لئے لفظ ندا کند موجود ہے۔ پھر وہ ندا بھی اے بندئہ خدا ولی وے عبارت میں مذکور ہے جس سے ہمارا مدعا روزِ روشن کی طرح ثابت و واضح ہو رہا ہے جس کا انکار کوئی منصف مزاج نہیں کر سکتا۔ وللّٰہ الحمد۔


ان عباراتِ فقہ و نقولِ معتبرہ کی روشنی میں نذر اولیاء کا مسئلہ بالکل روشن ہو گیا۔ بالمعنی المذکور اس کے جواز میں کسی عاقل متدین کو شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔


توسل و استعانت بالاولیاء الکرام کا مسئلہ بھی بیانِ سابق کی روشنی میں اچھی طرح واضح ہو گیا۔ شرک و توحید کا فرق بھی بالتفصیل بیان کر دیا گیا۔


اب یہ عرض کرنا باقی رہا کہ
وَمَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ کے تحت وہ جانور جنہیں نذر اولیاء بالمعنی المذکور کے ساتھ بزرگانِ دین کی طرف منسوب کر دیا ہو وہ حلال و طیب ہیں اور وہ لوگ جو انہیں حرام کہتے ہیں سخت گمراہی میں مبتلا ہیں۔ شرعاً ذبیحہ کی حلت و حرمت میں ابتدائے ذبح کے وقت صرف ذابح کی نیت، قول اور حال کا اعتبار ہے مالک کا نہیں۔ رد المحتار جلد خامس ص ۲۱۷ میں ہے


اعلم ان المدار علی القصد عند ابتداء الذبح (تاتار خانیہ)


جاننا چاہئے کہ مدار مقصد پر ہے خاص ابتدائے ذبح کے وقت


جامع الفتاویٰ اور عالمگیری جلد رابع ص ۷۴ میں ہے


مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہم او الکافر لالہتہم تؤکل لانہٗ سمی اللّٰہ تعالٰی ویکرہ للمسلم۔ انتہٰی
مجوسی نے آتش کدہ کے لئے بکری نامزد کی یا کافر نے اپنے بتوں کے لئے کوئی جانور نامزد کیا اور ان جانوروں کو مسلمان نے ذبح کر دیا اگرچہ مسلما ن کے لئے ایسا کرنا مکروہ ہے مگر وہ جانور حلال و طیب ہے کھایا جائے گا۔


مقام غور ہے کہ مشرکین و کفار کے بتوں اور بت خانوں کے لئے نامزد کئے ہوئے جانور مسلمان کے ذبح کرنے سے حلال ہو جائیں مگر نذرِ اولیاء کرام کا جانور مومن کے ذبح کرنے سے حلال نہ ہو۔
سُبْحَانَکَ ہٰذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ۔


اس مسئلہ میں تفسیر عزیزی کی عبارت سے بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکا میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب موصوف کا مسلک یہ ہے کہ جس جانور کو کسی ولی وغیرہ کے لئے نامزد کر دیا جائے۔ اس میں ایسا خبث پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ پھر کسی طرح حلال نہیںہو سکتا۔ جب تک کہ مالک اپنی نیت کو نہ بدلے اور پہلی شہرت کے بعد اللہ کے نام پر اسے مشہور نہ کر دے حالانکہ شاہ صاحب کا یہ مسلک ہرگز نہیں۔ انہوں نے اپنے زمانے کے بعض مشرک پیر پرستوں کے اعتقاد اور مشرکانہ طرزِ عمل کے پیشِ نظر نذر بغیر اللہ کا مسئلہ بیان فرمایا، اس میں شک نہیں کہ اس زمانہ میں مشرکین کا ایک گروہ پیر پرستوں کے نام سے پایا جاتا تھا۔


حضرت شاہ عبد العزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر عزیزی جلد اول ص ۱۲۷ میں بیانِ انواع شرک کے تحت مشرکین کے جو فرقے شمار کئے ہیں ان کا چوتھا گروہ پیر پرستوں کا فرقہ بتایا ہے۔ تفسیر عزیزی کی وہ عبارت بلفظہا ملاحظہ ہو
چہارم:
پیر پرستاں گویند چوں مرد بزرگے کہ بسبب کمال ریاضت و مجاہدہ، مستجاب الدعوات و مقبول الشفاعت عند اللہ شدہ بود، ازیں جہاں می گزر، روح او راقوتِ عظیم و وسعت بس فخیم بہم می رسد، ہر کہ صورت اور ابرزخ ساز و یادر مکان نشست و برخواست او یا برگور او سجود و تذلل تام نماید، روح او بسبب وسعت و اطلاق برآں مطلع شود و در دنیا و آخرت درحق او شفاعت نماید
گروہ چہارم پیر پرست کہتے ہیں کہ جب کوئی مرد بزرگ بسبب کمال ریاضت، مجاہدہ کے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مستجاب الدعوات اور مقبول الشفاعت ہو کر اس جہان سے گزر گیا تو اس کی روح کو بڑی قوت و وسعت حاصل ہو جاتی ہے جو شخص بھی اس کی صورت کو برزخ بنائے یا اس کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہ پر یا اس کی قبر پر سجدہ عبادت و تذلل تام کرے تو اس بزرگ کی روح وسعت و اطلاق کے سبب (خود بخود) اس پر مطلع ہو جاتی ہے اور دنیا و آخرت میں اس کے حق میں شفاعت کرتی ہے۔


اس عبارت سے ظاہر ہے کہ یہ گروہ واقعی مشرکانہ عقائد رکھتا تھا اور قبروں پر سجدہ اور تذلل تام اس کی خصوصیات سے تھا۔ تذلل تام کے معنی صرف عبادت ہیں۔ دیکھئے شامی جلد دوم ص ۲۵۷ پر ہے

العبادۃ عبارۃ عن الخضوع والتذلل
خضوع اور تذلل تام کو عبادت کہتے ہیں۔

جو گروہ قبروں پر سجدئہ عبادت اور تذلل تام کرتا ہو وہ کس طرح مومن ہو سکتا ہے۔ اس زمانہ کے خوارج نے اہل حق متصوفین کرام، اولیاء اللہ سے عقیدت و محبت رکھنے والے اہل سنت مسلمانوں کا نام پیر پرست رکھ دیا، ان کے مزارات پر جانا، ان کی ارواح طیبہ کو ایصالِ ثواب کرنا، ان سے روحانی فیض لینا اور سال بسال ان کے اعراس کرنا جو ان حضرات کے معمولات سے ہے، کفر و شرک اور پیر پرستی کی علامت قرار دے دیا حالانکہ یہ تمام امور خود شاہ عبد العزیز صاحب، شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے والد ماجد شاہ عبد الرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہم کے معمولات سے ہیں، جیسا کہ فتاویٰ عزیزی، انفاس رحیمیہ، انفاس العارفین، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ میں یہ تمام چیزیں بالتفصیل مذکور ہیں۔ من شاء الاطلاع فلیرجع الیہا۔


ممکن ہے اس زمانہ میں بھی اس قسم کے مشرکانہ عقائد رکھنے والے بعض لوگ کہیں پائے جاتے ہوں لیکن جب تک کوئی شخص اپنے عقیدہ کو خود ظاہر نہ کرے اور اپنے قول یا قطعی مشرکانہ عمل سے اپنے مشرک ہونے کا اقرار و اظہار نہ کرے اس وقت تک اس پر حکم شرک لگانا اور اسے اس زمانہ کے مشرکین، پیر پرستوں کے گروہ میں شامل کرنا ظلم اور تعدی، بہتان و افتراء نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ عامۃ المسلمین کو پیر پرست کہہ کر مشرکین کے اس چوتھے گروہ میں شامل کیا جاتا ہے جس کا ذکر ہم نے ابھی تفسیر عزیزی سے نقل کیا ہے۔


یہ امر قابل فراموش نہیں ہے کہ فقہا، علماء راسخین کے کلام میں توسل و استمداد اور نذرِ اولیاء وغیرہ مسائل میں بعض مقامات پر جو تشدد پایا جاتا ہے درحقیقت اس کا تعلق اسی گروہِ مشرکین سے ہے جو اپنے آپ کو پیر پرست کہلوا کر عقائد شرکیہ میں مبتلا ہوا۔ اہل سنت و جماعت پر اس تشدد یا حکم تکفیر کو محمول کرنا جرأت عظیمہ اور ظلم صریح ہے۔
وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ (الشعراء : ۲۲۷)


آمدم برسر مطلب حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر عزیزی میں مذکورہ گروہ مشرکین کا طرزِ عمل سامنے رکھ کر ارقام فرمایا۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ ایک جانور کی جان دینے کی نذر شیخ سدو وغیرہ کے لئے مانی اور تشہیر کر دی پھر اسی نیت کے ساتھ شیخ سدو وغیرہ کے لئے خون بہانے کی نیت سے اس جانور کو ذبح کر دیا یا اپنی اسی نیت اور منت کو پورا کرنے کے لئے کسی دوسرے آدمی سے ذبح کرا دیا، ہر صورت میں اس جانور کا خون شیخ سدو وغیرہ کے لئے بہایا جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں ذبیحہ مذکورہ کسی طرح حلال نہیں ہو سکتا۔ کم فہم لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت شاہ صاحب نے ان جانوروں کو محض نذر لغیر اللہ کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے حالانکہ یہ قطعاً باطل اور شاہ صاحب پر بہتان صریح ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے تفسیر عزیزی میں اپنے مسلک کی وضاحت فرماتے ہوئے تین دلیلیں ارقام فرمائی ہیں جن میں پہلی دلیل یہ حدیث ہے
ملعون من ذبح لغیر اللّٰہ (ملعون ہے جس نے غیر اللہ کے لئے ذبح کیا) جس میں لفظ ذبح صراحۃً مذکور ہے۔ دوسری دلیل عقلی ہے جس میں صاف مذکور ہے وجانِ ایں جانور ازاں غیر قرار دادہ کشتہ اند (اور اس جانور کی جان اس غیر اللہ کی مملوک قرار دے کر اسے ذبح کیا ہے) یہاں بھی اس جانور کو غیر کی طرف منسوب کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ کشتہ اند فرما کر واضح فرما دیا کہ جب تک اس جانور کا غیر اللہ کے لئے ذبح کرنا واقع نہ ہو اس وقت تک اس میں خبث پیدا نہیں ہوتا اور نہ وہ حرام ہوتا ہے۔
 

اگلا صفحہ                                    

ہوم پیج