الحق المبین
 

پیش لفظ

تخلیق انسانی کا مقصد معرفت الٰہی ہے اور معرفت الٰہی کا مبنیٰ مشاہدہ تجلیات حسن لا متناہی ہے۔ اس مقصد عظیم کے تصور نے انسان کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ وہ ایک ایسے ضعیف و نادار اجنبی مسافر کی طرح حیران تھا جسے کروڑوں میل کی دشوار گزار راہیں درپیش ہوں اور منزل مقصود تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ اس کے پاس موجود نہ ہو۔ وہ عالم حیرت میں زبانِ حال سے کہتا تھا کہ الٰہی! تیری معرفت کی منزل تک کیسے پہنچوں؟ میں کمزور ضعیف البنیان اور پھر مجھے بہکانے کے لئے قدم قدم پر شیطان وہ پریشان ہو کر سوچتا تھا کہ ضعف کو قوت سے کیا نسبت، امکان کو وجوب سے کیا واسطہ، محدود کو غیر محدود سے کیا علاقہ۔ کہاں حادث کہاں قدیم، کہاں انسان کہاں رحمن، نہ اس کے حسن و جمال کی تجلیوں تک میری نگاہیں پہنچ سکتی ہیں نہ میں اس کے دیدار جمال کی تاب لا سکتا ہوں۔


انسان اسی کش مکش میں مبتلا تھا کہ قدرت نے بروقت اس کی دستگیری فرمائی اور روحِ دو عالم حضرت محمد ﷺ کے آئینہ وجود سے اپنے حسن لا محدود کی تجلیاں ظاہر فرما کر اپنی معرفت کی راہیں اس پر روشن کر دیں۔ صلوٰۃ و سلام ہو اس برزخ کبریٰ (عظیم وسیلہ) حضرت محمد مصطفی علیہ واٰلہٖ التحیۃ والثنا پر جس نے ضعف انسانی کو قوت سے بدل دیا۔ حدوث کو قدم کا آئینہ بنا دیا۔ امکان کو بارگاہِ وجوب میں حاضر کر دیا۔ مکان کا رشتہ لا مکان سے جوڑ دیا۔ محدود کو غیر محدود سے ملا دیا یعنی بندہ کو خدا تک پہنچا دیا۔


حق یہ ہے کہ رخسارِ محمدی ﷺ آئینۂ جمال حق ہے اور خدو خال مصطفی مظہر حسن کبریا۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ ایک کا انکار دوسرے کے اقرار کے ساتھ جمع ہو جائے۔ اگر حق کے ساتھ باطل، نور کے ساتھ ظلمت، کفر کے ساتھ اسلام کا اجتماع متصور ہو تو یہ بھی ممکن ہو گا جب وہ محال ہے تو یہ بھی محال۔


بنا بریں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چار کار ہی نہیں کہ حسن محمدی کا انکار جمال خداوندی کا انکار اور بارگاہِ نبوت کی توہین حضرت الوہیت کی تنقیص ہے۔ شانِ الوہیت کی توہین کرنے والا مومن نہیں تو گستاخِ نبوت کیونکر مسلمان ہو سکتا ہے؟ کوئی مکتبۂ خیال ہو ہمیں کسی سے عناد نہیں البتہ منکرین کمالاتِ نبوت اور منقصین شانِ رسالت سے ہمیں طبعی تنفر ہے۔ اس لئے کہ وہ آئینۂ جمال الوہیت میں عیب کے متلاشی ہیں اور ان کا یہ طرزِ عمل نہ صرف مقصد تخلیق انسانی کے منافی ہے بلکہ آدابِ بندگی کے بھی خلاف اور خالق کائنات سے کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔


اس کے باوجود بھی ہمیں ان سے کچھ سروکار نہیں۔ ہمارا خطاب تو جمالِ الوہیت کے دیوانوں اور شمع رسالت کے ان پروانوں سے ہے جو ذاتِ پاک مصطفیٰ علیہ واٰلہٖ التحیۃ والثنا کو معرفت الٰہی اور قربِ خداوندی کا وسیلۂ عظمیٰ جان کر ان کی شمع حسن و جمال پر قربان ہو جانے کو اپنا مقصد حیات سمجھتے ہیں اور اسی لئے ہم نے دلائل سے الگ ہو کر صرف مسائل بیان کئے ہیں۔ البتہ ابتدا میں بطور مقدمہ چند ایسے اصول لکھ دئیے ہیں جن کی روشنی میں ناظرین کرام پر ان تمام تاویلات کا فساد روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا جو توہین آمیز عبارات میں آج تک کی گئی ہیں۔ رہے دلائل تو ان شاء اللہ تعالیٰ مستقبل قریب میں ہر اختلافی مسئلہ پر ایک مستقل رسالہ ہدیۂ ناظرین ہو گا جس میں پوری تفصیل کے ساتھ دلائل مرقوم ہوں گے۔ وما ذٰلک علی اللّٰہ بعزیز۔ اس کے بعد یہ بھی عرض کر دوں کہ اس رسالہ میں تمام حوالہ جات و عبارات منقولہ کو میں نے بذاتِ خود اصل کتب میں دیکھ کر پوری تحقیق اور احتیاط کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اگر ایک حوالہ بھی غلط ثابت ہو جائے تو میں اس سے رجوع کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کر لوں گا اور ساتھ ہی اس کا اعلان بھی شائع کر دوں گا۔


آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مختصر رسالہ کو برادرانِ اہل سنت کے لئے اپنے مسلک پر ثابت قدم رہنے کا موجب اور دوسروں کے لئے رجوع الی الحق کا سبب بنائے۔ آمین

سید احمد سعید کاظمی غفرلہٗ


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ط

اما بعد ناظرین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ اس رسالہ کا اصل مواد تو میں نے ۱۹۴۶ء میں مرتب کر لیا تھا لیکن بعض موانع کی وجہ سے طباعت نہ ہو سکی حتیٰ کہ اس عرصہ میں دیوبندی حضرات کے بعض رسائل و مضامین نظر سے گزرے جن سے مفید مطلب کچھ اقتباسات لے کر اس میں شامل کر دئیے گئے۔ اس رسالہ کی اشاعت سے میری غرض صرف یہ ہے کہ بھولے بھالے مسلمان علمایٔ دیوبند کے ظاہر حال کو دیکھ کر انہیں اہل حق اور صحیح العقیدہ سنی مسلمان سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر دینی معاملات میں انہیں اپنا مقتدا و پیشوا بناتے ہیں، ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں ان سے مذہبی مسائل دریافت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مذہبی الفت رکھتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ ان کے عقائد کیسے ہیں؟ اس رسالہ کو پڑھ کر انہیں علمایٔ دیوبند کے عقائد سے واقفیت ہو جائے اور وہ اپنی عاقبت کی فکر کریں اور سوچیں کہ جن لوگوںکے ایسے عقیدے ہیں ان کو اپنا مقتداء اور پیشوا مان کر ہمارا کیا حشر ہو گا؟


وہابی دیوبندی
اگرچہ وہابی، دیوبندی دو لفظ ہیں لیکن ان سے مراد صرف وہی گروہ ہے جو اپنے ماسوا دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر و مشرک اور بدعتی قرار دیتا ہے اور جس کے سربرآوردہ لوگوں نے اپنی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ و دیگر انبیاء علیہم السلام و محبوبانِ خداوندی کی شان میں توہین آمیز عبارتیں لکھیں اور بعض عیوب و نقائص کو انبیاء و اولیاء علیہم السلام کی طرف بے دھڑک منسوب کیا۔ اس قسم کے لوگوں کا وجود عہد رسالت سے ہی چلا آ رہا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْہَا اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوْنَo وَلَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَا اٰتَاہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗ اِنَّا اِلَی اللّٰہِ رَاغِبُوْنَo (توبہ: ۵۸، ۵۹)
اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو صدقے بانٹنے میں آپ پر طعن کرتا ہے تو اگر ان میں سے کچھ ملے تو راضی ہو جائیں اور نہ ملے تو جب ہی وہ ناراض ہیں اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا اور وہ کہتے ہمیں اللہ کافی ہے عنقریب دے گا ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول بیشک ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے۔


یہ آیت ذو الخویصرہ تمیمی کے حق میں نازل ہوئی۔ اس شخص کا نام حرقوص بن زہیر ہے۔ یہی خوارج کی اصل بنیاد ہے۔ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ذو الخویصرہ نے کہا، یا رسول اللہ! عدل کیجئے۔ حضور نے فرمایا، تجھے خرابی ہو میں نہ عدل کروں گا تو عدل کون کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن مار دوں۔ حضور نے فرمایا، اسے چھوڑ دو اس کے اور بھی ہمراہی ہیں کہ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزوں کو حقیر دیکھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے اور ان کے گلوں سے نہ اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔


دین میں داخل ہو کر بے دین ہونے والوں کی ابتداء ایسے ہی لوگوں سے ہوئی ہے جو نماز، روزہ اور دین کے سب کام کرنے والے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کی اور بے دین ہو گئے۔ حضور اقدس ﷺ کی شان مبارک میں توہین کرنے والے ذو الخویصرہ کے جن ہمراہیوں کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے ان سے مراد وہی لوگ ہیں جنہوں نے ذو الخویصرہ کی طرح شانِ رسالت میں گستاخیاں کیں۔ اسلام میں یہ پہلا گروہ خارجیوں کا ہے۔ یہی گروہ اہل حق کو کافر و مشرک کہہ کر ان سے قتال و جدال کو جائز قرار دیتا ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے ہمراہیوں کو خارجیوں نے معاذ اللہ کافر قرار دیا اور خلیفۂ برحق سے بغاوت کی اور اہل حق کے ساتھ جدال و قتال کیا۔ حتیٰ کہ عبد الرحمن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ شہید ہوئے۔ اسی بد بخت گروہ کے فتنوں کی خبر زبانِ رسالت نے سر زمین نجد میں ظاہر ہونے کے متعلق دی ہے اور فرمایا ہے
ہناک الزلازل والفتن وبہا یطلع قرن الشیطٰن۔ (رواہ البخاری۔ مشکوٰۃ شریف مطبوعہ مجتبائی دہلی ص ۵۸۲)


چنانچہ حضور ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق یہ فتنہ نجد میں بڑے زور شور سے ظاہر ہوا۔ محمد بن عبد الوہاب خارجی نے سر زمین نجد میں مسلمانوں کو کافر و مشرک کہہ کر سب کو مباح الدم قرار دیا اور توحید کی آڑ لے کر شانِ نبوت و ولایت میں خوب گستاخیاں کیں اور اپنے مذہب و عقائد کی ترویج کے لئے کتاب التوحید تصنیف کی جس پر اسی زمانے کے علما کرام نے سخت مواخذہ کیا اور اس کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے سعی بلیغ فرمائی۔ حتیٰ کہ محمد بن عبد الوہاب کے حقیقی بھائی سلیمان بن عبد الوہاب نے اپنے بھائی پر سخت رد کیا اور اس کی تردید میں ایک شاندار کتاب تصنیف کی جس کا نام
الصواعق الالہیہ فی الرد علی الوہابیہ ہے اور اس میں وہابیت کو پوری طرح بے نقاب کر کے اہل سنت کے مذہب کی زبردست تائید و حمایت فرمائی۔ علامہ شامی حنفی امام احمد صاوی مالکی وغیرہما جلیل القدر علمایٔ امت نے محمد بن عبد الوہاب کو باغی اور خارجی قرار دیا اور مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جدو جہد میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔ (ملاحظہ فرمایئے شامی ج ۳ باب البغات ص ۳۳۹ اور تفسیر صاوی ج ۳ ص ۲۵۵ مطبوعہ مصر)


پھر اسی کتاب التوحید کے مضامین کا خلاصہ تقویۃ الایمان کی صورت میں سر زمین ہند میں شائع ہوا اور مولوی اسماعیل دہلوی نے اپنے مقتدا محمد بن عبد الوہاب کی پیروی اور جانشینی کا خوب حق ادا کیا اور اسی تقویۃ الایمان کی تصدیق و توثیق تمام علمایٔ دیوبند نے کی۔ جیسا کہ فتاویٰ رشیدیہ ص ۳۵۱ پر مرقوم ہے۔


پھر جس طرح محمد بن عبد الوہاب کے خلاف اس زمانہ کے علمایٔ اہل سنت نے آواز اٹھائی اور اس کا رد کیا اسی طرح مولوی اسماعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان کے خلاف بھی اس دور کے علمایٔ حق نے شدید احتجاج کیا اور ان کے مسلک پر سخت نکتہ چینی کی۔ تقویۃ الایمان کے رد میں کئی رسالے شائع ہوئے۔ مولانا شاہ فضل امام، حضرت شاہ احمد سعید دہلوی شاگرد رشید مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا عنایت احمد کاکوروی مصنف علم الصیغہ، مولانا شاہ رؤف احمد نقشبندی مجددی تلمیذ رشید حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مولوی اسماعیل دہلوی اور مسائل تقویۃ الایمان کا مختلف طریقوں سے رد فرمایا۔ حتیٰ کہ شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی نے اپنے فتاویٰ میں بھی کتاب التوحید اور مسائل تقویۃ الایمان کے خلاف واضح اور روشن مسائل تحریر فرما کر امت مسلمہ کو اس فتنے سے بچانے کی کوشش کی لیکن علمایٔ دیوبند اور ان کے بعض اساتذہ نے مولوی اسماعیل اور ان کی کتاب تقویۃ الایمان کی تصدیق و توثیق کر کے اس فتنے کا دروازہ مسلمانوں پر کھول دیا۔ علمایٔ دیوبند نے نہ صرف تقویۃ الایمان اور اس کے مصنف مولوی اسماعیل دہلوی کی تصدیق پر اکتفاء کیا بلکہ خود محمد بن عبد الوہاب کی تائید و توثیق سے بھی دریغ نہ کیا۔ (ملاحظہ فرمایئے فتاویٰ رشیدیہ ص ۵۵۱ مصنفہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی)
لیکن چونکہ تمام روئے زمین کے احناف اور اہل سنت محمد بن عبد الوہاب کے خارجی اور باغی ہونے پر متفق تھے اس لئے فتاویٰ رشیدیہ کی وہ عبارت جس میں محمد بن عبد الوہاب کی توثیق کی گئی تھی علمایٔ دیوبند کے مذہب و مسلک کو اہل سنت کی نظروں میں مشکوک قرار دینے لگی اور اہل سنت فتاویٰ رشیدیہ میں محمد بن عبد الوہاب کی توثیق پڑھ کر یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے کہ علمایٔ دیوبند کا مذہب بھی محمد بن عبد الوہاب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے متاخرین علمایٔ دیوبند نے اپنے آپ کو چھپانے کی غرض سے محمد بن عبد الوہاب سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کرنا شروع کر دیا بلکہ مجبوراً اسے خارجی بھی لکھ دیا تاکہ عامۃ المسلمین پر ان کا مذہب واضح نہ ہونے پائے۔


لیکن علمائے اہل سنت برابر اس فتنے کے خلاف نبرد آزما رہے۔ ان علمایٔ حق میں مذکورین صدر حضرات کے علاوہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا عبد السمیع صاحب رامپوری مؤلف انوار ساطعہ، حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب رام پوری، حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی، حضرت مولانا انوار اللہ صاحب حیدر آبادی، حضرت مولانا عبد القدیر صاحب بد ایونی وغیرہم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔


ان علماء اہل سنت کا امت مسلمہ پر احسانِ عظیم ہے کہ ان حضرات نے حق و باطل کی تمیز کی اور رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں توہین کرنے والے خوارج سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ ان لوگوں کے ساتھ ہمارا اصولی اختلاف صرف ان عبارات کی وجہ سے ہے جن میں ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ و محبوبانِ حق سبحانہ وتعالیٰ کی شان میں صریح گستاخیاں کی ہیں۔ باقی مسائل میں محض فروعی اختلاف ہے۔ جس کی بناء پر جانبین میں سے کسی کی تکفیر و تضلیل نہیں کی جا سکتی۔


تعجب ہے کہ صریح توہین آمیز عبارات لکھنے کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو حضور کی تعریف کی ہے۔ گویا توہین صریح کو تعریف کہہ کر کفر کو اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ ہم نے اس رسالے میں علمایٔ دیوبند اور ان کے مقتداؤں کی عبارات بلا کمی و بیشی نقل کر دی ہیں تاکہ مسلمان خود فیصلہ کر لیں کہ ان میں توہین ہے یا نہیں؟ امید ہے ناظرین کرام حق و باطل میں تمیز کر کے ہمیں دعائے خیر سے فراموش نہ فرمائیں گے۔


سبب تالیف
اس میں شک نہیں کہ اس موضوع پر اس سے پہلے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن بعض کتابیں اتنی طویل ہیں کہ انہیں اول سے آخر تک پڑھنا ہر ایک کے لئے آسان نہیں اور بعض اتنی مختصر ہیں کہ علمایٔ دیوبند کی اصل عبارات کے بجائے ان کے مختصر خلاصوں پر اکتفا کر لیا گیا جس کی وجہ سے بھی بعض لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے لگے۔ اس لئے ضروری معلوم ہوا کہ اس موضوع پر ایسا رسالہ لکھا جائے جو اس تطویل و اختصار سے پاک ہو۔


ضروری گزارش
ابھی گزارش کی جا چکی ہے کہ دیوبند حضرات اور اہل سنت کے درمیان اختلاف کا موجب علمایٔ دیوبند کی صرف وہ عبارات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں کھلی توہین کی گئی ہے۔ علمایٔ دیوبند کہتے ہیں کہ ان عبارات میں توہین و تنقیص کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا اور علمایٔ اہل سنت کا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں صاف توہین پائی جاتی ہے۔ اس رسالہ میں علمایٔ دیوبند کی وہ اصل عبارات بلفظہا مع حوالہ کتب و صفحہ و مطبع پوری احتیاط کے ساتھ نقل کر دی گئی ہیں۔ اپنی طرف سے ان میں کسی قسم کی بحث و تمحیص نہیں کی گئی۔


البتہ ان مختلف عبارات میں متعدد عنوانات محض سہولت ناظرین اور تنوع فی الکلام کی غرض سے قائم کر دئیے گئے ہیں اور فیصلہ ناظرین کرام پر چھوڑ دیاگیا ہے کہ بلا تشریح ان عبارات کو پڑھ کر انصاف کریں کہ ان عبارتوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی توہین و تنقیص ہے یا نہیں؟


اس کے ساتھ ہی ہر عنوان اور عبارت کے تحت اپنا مسلک بھی واضح کر دیا گیا ہے تاکہ ناظرین کرام کو علمایٔ دیوبند اور اہل سنت کے مسلک کا تفصیلی علم ہو جائے اور حق و باطل میں کسی قسم کا التباس باقی نہ رہے۔


قرآن کریم اور تعظیم رسول اللہ ﷺ
اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ تمام دین ہمیں حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس سے ملا ہے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، اس کے ملائکہ، اس کی کتابوں اور رسولوں اور یوم قیامت وغیرہ عقائد و اعمال سب چیزوں کا علم رسول اللہ ﷺ نے ہم کو عطا فرمایا اس لئے سارے دین کی بنیاد اور اصل الاصول نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مقدسہ ہے اور بس۔ بنا بریں رسول کریم ﷺ کی حیثیت ایسی عظیم ہے جس کے وزن کو مومن کا دل و دماغ محسوس کرتا ہے مگر کما حقہ اس کا اظہار کسی صورت سے ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں تعظیم رسول ﷺ کی اہمیت کسی مسلمان سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نہایت اہتمام کے ساتھ مسلمانوں کو بارگاہِ رسالت کے آداب کی تعلیم فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَo (حجرات : ۲)
اے ایمان والو! بلند نہ کرو اپنی آوازیں نبی کریم ﷺ کی آواز پر اور نہ ان کے ساتھ بہت زور سے بات کرو جیسے تم ایک دوسرے سے آپس میں زور سے بولا کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب کچھ اکارت جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔


اس کے ساتھ ہی دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌo (حجرات : ۳)
بے شک جو لوگ اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے نزدیک، وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل کو اللہ تعالیٰ نے پرہیز گاری کے لئے پرکھ لیا ہے۔ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔


اور تیسری آیت میں ارشاد فرمایا
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَا دُوْنَکَ مِنْ وَّرَائِ الْحُجُرَاتِ اَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَo وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْہِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo (حجرات : ۴، ۵)
اے نبی ﷺ بے شک جو لوگ آپ کو آپ کے رہنے کے حجروں سے باہر پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔ اگر یہ لوگ اتنا صبر کرتے کہ آپ خود حجروں سے نکل کر ان کی طرف تشریف لے آتے تو ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔


چوتھی جگہ ارشاد فرمایا
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (بقرۃ : ۱۰۴)
اے ایمان والو! تم نبی کریم ﷺ کو راعنا کہہ کر خطاب نہ کیا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو اور دھیان لگا کر سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے عذابِ درد ناک ہے۔


ان آیاتِ طیبات میں بارگاہِ رسالت کے آداب اور طرزِ تخاطب میں تعظیم و توقیر کو ملحوظ رکھنے کی جو ہدایات اللہ تعالیٰ نے فرمائیں ہیں، محتاجِ تشریح نہیں۔ نیز ان کی روشنی میں شانِ نبوت کی ادنیٰ گستاخی کا جرم عظیم ہونا آفتاب سے زیادہ روشن ہے۔ اس کے بعد اس مسئلہ کو علمایٔ امت کی تصریحات میں ملاحظہ فرمایئے۔


تمام علمایٔ امت کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں توہین کفر ہے
شرح شفا قاضی عیاض لملا علی القاری ج ۲ ص ۳۹۳ پر ہے
قال محمد نبن سحنون اجمع العلماء علٰی ان شاتم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم والمتنقص لہٗ کافر ومن شک فی کفرہٖ وعذابہٖ کفر۔ (اکفار الملحدین مؤلفہ مولوی انور شاہ صاحب کشمیری دیوبندی ص ۵۱)
محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ تمام علمایٔ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں توہین و تنقیص کرنے والا کافر ہے اور جو شخص اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔


ایک شبہ کا ازالہ
اس مقام پر شبہ وارد کیا جاتا ہے کہ اگر کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ اسلام کی ہو تو فقہا کا قول ہے کہ کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔


اس کا ازالہ یہ ہے کہ قول اس تقدیر پر ہے کہ کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کا صرف احتمال ہو کہ کفر صریح نہ ہو لیکن جو کلام مفہوم توہین میں صریح ہو اس میں کسی وجہ کو ملحوظ رکھ کر تاویل کرنا جائز نہیں اس لئے کہ لفظ صریح میں تاویل نہیں ہو سکتی۔ دیکھئے اکفار الملحدین کے ص ۷۲ پر علمایٔ دیوبند کے مقتداء مولوی انور شاہ صاحب کشمیری لکھتے ہیں
قال حبیب نبن ربیع ان ادعاء التاویل فی لفظ صراح لا یقبل۔
حبیب ابن ربیع نے فرمایا کہ لفظ صریح میں تاویل کا دعویٰ قبول نہیں کیا جاتا اور اگر باوجود صراحت تاویل کی گئی تو وہ تاویل فاسد ہو گی اور تاویل فاسد خود بمنزلہ کفر ہے۔ ملاحظہ فرمایئے، یہی مولوی انور شاہ صاحب دیوبندی اکفار الملحدین کے ص ۶۲ پر لکھتے ہیں
التاویل الفاسد کالکفر تاویل فاسد کفر کی طرح ہے۔


ایک اور اعتراض کا جواب
حدیث شریف میں آیا ہے
انما الاعمال بالنیات
یعنی عملوں کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ لہٰذا علمایٔ دیوبند کی عبارتوں میں اگرچہ کلماتِ توہین پائے جاتے ہیں مگر ان کی نیت توہین اور تنقیص کی نہیں۔ اس لئے ان پر حکم کفر عائد نہیں ہو سکتا۔


اس کے جواب میں گزارش ہے کہ حدیث کا مفاد صرف اتنا ہے کہ کسی نیک عمل کا ثواب نیت ثواب کے بغیر نہیں ملتا۔ یہ مطلب نہیں کہ ہر عمل میں نیت معتبر ہے۔ اگر ایسا ہو تو کفر والحاد اور توہین و تنقیص نبوت کا دروازہ کھل جائے گا۔ ہر دریدہ دہن بے باک جو چاہے گا کہتا پھرے گا۔ جب گرفت ہو گی تو صاف کہہ دے گا کہ میری نیت توہین کی نہ تھی۔ واضح رہے کہ لفظ صریح میں جیسے تاویل نہیں ہو سکتی ایسے ہی نیت کا عذر بھی اس میں قابل قبول نہیں ہوتا۔


اکفار الملحدین ص ۷۳ پر مولوی انور شاہ صاحب کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں
المدار فی الحکم بالکفر علی الظواہر ولا نظر للمقصود والنیات ولا نظر لقرائن حالہٖ
کفر کے حکم کا دارو مدار ظاہر پر ہے، قصد و نیت اور قرائن حال پر نہیں۔


نیز اسی اکفار الملحدین کے صفحہ ۸۶ پر ہے
وقد ذکر العلماء ان التہور فی عرض الانبیاء وان لم یقصد السب کفر علماء نے فرمایا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی شان میں جرأت و دلیری کفر ہے اگرچہ توہین مقصود نہ ہو۔


توہین کا تعلق عرفِ عام اور محاورات اہل زبان سے ہوتا ہے
بعض لوگ کلماتِ توہین کے معنی میں قسم قسم کی تاویلیں کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کسی تاویل سے معنی مستقیم بھی ہو جائیں اور اس کے باوجود عرفِ عام و محاورات اہل زبان میں اس کلمہ سے توہین کے معنی مفہوم ہوتے ہوں تو وہ سب تاویلات بے کار ہوں گی۔ مثلاً ایک شخص اپنے والد یا استاد کو کہتا ہے کہ آپ بڑے ولد الحرام ہیں اور تاویل یہ کرتا ہے کہ لفظ حرام کے معنی فعل حرام نہیں بلکہ محترم کے ہیں جیسے المسجد الحرام اور بیت اللہ الحرام، لہٰذا ولد الحرام سے مراد والد محترم ہے اور معنی یہ ہیں کہ آپ بڑے والد محترم ہیں تو یقینا کوئی اہل انصاف کسی بزرگ کے حق میں اس تاویل کی رو سے لفظ ولد الحرام بولنے کو قطعاً جائز نہیں کہے گا اور ان کلمات کو بربنائے عرف و محاورات اہل زبان کلماتِ توہین ہی قرار دے گا۔


لہٰذا ہم ناظرین کرام سے درخواست کریں گے کہ وہ علمایٔ دیوبند کی توہین آمیز عبارات پڑھتے وقت اس اصول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ دیکھیں کہ عرف و محاورہ کے اعتبار سے اس عبارت میں توہین ہے یا نہیں؟
 

اگلا صفحہ                                      

ہوم پیج