تسبیح الرحمن


خطبہ آغاز
الحمد للّٰہ الذی منزہ عن الکذب والنقصان وتفرد بکمالہ الذاتی والنعم علٰی کافۃ الانام بنعمۃ العامۃ والخاصۃ والرحمۃ والغفران والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ الذی انزل علیہ القراٰن وعلٰی اٰلہٖ واصحابہٖ المصدقین بصدق الرحمٰن۔ (۱)

عرض مؤلف
اما بعد خادم العلماء فقیر حقیر ابو النجم سید احمد سعید کاظمی امروہی عرض گزار ہے کہ اس دورِ جہالت و ضلالت میں فرقہائے ضالہ مبتدعہ وہابیہ (۲) وغیرہم نے طریقہ سنّیہ مسنونہ کو مسخ کر کے بے انتہا گمراہی اور شورش برپا کر رکھی ہے اور چند ضروری مسئلوں پر تو بے انتہا اختلاف پھیلا رکھا ہے جن میں سب سے اہم مسئلہ امکان و امتناع کذب باری تعالیٰ کا مسئلہ (۱) ہے۔ چونکہ فرقہ وہابیہ نے اس مسئلہ کو پیچیدہ بنا کر کم علم اور عام مسلمانوں کو تباہ کن مغالطہ میں ڈال دیا ہے اس لئے اس مختصر رسالہ میں اسی مسئلہ کی وضاحت اور صحیح تشریح کر کے بندگانِ خدا کو قعر ضلالت سے نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے کہ اہل اسلام اس کے مطالعہ سے فائدہ اٹھا کر اپنے عقائد کو درست کر کے نجاتِ اخروی حاصل کریں گے اور اس فقیر کو دعائے خیر میں یاد کریں گے۔ اس رسالہ کی تالیف کے لئے میرے محترم محب صادق مولوی سید علی محتشم خان صاحب رئیس امروہہ و صدر انجمن احیاء السنۃ امروہہ ایک عرصہ سے محرک تھے مگر میں انہماک تعلیم کے باعث عدیم الفرصتی اور بے بضاعتی سے اب تک قاصر رہا۔ الحمد للّٰہ کہ سالانہ امتحان کے بعد مجھے اس دینی خدمت کے انجام دینے کا موقع ملا اور اپنی توفیق کے موافق جو کچھ ہو سکا پیش کرتا ہوں۔ چونکہ اس سے پہلے کبھی کوئی مضمون بنانے یا تالیف کرنے کا اتفاق نہیں ہوا اس لئے ناظرین کرام سے التماس ہے کہ کوئی لغزش یا غلطی دیکھیں تو براہِ کرم چشم پوشی فرمائیں یا مجھے اس سے مطلع فرمائیں اور شکر گزاری کا موقع دیں۔


کلامِ الٰہی میں مسلمانوں کا عقیدہ
اس مسئلہ میں مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ کلام الٰہی میں وجود کذب (۱) محال بالذات ہے خواہ کلام نفسی (۲) ہو یا لفظی (۳) لیکن نام نہاد علماء وہابیہ (۴) نے اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مقدسہ کی طرف ایسے مکروہ عیب کو منسوب کیا، جس کا تصور بھی مسلمانوں کے واسطے تنزل ایمان کا باعث ہے۔ چنانچہ بعض لوگ (۵) تو صرف امکانِ کذب ہی کے قائل ہوئے ہیں لیکن بعض وقوع (۶) کے بھی قائل ہیں۔ مثلاً مولوی رشید احمد گنگوہی جن کا دستخطی و مہری فتویٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں اب تک موجود ہے اور اس کے فوٹو اکثر علمائِ اہل سنت کے پاس محفوظ ہیں۔


فرقہ امکانیہ کو زبردست مغالطہ ہوا ہے
چنانچہ وقوع کذب باری تعالیٰ کا قول تو باتفاق فریق مخالف موجودہ بھی مردود ہے خواہ مولوی رشید احمد صاحب کا ہو یا کسی اور کا۔ رہا امکان کا قول اس کے متعلق سنیئے، حقیقتاً فرقہ امکانیہ (۱) کو ایک زبردست مغالطہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے خلف وعد اور خلف وعید دونوں کو ایک ہی سمجھ کر خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ ٹھہرایا ہے۔


خلف وعد و خلف وعید میں فرق
اب دیکھئے کہ ان دونوں میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔ خلف وعد کے معنی ہیں کسی انعام کے وعدہ کرنے کے بعد اس کے خلاف کرنا اور خلف وعید کے معنی ہیں کسی سزا کے وعدہ کرنے کے بعد اس کا خلاف کرنا (۲) چنانچہ بعض متکلمین بظاہر جواز خلف وعید کے قائل ہوتے ہیں (۳) لیکن خلف وعد کے جواز کا قائل اہل سنت میں سے آج تک کوئی نہیں ہوا۔ ان کے جواز خلف وعید کے قول سے فرقہ وہابیہ کو مغالطہ واقع ہوا کہ جب خلف وعید جائز ہے تو خلف وعد بھی جائز ہو گا۔ خلف وعید کو خلف وعد کا مقیس علیہ کہہ دیا۔


خلف وعد کا خلف وعید پر قیاس باطل ہے
لیکن یہ قیاس بہ چند وجوہ مخدوش ہے۔
اولاً تو یہ کہ جنہوں نے خلف وعید کو جائز کہا ہے وہ یہ کہتے ہیں لانہ کرم (۴) اور بعض کہتے ہیں کہ لانہ انشاء فیجوز من اللّٰہ تعالٰی (۱) اور پھر وہی حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ کذب باری تعالیٰ محال ہے۔ لانہٗ نقص والنقص علی اللّٰہ محال۔ (۲)


فرقہ وہابیہ سے ایک سوال
اب میں فرقہ وہابیہ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اگر خلف وعید کو امکانِ کذب کی فرع کہنا صحیح ہو تو متکلمین نے امکانِ کذب کو اس پر قیاس کیوں نہ کر لیا بلکہ انہوں نے تو خلف وعید کو جائز کہتے ہوئے بھی امکانِ کذب کا رد (۳) کیا ہے۔

ثانیاً خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ کہنا اس وجہ سے صحیح نہیں ہو سکتا کہ خلف وعید کرم اور امکانِ کذب نقص ہے۔ پس نقص کو کرم کی فرع کہنا اور اس پر قیاس کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ اہل سنت کا مذہب ان خرافات سے مبرا اور منزہ ہے۔


ثالثاً یہ کہ خلف وعید انشاء ہے اور امکانِ کذب ہمیشہ خبر ہی میں ہوتا ہے تو اخبار کا قیاس انشاء پر کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ اگر زمین کا آسمان پر اور پانی کا آگ پر اور ہوا کا مٹی پر قیاس کرنا جائز ہو تو یہ بھی جائز ہو گا۔ (۱)


متکلمین جس خلف کے قائل ہیں وہ حقیقت میں خلف نہیں
اس کے علاوہ بعض متکلمین جس خلف وعید کے قائل ہوئے ہیں حقیقتاً وہ خلف نہیں بلکہ اس پر خلف کا اطلاق محض مجازاً کیا گیا ہے۔ (۲) مثلاً مجوزین خلف اس آیت سے استدلال کرتے ہیں
اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ
یعنی بے شک اللہ تعالیٰ مشرکین کی مغفرت نہ کرے گا اور ان کے علاوہ اور جس کو چاہے گا بخش دے گا یہ حقیقتاً خلف نہیں۔ اس وجہ سے کہ خلف وعید کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی۔ چونکہ خلف وعید کے معنی ہیں کسی سزا کے وعدہ کا خلاف کرنا۔ یہاں نہ تو وعدہ ہے کہ فلاں شخص کو اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا اور نہ یہ فرمایا کہ ہم نے فلاں شخص کو عذاب دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اس کو عذاب نہ دیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ اس پر متکلمین کا اطلاقِ خلف کرنا محض مجازاً ہے جس کی مثال قرآن پاک میں موجود ہے
جَزَائُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مبِمِثْلِہَا
یعنی برائی کا بدلہ برائی ہے اسی کی مثل، یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی برائی کا حکم نہیں کرتا۔ اب اگر سیئۃ کو اپنے ہی معنی میں رکھا جائے تو لازم آئے گا کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ بھی برائی کا حکم کرتا ہے
تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ عُلُوًّا کَبِیْرًا
پس جس طرح یہاں جزاء سیئۃ پر سیئۃ کا اطلاق کیا گیا ہے اسی طرح متکلمین نے اس پر خلف کا اطلاق مجازاً کیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ بعض متکلمین اس معنی متنازعہ میں ہرگز خلف وعید کے قائل نہ تھے اور اگر خلف وعید اسی کو کہا جائے تو ہم کو اس سے انکار نہیں بلکہ ہم تو اس کے وقوع کو مانتے ہیں جیسا کہ آئندہ معلوم ہو گا۔ (۱)


نیز اس خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ کہنا ایک اور وجہ سے بھی باطل ہے۔ اس لئے کہ اگر امکانِ کذب کو اس پر قیاس کر لیا جائے تو وقوعِ کذب لازم آئے گا۔ تقریر اس کی یوں ہے کہ خلفِ وعید مجوزہ متکلمین کا قیامت کے دن وقوع ہو گا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ یوم مذکور میں مشرکین کے علاوہ ہزاروں، لاکھوں بلکہ بے شمار گنہگاروں کی مغفرت کرے گا۔ تو وقوع خلف ہوا اور جب وقوع خلف ہوا تو وقوع کذب ہوا۔ وہٰذا باطل بالاجماع (۲)۔ پس معلوم ہوا کہ خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ کہنا ہرگز ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا خلف وعید متعین ہو گیا اور وہی کذب ہے۔


استحالہ کذب باری تعالیٰ پر عباراتِ علماء
اب استحالہ کذب باری تعالیٰ پر عباراتِ علماء مفسرین ومتکلمین بدلائل عقلی و نقلی قائم ہیں۔


عبارت قاضی بیضاوی
قاضی بیضاوی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں
(
وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا) انکار ان یکون احد اصدق منہ فانہ لا یتطرق الکذب الٰی خبرہ بوجہ لانہ نقص وہو علی اللّٰہ تعالٰی محال۔
(اور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے بات میں) اس بات کی نفی ہے کہ کوئی ایک خدا تعالیٰ سے زیادہ سچا ہو کیونکہ جھوٹ کسی طرح خدا کی خبر کی طرف راہ نہیں پاتا کیونکہ جھوٹ عیب ہے اور وہ خدا کے لئے محال ہے۔ (محشی)


عبارت امام رازی
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر کبیر میں ارقام فرماتے ہیں
(المسئلۃ السادسۃ) قولہ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا استفہام علی سبیل الانکار والمقصود منہ بیان انہ یجب کونہ تعالٰی صادقًا وان الکذب والخلف فی قولہ محالٌ واما المعتزلۃ فقد بنوا ذٰلک علی اصلہم واما اصحابنا فدلیلہم۔ الخ
(ترجمہ) چھٹا مسئلہ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ومن اصدق الایۃ بیان ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کا سچا ہونا واجب ہے اور کذب اور خلف اللہ تعالیٰ کے قول میں محال ہے لیکن معتزلہ، پس انہوں نے اس کو اپنے اصول پر قائم کیا ہے (۱) اور ہمارے اصحاب پس ان کی یہ دلیل ہے۔ آخر تک۔


امکانِ کذب کا قول کفر ہے
اور وہی فخر العلماء اسی تفسیر مذکور میں فرماتے ہیں
فقد جوزوا الکذب وہٰذا خطأ عظیم بل یقرب من ان یکون کفرا فان العقلاء اجمعوا علی انہ تعالٰی منزہ عن الکذب۔ انتہٰی
(ترجمہ) پس بے شک انہوں نے کذب کو جائز کہا اور یہ بہت بڑی خطا ہے بلکہ قریب بہ کفر ہے۔ اس لئے کہ عقلاء (۱) نے اجماع کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کذب سے منزہ ہے۔


عبارت علاؤ الدین بغدادی
اور تفسیرخازن میں یوں ارشاد فرماتے ہیں
ومن اصدق من اللّٰہ حدیثا یعنی لا احد اصدق من اللّٰہ تعالٰی فانہ لا یخلف المیعاد ولا یجوز علیہ الکذب۔ انتہٰی
(ترجمہ) اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچا (۲) کون ہے؟ ازروئے کلام کے یعنی نہیں ہے کوئی زیادہ سچا اللہ تعالیٰ سے اس لئے کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا (۱) اور نہ اس پر کذب جائز ہے۔


یہاں تک جو علماء مفسرین کی عبارتیں نقل کی گئیں یہ استحالۂ امکانِ کذبِ باری تعالیٰ پر بے شک براہین قاطعہ و حجج ساطعہ ہیں۔ اب اہل انصاف سے میری درخواست ہے کہ وہ ان تمام عبارتوں کو بغور پڑھ کر خود نتیجہ اخذ کر لیں اور بے سوچے سمجھے فوراً جواب دہی کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔


تکلیف ما لا یطاق سے امکانِ کذب کا ردِّ بلیغ
اقوال علماء مفسرین سے امکانِ کذب باری تعالیٰ کی ایک اور طریقہ سے تردید ہو سکتی ہے جس کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔ اشاعرہ (۲) رحمہم اللہ تعالیٰ تکلیف مالا یطاق کو جائز رکھتے ہیں اور اپنے مدعا کے ثبوت میں ان آیات سے استدلال کرتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے اشخاصِ معینہ کے ایمان نہ لانے کی خبر دی ہے۔ استدلال کی تقریر اس طرح کرتے ہیں کہ ابو لہب وغیرہ کا ایمان لانا غیر ممکن ہے۔ حالانکہ وہ ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ اگر تکلیف ما لا یطاق جائز نہ ہوتی تو ان کفار کو ایمان کی تکلیف نہ دی جاتی اور ان کے ایمان کا محال ہونا ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اگر ان اشخاص کا ایمان لانا ممکن ہوتا تو اس کے وقوع سے محال لازم نہ آتا۔ چونکہ ایمان کا مقتضیٰ (۱) یہی ہے حالانکہ اس صورت میں یعنی اشخاص معلومہ کے وقوع ایمان کی تقدیر پر کذب باری تعالیٰ لازم آتا ہے اور وہ محال ہے والمستلزم للمحال محال (۲)۔ اب میں کہتا ہوں کہ اگر اشاعرہ کے نزدیک کذب باری ممکن ہو تو ان کے اس استدلال کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے اس لئے کہ جب ان کے نزدیک کذب باری ممکن ہے تو ابو لہب وغیرہ کا ایمان کیونکر محال ہوا۔ اس لئے کہ اس ایمان کے محال ہونے کی صرف یہ وجہ تھی کہ اگر ان کا ایمان واقع ہو گا تو خدا تعالیٰ کا کذب لازم آئے گا اور جب خدا کا کذب محال نہ مانا گیا تو ان لوگوں کے ایمان لانے میں پھر کوئی قباحت نہیں۔ وہٰذا خلف (۱)۔ پس معلوم ہوا کہ اشاعرہ کے نزدیک بھی کذب باری ممکن نہیں۔


چنانچہ تفسیر بیضاوی میں فرماتے ہیں
والایۃ مما احتج بہ من جوز تکلیف مالا یطاق فانہ سبحانہٗ وتعالٰی اخبر عنہم بانہم لا یؤمنون فیجتمع الضدان۔ الخ
(ترجمہ) یہ آیت ان آیتوں میں سے ہے جن سے مجوزین تکلیف مالا یطاق نے استدلال کیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشخاص معلومہ کے ایمان نہ لانے کی خبر دی ہے۔ پس دو ضدیں جمع ہو جائیں گی۔ انتہیٰ

اور امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں
(المسئلۃ الثانیۃ) احتج اہل السنۃ بہٰذا وکل ما اشبہہا من قولہ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰی اَکْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ وقولہ وَذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا الی قولہ سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا و قولہ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ علی تکلیف مالا یطاق و تقریرہ انہ تعالٰی اخبر عن شخص معین انہ لا یؤمن قط فلو صدر منہ الایمان لزم انقلاب الخبر الصادق کذبا والکذب عند الخصم قبیح والفعل القبیح یستلزم اما الجہل واما الحاجۃ وہما محالان علی اللّٰہ تعالٰی والمفضی الی المحال محال وقد یذکر ہٰذا فی صورۃ العـــلم وہو انہ تعالٰی لما علم منہ انہ لا یؤمن فکان صدور الایمان منہ یستلزم انقلاب علم اللّٰہ جہلا و ذٰلک محال ومستلزم المحال محال۔ انتہٰی
(ترجمہ) دوسرا مسئلہ استدلال کیا ہے اہل سنت نے اس کے ساتھ اور ہر اس شئ کے ساتھ جو اس کے مشابہ ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰی اَکْثَرِہِمْ۔ (الاٰیۃ) اور اللہ تعالیٰ کا قول وَذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا اس کے قول سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا اور اللہ کے قول تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ سے تکلیف مالا یطاق پر اس کی تقریر یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین شخص کی خبر دی کہ وہ کبھی ایمان نہ لائے گا۔ پس اگر اس سے ایمان صادر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی سچی خبر جھوٹ سے بدل جائے گی اور جھوٹ مخالف کے نزدیک بھی برا ہے اور برا کام یا جہل کو مستلزم ہے یا حاجت کو اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ پر محال ہیں اور محال کی طرف پہنچانے والا بھی محال ہے اور یہ کبھی علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جان لیا کہ یہ ایمان نہیں لائے گا۔ پس اس سے ایمان کا صادر ہونا مستلزم ہے اللہ کے علم کے جہل سے بدل جانے کو اور یہ محال ہے اور مستلزم محال بھی محال ہے۔ انتہیٰ


تکلیف ما لا یطاق کے مانعین کے جواب سے امکان کذب کا ردِّ عظیم
اور تکلیف مالا یطاق کے مانعین یعنی ما تریدیہ وغیرہ اس استدلال کے جواب اس طرح دیتے ہیں کہ متنازعہ فیہ جواز تکلیف مالا یطاق غیر ممکن لذاتہٖ اور ممتنع بنفسہٖ (۱) کا ہے اور وہ یہاں لازم نہیں آتا بلکہ ممتنع لغیرہٖ کی تکلیف کا جائز ہونا لازم آتا ہے اور وہ متنازعہ فیہ نہیں ہے بلکہ سب کا متفق علیہ ہے اور ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ممکن بالذات محال بالغیر سے محال بالذات لازم نہیں آتا۔ دیکھئے عدم معلول اول ممکن بالذات ممتنع بالغیر ہے اور اس سے محال بالذات یعنی عدم واجب لازم آتا ہے۔
والایلزم تخلف المعلول عن علتہ التامۃ وہو محال۔ (۱) اگر ممکن بالذات کی حیثیت امتناع بالغیر پر نظر نہ کی جائے تو بے شک اس سے محال بالذات لازم نہ آئے گا۔ پس ما نحن فیہ جب کہ ابو لہب وغیرہ کا ایمان بسبب خبر دینے اور علم باری کے بالغیر ہو گیا تو اگر برتقدیر وقوع محال بالذات یعنی کذب اور جہل باری تعالیٰ کو مستلزم ہو تو اس کے امکان ذاتی کے منافی نہیں۔ اب اہل انصاف کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر ما تریدیہ وغیرہ کے نزدیک کذب باری تعالیٰ ممکن بالذات ہوتا تو اس جواب کی کیا ضرورت تھی صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ (معاذ اللہ) ہمارے نزدیک کذب باری ممکن بالذات ہے۔ پس خدا کی کوئی خبر دینے سے ان کا ایمان غیر ممکن بالذات نہیں ہو سکتا کیونکہ برتقدیر وقوع ایمان کوئی قباحت لازم نہیں آتی۔ غایت ما فی الباب یہ کہ کذب باری لازم آئے گا اور وہ محال بالذات نہیں۔ پس ایمان ابو لہب کیونکر محال بالذات ہوا۔ پس معلوم ہوا کہ مشائخ ماتریدیہ کا بھی وہی مذہب ہے جو اشاعرہ کا مسلک ہے یعنی خدا تعالیٰ کے کلام لفظی کا کذب محال اور ممتنع بالذات ہے۔


عباراتِ علمائے متکلمین (۱)
سید سند علیہ الرحمہ شرح مواقف میں ارشاد فرماتے ہیں
تفریع علی ثبوت کلام اللّٰہ تعالٰی وہو انہ یمتنع علیہ الکذب اتفاقا
اللہ تعالیٰ کے کلام کے ثبوت پر تفریع ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پر کذب بالاتفاق ممتنع ہے۔
اور امام المحققین علامہ جلال الدین شرح عقائد جلالی میں فرماتے ہیں
ولا یصح علیہ الحرکۃ ولا الجہل ولا الکذب لانہا نقص والنقص علی اللّٰہ محال۔
اور نہیں ہے صحیح اس پر حرکت اور نہ جہل اور نہ کذب اس لئے کہ وہ نقص ہیں اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔
اور دوسرے مقام پر عضد الملۃ والدین صاحب عضدیہ فرماتے ہیں
وہو منزہ عن جمیع صفات النقص کما سبق من اجماع العقلاء علٰی ذٰلک۔
اور وہ منزہ ہے تمام صفات نقص سے جیسے کہ اس پر عقلاء کا اجماع گزر گیا۔
اور صاحب مواقف نے بعد رد کرنے فرق ضالہ کے لکھا ہے
واما الفرق الناجیۃ فہم الاشاعرۃ والسلف من المحدثین واہل السنۃ والجماعۃ وقد اجمعوا علی انہ لیس فی حیز ولا جہۃ ولا یصح علیہ الحرکۃ ولا الانتقال ولا الجہل ولا الکذب ولا شئ من صفات النقص۔ الخ
(ترجمہ) اور لیکن ناجیہ فرقے پس وہ اشاعرہ (۱) ہیں اور سلف محدثین سے اور اہل سنت و جماعت اور انہوں نے اجماع کیا ہے اس بات پر کہ وہ نہ کسی حیز میں ہے اور نہ کسی جہت میں اور نہیں صحیح ہے اس پر حرکت اور نہ انتقال نہ جہل نہ کذب اور نہ کوئی شئ صفات نقص سے۔ انتہیٰ
اور صاحب حاشیہ خیالی شرح عقائد کے قول وکیف وہو تبدیل القول (۱) کے ذیل میں لکھتے ہیں
بل کذب منتفٍ بالاجماع یعنی کذب بالاجماع منتفی (۲) ہے اور علامہ تفتازانی علیہ الرحمۃ نے تکلیف مالا یطاق کے اختلاف کو بیان کرتے ہوئے امکانِ کذب باری تعالیٰ کا اس طرح رد کیا ہے
وقد یستدل بقولہ لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا
اس کی تقریر یوں ہے کہ مابین اشاعرہ و معتزلہ تکلیف مالا یطاق کے امکان اور امتناع میں اختلاف ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ تکلیف مالا یطاق محال ہے جس کی دلیل میں یہ آیت کریمہ پیش کرتے ہیں
(۳) لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا (الاٰیۃ)
اگر تکلیف مالایطاق کو جائز مان لیا جائے تو کلام الٰہی میں کذب لازم آتا ہے اور وہ بالاتفاق محال ہے۔ چنانچہ اشاعرہ کثرہم اللہ تعالیٰ اس کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ہر ممکن فی نفسہٖ کے وقوع سے جس وقت اس کو امتناع بالغیر عارض ہو محال بالذات لازم نہ آئے بلکہ یہ اس وقت واجب ہے کہ جب اس کو امتناع بالغیر عارض نہ ہو۔ جیسے ایک ممکن فی نفسہٖ کہ اس کا عدم اور وجود دونوں مساوی ہیں لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ اس کے وجود کا ارادہ کرے تو اس وقت اس کا عدم محال ہو جاتا ہے اس لئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ارادئہ مذکور کے بعد بھی اس کا عدم ممکن ہو تو معلول کا علت تامہ سے تخلف لازم آئے گا اور وہ محال بالذات ہے تو اس طرح اگر یہ بھی کذب باری تعالیٰ کو (جو کہ محال بالذات ہے) مستلزم ہو گیا تو کوئی استحالہ (۱) لازم نہیں آتا تو اگر اشاعرہ کے نزدیک کذب باری تعالیٰ ممکن ہوتا تو معتزلہ کے مقابلہ میں یہ جواب بالکل بے کار تھا۔ صاف کہہ دیتے کہ ہمارے نزدیک تکلیف مالا یطاق اور کذب باری تعالیٰ دونوں محال بالغیر ہیں (۲)۔ اگر محال بالغیر، محال بالغیر کو مستلزم ہو گیا تو کوئی قباحت نہیں ہے (۳) دونوں ممکن ہیں ۔ تو معلوم ہوا کہ اشاعرہ کثرہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی کذب باری محال بالذات ہے۔

نیز علامہ قوسجی نے شرح تجرید میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے زمانے کے مسلمانوں تک امتناع کذب باری تعالیٰ پر اجماع نقل کیا ہے اور محقق دوانی شرح عقائد جلالی میں فرماتے ہیں
قلت الکذب نقص والنقص علیہ تعالٰی محال فلا یکون من الممکنات ولا یشملہ القدرۃ کما لا یشمل سائر وجوہ النقص علیہ تعالٰی کالجہل والعجز ونفی صفات الکمال۔ الخ
(ترجمہ) میں کہوں گا کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ پس نہ ہو گا ممکنات سے اور نہ شامل ہو گی اس کو قدرت (۴) جیسے کہ نہیں شامل ہے تمام ان طریقوں کو کہ اللہ تعالیٰ پر نقص ہیں۔ جیسے جہل اور عجز اور صفات کمال کی نفی۔
 

اگلا صفحہ                                      

ہوم پیج