ظل النبیﷺ

مسئلہ ظل نبی ﷺ پر تحقیقی نظر اور دلائل نفی و اثبات کا جائزہ
تقریباً ایک مہینہ ہو گیا کہ مختلف اور متعدد مقامات سے احباب کے پیغامات آرہے ہیں کہ ماہنامہ تجلی دیوبند اور تنظیم اہل حدیث لاہور وغیرہ رسائل میں حضور نبی کریم ﷺ کے جسم اقدس کا سایہ ثابت کرنے کے لئے زور دار مضامین شائع کئے گئے ہیں اور اعلیٰ حضرت بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ایک رسالہ
نفی الفئی عمن بنورہ انار کل شیء حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے پر تحریر فرمایا ہے، اس پر بری طرح پھبتیاں کسی گئی ہیں اور اس کا خوب مذاق اڑایا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ صحیح حدیثوں سے حضور ﷺ کا سایہ ثابت کیا گیا ہے جنہیں پڑھ کر عامۃ المسلمین نہایت مضطرب اور متعجب ہیں۔ اس لئے ان حدیثوں کے جوابات اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ مبارک کی تائید و توضیح نہایت ضروری ہے تاکہ مسلک اہل سنت بے غبار ہو جائے اور کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے۔ اس سلسلہ میں ہم سب سے پہلے موصول شدہ خطوط سے منکرین نورِ مصطفی ﷺ کے مضامین کا خلاصہ ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں


۱۔ ماہنامہ تجلی دیوبند نے لکھا ہے بہت سی غلط باتوں کی طرح ایک یہ بات بھی شہرہ پا گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ نہیں تھا۔ بعض سادہ فطرت اور جذباتی اسلاف نے تو اس بے اصل خیال کا چرچا کیا ہی تھا لیکن ہندوستان میں اسے پھیلانے کی ذمہ داری قبر پرستوں پر عموماً اور مولانا احمد رضا خاں صاحب پر خصوصاً ہے۔ انہوں نے
اناہ الفی (۱) نام سے ایک کتابچہ لکھا تھا جس میں اپنے معروف علم کلام کے ذریعہ سے اس بے اساس عقیدے کو حقیقت ثابتہ منوانے کی کوشش کی تھی۔ نتیجہ ظاہر ہے ان کے معتقدین نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بات پھیل گئی۔(ماہنامہ تجلی دیوبند ص ۱۱ بابت فروری / مارچ ۱۹۵۹ء)
 

اس کے بعد ماہنامہ تجلی میں لکھتے ہیں دیوبندی مکتبہ فکر کو اگر ایک عمارت سمجھ لیا جائے تو کون نہیں جانتا کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اس کے ایک ستون رہے ہیں۔ ان کا فتویٰ ملاحظہ ہو۔ فتاویٰ رشیدیہ جلد اول (مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دہلی) میں عنوان ہے (حضور ﷺ کا سایہ زمین پر نہ پڑنے کی حدیث کا موضوع ہونا) اس کے تحت ایک سائل کے جواب میں مولانا لکھتے ہیں، سائل نے اسی روایت کا ذکر کیا تھا جو الخصائص الکبریٰ کے واسطہ سے مفتی کا مستدل ہے۔ یہ روایت کتب صحاح میں نہیں اور نوادر کی روایت کا بندہ کو حال معلوم نہیں کہ کیسی ہے۔ نوادر الاصول حکیم ترمذی کی ہے نہ کہ ابو عیسیٰ ترمذی کی۔ (ماہنامہ تجلی دیوبند ص ۱۲ کالم ۲ فروری؍ مارچ ۱۹۵۹ء)


نیز صفحہ ۱۳ پر ماہنامہ تجلی میں مرقوم ہے الحاصل اول تو ایک ایسے عامۃ الورود واقعہ میں تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سکوت اور صرف ایک حدیث مرسل کا اس میں مذکور ہونا ہی علامت قویہ روایت کے غیر ثابت وغیر معتبر ہونے کی ہے۔ ثانیاً روایت مرسل ہے۔ ثالثاً اس کا راوی بالکل کاذب واضع حدیث ہے جس سے اگر حدیث کو موضوع کہہ دیا جائے تو بعید نہیں۔ (ماہنامہ تجلی دیوبند بابت ماہ فروری؍ مارچ ۱۹۵۹ء ص ۱۳)


منکرین کے مضامین کا یہ خلاصہ مرزا ریاض احمد صاحب حافظ آبادی کے مکتوب سے لیا گیا ہے۔
۲۔ اب مولانا محمد صادق صاحب کے مکتوب سے ہم ان احادیث کو پیش کرتے ہیں جو مولانا ممدوح نے منکرین کے رسائل و جرائد سے نقل فرمائی ہیں اور منکرین نے ان کو حضور ﷺ کے سایہ کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔


حدیث نمبر ۱: مسند امام احمد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے، اس میں ایک گھریلو شکر رنجی کا واقعہ بیان کرنے کے بعد ام المومنین فرماتی ہیں
فبینما انا یومًا بنصف النہار اذا انا بظل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مقبل
پس ایک دن دوپہر کے وقت دفعۃً رسول اللہ تشریف لائے اور میں نے پہلے ان کا سایہ ہی دیکھا۔


حدیث نمبر ۲: ایک حدیث حافظ ابن قیم نے اپنی کتاب
حادی الارواح الی بلاد الافراح میں بیان کی ہے۔ اس میں حضور ہی کی زبان مبارک سے ظلی و ظلکم میرا اور تمہارا سایہ کے الفاظ صادر ہوئے ہیں۔
یہ روایات نہ مرسل ہیں نہ ان کا کوئی راوی ساقط الاعتبار ہے۔ (ماہنامہ تجلی دیوبند فروری؍ مارچ ۱۹۵۹ء ص ۱۸ رسالہ ظل نبی ص ۶، ۷)


حدیث نمبر ۳: آٹھویں صدی کے مشہور محدث حافظ نور الدین علی ابن ابی بکر الہیتمی نے اپنی کتاب مجمع الزوائد جلد چہارم طبع قاہرہ کے ص ۳۲۳ پر نقل کی اور اس کے تمام راویوں کی توثیق فرمائی ہے۔ امید ہے کہ آپ اس پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے۔
عن (۱) عائشۃ قالت کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی سفر ونحن معہ فاعتل بعیر لصفیّۃ وکان مع زینب فضل فقال لہا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان بعیرا صفیۃ قد اعتل فلو اعطیتہا بعیرا لک قالت انا اعطی ہٰذہ الیہودیۃ فغضب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہجرہا بقیۃ ذی الحجۃ ومحرم و صفر وایامًا من شہر ربیع الاول حتٰی رفعت متاعہا وسریرہا فظنت انہ لاحاجۃ لہٗ فیہا فبینما ہی ذات یوم قاعدۃ بنصـف النـــہار اذا رأت ظلہٗ قد اقبل فاعادت سریرہا ومتاعہا۔ (تنظیم اہل حدیث لاہور۔ ۸ جنوری ص ۴)


احباب کے خطوط سے منکرین کے دلائل کا جو مواد ہمارے سامنے آیا وہ من و عن ناظرین کرام کی خدمت میں ہم نے پیش کر دیا۔ منکرین کی تحریروں میں سے صرف ایک رسالہ ظل نبی منظوم بزبان پنجابی ہماری نظر سے گزرا ہے۔ ماہنامہ تجلی دیوبند ہمیں نہیں ملا نہ مجمع الزوائد دستیاب ہو سکی۔ البتہ مسند امام احمد میں منکرین کی پیش کردہ روایت ہم نے تلاش کر لی جس کے دیکھنے سے ہمیں یہ پتہ چل گیا ہے کہ مجمع الزوائد جلد چہارم صفحہ ۳۲۳ اور مسند امام احمد جلد ۱ صفحہ ۱۳۲ سے منقولہ دونوں روایتوں کا مضمون واحد ہے اور دونوں پیش کردہ روایتوں میں حجۃ الوداع کے سفر میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وہی ایک واقعہ مذکور ہے جس کا خلاصہ ترجمہ ناظرین ابھی پڑھ چکے ہیں۔


تنظیم اہل حدیث کا پرچہ بھی ہمیں نہ مل سکا اور حادی الارواح الی بلاد الافراح مصنفہ علامہ ابن قیم بھی دستیاب (۱) نہ ہو سکی لیکن رسالہ ظل نبی سے اس کا مضمون سامنے آ گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ
حضور نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دوزخ اور جنت کو حضور کے سامنے کر دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا
پھر میں نے اپنے اور تمہارے درمیان نار کو دیکھا۔ اور ساتھ ہی فرمایا
حتّٰی لقد رأیت ظلی وظلکم
یہاں تک کہ میں نے اپنا اور تمہارا ظل دیکھا۔ (ـرسالہ ظل نبی ص ۶)


علاوہ ازیں رسالہ ظل نبی میں قرآن مجید کی تین آیتوں سے بھی حضور ﷺ کا سایہ ثابت کیا گیا ہے جو حسب ذیل ہے
آیت ۱: وَلِلّٰہِ (۱) یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْہًا وَّظِلٰلُہُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۔
آیت ۲: اَوَلَمْ (۲) یَرَوْا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلاَ لُہٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَہُمْ دَاخِرُوْنَ۔
آیت ۳: وَلِلّٰہِ (۳) یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَابَّۃٍ وَّالْمَلٰئِکَۃُ وَہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَo یَخَافُوْنَ رَبَّہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔
(رسالہ ظل نبی ص ۳، ۴، ۵)


تین آیتیں اور تین حدیثیں مثبتین ظل نبی ﷺ کا مزعومہ سرمایہ ہے۔ مثبتین ظل نبی ﷺ کا سرمایہ مزعومہ یہی تین آیتیں اور تین حدیثیں ہیں جنہیں ان کے دعویٰ سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور جن کا ایک لفظ بھی یہ نہیں بتاتا کہ حضور نبی اکرم نور مجسم ﷺ کے جسم اقدس کا سایہ تھا۔ جیسا کہ ان شاء اللہ العزیز عنقریب ہمارے ناظرین کرام پر واضح ہو جائے گا اور یہ حقیقت بے نقاب ہو کر سامنے آ جائے گی کہ منکرین نورانیت نبی کریم ﷺ کے استدلال کی عمارت
ان اوہن البیوت لبیت العنکبوت سے بھی گئی گزری ہے۔


رہے وہ رکیک شبہات اور نفی ظل کی حدیث پر اعتراضات جو بحوالہ ماہنامہ تجلی دیوبند جناب مرزا ریاض احمد صاحب حافظ آبادی کے مکتوب سے ہم نقل کر چکے ہیں تو ان سب کا سہارا دراصل منکرین کی پیش کردہ آیات و احادیث کا وہی غلط مفہوم ہے جس کو ظل نبی ﷺ کے ثبوت میں پیش کیا گیا۔ جب ان آیات و احادیث کا مفہوم سامنے آ جائے گا تو وہ سہارا بھی باقی نہ رہے گا اور اہل انصاف بے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ وہ شاخ ہی نہیں ہے اب جس پہ آشیاں تھا


اب رہا منکرین و معترضین کا امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مجدد ملت رحمۃ اللہ علیہ کی شانِ اقدس میں ناشائستہ کلمات کہنا اور حضرت ممدوح کے رسالہ مبارک
نفی الفیٔ پر پھبتیاں اڑانا، تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ لوگ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف جلیلہ پر اپنی لاعلمی کی وجہ سے ہمیشہ مذاق اڑاتے اور منہ کی کھاتے رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ہمارے ناظرین کرام الصدیق ملتان کا مضمون اعلیٰ حضرت کے خلاف اور اس کا دندان شکن جواب السعید کے صفحات میں پڑھ چکے ہوں گے اور اس سے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی جلالت علمی اور منکرین کی بے مائیگی اور لا علمی کا انہیں بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس مضمون کے مطالعہ سے یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہو جائے گی کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی وسعت علم کو پانا تو درکنار اس کا سمجھنا اور اندازہ لگانا بھی ان لوگوں کے لئے آسان نہیں۔
ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ وَاللّٰہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِِ
بیان مسئلہ اور منکرین کے استدلال پر کلام کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ کم علمی اور ناواقفیت کی وجہ سے ہر مسئلہ شرعیہ پر نصوص قطعیہ اور قرآن و حدیث سے دلائل صریحہ طلب کرتے ہیں اور کہہ دیا کرتے ہیں کہ مطلقاً باب عقائد میں بجز نص قطعی قرآن و حدیث کی صریح عبارت کے کوئی چیز قابل قبول نہیں۔


حالانکہ ان کا یہ کہنا قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے۔ یاد رکھیئے قطعی دلیل اور قرآن و حدیث کی صریح قطعی عبارتیں صرف ان عقائد کے لئے ضروری ہیں جو قطعی ہوں اور جن پر مدارِ ایمان ہو۔ باقی رہے عقائد ظنیہ تو ان کے لئے ظنی دلیلیں پیش کی جائیں گی۔ شرح عقائد نسفی میں تفضیل رسل پر کلام کرتے ہوئے شارح علامہ تفتازانی فرماتے ہیں
ولاخفاء فی ان ہٰذہ المسئلۃ ظنیۃ یکتفی فیہابالادلۃ الظنیۃ۔ (شرح عقائد نسفی ص ۱۲۶)


اس امر میں کوئی خفا نہیں کہ یہ مسئلہ ظنی ہے جس میں ظنی دلائل پر اکتفا کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح نبراس میں ص ۲۴ پر عقائد کی دو قسمیں قطعی اور ظنی بیان فرمائیں اور اسی مضمون کو واضح فرمایا۔ نیز اسی نبراس شرح عقائد کی شرح میں ص ۵۹۸ پر منقولہ بالا عبارات کے تحت بہت تفصیل کے ساتھ فرمایا
حاصل الجواب ان المسائل الاعتقادیۃ قسمان احدہما ما یکون المطلوب فیہ الیقین کوحدۃ الواجب وصدق النبی صلی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلم وثانیہما ما یکتفی فیہا بالظن کہذہ المسئلۃ والاکتفاء بالدلیل الظنی انما لا یجوز فی الاول بخلاف الثانی۔ الخ


شارح کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ مسائل اعتقادیہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس میں یقین مطلوب ہو جیسے واجب تعالیٰ کی وحدت اور نبی کریم ﷺ کا صدق۔


دوسری وہ جس پر ظن پر اکتفا کر لیا جائے۔ جیسے (تفضیل رسل کا) یہی مسئلہ۔
دلیل ظنی پر جن مسائل میں اکتفا ناجائز ہے وہ صرف پہلی قسم کے مسائل ہیں جن میں یقین مطلوب ہوتا ہے۔ بخلاف دوسری قسم کے جن میں صرف ظن مطلوب ہو کہ ان میں دلیل ظنی پر بلا شبہ اکتفا جائز ہے۔ احکام کا بھی یہی حال ہے کہ حکم جتنا قوی ہو گا اس کی دلیل اتنی ہی قوی ہو گی۔


عقائد و احکام کے بعد فضائل و مناقب کی طرف آیئے تو اس سے بھی تنزل اختیار کرنا پڑے گا یعنی ضعیف حدیثیں بھی اس باب میں معتبر ہوں گی۔ جیسا کہ خود محدثین کرام نے جابجا اس کی تصریح فرمائی ہے اور ائمۂ فقہا نے فضائل اعمال میں ضعیف ترین احادیث کو معمول بہا قرار دیا ہے۔ دیکھئے مسح رقبہ (وضو میں گردن پر مسح کرنے) کی حدیث ایسی ضعیف شدید ہے کہ بعض محدثین نے اسے موضوع تک کہہ دیا لیکن ائمہ و فقہا نے اسے بھی معمول بہا مانا اور آج تک اس پر عمل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ فضائل و مناقب میں ضعاف کا معتبر ہونا متفق علیہ ہے۔ ابن حجر مکی ملا علی قاری، شاہ عبد الحق دہلوی و غیرہم علماء کی تصریحات خصوصاً محدثین و فقہائے احناف نے صاف صاف ارقام فرمایا جس سے کوئی اہل علم بے خبر نہیں۔ دیکھئے افضل القریٰ، مقدمہ مشکوٰۃ، موضوعاتِ کبیر ص ۶۳، ۶۴ قفو الاثر بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ حدیث ضعیف کا مضمون قوی حدیث کے مضمون سے مؤید ہو۔ لازماً اس حدیث ضعیف کو فضائل و مناقب میں قابل احتجاج سمجھا جائے گا۔


عقائد و اعمال سے متعلق ہمارے بے شمار ایسے مسائل ہیں جنہیں ہم جزم و یقین کے مرتبہ میں شمار نہیں کرتے بلکہ محض فضیلت و منقبت کے درجہ میں مانتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی نیک دل طالب حق محض دلیل نہ ملنے کی وجہ سے ہمارے اس مسئلہ کو تسلیم نہ کرے تو ہم اسے بدعقیدہ نہیں کہتے نہ اس کے حق میں برا بھلا کہنا جائز سمجھتے ہیں بشرطیکہ اس کا انکار رسول اللہ ﷺ کی عداوت اور بغض و کینہ کی وجہ سے نہ ہو۔


رہا یہ امر کہ اس نیک نیتی اور بغض و عداوت کا امتیاز کیسے ہو گا تو میں عرض کروں گا کہ یہ امتیاز اس طرح ہو گا کہ جس نے نہ خود کبھی حضور کی توہین کی اور نہ کبھی توہین رسول کرنے والے کو جان بوجھ کر اچھا مانا نہ اس کے قول فعل یا حال سے اس کی بد عقیدگی ثابت ہوئی تو ایسے شخص کے متعلق سمجھا جائے گا کہ یہ شخص نیک دل ہے اور اس کا انکار محض اس وجہ سے ہے کہ ہمارے مسئلہ کی کوئی دلیل اس نے نہیں پائی یا اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور جن لوگوں نے شانِ رسالت میں گستاخیاں کیں یا گستاخوں کی گستاخی پر مطلع ہو کر انہیں اچھا جانا اور اپنا مقتدا مانا یا ان کے کسی قول فعل یا حال سے بارگاہِ نبوت میں بد اعتقادی ظاہر ہوئی تو ایسے لوگ جب کسی فضیلت و منقبت کا انکار کریں گے تو ان کی بداعتقادی و گستاخ نوازی اس امر کی روشن دلیل ہو گی کہ ان کا یہ انکار معاذ اللہ محض عداوت اور بغض رسول ﷺ کی وجہ سے ہے۔ پہلا انکار تو ایسی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن دوسرا یقینا ایسا خوفناک ہے کہ جس کے تصور سے قلب مومن لرز اٹھتا ہے۔


الحاصل نبی کریم ﷺ کے جسم اقدس کا سایہ نہ ہونا بھی باب فضائل و مناقب سے ہے جس پر کفر و ایمان کا مدار نہیں لیکن منکرین کے دل کا بغض و عناد اس بات سے خوب ظاہر ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی ایک فضیلت ثابتہ کی نفی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ حتیٰ کہ بزعم خود تین حدیثیں معاذ اللہ جسم اقدس کا تاریک سایہ ثابت کرنے کے لئے تلاش بسیار کے بعد نکال لیں جن سے استدلال مذکور کا تصور آج تک کسی ذہن میں نہ آیا تھا۔ فضائل و کمالات نبوت کو مٹانے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کون سا شرمناک اقدام ہو سکتا ہے۔


منکرین نے تلاش بسیار کے بعد جو تین حدیثیں پیش کی ہیں ان کی صحت و حقانیت سے ہمیں بحث نہیں لیکن ان کے استدلال کی گفتگو جب ہمارے کان سنتے ہیں تو ہمیں نبی اکرم نورِ مجسم ﷺ کی وہ مبارک حدیث یاد آ جاتی ہے جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا تھا
سیکون فی اٰخر امتی اناسٌ یحدثونکم بما لم تسمعوا انتم ولا اباؤکم فایاکم وایاہم وفی روایۃ یاتونکم من الاحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا اٰباؤکم فایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنوکم۔ رواہ مسلم (مسلم جلد اول ص ۹ مشکوٰۃ جلد اول ص ۲۸)
حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا، اخیر زمانہ میں میرے امتی (کہلانے والے) تمہیں ایسی حدیثیں (باتیں) سنائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے باپ دادا نے۔ خبردار! ان سے دور رہنا۔ کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔


الفاظِ حدیث پڑھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ چودہ سو برس پہلے نگاہِ رسالت سے مخفی نہ تھا۔ پھر قابل غور یہ امر ہے کہ ابتداء اسلام میں ایک دور گزرا جب کہ جاہل ابناء اور ان کے مشرک آباء کا جاہلانہ وجدان شرک و جاہلیت کا معیار ہونے کی وجہ سے انتہائی نفرت و حقارت اور شدید ترین مذمت کے قابل تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے
مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَائَنَا وغیرہ آیات میں ان کا مقولہ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے بیان فرمایا لیکن اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی برکت ملاحظہ فرمایئے کہ اخیر زمانہ کے سچے مسلمانوں اور ان کے آباء مسلمین کے وجدان و سماعت کو حق و صداقت کا معیار بلکہ ہدایت کا وہ چمکتا ہوا مینار بنا دیا گیا کہ جو بات ان کے کانوں نے کبھی نہیں سنی وہ کسی مسلمان کے لئے سننے کے قابل ہی نہیں۔ اب اس بات کا فیصلہ ناظرین خود کریں گے کہ رسول اللہ ﷺ کے جسم اقدس کا معاذ اللہ تاریک سایہ ثابت کرنے کی بات کبھی آپ نے یا آپ کے باپ دادا نے سنی تھی؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو سمجھ لیجئے کہ یہ ایسی بات ہے جو آپ کے سننے کے قابل نہیں بلکہ اپنے آقا و مولیٰ حضور نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے بموجب آپ پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں سے آپ بچیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسی باتوں میں آ کر آپ گمراہی کے گڑھے میں جا پڑیں یا خدانخواستہ کسی اور فتنہ میں مبتلا ہو جائیں۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔


مخالفین کی پیش کردہ آیات و احادیث پر کلام کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں محل نزاع متعین کر دیا جائے تاکہ نفی و اثبات کے دونوں پہلو ناظرین کرام پر اچھی طرح واضح ہو جائیں۔ فاقول وباللّٰہ التوفیق۔


اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بشری جسم اقدس کو ایسا لطیف و نظیف اور پاکیزہ و مطہر کر دیا تھا کہ اس میں کسی قسم کی عنصری اور مادی کثافت باقی نہ رہی تھی۔ اس طرح چاند سورج چراغ وغیرہ کی روشنی میں جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوتے تھے تو جسم اقدس اس روشنی کے لئے حائل نہ ہوتا تھا اور دیگر اجسام کثیفہ کی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جسم پاک کا کوئی تاریک سایہ نہ پڑتا تھا کیونکہ سایہ اس جگہ کی تاریکی کو کہتے ہیں جہاں جسم کثیف کے حائل و حاجب ہو جانے کی وجہ سے چاند سورج وغیرہ کی روشنی نہ پہنچ سکے۔ جسم مبارک میں جب کثافت ہی نہ تھی تو وہ نورانی جسم کسی روشن چیز کی روشنی کے لئے کیونکر حائل ہو سکتا تھا؟ اس لئے تاریک سایہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسم مبارک پاک تھا۔


رہا یہ امر کہ بشری جسم کا مادی اور عنصری کثافتوں سے اس طرح پاک ہونا محال ہے کہ وہ روشنی کے لئے حاجب نہ ہو سکے تو یہ ایک دعویٰ بلا دلیل ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا صریح انکار ہے۔ جب وہ قادرِ مطلق نور سے ظلمت اور ظلمت سے نور کو ظاہر کر سکتا ہے اور زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ عدم کو وجود اور وجود کو عدم سے بدل دینے پر قادر ہے تو اس کے لئے بشری جسم کو مادی کثافتوں سے پاک کر دینا کون سی بڑی بات ہے؟


ہاں، اگر آپ یہ سوال کریں کہ یہ امر محال تو نہیں لیکن اس کے وقوع کی کیا دلیل ہے؟ تو میں عرض کروں گا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا حضور ﷺ کو سراجًا منیرًا (روشن کرنے والا چراغ) قرار دینا اور ان کے حق میں
قَدْ جَائَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ فرمانا اس وقوع کی چمکتی ہوئی دلیل ہے۔


کیونکہ جس ذاتِ مقدسہ کو
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ کہنے کا حکم دیا تھا۔ اگر اس کے وجود مبارک سے بشری کثافتوں کو پوری طرح دور نہ کر دیا ہوتا تو اس کے حق میں مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ اور سِرَاجًا مُّنِیْرًا کبھی نہ فرماتا۔ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کو باوجود بشر فرمانے کے نور ومنیر محض اس لئے فرمایا گیا ہے کہ جسم اقدس سے ہر قسم کی بشری کثافتیں بالکلیہ دور کر دی گئی ہیں اور جب کثافتیں دور ہو گئیں تو جسم اقدس کا تاریک سایہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور ہو گیا۔ وللّٰہ الحمد۔


بعض حضرات
مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ، سِرَاجًا مُّنِیْرًا کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ یہاں نور اور منیر سے صرف نورِ ہدایت مراد ہے، حسی اور جسمانی نور ہرگز مراد نہیں۔ ان شاء اللہ العزیز ہم اس موضوع پر کسی وقت مستقلاً سیر حاصل بحث کریں گے۔ سردست اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ جب حضور ﷺ کے جسم اقدس کے لئے جسمانی اور حسی نورانیت بھی احادیث کی روشنی میں ثابت ہے تو پھر آپ کو کیا حق ہے کہ اس کا انکار کریں اور دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی خدمت میں مزید اتنی گزارش ہے کہ ہماری پیش کردہ اس دلیل کو آپ اس لئے نہیں مانتے کہ یہ ہمارے قلم سے صادر ہوتی ہے۔ چلئے ہم سے آپ ناراض ہیں آپ کی مرضی۔ مگر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی سے تو کوئی ناراضگی نہیں۔ لیجئے ان ہی کے منوانے سے مان لیجئے۔ ہمیں تو آپ کو منوانا مقصود ہے خواہ کسی طرح آپ مانیں۔ دیکھیئے آپ کے مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ارقام فرماتے ہیں


وازیں جا است کہ حق تعالیٰ در شانِ حبیب خود ﷺ فرمود کہ آمدہ نزد شما از طرف حق تعالیٰ نور وکتاب مبین و مراد از نورِ ذات پاک حبیب خدا ﷺ است و نیز او تعالیٰ فرماید کہ اے نبی ﷺ ترا شاہد و مبشر و نذیر و داعی الی اللہ وسراج منیر فرستادہ ایم و منیر روشن کنندہ و نور دہندہ را گویند۔ پس اگر کسے را روشن کردن از انساناں محال بودے آں ذات پاک ﷺ راہم ایں امر میسر نیامدے کہ آں ذات پاک ﷺ از جملہ اولاد آدم علیہ السلام اند مگر آنحضرت ﷺ ذات خود را چناں مطہر فرمود کہ نور خالص گشتند و حق تعالیٰ آنجناب سلامہٗ علیہ را نور فرمود و بتواتر ثابت شدکہ آنحضرت عالی سایہ نداشتند و ظاہر است کہ بجز نور ہمہ اجسام ظل مے دارند انتہیٰ (مدار السلوک مطبوعہ بلالی دخانی پریس ساڈھورہ ص ۸۵، ۸۶ مصنفہ مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی)
ترجمہ: اور اسی جگہ سے یہ بات ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی شان میں فرمایا کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور آیا اور کتاب مبین آئی اور نور سے مراد حبیب خدا ﷺ کی ذات پاک ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو شاہد و مبشر اور نذیر اور داعی الی اللہ اور سراج منیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور منیر روشن کرنے والے اور نور دینے والے کو کہتے ہیں۔ پس اگر انسانوں میں سے کسی کو روشن کرنا محال ہوتا تو آنحضرت ﷺ کی ذات پاک کے لئے یہ امر میسر نہ ہوتا کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات پاک بھی جملہ اولاد آدم علیہ السلام سے ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات پاک کو ایسا مطہر فرما لیا کہ نورِ خالص ہو گئے اور حق تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نور فرمایا اور تواتر سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ سایہ نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں۔
مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوئیں
۱۔ آیت کریمہ
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْن میں نور سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات پاک مراد ہے۔
۲۔ حضور ﷺ سراج منیر ہیں اور منیر روشن کرنے والے اور نور دینے والے کو کہتے ہیں۔
۳۔ بشری جسم سے عنصری اور مادی کثافتوں کا دور ہو جانا محال نہیں بلکہ واقع ہے۔
۴۔ حضور ﷺ نے اپنی ذات پاک کو ایسا مطہر فرمایا کہ حضور ﷺ نور خالص ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے حضور کو نور فرمایا۔
۵۔ بشریت اور نورانیت کا جمع ہونا ممکن ہے۔
۶۔ حضور ﷺ کے جسم پاک کا سایہ نہ تھا۔
۷۔ حضور ﷺ کے جسم اقدس کا سایہ نہ ہونا تواتر سے ثابت ہے۔
۸۔ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں۔
۹۔ لفظ نور اور منیر سے حضور ﷺ کے لئے جو نورانیت مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے ثابت کی ہے وہ محض ہدایت کی نورانیت نہیں بلکہ حسی اور جسمانی نورانیت ہے کیونکہ حضور ﷺ کی نورانیت کو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے حضور کے سایہ نہ ہونے کی علت قرار دیا ہے اور صاف صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کا سایہ نہ تھا اور نور کے سوا ہر جسم کا سایہ ہوتا ہے تو جب تک حضور ﷺ کے لئے جسمانی نورانیت ثابت نہ ہو جسم اقدس سے سایہ کی نفی نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا آفتاب سے زیادہ روشن ہو گیا کہ قرآن کریم کی دونوں آیتیں
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ اور سِرَاجًا مُنِیْرًا حضور ﷺ کے جسمانی اور حسی نور ہونے کی دلیل ہیں اور یہ دونوں آیتیں ببانگ دہل حضور ﷺ کے جسم اقدس سے تاریک سائے کی نفی کر رہی ہیں۔


اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھ عقیدت رکھنے والے احناف اہل سنت ان دونوں آیتوں سے اپنے مسلک پر استدلال کرنے میں اگر معاذ اللہ گمراہ اور بے دین ہیں تو مولوی رشید احمد گنگوہی اس گمراہی اور بے دینی سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔


منکرین پر سخت حیرت ہے کہ جس مسلک کو وہ کفر و ضلالت قرار دیتے ہیں اور اس کے قائلین کو جہنم تک پہنچائے بغیر دم نہیں لیتے اگر وہی مسلک ان کے اکابر پیش کریں تو وہ ان سے کوئی تعرض نہیں کرتے۔ محض اس لئے کہ وہ ان کے مقتداء اور پیشوا ہیں۔ میں نہایت اخلاص کے ساتھ ان کی خدمت میں عرض کروں گا کہ خدا کے خوف کو دل میں جگہ دے کر ذرا سوچئے کہ آپ کا یہ طرزِ عمل
اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی عملی تفسیر نہیں تو اور کیا ہے؟
ماہنامہ تجلی دیوبند نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا ایک فتویٰ، فتاویٰ رشیدیہ سے نقل کیا ہے جس میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کی حدیث سے لاعلمی کا اظہار فرمایا ہے۔ اس کی بابت عرض ہے کہ
اگر آپ اس فتویٰ کو ہماری پیش کردہ عبارت کے معارض سمجھتے ہیں تو اس حیثیت سے کہ وہ آپ کے مقتداء ہیں۔ ان کے کلام میں رفع تناقض آپ ہی کے ذمہ ہے۔ جس طرح چاہیں اس تعارض کو دفع فرمائیں۔ اظہارِ لاعلمی کو سوء حافظہ پر مبنی قرار دیں یا
لِـکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا پر محمول کریں۔


لیکن اس حقیقت سے آپ انکار نہیں کر سکتے کہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے اپنی کتاب امداد السلوک میں حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کو تواتر سے ثابت مانا ہے۔ اب آپ کے لئے دو ہی صورتیں ہیں۔ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے ہم پایہ مجرم قرار دیں یا مولانا احمد رضا خان صاحب کو بھی کم از کم اس مسئلہ میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی طرح بے گناہ مان لیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آپ کی حق پسندی کا راز طشت ازبام ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔


اس تمام بحث و تمحیص کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جسم اقدس کو ایسا لطیف و نظیف اور نورانی مانتے ہیں کہ اس کا تاریک سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا۔ اس کے برخلاف منکرین کا مسلک یہ ہے کہ حضور ﷺ کا جسم مبارک عام انسانوں کی طرح معاذ اللہ ایسا کثیف تھا کہ اس کا تاریک سایہ پڑتا تھا۔


محل نزاع کی تعین کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ اپنے مسلک کی تائید میں ایک جامع بیان پیش کر دیں تاکہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ جس مسلک کو لوگ غلط اور فاسد کہہ رہے ہیں اس کے ساتھ امت مسلمہ کے کیسے کیسے جلیل القدر علماء محدثین و فقہائے کرام وابستہ ہیں۔
فاقول وبہ التوفیق عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ۔


اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور نبی اکرم نورِ مجسم ﷺ کا جسم اقدس اتنا لطیف ہے کہ اس میں کسی قسم کی جسمانی، عنصری اور مادی کثافت نہیں۔ حضور ﷺ نور ہیں۔ جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں
اللّٰہم اجعلنی نورًا کے چمکتے ہوئے الفاظ وارد ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے مسلم جلد اول ص ۲۶۱ مطبوعہ نول کشور لکھنؤ۔


اس مقام پر یہ شبہ وارد نہیں ہو سکتا کہ اس دعا سے پہلے حضور کی ذات پاک نور نہ تھی ورنہ دعا کی حاجت نہ ہوتی کیونکہ دعا کرنے سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ دعا سے پہلے وہ صفت نہ ہو جس کے لئے دعا کی گئی ہے۔ دیکھئے حضور ﷺ تمام عمر ہر نماز میں
اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا کرتے رہے تو کیا کسی مسلمان کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ معاذ اللہ دعا سے پہلے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام صراطِ مستقیم پر نہ تھے۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔


بلکہ اس مقام پر یوں کہنا پڑے گا کہ کسی نعمت کے لئے دعا کرنا بسا اوقات اس کے ثابت و باقی رہنے کے لئے ہوتا ہے یا اس نعمت کی ترقی مقصود ہوتی ہے یا اعتراف عبدیت کے لئے دعا کی جاتی ہے۔ اس کے ماسویٰ دعا کی حکمت تعلیم امت بھی ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں جن الفاظ میں حضور ﷺ نے دعا فرمائی وہ ایسے بابرکت ہو گئے کہ امت جب ان الفاظ میں دعا کرے گی تو وہ دعا حضور ﷺ کے بولے ہوئے الفاظ کی برکت کے طفیل اقرب الی الاجابت ہو گی اور امت کے حق میں وہ دعا جس رنگ میں قبول ہو سکتی ہے ضرور قبول ہو گی کیونکہ اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کے بولے ہوئے الفاظ ہیں۔ انہیں خالی واپس کرنا اللہ تعالیٰ کو گوارا نہ ہو گا۔


حاصل کلام یہ کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا سے حضور کی ذات پاک کا نور ہونا ثابت ہو گیا تو جسم اقدس کا سایہ نہ ہونا بھی لازمی طور پر ثابت ہو گیا کیونکہ سایہ نہ ہونا لوازم نور سے ہے اور قاعدہ ہے
اذا ثبت الشیء ثبت بجمیع لوازمہ
لہٰذا نورانیت محمدیہ ﷺ بھی اپنے لازم کے ساتھ ثابت ہو گی اور نورانیت کا لازم سایہ نہ ہونا ہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کا نور ہونا حضور کے سایہ نہ ہونے کی روشن دلیل ہے۔
 

اگلا صفحہ                        

ہوم پیج