پیش لفظ

غزالی زماں، رازیٔ دوراں، امام اہلسنّت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اس عاشق رسولﷺ اور صاحب کمالاتِ کثیرہ شخصیت کا نام ہے جس نے قطب دوراں، عظیم محدثِ ہند، خلیل ملت حضرت سید محمد خلیل کاظمی نور اللہ مرقدہٗ کی مہد علم و دانش میں تربیت پائی اور جن کی زندگی کا مقصد اسلامی مکارم اخلاق کا فروغ، شریعت محمدیہ کی ترویج، ناموسِ رسالت کا تحفظ، لوگوں کو گمراہی اور بدعقیدگی کے عمیق گڑھوں سے نکال کر صراطِ مستقیم پر گامزن کرنا اور عشق و محبت رسولﷺ کی شمع کو غلامانِ مصطفی کے دلوں میں اجاگر کرنا تھا۔

آپ نے علم و فضل، زہد و اتقاء اور اپنی عظیم پراخلاص خدمات کے ذریعے چار دانگ عالم میں نورِ اسلام سے ہدایت کے چراغ روشن کئے۔ تاریخ اسلام میں خدمت دین ملت، حقیقت و معرفت اور علم و عرفان کے لازوال ابواب رقم کئے۔ آپ کے درسِ حدیث میں ایک عجیب رنگ ہوتا۔ قال رسول اللّٰہ ﷺ کہتے ہی آواز رندھ جاتی اور آنکھیں اشک بار ہو جاتی تھیں۔ ایسا کیوں نہ ہوتا کہ عشق رسالت مآب ا آپ کو ورثہ میں ملا تھا اور محبت رسولﷺ کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ آپ کی ساری زندگی اتباع، ادائے مصطفی اور عشق رسولﷺ میں گزری۔ آپ کے لئے یہ بات تو قابل برداشت ہو سکتی تھی کہ کوئی آپ کی شان میں گستاخی کر کے آپ کو اذیت پہنچائے لیکن یہ کسی صورت گوارا نہیں تھا کہ کوئی بدبخت دشمن رسول ہمارے آقا و مولا تاجدارِ مدینہﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں کسر شان کا ارتکاب کرے۔ گویا منکرین عظمت رسولﷺ اور دشمنانِ دین و ایمان کے لئے آپ تیغ برہنہ تھے۔

آپ کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہوتے، آپ کو اس وقت تک راحت و سکون میسر نہ آتا جب تک گستاخانِ رسول کو دندان شکن جواب نہ دے لیتے۔ آپ کی کتابِ زندگی کا ہر صفحہ عشق و محبت رسولﷺ کے سنہری و نورانی حروف سے مزین اور آپ کی حیات کا ہر گوشہ اسی نور سے منور ہے۔ آپ کے درس و تدریس اور تقریر کی طرح آپ کے تمام مقالات سے بھی آپ کا یہ نصب العین نمایاں ہے۔

آپ کے مضامین کا یہ شہرہ آفاق مجموعہ جہاں عوام و خواص کے ذوق کی تسکین کا اپنے اندر سامان رکھتا ہے وہاں آپ کی نوکِ قلم سے نکلا ہوا ہر ہر لفظ بے مثال معنویت اور علمی نقطہ نظر سے کوزے میں دریا بند کرنے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر آپ کا طرزِ استدلال نورٌ علٰی نور ہے کہ قرآن و حدیث سے متفرق علوم و فنون کے اصول و جزئیات کا استنباط کرتے چلے جاتے اور پھر ان تخریجات کی قرآن و حدیث کے معارف سے توثیق کرتے۔ ایسے ہی گوہر ہائے نایاب سے چند ایک گراں قدر موتیوں کا انتخاب کر کے مقالاتِ کاظمی جلد اول کے نام سے ایک مجموعہ شائع کیا گیا۔

ان کی اہمیت اور علمی مقام اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ منکرین میں سے آج تک کسی سے بھی ان کا جواب نہ بن پڑا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک اور وعدہ وفا ہوا کہ مقالاتِ کاظمی جلد دوم نئی آن و شان کے ساتھ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ان شاء اللہ! جلد ہی مقالاتِ کاظمی جلد سوم نئی کتابت اور معیاری طباعت کے ساتھ دوبارہ منظر عام پر آئے گی اور مقالاتِ کاظمی جلد چہارم نفیس ترتیب کے ساتھ عوام اہلسنّت کے قلوب و اذہان کی تسکین کا ذریعہ بنے گی۔
اس حصہ کے حوالہ جات کی ازسرِ نو درستگی اور تزئین و آرئش کے لئے معاونت پر میں اپنے مخلص احباب حضرت علامہ عاشق حسین سہرانی صاحب، مولانا محمد امین سعیدی صاحب اور مولانا محمد اکرم سعیدی صاحب کا ادارہ کی طرف سے بہت شکر گزار ہوں۔ اس کتاب کی کتابت و طباعت میں حتی الوسع احتیاط برتی گئی ہے۔ پھر بھی اگر کوئی غلطی نظر آئے تو اس سے آگاہ فرمائیں تاکہ اس کو درست کیا جا سکے۔

شکریہ
حافظ محمد عبد الرزاق نقشبندی

ہوم پیج