کتاب التراویح

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

اما بعد! منکرین تقلید کی طرف سے مسئلہ تراویح پر جو مضامین اب تک شائع ہوئے ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شر ذمہ قلیلہ مٹھی بھر جماعت کے نزدیک بیس تراویح پڑھنے والے سب کے سب بدعتی، گمراہ، فاسق، فاجر اور العیاذ باللہ سنت رسول ﷺ کو مٹانے والے بد مذہب اورگنہگار ہیں کیونکہ جب بیس رکعت تراویح پڑھنا بدعت سیئہ قرار پایا تو جو بھی اس کو پڑھے گا یقینا بدعتی قرار پائے گا۔ ایسی صورت میں جمہور امت مسلمہ تمام صحابہ کرام حتیٰ کہ خلفائے راشدین بھی معاذ اللہ بدعتی اور گنہگار ہوئے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اصحابی کا لنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں تم جس کی اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ نیز فرمایا اقتدوا بعدی ابا بکر وعمر میرے بعد ابو بکر اور عمر کی اقتدا کرنا۔ ایک حدیث شریف میں ارشاد فرمایا علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین تم اپنے اوپر لازم پکڑو میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو۔ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں خاص طور پر ارشاد فرمایا لو کان بعدی نبی لکان عمر اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔ پھر صحیح حدیث میں وارد ہے لن تجتمع امتی علی الضلالۃ میری امت گمراہی پر ہرگز جمع نہ ہو گی۔

ان احادیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہے کہ جو گروہ جمہور امت کی طرف گمراہی کی نسبت کرے یا صحابہ کی اقتدا کو برا سمجھے اور خلفائے راشدین کی سنت کو بدعت قرار دے وہ یقینا غیر ناجی گروہ ہے اور حضور ﷺ کی امت کا بد خواہ، صحابہ اور خلفائے راشدین کا معاند ہے۔ آگے چل کر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے گی کہ وہ انہی غیر مقلدین کا گروہ ہے جو اپنے سوا تمام امت مسلمہ کو گمراہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک اگر کوئی حق پر ہے تو صرف وہی جو اس کا ہم عقیدہ اور ہم نوا ہے۔

تراویح کے متعلق صحیح مسلک معلوم کرنے کے لئے چند امور کی وضاحت کی جاتی ہے۔ ناظرین کرام اچھی طرح سمجھ لیں۔
(۱) رسول اللہ ﷺ نے صرف تین رات تراویح کی نماز با جماعت پڑھی۔ اس کے بعد بخوفِ فرضیت ترک فرما دی۔ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے تمام زمانے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور تک یہی حال رہا یعنی اہتمام جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھی گئی۔
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوسرے سال ۱۴ ھ میں امر تراویح کا استقرار ہوا یعنی اجتماع علی الامام اور اہتمام جماعت کے ساتھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز تراویح کا امر فرمایا۔
(۲) تراویح ترویحہ کی جمع ہے۔ ترویحہ کے معنی آرام کرنے کے ہیں اور نماز تراویح کو تراویح اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ابتدائے امر میں ہر چار رکعت کے بعد لوگ استراحت کرتے تھے۔ صحیح بخاری جلد ثانی ص ۵۹۹ اور زرقانی شرح موطا امام مالک جلد اول ص ۲۱۳ مطبوعہ مصر پر ہے
عن اللیث انہ قال سمیت صلٰوۃ الجماعۃ فی لیالی رمضان بالتراویح لانہم اول ما اجتمعوا علیہا کانوا یستریحون بین کل تسلیمتین قدر ما یصلی الرجل کذا وکذا رکعۃ رواہ محمد بن نصر۔ حضرت لیث سے مروی ہے وہ فرماتے ہیںکہ رمضان کی راتوں میں صلوٰۃ با جماعت کا نام تراویح اس لئے رکھا گیا کہ جب لوگوں نے ابتداء جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا شروع کی تو وہ ہر چار رکعت کے بعد اتنی دیر استراحت کرتے تھے کہ آدمی اتنی دیر میں چار رکعتیں پڑھ سکے۔ بحر الرائق جلد ۲ ص ۶۶ پر ہے والتراویح جمع ترویحۃ وہی فی الاصل مصدر بمعنی الاستراحۃ سمیت بہ لا ربع رکعات المخصوصۃ لاستلزام استراحۃ بعدہا کما ہو السنۃ فیہا۔ (تراویح ترویحہ کی جمع ہے اور وہ اصل میں مصدر ہے بمعنی استراحت چار مخصوص رکعتوں کا نام ترویحہ اس لئے رکھا گیا کہ سنت کے مطابق ان چار رکعتوں کے بعد استراحت لازم ہے۔

غیر مقلدین بھی تراویح کو سنت کہتے ہیں مگر بیس رکعت کی بجائے آٹھ رکعت کے قائل ہیں۔ حالانکہ آٹھ رکعت کو تراویح کہنا صحیح نہیں۔ اس لئے کہ عبارات منقولہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ترویحہ چار رکعت کو کہتے ہیں اور تراویح ترویحہ کی جمع ہے۔ لہٰذا آٹھ رکعت کو ترویحتین کہنا درست ہے۔ تراویح کہنا درست نہیں۔ البتہ بیس رکعت کو تراویح کہنا صحیح ہے کیونکہ وہ پانچ ترویحہ کا مجموعہ ہے۔ معلوم ہوا کہ لفظ تراویح اس دعویٰ کی روشن دلیل ہے کہ آٹھ رکعت تراویح نہیں (بلکہ وہ نماز تہجد ہے) اور تراویح بیس رکعت ہی کا نام ہے۔ جیسا کہ جمہور امت مسلمہ اہل سنت و جماعت اور ائمہ اربعہ کا مذہب ہے۔

(۳) تہجد اور تراویح کی نمازیں الگ الگ ہیں۔ نماز تہجد ابتدائے اسلام میں ہجرت سے پہلے فرض ہوئی پھر سال بھر کے بعد نفل ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ اس وقت تک صیام رمضان کی فرضیت اور صلوٰۃ تراویح کی مشروعیت کا کوئی وجود نہ تھا۔ ابو داؤد شریف جلد اول ص ۱۹۰ باب فی صلوٰۃ اللیل مطبوعہ نول کشور میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں وارد ہوا کہ حکیم بن افلح سعد بن ہشام کو ساتھ لے کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا حدثینی عن قیام اللیل فقالت الست تقرأ یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قال قلت بلٰی قالت فان اول ہٰذہ السورۃ نزلت فقام اصحٰب رسول اللّٰہ ا حتّٰی انتفخت اقدامہم وحبس خاتمتہا فی السماء اثنٰی عشر شہرا ثم نزل اٰخرہا فصار قیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ۔ الحدیث (حضرت حکیم بن افلح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا کہ حضور ﷺ کے قیام لیل کے بارے میں مجھے بتایئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کیا تم یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا، کیوں نہیں، پڑھتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا جب اس سورت کا اول حصہ نازل ہوا تو حضور ﷺ اور حضور ﷺ کے صحابہ نے قیام لیل کیا۔ یہاں تک کہ ان کے قدم مبارک متورم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے خاتمے کوبارہ مہینے تک آسمان میں روک لیا۔ پھر اس کا آخری حصہ نازل ہوا اور قیام لیل فرض سے بدل کر نفل ہو گیا۔)

اس حدیث سے ظاہر ہے کہ تہجد کی نماز ہجرت سے پہلے ابتدائے اسلام میں مشروع ہو چکی تھی اور صحابہ کرام رمضان اور غیر رمضان میں اس کو ادا کرتے تھے لیکن تراویح کا کوئی وجود اس وقت تک نہ تھا۔ پھر ۲ ھ میں جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوئے تو حضور ﷺ نے شعبان کے آخری دن کے خطبے میں ارشاد فرمایا جعل اللّٰہ صیامہ فریضۃ وقیامۃ تطوعا اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے کو فرض اور اس کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ مشکوٰۃ شریف ص ۱۷۳

اس حدیث سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ تراویح اور تہجد الگ الگ نمازیں ہیں اگر قیام رمضان سے نماز تہجد مراد ہوتی تو وہ رمضان شریف سے پہلے ہی مشروع تھی۔ رمضان سے اس کو کوئی خاص تعلق نہ تھا۔ پھر اسے حدیث میں خاص طور پر ذکر فرمانا اور قیام رمضان قرار دینا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ قیام رمضان سے صلوٰۃ تہجد مراد نہیں بلکہ وہی خاص نماز تراویح مراد ہے جو رمضان کے علاوہ کسی دوسرے وقت میں مشروع نہیں ہوئی۔

ابن ماجہ ص ۹۵ پر ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کتب اللّٰہ علیکم صیامہٗ وسننت لکم قیامہٗ (حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض فرمائے ہیں اور میں نے تمہارے لئے اس کا قیام مسنون کیا) اب اگر اس کو نمازِ تہجد تسلیم کیا جائے تو نمازِ تہجد اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے مشروع ہو چکی تھی۔ حضور ﷺ کا اس وقت اس کو مسنون فرمانا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا کہ قیام رمضان جس کو حضور ﷺ نے مسنون فرمایا وہ صلوٰۃ تہجد نہ تھی بلکہ صلوٰۃ تراویح تھی۔

(۴) تہجد کے معنی سونے اور بیدار ہونے کے ہیں اور یہ لفظ لغات اضداد سے ہے اسی لئے شرعاً نمازِ تہجد اسی نماز کو کہا جائے گا جو نمازِ عشاء پڑھ کر سونے کے بعد بیدار ہونے پر پڑھی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے نمازِ تہجد ہمیشہ آخر شب میں پڑھی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں وارد ہے عن مسروق قال سألت عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا قلت ای حین کان یقوم من اللیل قالت کان یقوم اذا سمع الصارخ۔ (حضرت مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ صلوٰۃ لیل یعنی نماز تہجد کے لئے کس وقت اٹھتے تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ ارشاد فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ مرغ کی آواز سن کر اٹھتے تھے) (بخاری شریف جلد اول ص ۱۵۲ کتاب التہجد باب من نام عند السحر مسلم شریف جلد اول ص ۲۵۵ باب صلوٰۃ اللیل)۔ یہ حدیث اس دعویٰ پر نص صریح ہے کہ حضور ﷺ نمازِ تہجد ہمیشہ آخر شب میں پڑھا کرتے تھے۔

دوسری حدیث حضرت اسود سے روایت ہے بخاری شریف میں ہے قال سألت عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا کیف کان صلٰوۃ النبی ﷺ باللیل قالت کان ینام اولہٗ ویقوم اٰخرہٗ فیصلی ثم یرجع الٰی فراشہٖ فاذا اذن المؤذن وثب فان کان بہٖ حاجۃ اغتسل والا توضأ وخرج۔ (بخاری ص ۱۵۴ ج ۱۔ عینی ج ۷ ص ۲۰۱) یعنی حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رات میں حضور ﷺ کی نماز کس طرح ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ حضور ﷺ اول رات میں سو جاتے تھے اور آخر رات میں اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ پھر اپنے بستر مبارک پر تشریف لے جاتے پھر جب مؤذن اذان دیتا تیزی سے اٹھتے پھر اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو فرما کر مسجد کی طرف تشریف لے جاتے۔

عینی طبع جدید ج ۷ ص ۲۰۳ پر ہے واما حدیث حجاج بن عمرو فرواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط من روایۃ کثیر بن العباس عنہ قال ایحسب احدکم اذا قام من اللیل یصلی حتّٰی یصبح ان قد تہجد انما التہجد الصلٰوۃ بعد رقدۃ ثم الصلٰوۃ بعد رقدۃ ثم الصلٰوۃ بعد رقدۃ تلک کانت صلٰوۃ رسول اللّٰہ ا۔

یعنی حجاج بن عمرو سے بروایت کثیر بن العباس طبرانی نے کبیر اور اوسط میں روایت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ تم جب بھی رات میں صبح تک نماز پڑھ لیا کرو تو تہجد کی نماز ادا ہو جایا کرے گی۔ جزایں نیست کہ تہجد وہ نماز ہے جو سونے کے بعد ہو پھر نماز سونے کے بعد تین مرتبہ اسی طرح ارشاد فرمایا اور پھر کہا کہ حضور ﷺ کی نماز اسی طرح تھی یعنی حضور ﷺ خواب سے بیدار ہو کر نمازِ تہجد پڑھا کرتے تھے۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک تین مرتبہ صلوٰۃ بعد رقدۃ کا تحقق نہ ہو اس وقت تک تہجد متصور نہ ہو گا تو میں عرض کروں گا کہ حدیث کا واضح مفہوم وہی ہے جو پہلے بیان کیا جا چکا ہے یعنی نیند کئے بغیر اگر کوئی شخص تمام رات صبح تک بھی نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز تہجد نہ ہو گی۔ تہجد کا تحقق سونے کے بعد ہی نماز پڑھنے پر منحصر ہے اور الصلوٰۃ بعد رقدۃ کی تکرار محض تاکید کے لئے ہے کیونکہ بخاری شریف کی حدیث منقولہ بالا و دیگر احادیث صحیحہ کثیرہ سے یہ بات واضح ہے کہ حضور ﷺ ایک بار نماز تہجد پڑھ کر سو جاتے تھے پھر اس وقت اٹھتے تھے جب مؤذن اذان دیتا تھا اور بعض روایات میں جو حضور ﷺ کا متعدد مرتبہ خواب سے بیدار ہو کر نماز پڑھنا وارد ہے وہ بعض احوال پر محمول ہے حالانکہ نماز تہجد پر حضور ﷺ نے جمیع احوال میں مواظبت فرمائی ہے۔ بہرحال اس میں شک نہیں کہ اس حدیث کے الفاظ انما التہجد بعد رقدۃ اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ تہجد کے لئے سو کر اٹھنا ضروری ہے۔ بغیر سوئے صلوٰۃ الیل تہجد نہیں ہو سکتی۔

لیکن نماز تراویح حضور ﷺ نے اول شب میں پڑھی۔ ملاحظہ ہو

عن ابی ذر قال صمنا مع رسول اللّٰہ ا فلم یقم بنا شیئا من الشہر حتّٰی بقی سبع فقام بنا حتّٰی ذہب ثلث اللیل فلما کانت السادسۃ لم یقم بنا فلما کانت الخامسۃ قام بنا حتّٰی ذہب شطر اللیل فقلت یا رسول اللّٰہ ا لو نفلتنا قیام ہٰذہ اللیلۃ فقال ان الرجل اذا صلّٰی مع الامام حتّٰی ینصرف حسب لہٗ قیام لیلۃ فلما کانت الرابعۃ لم یقم بنا فلما کانت الثالثۃ جمع اہلہ ونسائہ والناس فقام بنا حتّٰی خشینا یفوتنا الفلاح قلت ما الفلاح قال السحور ثم لم یقم بنا بقیۃ الشہر۔(رواہ ابو داؤد والترمذی والنسائی و ابن ماجہ مشکوٰۃ شریف ص ۱۱۴) باب قیام رمضان

حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روزے رکھے تو حضور ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام نہ فرمایا یہاں تک کہ (انتیس دن والے رمضان کے) سات دن رہ گئے پھر حضور ﷺ نے ہمارے ساتھ تیئیسویں شب کو قیام فرمایا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی پھر جب مہینے کے اخیر سے شمار کرتے ہوئے چھٹی رات یعنی چوبیسویں شب ہوئی تو ہمارے ساتھ قیام نہ فرمایا پھر جب اسی حساب سے پانچویں یعنی پچیسویں شب آئی تو حضور ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا۔ حتیٰ کہ نصف شب گزر گئی پھر میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ کاش اس رات کے قیام کو آپ ہمارے لئے زیادہ فرماتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص امام کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کے لئے تمام رات کا قیام لکھا جاتا ہے پھر جب اسی حساب سے چوتھی رات یعنی چھبیسویں شب آئی تو حضور ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام نہ فرمایا۔ اس کے بعد بحساب مذکور تیسری یعنی ستائیسویں شب آئی تو حضور ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات اور اہل و عیال اور صحابہ کرام کو جمع فرمایا اور ہمارے ساتھ قیام فرمایا یہاں تک کہ ہم ڈرے کہ ہم سے فلاح فوت نہ ہو جائے۔ میں نے کہا کہ فلاح کیا ہے؟ کہا فلاح سحری ہے۔ پھر بقیہ مہینہ حضور ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام نہ فرمایا۔ اس حدیث کو ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔

اس حدیث شریف سے واضح ہے کہ رمضان شریف کی ان تینوں راتوں میں حضور ﷺ نے اول شب میں نماز تراویح شروع فرمائی۔ پہلی رات میں تہائی حصہ گزر جانے کے بعد فراغت ہوئی۔ دوسری شب میں نصف شب گزر جانے پر اور تیسری رات اول سے آخر تک نماز پڑھنے میں گزری۔ بہرحال یہ حقیقت اس حدیث سے بخوبی واضح ہو گئی کہ نمازِ تراویح تینوں راتوں میں حضور ﷺ نے اول وقت میں پڑھی اور نمازِ تہجد کا ہمیشہ آخر وقت میں پڑھنا اس سے پہلے احادیث صحیحہ سے ثابت کر چکے ہیں۔ لہٰذا آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہو گیا کہ نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح الگ الگ نمازیں ہیں اور ان دونوں کو ایک سمجھنا غلط فہمی پر مبنی ہے۔

سنن اربعہ کی حدیث مذکور سے جہاں یہ بات ثابت ہوئی کہ حضور ﷺ نے تینوں رات اول وقت میں نماز تراویح پڑھی وہاں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ تراویح کی تیسری شب میں حضور ﷺ سحر تک نہیں سوئے بلکہ وہ تمام رات تراویح پڑھنے میں گزر گئی حالانکہ نمازِ تہجد حضور ﷺ نے ساری رات کبھی نہیں پڑھی۔ نہ حضور ﷺ نمازِ تہجد کے لئے تمام شب کبھی بیدار رہے بلکہ عادتِ کریمہ یہ تھی کہ رات کے بعض حصے میں حضور ﷺ خواب استراحت فرماتے اور بعض حصے میں بیدار رہ کر صلوٰۃ تہجد ادا فرماتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص حضور ﷺ کو رات کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتا تو سوتا ہوا دیکھ سکتا تھا اور اگر اسی رات میں نماز پڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا تو نماز پڑھتا ہوا بھی دیکھ سکتا تھا۔ چنانچہ بخاری شریف ج اول ص ۱۵۳ باب قیام النبی ﷺ باللیل و نومہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وکان لا تشاء ان تراہ من اللیل مصلیا الا رأیتہ ولا نائما الا رأیتہ حضور ﷺ کی یہ شان تھی کہ اگر تو رات کے وقت حضور کو نماز پڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا تو دیکھ سکتا تھا اور اگر تو استراحت میں دیکھنا چاہتا تو دیکھ سکتا تھا اور خود حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ولا اعلم نبی اللّٰہ ا قرأ القراٰن کلہ فی لیلۃ الی الصبح ولا صام شہرا کاملا غیر رمضان رواہ مسلم و مشکوٰۃ باب الوتر فصل اول ص ۱۱۱ مطبوعہ مجیدی کانپور

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات کبھی سارا قرآن پاک پڑھا ہو اور نہ یہ جانتی ہوں کہ حضور ﷺ نے کسی رات صبح تک نماز پڑھی ہو (اور یہاں نماز سے مراد نمازِ تہجد ہے کیونکہ ہم پہلی حدیث سے صلوٰۃ تراویح تمام رات پڑھنا ثابت کر چکے ہیں اور نہ یہ کہ رمضان کے علاوہ حضور ﷺ نے سوائے رمضان تمام مہینہ روزہ رکھا ہو) جب تراویح کی نماز حضور ﷺ نے تمام رات پڑھی اور نماز تہجد کے لئے حضور ﷺ تمام رات کبھی بیدار نہیں ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ دونوں نمازیں جداگانہ ہیں۔

احادیث صحیحہ کثیرہ سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے نمازِ تہجد جوف لیل سے پہلے کبھی نہیں پڑھی۔ حضور ﷺ کی نماز تہجد ہمیشہ جوف لیل اور آخر شب ہی میں ثابت ہے۔ موطا امام مالک ص ۵۶ مطبوعہ مجتبائی دہلی باب ما جاء فی الدعا میں حضرت طاؤس حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ان رسول اللّٰہ ﷺ کان اذا قام الی الصلٰوۃ من جوف اللیل یقول اللّٰہم لک الحمد۔ الحدیث (حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ شب کے درمیانی حصے میں صلوٰۃ (تہجد) کے لئے اٹھتے تھے تو اللّٰہم لک الحمد فرماتے تھے۔ الحدیث

اس حدیث میں صلوٰۃ سے صلوٰۃ تہجد مراد ہونے پر دلیل ہے کہ یہی حدیث امام بخاری نے ان لفظوں میں روایت کی ہے اذا قام من اللیل یتہجد اور یہی حدیث ابن خزیمہ نے بایں الفاظ روایت کی ہے اذا قام لتہجد زرقانی شرح موطا امام مالک ج اول ص ۳۸۶ اور فتح الباری ج ۳ ص ۲ باب التہجد باللیل۔

علامہ طبری بھی تہجد کا وقت سونے کے بعد جاگنے پر ہی قرار دیتے ہیں اور اسے وہ سلف صالحین سے نقل کرتے ہیں۔ جیسا کہ فتح الباری ج ۳ ص ۲ پر ہے وقال الطبری التہجد السہر بعد نومۃ ثم ساقہٗ عن جماعۃ من السلف

نمازِ تہجد کا وقت سو کر اٹھنے کے بعد ہی ہے اس سے پہلے نہیں جیسا کہ امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر ج خامس مطبوعہ مصر ص ۶۳۳ پر فرماتے ہیں ثم رأینا ان فی الشرع یقال لمن قام من النوم الی الصلٰوۃ انہٗ متہجد یعنی اصطلاح شرع میں اسی شخص کو تہجد گزار کہا جائے گا جو نیند سے اٹھ کر نماز پڑھے۔ اسی طرح فتوحاتِ الٰہیہ ج ثانی ص ۶۴۲ پر ہے ثم لما رأینا فی عرف الشرع انہٗ یقال لمن انتبہ باللیل من نومہٖ وقام الی الصلٰوۃ انہٗ متہجد وجب ان یقال سمی ذالک متہجدا من حیث انہ القی الہجود پھر جب ہم نے عرف شرع میں دیکھا کہ جو شخص رات کو اپنی نیند سے بیدار ہو کر نماز کے لئے کھڑا ہو وہی تہجد گزار ہے تو یہ کہنا واجب ہو گیا کہ نمازِ تہجد پڑھنے والے کو اسی وجہ سے متہجد کہتے ہیں کہ اس نے نیند کو اپنے آپ سے دور کر دیا۔

مشکوٰۃ شریف باب التحریض علیٰ قیام اللیل فصل اول ص ۱۰۹ مطبوعہ مجیدی کانپور میں ہے عن عائشۃ قالت کان تعنی رسول اللّٰہ ا ینام اول اللیل ویحی اٰخرہٗ۔ متفق علیہ۔ بخاری اور مسلم کی متفق حدیث میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اول رات میں سو جاتے تھے اور آخر رات کو زندہ فرماتے یعنی اس میں نماز پڑھتے تھے۔
بعض لوگوں کا یہ سمجھنا کہ صلوٰۃ لیل اور صلوٰۃ تہجد میں کچھ فرق نہیں۔ دونوں کا وقت اول شب سے آخر شب تک ہے مگر آخر شب کو اول شب پر فضیلت ہے۔ نمازِ تہجد کا افضل وقت آخر شب ہی ہے لیکن اول شب میں نماز تہجد پڑھ لی جائے تو درست ہے کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس لئے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ کبھی رسول اللہ ﷺ نے رات کے ابتدائی حصے میں تہجد کی نماز پڑھی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ صلوٰۃ لیل تہجد بھی ہے اور غیر تہجد بھی۔ تہجد غیر تہجد سے بہتر ہے۔ لہٰذا جن حدیثوں میں آخر شب کی نماز کو افضل قرار دیا گیا ہے ان کا یہ مطلب نہیں کہ رات کے ابتدائی حصے میں تہجد پڑھنا جائز ہے۔ افضلیت آخر شب کے تہجد میں ہے بلکہ ان احادیث کا واضح مفہوم یہی ہے کہ صلوٰۃ لیل اگرچہ رات کے ابتدائی حصے میں جائز ہے لیکن صلوٰۃ لیل میں افضل ترین صلوٰۃ تہجد ہی ہے اور اس کا وقت سو کر اٹھنے کے بعد ہی ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو اول شب میں تراویح پڑھنے والوں سے فرمایا تھا کہ والتی تنامون عنہا افضل من التی تقومون اس کا مطلب یہی ہے کہ تم لوگ رات کے پہلے حصے میں نماز تراویح پڑھ کر آخر شب میں سو جاتے ہو اور اس وجہ سے تہجد کی فضیلت سے محروم رہتے ہو۔ اگر یہی صلوٰۃ تراویح تم آخر شب میں ادا کرو تو تراویح کے ساتھ نماز تہجد بھی اد ہو جائے گی۔ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ صلوٰۃ تہجد قبل النوم اول شب میں ادا نہیں ہوتی۔

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس امر کو واضح فرما رہے ہیں کہ تہجد اصطلاح شرع میں تطوع بعد از نوم کو کہتے ہیں۔ نیز علامہ شامی نے فرمایا نعم صلٰوۃ اللیل وقیام اللیل اعم من التہجد یعنی صلوٰۃ لیل اور تہجد کو مساوی سمجھنا غلط ہے بلکہ صلوٰۃ لیل تہجد سے اعم ہے۔ فیض الباری جزو ثانی ص ۴۰۷ پر ہے وقال العلماء ان اسم التہجد لا یصدق الا بعد الہجود فلا یطلق علٰی صلٰوۃ اللیل قبل الہجود یعنی علماء کا قول ہے کہ تہجد کا لفظ سونے کے بعد ہی صادق آ سکتا ہے۔ لہٰذا صلوٰۃ قبل از نوم پر لفظ تہجد کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔

خلاصہ یہ کہ نماز تہجد وہی ہے جو عشاء کے بعد خواب سے بیدار ہو کر پڑھی جائے لیکن اگر کسی کو مجبوری کے باعث نماز تہجد پڑھنے کا موقع نہیں ملا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تہجد کی نعمت اور اس کے ثواب سے محروم رہ جائے بلکہ آخر شب میں اس کی نفل نماز صلوٰۃ تہجد کے قائم مقام ہو گی۔ معلوم ہوا کہ کسی نماز کا نام صلوٰۃ تہجد نہ ہونا اس امر کو مستلزم نہیں کہ وہ صلوٰۃ تہجد کے قائم مقام بھی نہ ہو سکے۔ جس طرح صلوٰۃ ضحی اور صلوٰۃ کسوف باہم مختلف ہیں لیکن اگر کوئی شخص ضحی کے وقت میں صلوٰۃ کسوف پڑھ لے تو وہ صلوٰۃ ضحی کے قائم مقام قرار پائے گی لیکن اس کو صلوٰۃ ضحی نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح حضور ﷺ کی وہ رکعات تراویح جو حضور ﷺ نے آخر شب میں ادا فرمائیں اگرچہ ان کا نام صلوٰۃ تہجد نہیں لیکن چونکہ وہ تہجد کے وقت میں پڑھی گئی تھیں اس لئے تہجد کے قائم مقام ضرور ہوں گی۔

رہا یہ شبہ کہ نمازِ تہجد حضور ﷺ پر فرض تھی اور نماز تراویح نفل تو اگر پچھلی رات کی تراویح کو تہجد کے قائم مقام کیا جائے تو لازم آئے گا کہ نفل فرض کے قائم مقام ہو جائے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ نمازِ تہجد کی فرضیت حضور ﷺ کے حق میں یقینی اور متفق علیہ نہیں اور اگر اس سے قطع نظر کر لیا جائے تو میں عرض کروں گا کہ جب حضور ﷺ پر نمازِ تہجد فرض تھی تو کیا یہ ممکن نہیں کہ حضور ﷺ نے آخری رکعت تراویح میں تہجد کی نیت فرمائی ہو۔ اس صورت میں زیادہ سے زیادہ متنفل کی اقتداء متفرض کے ساتھ لازم آئے گی وہ بالاتفاق جائز ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح نمازِ تہجد کی فرضیت حضور ﷺ کا خاصہ تھا اسی طرح حضور ﷺ کی تراویح کا حضور ﷺ کے تہجد کے قائم مقام ہونا بھی حضور ﷺ کا خاصہ ہو سکتا ہے۔ شرعاً و عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں۔ لہٰذا ہر تقدیر پر وجود احتمال کی وجہ سے یہ شبہ وارد ہوا اور بے بنیاد ہے۔

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ باب التحریض علٰی قیام اللیل فصل اول کی حدیث ینزل ربنا تبارک وتعالٰی کل لیلۃ الی السماء الدنیا حین یبقٰی ثلث اللیل الاٰخر کے تحت فرماتے ہیں قال فی النہایۃ تخصیص الثلث الاٰخر لانہ وقت التہجد مرقاۃ ج ۳ ص ۱۴۵۔ نہایہ میں کہا کہ رات کے آخری تہائی حصہ کی تخصیص اس لئے ہے کہ وہ تہجد کا وقت ہے۔

یہاں یہ امر بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ صلوٰۃ تہجد کے لئے ضروری نہیں کہ وہ نوافل کے وقت پڑھی جائے بلکہ نمازِ عشاء کے بعد سو کر اٹھنے پر جو نماز پڑھ لی جائے اس سے تہجد حاصل ہو جاتا ہے۔ علامہ شامی رد المختار ج اول ص ۵۰۶ پر فرماتے ہیں تنبیہ: ظاہر امر ان التہجد لا یحصل الا بالتطوع فلو نام بعد صلٰوۃ العشاء ثم قام فصلّٰی فرأیت لا یسمّٰی تہجدا وتردد فیہ بعض الشافعیۃ والظاہر ان تقییدہ بالتطوع بناء علی الغالب وانہ یحصل بای صلٰوۃ کانت۔

گزشتہ بیان کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ تہجد بغیر نفل کے ادا نہیں ہوتا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نمازِ عشاء کے بعد سو گیا پھر اٹھ کر فوت شدہ فرض یا واجب نمازیں پڑھیں تو اس نماز کا نام تہجد نہ ہو گا اور بعض شافعیہ نے اس میں تردد کیا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ تہجد کو نفل سے مقید کرنا بناء علی الغالب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ (تہجد) وقت تہجد میں ہر قسم کی نماز پڑھنے سے ادا ہو سکتا ہے (انتہیٰ) مثلاً اگر تہجد کے وقت میں تراویح پڑھی گئی تو نمازِ تہجد بھی ادا ہو جائے گی اور یہی مطلب تھا حضرت عمر کا کہ اگر آخر شب میں صلوٰۃ تراویح پڑھی جاتی تو تراویح کے ساتھ تہجد بھی ادا ہو جاتا۔

نمازِ تہجد کا وقت احادیث منقولہ اور عبارات علماء و فقہا کی روشنی میں بعد العشاء خواب سے بیدار ہونے کے بعد ہی ہے۔
اس مقام پر یہ شبہ وارد کرنا کہ حضور ﷺ نے رمضان شریف میں جو تین رات تراویح پڑھی ان راتوں میں نمازِ تہجد ادا نہیں فرمائی اور آخری رات حضور ﷺ سوئے بھی نہیں تو وقت تہجد کا تحقق بھی نہیں ہوا، کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ تراویح مذکورہ تین راتوں میں پہلی اور دوسری رات حضور ﷺ کا آخر شب میں معتد بہ نیند فرما کر نمازِ تہجد پڑھنا قطعاً امر مستبعد اور محال نہیں اگرچہ منقول نہ ہو کیونکہ عدم نقل عدم وجود کو مستلزم نہیں۔ البتہ تیسری رات کے متعلق شبہ کیا جا سکتا ہے مگر غور کرنے سے یہ شبہ بھی بے بنیاد معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ تحقق تہجد کے لئے قابل ذکر اور معتد بہ نیند کرنا ضروری نہیں۔ صرف اس قدر سو جانا بھی کافی ہے جسے لغۃً اور شرعاً نیند کہا جاتا ہے اگرچہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح احکام وضو میں جس نیند کو شرعاً فی بعض الاحوال معتبر مانا گیا ہے اس کا بھی یہی حال ہے اور ایسی قلیل ترین نیند کا اس رات متحقق ہو جانا ہرگز امر بعید نہیں۔ عام طور پر نماز پڑھتے ہوئے بھی اتنی نیند کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ پھر یہ امر بھی محتاجِ بیان نہیں کہ ایسی نیند عام طور پر معتد بہ اور قابل ذکر نہیں ہوا کرتی۔ لہٰذا اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اس رات تمام شب حضور ﷺ نمازِ تراویح کے لئے بیدار رہے تو یہ قول اس اقل قلیل نیند کے منافی نہ ہو گا۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات نمازِ تہجد مستقلاً علیحدہ نہیں پڑھی مگر اس بنا پر حضور سید عالم ﷺ کے حق میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معاذ اللہ حضور ﷺ نے اس رات تہجد ترک فرما دیا تھا کیونکہ جمہور امت مسلمہ کے نزدیک حضور ﷺ پر نمازِ تہجد فرض تھی۔ حضور ﷺ کے حق میں العیاذ باللہ ترکِ فرض کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ ضرور کہا جائے گا کہ تہجد کے وقت میں جو نماز نفل بھی پڑھ لی جائے اس سے تہجد ادا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس رات تراویح پڑھنے سے حضور ﷺ کی نمازِ تہجد بھی ادا ہو گئی۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نمازِ عشاء کے فوراًبعد اول شب میں یا بغیر سوئے نمازِ تہجد ادا ہو جاتی ہے ان کا دعویٰ اس حدیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے ایسا نہیں کیا کہ اول ہی شب میں نمازِ تراویح پڑھ کر سحر تک سو گئے ہوں بلکہ تمام رات تراویح ادا فرمائی اور اس میں حضور ﷺ کی وہی نماز نمازِ تہجد کے قائم مقام قرار پائے گی جو آپ نے آخر شب میں پڑھی تھی۔ اس لئے کہ اول شب میں حضور ﷺ کا تہجد پڑھنا کسی حدیث سے آج تک ثابت نہیں ہو سکا۔ حدیث کفتاہ عن التہجد ہمارے اس دعویٰ کو زیادہ واضح کر دیتی ہے اس لئے اگر قبل النوم تہجد متحقق ہوتا تو ان دو رکعتوں کو عین تہجد قرار دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا جس سے واضح ہو گیا کہ قبل النوم تہجد متحقق نہیں ہو سکتا۔

 

اگلا صفحہ                                                                                                  ہوم پیج