فلسفۂ قربانی
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ
پس نماز پڑھ واسطے اپنے پروردگار کے اور قربانی کر

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْد

غالباً ۵۰ ء میں مروجہ قربانی کے خلاف لاہور میں ایک پمفلٹ میری نظر سے گزرا تھا جس کے مصنف نے انکارِ حدیث کو اپنے دعویٰ کی اصل بنیاد قرار دے کر اسلام کے ایک عظیم الشان شعار یعنی مروجہ قربانی کا شدید انکار اور اس کی اشد ترین توہین کی تھی۔ نہ صرف توہین بلکہ دین دار مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا تھا۔ میں نے اسی وقت نہایت متانت اور سنجیدگی کے ساتھ علم و عقل کی روشنی میں اس کا مدلل جواب لکھ کر شائع کر دیا تھا جسے اہل علم کی انصاف پسند طبائع نے بہت پسند کیا اور اسے پڑھ کر طالبانِ حق کے قلوب مطمئن ہو گئے۔

اب اس کے پانچ سال بعد اسی فتنہ نے دوبارہ سر اٹھایا۔ ملک کے مشہور انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز (مجریہ ۱۷ جولائی ۵۵ء) نے ان ہی فرسودہ اور پامال شدہ ہتھکنڈوں سے کام لے کر اس مروجہ قربانی کے خلاف زہر اگلا ہے جو مقدس اسلام کا عظیم ترین نشان اور بہترین شعار ہے اگرچہ اس فتنہ کی اصل بنیاد حجیت حدیث کے اثبات کے بغیر ناممکن ہے اور اس کے بغیر قربانی کے موضوع پر کچھ کہنا چنداں مفید نہیں ہو سکتا لیکن سر دست حجیت حدیث پر نہایت مختصر اجمالی تبصرہ کرتے ہوئے اصل موضوع پر کچھ عرض کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ العزیز اس اختصار و اجمال کی تفصیل و تشریح علیحدہ اشاعت میں بہت جلد ہدیہ قارئین کی جائے گی وما توفیقی الا باللّٰہ العزیز

پمفلٹ مذکور اور پاکستان ٹائمز کے مضمون کے بنیادی خطوط میں کوئی فرق نہیں۔ ایک دوسرے کا چربہ معلوم ہوتا ہے۔ اجمال و تفصیل کا معمولی سا تفاوت نظر آتا ہے۔ اصل مقصد اور اس کے طریق اثبات میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ اسی لئے پاکستان ٹائمز کے زیر نظر مقالے کے جواب میں پمفلٹ مذکور کے جواب سے کسی خاص مختلف طرزِ بیان کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اسلوب بیان کے معمولی تفاوت کے ساتھ اسی جواب سابق کے اہم اجزا اور اصولی ابحاث شائع کر دینا کافی سمجھتا ہوں۔ البتہ حسب ضرورت بعض مقامات پر چند مفید امور کا اضافہ کر دیا جائے گا

پاکستان ٹائمز کے مقالہ نویس نے تو بہت اختصار و اجمال کے ساتھ کلام کیا ہے لیکن پمفلٹ کے مؤلف نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس پمفلٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر ہر شہر و قریہ میں قربانی منشائِ قرآن نہیں۔ قربانی صرف مکہ میں ہونی چاہئے۔ وہ بھی اتنی ہی جتنی استعمال میں آ سکے۔ زائد خلافِ قرآن ہے۔ خلافِ ایمان ہے اور خلافِ عقل ہے۔ جانور کے علاوہ نقد و جنس، صدقہ اور روزہ بھی وہی درجہ رکھتے ہیں۔ مسلمان جو روپیہ قربانی پر صرف کرتے ہیں اس کی وجہ سے روز بروز زیادہ سے زیادہ پلیدی، گندگی، عذاب اور سزا کے مستوجب ہوتے جاتے ہیں۔ قربانی کرنے والے تمام مسلمان عقل سے بیزار اور بے ایمان ہیں۔ مسلمان قوم کا کروڑہا روپیہ جو ہر سال قربانی پر بے جا صرف ہوتا ہے اگر کشمیر فنڈ یا استحکام پاکستان یا امدادِ مہاجرین وغیرہ قومی ترقی و ملکی ضرورتوں پر خرچ کیا جائے تو کیا اچھا ہو۔

پمفلٹ مذکور میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قربانی کی مروجہ صورت بالکل بے سود بلکہ سخت نقصان کا موجب ہے۔ قربانی سے نسل ضائع ہوتی ہے۔ اس لئے قربانی کرنے والے مفسد ہیں۔ قربانی اسراف و تبذیر ہونے کے علاوہ قوم کی صحت کے لئے بھی نہایت مضر ہے۔ پمفلٹ زیر نظر میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ مروجہ قربانی قطعاً خلافِ عقل و حکمت ہے۔ مضمون نگار صاحب نے قرآن کریم کو اپنے مذکورہ بالا خیالات کا مؤید قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن حکیم نے صرف مکہ کو قربان گاہ قرار دیا ہے تاکہ ایام حج میں غذائی سہولتیں بہم پہنچ سکیں۔ قربانی صرف حاجیوں پر ہے وہ بھی ہر حاجی پر نہیں بلکہ جس حاجی کو مندرجہ ذیل تین وجوہات میں سے کوئی وجہ درپیش ہو جائے اسی پر قربانی لازم ہے جن کی تفصیل یہ ہے

(۱) حج کا ارادہ کرنے کے بعد کسی مرض یا دشمن کی وجہ سے رک جانا
(۲) ارکانِ حج کی تکمیل سے پہلے کسی مرض یا خاص تکلیف کی وجہ سے سر منڈانا
(۳) حج و عمرہ ملا کر کرنا

ان وجوہات کے علاوہ کسی وجہ سے کسی پر قربانی لازم نہیں ہوتی پھر ان صورتوں میں بھی یہ لازم نہیں کہ قربانی ہی دے بلکہ حسب توفیق کچھ ہدیہ نقد و جنس کی قسم سے کعبہ فنڈ میں بھیج دے یا روزے رکھ لے۔ قربانی کا وجوب روزہ و صدقہ سے قطعاً زیادہ نہیں مؤلف صاحب نے سورئہ بقرہ، سورئہ مائدہ اور سورئہ حج کی آیتوں کا حوالہ دے کر اپنے اس بیان کی تائید کی ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے کہ صحاحِ ستہ کی متفقہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ مدینے سے مکہ اپنی قربانی کے جانور بھیجتے تھے اور بقول ابن عباس آنحضرت ﷺ نے حدیبیہ کے سال بہت سے اونٹ مکہ کو بھیجے اور بقول نافع ابن عمر بھی اپنے قربانی کے جانور کو کعبہ میں بھیجا کرتے تھے۔

زیر نظر پمفلٹ کے مضمون کا یہ خلاصہ تھا جو ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ مضمون نویس صاحب نے اس بیان میں شعائر دین کی تضحیک و تمسخر اڑانے میں بھی کسی قسم کی کوتاہی نہیں فرمائی۔ بخوفِ طوالت میں نے ان جملوں کو نقل نہیں کیا۔

مسئلہ قربانی پر اظہارِ خیال سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں کہ مؤلف صاحب کی اصولی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دوں تاکہ مسئلہ کا ہر پہلو بے نقاب ہو جائے اور اصل مقصد تک پہنچنا آسان ہو۔ اس ضمن میں چند بنیادی چیزیں ہیں جن کے بغیر کسی شرعی مسئلہ کا حل ہونا قطعاً ناممکن ہے۔ سب سے پہلے اس امر کا لحاظ ضروری ہے کہ قرآن کریم ایک ایسا جامع قانون ہے جو تمام دینی و دنیوی ضروریاتِ انسانیہ پر مشتمل مسائل کو حاوی ہے۔ ہر مسئلہ کی اصل قرآن حکیم میں موجود ہے لیکن مسائل کی تفصیلات کے لئے ہمیں اس قانون کی تشریح درکار ہے۔ ظاہر ہے کہ صاحب قانون ہی اپنے قانون کی تشریح کا حق رکھتا ہے۔ لہٰذا عقل سلیم کی روشنی میں ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس معبودِ حقیقی نے اپنے رسول پر قرآن نازل کیا ہے اس نے اس کی تشریح بھی بذریعہ وحی اپنے رسول پر اتاری ہے۔ قرآنی اصطلاح میں اس کو حکمت سے تعبیر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (آل عمران : ۱۶۴) کتاب قانون ہے اور حکمت اس کی تشریح جسے دوسرے لفظوں میں حدیث سمجھ لیجئے۔

اسی طرح سورئہ حشر میں فرمایا وَمَا اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۔ (حشر : ۷) جو کچھ تمہیں رسول دے وہ لے لو اور جس سے وہ روک دے اس سے باز آ جاؤ۔

سورئہ تحریم میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک راز کی بات کہی، انہوں نے اس کا افشاء کر دیا۔ حضور ﷺ نے ان کی کہی ہوئی ایک ایک بات انہیں بتائی تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بولیں من انبأک ہٰذا؟ آپ کو کس نے بتا دیا کہ میں نے افشاء راز کیا ہے؟ تو آنحضرت سرور عالم ﷺ نے جواب دیا نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ مجھے علیم خبیر نے خبر دی۔ اگر قرآن کے علاوہ وحی الٰہی کا انکار صحیح مان لیا جائے تو قرآن سے آیت نکالئے جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضرت ﷺ کا راز فاش کر دیا لیکن قرآن مجید میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں جس میں اس خبر کا تذکرہ ہو۔ معلوم ہوا کہ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ میں جس چیز کا ذکر ہے وہ قرآن میں نہیں بلکہ حدیث میں ہے جو درحقیقت وحی الٰہی ہے۔
ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ (اٰل عمران : ۳۱) حبیب! کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع (پیروی) کرو تم اللہ کے محبوب ہو جاؤ گے۔
ہر شخص جانتا ہے کہ رسول کی پیروی ناممکن ہے جب تک ان کے اقوال و افعال، اخلاق و سیرت کی تفصیلات ہمارے لئے علم میں نہ ہوں۔ ان ہی کے مجموعہ کو حدیث کہتے ہیں۔
نیز قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا
وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ (النساء : ۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

اطاعت قول و فعل کی ہوتی ہے اور رسول کا قول و فعل حدیث ہے۔ معلوم ہوا کہ حدیث پر عمل کرنا عین عمل بالقرآن ہے اور کیوں نہ ہو؟ جب کہ قرآن مجید میں صاف اور غیر مبہم الفاظ میں فرما دیا وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم : ۳، ۴) رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا ان کا بولنا وحی الٰہی میں منحصر ہے۔

قرآن حکیم میں رسول اللہ ﷺ کو معلوم کتاب قرار دینے کے یہی معنی ہیں کہ بیان رسالت کے بغیر فہم قرآن ممکن نہیں۔ یہ امر کہ حدیث میں وضع وجعل پایا جاتا ہے اس لئے وہ معتبر نہیں۔ تو مجھے اس اعتراض کرنے والوں کی بے بصری پر انتہائی افسوس ہوتا ہے۔ ہر ادنیٰ سمجھ والا انسان اس حقیقت کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ جس قانون کی تشریح دنیا میں موجود نہ ہو وہ قانون کس کام کا ہے۔ جب قرآن کریم سے یہ بات واضح ہو گئی کہ رسول معلم کتاب ہے، رسول کی پیروی فرض ہے، رسول کا بولنا وحی الٰہی ہے، رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، رسول کا بیان قرآن کی تشریح ہے۔ تو اب جعل و وضع کی آڑ میں حدیث رسول کو لا یعنی ذخیرہ کہہ کر رد کر دینا قرآن کریم کو ناقابل عمل قرار دینا نہیں تو اور کیا ہے؟ اس میں شک نہیں کہ واضعین کاذبین نے روایات کاذبہ موضوعہ بنانے میں کمی نہیں کی لیکن یہ بھی صداقت رسول کی روشن دلیل بلکہ ہادئ عالم کا روشن ترین معجزہ ہے کہ بے پناہ کذب و وضع کی ظلمتوں کے باوجود بھی رسول معظم نورِ مجسم ﷺ کی چمکتی ہوئی ادائیں اہل بصیرت کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو سکیں اور پرکھنے والوں نے کھوٹے کھرے کو پرکھ کر موضوع کو غیر موضوع سے اور صحیح کو ضعیف سے ممتاز کر ہی لیا۔ کذب و افتراء و وضع و جعل کی تاریکیوں میں بھی اس نورِ مجسم ﷺ کی ادائیں چمکتی ہی رہیں۔ علم الاسناد، اسماء الرجال، اصول حدیث سے ادنیٰ تعلق رکھنے والے انسان کو ایک آن کے لئے بھی اس بیان میں شک نہیں ہو سکتا۔ راویان حدیث کی چھان بین، شرائط صحت کی پابندی اور محدثین کرام کی احتیاط پر تفصیل سے گفتگو کی جائے تو بڑے بڑے دفتر پر ہو جائیں۔ اس مختصر مضمون میں اس کی گنجائش کہاں؟ اس مقام پر بس اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اداؤں کو محفوظ رکھنا قانونِ قدرت کے مطابق تھا۔ اس لئے قدرت نے سیرۃ رسول ﷺ کے تحفظ کی خاطر وہ انتظام کیا کہ پانچ لاکھ انسانوں کو ادائے حبیب کا نقشہ اتارنے اور اس کو محفوظ کرنے کے لئے متعین کر دیا۔ یوں کہیے کہ سابقہ آسمانی کتابوں کو اس طرح محفوظ رکھنے کا سامان مہیا نہیں کیا گیا جس طرح سیرت رسول ﷺ کی حفاظت کے لئے اسباب پیدا کئے گئے جس کی وجہ صرف یہی تھی کہ تمام کتب سابقہ کی حقیقتیں قرآن میں رکھ دی گئی تھیں اور قرآن پر عمل کرنا ناممکن تھا جب تک کہ معلم قرآن کی سیرت سامنے نہ ہو۔ اس لئے سیرت رسول ﷺ کا تحفظ ضروری تھا۔

یہاں ایک شبہ ہو سکتا ہے کہ قرآن اپنے قابل عمل ہونے میں حدیث کا محتاج ہو گیا اور قرآن کی یہ شان نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن محتاج نہیں بلکہ قرآن پر عمل کرنے کے لئے ہم حدیث کے محتاج ہیں کیونکہ قانون عمل کرنے والوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ عمل کرنے والے قانون کے محتاج ہوتے ہیں۔ دیکھئے خدا کی معرفت رسول کے بغیر ناممکن ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی معرفت کرانے میں رسولوں کا محتاج ہے۔ نہیں بلکہ معرفت خداوندی حاصل کرنے کے لئے ہم رسولوں کے محتاج ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے یہ بات بھی بتانی ہے کہ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جو حدیث قرآن کے موافق ہو وہ قبول کی جائے گی اور جو روایت نص قرآنی کے خلاف ہو وہ مردود قرار پائے گی۔ اس مسئلہ میں کسی مسلمان کا اختلاف نہیں کہ خلافِ قرآن کوئی روایت قابل قبول نہیں۔ لیکن موافق اور مخالف کا مفہوم کیا ہے؟ کون سی حدیث کو قرآن کے موافق کہیں گے اور کس کو مخالف قرآن قرار دیں گے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب منکرین حدیث کے نظریہ کے موافق صرف یہ ہے کہ جو بات قرآن میں مذکور نہیں اگر کسی حدیث میں اس کا ذکر آ جائے تو وہ حدیث قرآن کے مخالف ہے اور اگر ایسی صورت ہو کہ جس بات کا ذکر قرآن میں ہے بعینہٖ اسی کا ذکر بغیر کسی فرق کے حدیث میں بھی ہے تو وہ حدیث قرآن کے موافق ہو گی۔

لیکن قائلین حدیث کے نزدیک مخالف و موافق کا یہ مفہوم قطعاً غلط ہے۔ ہمارے نزدیک حدیث قرآن کی تشریح و تفسیر ہے۔ ظاہر ہے کہ متن و شرح کے الفاظ و عبارات میں کوئی فرق نہ ہو تو دونوں میں کیا امتیاز ہو گا؟ اور ایسی صورت میں شرح و تفسیر سے کیا فائدہ مرتب ہو سکتا ہے؟ ہمارے نظریہ کے مطابق وہ حدیث قرآن کے مخالف قرار پائے گی جس میں قرآن مجید کی کسی نفی یا نہی صریح کے مقابلہ میں اثبات یا امر پایا جائے یا مضمون حدیث سے مضمون قرآن کی تردید ہوتی ہو۔ مثلاً قرآن میں ہے اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ اگر کسی روایت میں لَا تُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ آ جائے تو وہ روایت قرآن کے خلاف ہو گی اور اگر کسی روایت میں مضمون قرآن کی تشریح و تفسیر ہو تو اس کو قرآن کے مخالف کہنا انتہائی گمراہی اور بے دینی ہے۔ دیکھئے قرآن کریم نے اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فرما دیا لیکن اقامۃ الصلٰوۃ کی تمام تفصیلات بیان نہیں فرمائیں کہ کس نماز کی کتنی رکعتیں ہوں، کون سی نماز آہستہ پڑھی جائے، کون سی بلند آواز سے ادا کی جائے وغیرہ وغیرہ۔ تو اب جن احادیث میں یہ تفصیلات مذکور ہیں وہ قرآن کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تفسیر و تشریح ہیں۔ مضمون نگار کی سب سے پہلی اصولی غلط فہمی یہ ہے کہ انہوں نے مروجہ قربانی کے متعلق تمام احادیث کو قرآن کے مخالف سمجھا حالانکہ وہ قرآن کے کسی مضمون کی تردید نہیں کرتیں بلکہ ایک قرآنی حکم کی تشریح و تفسیر کر رہی ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ (کوثر : ۲)
حبیب! اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور اسی کے لئے قربانی کرو۔

جس طرح نماز کی تفصیلات قرآن کریم میں نہیں اسی طرح قربانی کی تفصیلات بھی قرآن حکیم میں نہیں ہیں۔ حدیث میں دونوں کی تشریح و تفسیر کی گئی ہے۔ اگر قربانی کی حدیثیں قرآن کے مخالف ہیں تو تفاصیل صلوٰۃ کی حدیثوں کو بھی خلافِ قرآن کہنا چاہئے پھر اگر کوئی دریدہ دہن کہہ اٹھے کہ میں نماز کے متعلق حدیثوں کو بھی قرآن کے خلاف سمجھتا ہوں تو اس سے کہا جائے گا کہ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو احادیث صلوٰۃ سے الگ رہتے ہوئے نماز پڑھ کر دکھا؟ جس صورت سے تو اقامۃ الصلوٰۃ کرے گا اس صورت کو قرآن کی عبارۃ النص سے ثابت کرنا ہو گا لیکن میں دعوے سے کہتا ہوں کہ احادیث سے قطع نظر کر کے کوئی شخص نہ نماز پڑھ سکتا ہے نہ روزہ رکھ سکتا ہے نہ حج کر سکتا ہے نہ زکوٰۃ دے سکتا ہے، حتیٰ کہ ایمان جو تمام عبادات کا اصل ہے بغیر استعانت بالحدیث کے حاصل نہیں کر سکتا۔ بہرحال جس چیز کا ذکر صریح قرآن میں نہ ہو اور حدیث میں اس کی تفصیلات مذکور ہوں تو اس حدیث کو قرآن کے مخالف قرار دینا گمراہی کی بنیاد ہے۔ دیکھئے قرآن عظیم میں خنزیر کے گوشت کے علاوہ کسی چیز کو حرام نہیں کہا۔ حرمت خنزیر کا ذکر جہاں بھی آیا ہے وہاں لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ کا لفظ ہے تو مؤلف صاحب کو چاہئے کہ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ کے علاوہ خنزیر کے تمام اجزاء کو حلال طیب تصور فرمائیں اور جو شخص اس کی چربی وغیرہ کی حرمت کا قول کرے اس کی بات کو خلافِ قرآن قرار دے کر اعلان کر دیں کہ چونکہ قرآن کریم میں صرف لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ فرمایا ہے اس لئے سوائے گوشت کے خنزیر کی ہر چیز حلال اور پاک ہے۔

قرآن کریم نے کتے، بلی، چوہے وغیرہ حشرات الارض اور سباع بہائم و طیور کی حرمت کی تفصیلات کسی جگہ بیان نہیں کیں۔ احادیث میں ان چیزوں کا حرام ہونا تفصیل سے مروی ہے۔ اس مسئلہ میں بھی مضمون نویس صاحب کا فرض اولین ہے کہ ان تمام احادیث کو خلافِ قرآن قرار دے کر کتے، بلی، چوہے وغیرہ تناول فرمانے لگیں اور ملک کے اصحابِ بصیرت و اربابِ حکومت سے التجا کریں کہ یہ لوگ جو بکریاں، بھیڑیں خریدنے اور ان کا گوشت کھانے پر کروڑوں روپیہ صرف کر رہے ہیں سب اسراف و تبذیر اور گندگی ہے۔ یہ لوگ عذاب و سزا کے مستوجب ہیں کیوں نہیں مفت کا گوشت حاصل کرتے؟ کس لئے ان جانوروں کو بلا وجہ ضائع کر رہے ہیں؟

لیکن میں یہ سمجھتا ہوں مضمون نویس صاحب کتے، بلی، چوہے وغیرہ حرام جانوروں اورخنزیر کی چربی وغیر کو حرام ہی جانتے ہوں گے حالانکہ ان کی حرمت قرآن میں مذکور نہیں بلکہ حدیث میں مروی ہے۔ اگر میرا حسن ظن درست ہے تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں کہ وہ قربانی جس کا حکم قرآن حکیم میں موجود ہے صرف اس کی تفصیلات احادیث میں مذکور ہوئی ہیں اس کو تو خلافِ قرآن قرار دیں اور جن جانوروں کی حرمت کا قرآن کریم میں کسی جگہ کوئی ذکر نہیں بلکہ ان کی حرمت کے ثبوت کا دار ومدار صرف احادیث پر ہے اس کی صحت و ثبوت پر ایمان لے آئیں۔

ایں چہ بو العجبی ست

الغرض مؤلف صاحب قربانی کے مسئلہ میں احادیث صحیحہ کثیرہ اور تمام امۃ مسلمہ کے تعامل کو نظر انداز کر کے ایک زبردست غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ اگر وہ میرے بیانِ سابق پر غور کریں تو مجھے امید ہے کہ اپنے خیالات سے رجوع کر لیں گے۔

دوسری بنیادی غلطی جس پر مؤلف صاحب کا سارا زورِ بیان ختم ہو گیا ہے مروجہ قربانی کے خلاف عقل و حکمت ہونا ہے۔

اس کے متعلق مضمون نگار صاحب نے جو کچھ حوالہ قلم کیا ہے وہ ان کی اپنی کج فہمی اور کوتاہ اندیشی کا مظاہرہ ہے۔ وہ کون سا مسلمان ہے جو قرآن و اسلام کو خلافِ عقل سمجھتا ہے؟ہمارا ایمان ہے کہ تمام تعلیماتِ اسلامیہ عقل سلیم کے مطابق ہیں لیکن درجاتِ عقل کا تفاوت ایک حقیقت ثابتہ ہے۔ مسائل شرعیہ کے مطابق عقل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ نسل انسانی کے ہر گروہ اور ہر فرد کی عقل و سمجھ کے مطابق ہوں، بکثرت مسائل عقلیہ ایسے ہیں جو عقل سلیم کے معیار پر صحیح اترنے کے باوجود بھی عقلاء میں مختلف فیہ ہیں جس کی وجہ مراتب عقل کے تفاوت کے سوا کچھ نہیں۔ تمام کائنات میں سب سے زیادہ کامل العقل انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہیں ان کے بعد جس کو بارگاہِ نبوت سے جس قدر زیادہ قرب ہے اسی قدر وہ زیادہ عقل کا حامل ہے۔ بارگاہِ نبوت سے صادر ہونے والے حکم کو اگر ہم ناقص عقل کے ترازوں میں تولیں گے تو ممکن ہے کہ اس کا وزن ہمیں صحیح طور پر معلوم نہ ہو سکے۔ ایسی صورت میں بجائے اس کے کہ ہم اس حکم کو خلافِ حکمت قرار دیں اپنی عقل کے ناقص ہونے کا اقرار کر لیں تو ہمارے ایمان اور سلامتی عقل کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم نازل کر کے ہماری عقلوں کو بھی آزمایا ہے۔ جو لوگ تعلیمات نبوت کے مقابلہ میں اپنی ناقص عقل پر اعتماد کرتے ہیں وہ اس امتحان میں کامیاب نہیں ہوتے۔ مسئلہ معراج میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور واقعہ اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کر رہا ہے۔ جو شخص کسی کام کی پوشیدہ حکمت سے بے خبر ہوتا ہے وہ اس پر اعتراض کرتا ہے لیکن بندے کو خدا کے مقابلہ میں یہ جرأت کسی طرح زیب نہیں دیتی۔ اگرچہ اس کی بعض حکمتیں ضرور ہم سے پوشیدہ ہیں لیکن جب اس کے حکیم مطلق ہونے پر ہمارا ایمان ہے تو اب ہمیں اس بات کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کہ ہم اس کی حکمت کو خوامخواہ دریافت کریں۔ ممکن ہے کہ اس کا دریافت کرنا حکیم مطلق کی منشاء کے خلاف ہو۔ اسی لئے اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ فرما کر ایمان بالغیب لانے والوں کی تعریف فرمائی۔

پاکستان ٹائمز کے مقالہ نویس نے بڑے طمطراق کے ساتھ لکھا ہے کہ قربانی کا سنت ابراہیمی ہونا ایسی بات ہے جس کی کوئی تصدیق نہیں پائی جاتی۔

جواباً عرض ہے کہ جن لوگوں کے مذہب میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی جائز نہیں۔ ان کے نزدیک سنت ابراہیمی کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے؟ ملاحظہ فرمایئے! منکرین حدیث کے مقتداء اور پیشوا غلام محمد پرویز نے اپنی کتاب معارف القرآن جلد ۴ ص ۲۸۶ پر صاف لکھا ہے کہ

اطاعت صرف خدا کی ہو سکتی ہے کسی انسان کی نہیں۔ حتیٰ کہ رسول بھی اپنی اطاعت کسی سے نہیں کرا سکتا۔ (منقول از فتنہ پرویز)

رہا یہ امر کہ اس کی تصدیق پائی جاتی ہے یا نہیں؟ تو اس کے متعلق سر دست اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ تصدیق کرنے والوں کے لئے تو اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے سچے رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فداہ ابی وامی کے کلام فیض ترجمان میں واضح طور پر موجود ہے۔

مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ حضور! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ تو سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔

لیکن معترضین اس کے جواب میں بھی یہی کہیں گے کہ یہ حدیث رسول ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ ہمیں قرآن میں اس کی تصدیق دکھاؤ۔ اس کے متعلق گزارش ہے کہ اگر تصدیق کے یہی معنی ہیں کہ جس بیان کی تصدیق مطلوب ہو اس کا ایک ایک لفظ قرآن کریم میں پایا جائے تو میں دعوے سے کہوں گا کہ مخالفین اپنے دعوے کی کوئی تصدیق قرآن مجید سے پیش نہیں کر سکتے۔

مثال کے طور پر اسی مسئلہ کو لے لیجئے۔ پاکستان ٹائمز کے مقالہ نویس نے لکھا ہے کہ ایام حج میں صرف مکہ میں قربانی ہو سکتی ہے۔

مقالہ نویس سے میں دریافت کرتا ہوں کہ اگر آپ خود اپنے ہی ارشاد کے مطابق مکہ معظمہ جا کر ایام حج میں قربانی کرنا چاہیں تو کون سے مہینے کی کن تاریخوں میں قربانی کریں گے؟ کیا قرآن کریم سے آپ ماہِ ذی الحجہ کے نام اور اس کی مخصوص تاریخوں کی تصدیق پیش کر سکتے ہیں؟

نہیں اور یقینا نہیں۔ پھر آپ ہی بتایئے کہ آپ کا دعویٰ خود آپ ہی کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کہاں تک سچا ثابت ہوا؟ اگر اس کے جواب میں آپ یہ کہیں کہ ذی الحجہ کی جن تاریخوں میں عام مسلمان حج کرتے ہیں اس کی وہی تاریخیں ایام حج قرار پائیں گی تو میں عرض کروں گا کہ اگر عامۃ المسلمین کا عمل آپ کے نزدیک کوئی دلیل شرعی ہو سکتا ہے تو مروجہ قربانی کی مخالفت آپ کیوں فرما رہے ہیں جو امت مسلمہ عہد رسالت سے لے کر آج تک ذی الحجہ کی مخصوص تاریخوں میں حج کے ارکانِ مخصوصہ مکہ میں ادا کرتی رہی؟ وہی قوم عرب و عجم، مشرق و مغرب، جنوب وشمال میں اپنے اپنے شہروں، قصبوں اور بستیوں میں قربانی کرتی چلی آ رہی ہے۔ پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ امت مسلمہ کا ایک عمل آپ کے نزدیک دلیل شرعی اور قرآن کے مطابق ہے اور دوسرا صریح گمراہی اور خلافِ قرآن، حالانکہ آپ کے معیار کے مطابق دونوں کی تصدیق قرآن کریم میں موجود نہیں۔

علیٰ ہٰذا القیاس مکہ معظمہ کو قربانی کی جگہ قرار دینا بھی ایسا دعویٰ ہے جس کی کوئی تصدیق آپ اپنے خود ساختہ معیار کے مطابق قرآن کریم سے پیش نہیں کر سکتے۔ ہَدْیًام بَالِغَا الْکَعْبَۃِ اور ثُمَّ مَحِلُّہَا اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ سے آپ کا مدعا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ بیت عتیق اور کعبہ کا ترجمہ مکہ نہیں کعبہ مطہرہ ایک خاص گھر اور مخصوص عمارت کا نام ہے اور مکہ ایک معظم شہر کو کہتے ہیں۔ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ کعبہ شریف اور بیت العتیق میں آج تک کوئی قربانی نہیں ہوئی۔ لہٰذا اگر آپ کے اصول کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو لازم آئے گا کہ رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک کسی مسلمان کی قربانی صحیح نہیں ہوئی بلکہ یہ سب قربانیاں معاذ اللہ خلافِ قرآن ہوئیں۔ اس لئے کہ قرآن کعبہ اور بیت عتیق کو قربان گاہ قرار دیتا ہے اور حضور ﷺ سے لے کر آج تک کسی نے کعبہ میں قربانی نہیں کی بلکہ وہاں کے تمام مسلمان منیٰ میں اپنی قربانیاں کرتے چلے آئے۔ اب آپ ہی بتایئے کہ آپ کے دعوے کا وہ کون سا جزو ہے جس کی تصدیق آپ کے اصول کے مطابق قرآن مجید سے ہوتی ہو۔

مقالہ نویس صاحب کے اندازِ تحریر کے پیش نظر مجھے ان سے قبول حق کی کوئی امید نہیں لیکن اپنے ناظرین کرام سے مؤدبانہ التماس کروں گا کہ وہ ازراہِ انصاف فیصلہ کریں کہ مقالہ نویس صاحب کا بیان قرآن کریم کی روشنی میں کس قدر لغو اور بے معنی ہے۔

پاکستان ٹائمز کے مقالہ نویس نے جو چار باتیں لکھی ہیں ان میں سے پہلی بات کا جواب میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ قربانی کے مذبوحہ جانوروں کو استعمال کرنا چاہیے۔ ان کو دفن کرنا خلافِ قرآن ہے۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ قربانی کے جانوروں کے متعلق استعمال کا حکم تو قرآن کریم میں کہیں وارد نہیں ہوا۔ البتہ اَطْعِمُوْا فرمایا ہے جس کے معنی استعمال کرنے کے نہیں بلکہ کھلانے کے ہیں۔ استعمال کا مفہوم کھلانے کے مفہوم سے عام ہے۔ قربانی کے جانوروں کے کھانے کھلانے سے کون روکتا ہے جس کے لئے قرآن سے استدلال کی زحمت گوارا فرمائی گئی البتہ اتنی بات کا انکار کوئی اہل علم نہیں کر سکتا کہ کھانا اور کھلانا اسی وقت متصور ہو گا جب اس سے کوئی امر مانع درپیش نہ ہو گا اور اگر کوئی امر مانع درپیش ہو جائے تو ان کو دفن کرنے کی ممانعت قرآن کریم میں کہیں وارد نہیں ہوئی بلکہ معترض نے جو اَطْعِمُوْا کا لفظ استعمال کیا ہے اس کے عموم میں تو دفن بھی آ سکتا ہے اس لئے کہ دفن کے بعد بھی ان جانوروں کے بوسیدہ اجزاء کو بہت سے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے مقالہ نویس کی یہ بات بھی نا قابل اعتنا ہیء

تیسری بات مقالہ نویس نے یہ کہی کہ یہ قربانی خدا تک نہیں پہنچتی اور نہ اللہ تعالیٰ اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ کسی کا خون بہا جائے۔ خدا کو تو صرف پاکی مقبول ہے۔

قرآن کریم میں کسی جگہ نہیں آیا کہ قربانی خدا تک نہیں پہنچتی۔ البتہ یہ ضرور فرمایا گیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کا گوشت اور خون بارگاہِ خداوندی میں نہیں پہنچتا۔ افسوس ہمارے معترض صاحب کو اتنا بھی پتا نہیں کہ قربانی کسے کہتے ہیں؟ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ قربانی کے جانور اور قربانی ایک چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانوروں کا خون نہیں پہنچتا لیکن قربانی ضرور پہنچتی ہے۔ رہا یہ امر کہ قربانی کیا ہے؟ ہمارے معترض کو معلوم ہونا چاہئے کہ قربانی دراصل وہی تقویٰ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتاہے وَلٰـکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ الخ کہ جانوروں کا گوشت اور خون تو میری بارگاہ میں نہیں پہنچتا لیکن تمہارا تقویٰ مجھے ضرور پہنچتا ہے لیکن یاد رکھئے تقویٰ زبانی جمع خرچ کا نام نہیں بلکہ آیت کریمہ میں تقویٰ سے یہی مراد ہے کہ محض گوشت کھانے کھلانے اور خون گرانے سے رضایٔ الٰہی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ جانور ذبح کرنے گوشت کھانے کھلانے کا سلسلہ تو لوگوں میں ہمیشہ ہی جاری رہتا ہے جسمانی لذتوں دنیاوی عیش و طرب اور خواہشاتِ نفس کی خاطر شب و روز جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ ایسے گوشت اور خون کو رضایٔ الٰہی سے کیا تعلق؟ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تو اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب کہ بندہ تمام لذات جسمانی اور خواہشاتِ نفسانی سے الگ ہو کر نہایت خوش دلی اور جوشِ محبت کے ساتھ قیمتی اور نفیس جانور حکم خداوندی کے ماتحت اس کے نام پر ذبح کرے اور اس فعل ذبح کے ساتھ دل میں یہ جذبہ بھی موجود ہو کہ جس طرح ہم نے یہ جانور تیرے نام پر ذبح کیا ہے اسی طرح ہم خود بھی تیری راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔ یہی قربانی کی حقیقت ہے اور اسی کا نام آیت زیر بحث میں تقویٰ رکھا گیا ہے۔
 

اگلا صفحہ                                                                                                   ہوم پیج