فتویٰ حنفی
دربارئہ
پرائمری تعلیم مروجہ

کہ وہ مسجد میں دینی ناجائز ہے اور ایسی تعلیم جس میں اردو، حساب، طوطے مینا کی کہانیاں ہوں مسجد میں دینی جائز نہیں
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ِط

سوال نمبر ۱: شریعت میں حرمت کے لئے کیا کیا باتیں ہیں اس کی تفصیل بیان فرمائیں؟
جواب نمبر ۱: عالمگیری کی جلد خامس ۵ کے صفحہ ۳۲۱ پر حرمت مسجد کے پندرہ حال لکھے ہیں۔
اول: یہ کہ جب مسجد میں داخل ہو تو اس جماعت کو سلام کرے جو پڑھنے میں یا ذکر الٰہی میں مشغول نہ ہو اور اگر مسجد میں کوئی بھی نہ ہو یا جو ہیں وہ نماز میں مشغول ہوں تو مسلمان کو چاہئے کہ داخل ہو کر
السلام علینا من ربنا وعلٰی عباد اللّٰہ الصالحین کہے۔
دوم: یہ کہ مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے سے قبل دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے۔
سوم: یہ کہ مسجد میں خرید و فروخت نہ کی جائے۔
چہارم: یہ کہ مسجد میں سل سیف نہ ہو۔ (تلوار نہ سونتی جائے)
پنجم: یہ کہ مسجد میں گم شدہ چیز کی تلاش کر کے مسجد کو مطعون نہ کرے۔
ششم: یہ کہ مسجد میں سوائے ذکر اللہ کے آواز بلند نہ کی جائے۔
ہفتم: یہ کہ مسجد میں دنیاوی کلام قطعاً نہ ہو (یعنی دینی تعلیم کے سوا دنیاوی تعلیم اور دنیاوی گفتگو بھی ممنوع ہے)
ہشتم: یہ کہ مسجد میں داخل ہو کر لوگوں کو پھاند کر آگے صف اول تک پہنچنے کی سعی نہ  کرے۔
نہم: یہ کہ مسجد میں جگہ پر جھگڑا نہ کیا جائے۔
دہم: یہ کہ مسجد میں صفوں کے اندر گھس کر دوسرے نمازیوں کو تنگ نہ کیا جائے۔
یاز دہم: یہ کہ مسجد کے اندر نمازی کے آگے سے نہ گزرے۔
دواز دہم: یہ کہ مسجد میں تھوکا نہ جائے (کہ صحن مسجد یا فرش خراب ہو اور دوسرے لوگوں  کو اس سے نفرت ہو)
سیز دہم: یہ کہ مسجد میں انگلیاں چٹخا کر فعل دنیاوی کا مرتکب نہ ہو۔
چہار دہم: یہ کہ مسجد کو ہر قسم کی نجاست اور بچوں، مجنونوں سے محفوظ رکھا جائے اور سزا  (تجویز کردہ حاکم) کا نفاذ بھی مسجد میں نہ ہو۔
پنجدہم: یہ کہ مسجد میں ذکر اللہ اور ذکر رسول کثرت سے کیا جائے۔ یہی شرائط حرمت مساجد کے غرائب میں ہیں۔ اصل عبارت عالمگیری کی یہ ہے (جلد ۵ عالمگیری صفحہ ۳۲۱ مصری) ذکر الفقیہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی فی التنبیہ۔ حرمۃ المسجد خمسۃ عشر
۱: اولہا ان یسلم وقت الدخول اذا کان القوم جلوسًا غیر مشغولین بدرس ولا بذکر فان لم یکن فیہ احدا وکانوا فی الصلٰوۃ فیقول السلام علینا من ربنا وعلی عباد اللّٰہ الصالحین
۲: والثانی ان یصلی رکعتین قبل ان یجلس
۳: والثالث ان لا یشتری ولا یبیع
۴: والرابع ان لا یسل السیف
۵: والخامس ان لا یطلب الضالۃ فیہ
۶: والسادس ان لا یرفع فیہ الصوت من غیر ذکر اللّٰہ تعالٰی
۷: والسابع ان لا یتکلم فیہ من احادیث الدنیا
۸: والثامن ان لا یتخطی رقاب الناس
۹: والتاسع ان لا ینازع فی المکان
۱۰: والعاشر ان لا یضیق علی احد فی الصف
۱۱: والحادی عشر ان لا یمر بین یدی المصلی
۱۲: والثانی عشر ان لا یبزق فیہ
۱۳: والثالث عشر ان لا یفرقع اصابعہ فیہ
۱۴: والرابع عشر ان ینزہہ عن النجاسات والصبیان والمجانین  واقامۃ الحدود
۱۵: والخامس عشر ان یکثر فیہ ذکر اللّٰہ تعالٰی وذکر الرسول کذا فی الغرائب

سوال نمبر ۲: کیا اردو، حساب و کتاب پرائمری کے مروجہ تعلیم بالغ غیر بالغ، مسلم غیر مسلم بچوں، جوانوں کو مساجد میں دینا شرعاً جائز ہے؟

جواب نمبر ۲: ہرگز نہیں۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے جلد ۵ صفحہ ۳۲۱ ویکرہ کل عمل من عمل الدنیا فی المساجد اور ہر قسم کا عمل دنیاوی مسجد میں ناجائز ہے بلکہ مکروہ اس سے آگے اور وضاحت ہے کہ اگر مسجد میں قرآن کریم کی لکھائی بھی باجرت ہو تو بھی ناجائز ہے۔ ہاں اگر اپنے لئے کتابت قرآن کرے تو چونکہ ایک پہلوئے عبادت ہے بنا بریں جائز ہو گا۔ حتیٰ کہ اگر باجرت ماسٹر پڑھانے کو مسجد میں بیٹھے تو بھی ناجائز ہے۔ عالمگیری صفحہ ۳۲۱ جلد خامس ۵ ولو جلس المعلم فی المسجد والوراق یکتب فان کان المعلم یعلم للحسبۃ والوراق لنفسہٖ فلا بأس بہ لانہٗ قربۃ فان کان للاجرۃ یکرہ الا ان یقع لہما الضرورۃ کذافی المحیط السرخسی۔ یہی حکم محیط سرخسی میں ہے۔

سوال نمبر ۳: مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی گفتگو کرنا جائز ہے یا کیا؟
جواب نمبر ۳: ناجائز ہے بلکہ ایسی گفتگو کے لئے مسجد میں بیٹھنا بھی جائز نہیں۔ عالمگیری جلد خامس ۵ میں ہے
الجلوس فی المسجد للحدیث لا یباح بالاتفاق لان المسجد ما بنی لامور الدنیا اور خزانۃ الروایت سے منقول ہے کہ مسجد میں کلام دنیا کرنا حرام ہے۔ حتیٰ کہ مسجد کی چھت پر شدت گرما کی وجہ سے جماعت کے لئے چڑھنا بھی مکروہ ہے۔
وفی خزانۃ الدین ما یدل علٰی ان الکلام المباح من حدیث الدنیا فی المسجد حرام۔ قال ولا یتکلم بکلام الدنیا۔ والصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولہٰذا اذا اشتد الحریکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ

سوال نمبر ۴: مسجد میں نابالغ بچوں کو قرآن کریم پڑھانا کیسا ہے اور بچوں کو مسجد میں ادب سکھانے کے لئے زجر و توبیخ کا کیا حکم ہے؟
جواب نمبر ۴: ناجائز ہے بلکہ پڑھانے والا گنہگار اور بچوں کو مسجد میں تادیب کے لئے مارنا پیٹنا بھی ممنوع ہے بشرطیکہ یہ تعلیم قرآنی باجرت ہو اور اگر بلا اجرت ہو تو جائز ہے۔ بحر الرائق جلد ۵ کے صفحہ ۲۵۰ میں ہے
لو علم الصبیان القرآن فی المسجد لا یجوزو یأثم۔ وکذا التادیب فیہ ای لا یجوز التادیب فیہ اذا کان باجر وینبغی ان یجوز بغیر اجر۔

اور حضور ﷺ کے فرمان سے اس جزئیہ کا اس طرح استناد فرمایا واما الصبیان فقد قال النبی ا جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم
اور مسجد کی حددد یعنی فناء مسجد کی دکانوں میں بھی ایسی دینی تعلیم ممنوع ہے اور یہی مذہب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں
وکذالا یجوز التعلیم فی دکان فی فناء المسجد ہٰذا عند ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ

                                                                                                   ہوم پیج