تعلیم میں دینی مدارس کا حصہ اور ان کی افادیت

اس موضوع پر اظہارِ خیال سے پہلے ہم مروجہ تعلیم کا پس منظر اور اس کے عواقب و نتائج پر تبصرہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتائیں گے کہ تعلیم میں دینی مدارس کا حصہ اور ان کی افادیت کیا ہے۔ برصغیر میں انگریزوں نے تسلط حاصل کرنے کے بعد یہاں کے نظام تعلیم کو اپنا مطمح نظر بنایا۔ وہ خوب سمجھتے تھے کہ جب تک یہاں کے نظام تعلیم کو اپنے حسب منشاء نہ بدلا جائے گا اس وقت تک عوام کے اذہان پر غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

فاتح اقوام کا ہمیشہ سے یہ دستور چلا آیا ہے کہ وہ اپنی سلطنت کو مستحکم کرنے کے لئے مفتوحین کے اذہان و قلوب کو مسخر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر ان کی گرفت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

انگریزوں نے بھی اسی دستور کے مطابق برصغیر پر قبضہ جمانے کے بعد یہاں کے نظام تعلیم کو بدلا۔ متعدد ماہرین تعلیم انگریز یہاں کے نصاب تعلیم میں مختلف قسم کی تبدیلیاں کرتے رہے۔ مگر مستقل اور منظم انقلاب کا ذمہ دار میکالے تھا جس نے ۱۸۳۵ء میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی سفارش کی تھی۔ چنانچہ ۱۸۴۴ ء میں اعلان کر دیا گیا کہ سرکاری ملازمتوں کے لئے انگریزی داں لوگوں کو ترجیح دی جائے گیء پھر وڈ منصوبہ پیش ہوا جس نے یہاں کا تعلیمی نقشہ یکسر بدل ڈالا۔ یہ منصوبہ مغربی تعلیم کا منشورِ اعظم کہلاتا ہے۔ اس کے پیش نظر یہ طے ہوا کہ السنۂ شرقیہ بھی رہیں مگر ان مشرقی زبانوں میں یورپی اور مغربی لٹریچر کی تعلیم دی جائے۔ اس سوچی سمجھی سکیم کے مطابق انگریزی زبان کے علاوہ ہماری ملکی زبانوں میں بھی مغربی افکار و مادہ پرستی اور الحاد کا پرچار ہونے لگا چنانچہ ۱۸۵۷ ء میں کلکتہ، بمبئی اور مدراس میں یونیورسٹیاں قائم کر دی گئیں اس کے بعد پٹنہ اور بنارس کی باری آئی اور قلیل مدت میں جدید تعلیم ہمہ گیر ہو گئی اور ملک کے ہر گوشہ میں اس تعلیم کے ذریعہ لوگوں کے دل و دماغ کو افکار مغرب کے سانچے میں ڈھالا جانے لگا۔ درسی کتابیں تالیف کی گئیں اور تاریخی کتب تصنیف ہوئیں جن میں اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ مشاہیر اسلام بالخصوص حضرت سیدنا محمد مصطفی ﷺ کے خلاف معاذ اللہ الزامات قبیحہ تراشے جائیں چنانچہ بہت سے بد طینت یورپین نے اسلام دشمنی کا اظہار کیا۔ ولیم میور، سپرنگر اور گولڈزہر وغیرہم کی متعصبانہ تصانیف دیکھ کر ہر ایک مسلمان کا خون کھولنے لگتا ہے۔

انگریز نے نئی تعلیم کی اس تیز چھری سے عقائد و اصول اسلامیہ کو بے دردی کے ساتھ مجروح کرنا شروع کر دیا اور ملت بیضاء کے مستحکم قلعہ کو متزلزل کرنے کی مذموم کوششوں میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر یہ لوگ عیسائیت قبول نہ کریں تو اسلام سے بہرحال دور ہو جائیں چنانچہ لا دینیت کا ایک زبردست سیلاب آیا جس نے اخلاقی اقدار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایمانی قوت مضمحل ہو گئی اور قویٰ روحانیہ ماؤف ہو کر رہ گئے۔ مادہ پرستی کا بھوت لوگوں پر سوار ہو گیا۔

عیش و نشاط اور شکم پروری کے سوا کوئی چیز مطمح نظر نہ رہی اور فکر معاش فکر معاد پر غالب آ گئی جو لوگ مادہ پرستی اور لا مذہبیت کا شکار ہو جائیں اور خدا کی ہستی پر ان کا ایمان نہ رہے ان کے نزدیک نیکی اور عبادت کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ سکتی۔ نہ معصیت ان کے نزدیک کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں حسن خلق اور بد اخلاقی کا کوئی معیار قائم نہیں رہ سکتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نئی تعلیم کے اثرات سے معصیت، بد اخلاقی اور جرائم ہمارے معاشرے کا جزو لا ینفک بن گئے اور مغربیت اپنی پوری طاغوتی طاقتوں کے ساتھ ہم پر مسلط ہو گئی لیکن اسلام کی یہ معجزانہ شان تھی کہ اس تاریک ماحول میں مولانا محمد علی جوہر، علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسی عظیم شخصیتیں مغربیت کے گہواروں میں تربیت پا کر امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لے آفتاب و مہتاب بن کر چمکیں۔

پھر مقام شکر ہے کہ ہمارے مشائخ کرام اور علمائے عظام اسلام کی حمایت میں سینہ سپر ہو گئے اور علماء و مشائخ کے وہ مقدس افراد جو حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اسلاف کرام کے فیوض و برکات کی امانتیں اپنے سینوں میں لئے ہوئے تھے وہ ظلمت کے اس دور میں ہدایت کا مینار بن کر چمکے اور انہوں نے امت مسلمہ کی دست گیری فرمائی۔ ملک کے گوشہ گوشہ میں اسلاف کے نقش قدم پر خانقاہی نظام قائم کیا اور دینی مدارس جاری کئے۔


دینی مدارس
یہاں اس حقیت کو واضح کرنا ضروری ہے کہ دینی مدارس سنگ و خشت کا نام نہیں بلکہ ہر وہ مقام مدرسہ ہے جہاں علماء اور صلحاء نے بندگانِ خدا کے قلوب کو علم و عرفان سے منور کیا خواہ وہ مسجد ہو یا خانقاہ کا حجرہ، ان کا مسکن ہو یا مکتب جہاں وہ تعلیم و تربیت کے لئے بیٹھ گئے وہی دینی مدرسہ بن گیا۔ ابن بطوطہ متوفی ۷۷۹ ھ نے ہمیں بتایا کہ آٹھویں صدی ہجری میں مختلف اسلامی ممالک میں جگہ جگہ خانقاہی نظام برپا تھا۔ خانقاہ کو کبھی زاویہ کہتے اور کبھی رباط۔

باقاعدہ مدارس قائم کرنے والوں میں نظام الملک متوفی ۴۸۵ ھ اور میر علی شیر نوائی متوفی ۹۰۶ ھ کے نام سرفہرست ہیں۔ بغداد، نیشا پور، ہرات وغیرہ کی نظامیہ یورنیورسٹیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ صرف نظامیہ بغداد میں چھ ہزار طلباء تھے۔ میر علی شیرنوائی نے بھی سینکڑوں مسجدیں اور مدرسے بنوائے۔ بغدادکی مستنصریہ یونیورسٹی تیرھویں صدی عیسوی میں عجائب روزگار سے تھی۔

یہ دینی مدارس مسلمانوں کی علمی عظمتوں کے چمکتے ہوئے نشانات تھے اور ان تمام علوم و فنون کا مرکز رہے جو علمائے سلف سے انہیں بطور میراث پہنچے تھے۔ ان کی تعلیم کے سامنے جدید تعلیم ہیچ نظر آتی ہے۔ ان علوم کے ماہرین علماء سلف آسمان علم کے وہ چمکتے ہوئے آفتاب و مہتاب تھے جن کی عظمتوں کا اعتراف اغیار نے بھی کیا۔ غزالی، رازی، طبری، مسعودی، مقدسی، یاقوت حموی، خوارزمی کرخی، زکریا رازی، زکریا قزوینی، ابن الہیثم، زہراوی ایسے نامور علماء ہیں جن کے علم و فضل کا سکہ اہل یورپ کے دل و دماغ پر ابھی تک قائم ہے۔ اہل مغرب نے علمائے اسلام کے گراں قدر علمی شاہکار لاطینی، فرانسیسی اور جرمنی وغیرہ زبانوں میں منتقل کئے۔ یورپ کی موجودہ سائنسی ترقی مسلمان فضلاء کی مرہون منت ہے۔

یورپ کے جس نشـاۃ ثانیہ کے آغاز پر جدید تعلیم کے پرستاروں کو فخر ہے درحقیقت وہ علمائے اسلام خصوصاً اسپین اور سسلی کے عربوں کے علمی کارناموں کی بدولت ہے۔ ان مادہ پرستوں نے اپنے مخصوص مقاصد کی بنا پر صرف طبعی علوم پر زور دیا اور دیگر علوم و فنون جو انہوں نے مسلمانوں سے حاصل کئے تھے ان پر مغربی علوم کا لیبل چسپاں کر کے ہم تک پہنچانے کی کوشش کی۔

بر صغیر میں علمائے دین اور مشائخ عظام نے تعلیمی مراکز قائم کئے۔ ان کی تفصیل اس مختصر مضمون میں نہیں آ سکتی۔ دہلی، لکھنؤ، بدایوں، بریلی، خیر آباد، رامپور، ٹونک، کانپور، سہارنپور، مراد آباد، سندھ، پنجاب، بلوچستان، سرحد کے مختلف شہر مثلاً ٹھٹھہ، ملتان، لاہور، پشاور، سیالکوٹ، بہاولپور اور اسی طرح دوسرے مقامات علم و معرفت اور رشد و ہدایت کا گہوارہ رہے ہیں۔ دہلی میں ولی اللّٰہی درسگاہ کا فیض جاری تھا۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے فرزند ارجمند شاہ عبد العزیز و شاہ عبد القادر تعلیمی خدمات انجام دیتے رہے۔ بدایوں میں شاہ عبد القادر صاحب محب رسول جیسے عظیم اہل علم پیدا ہوئے جنہوں نے بدایوں جیسے مرکز علم کو چار چاند لگا دئیے۔ لکھنؤ میں فرنگی محل تعلیم اسلامی کا عظیم مرکز قرار پایا۔ خیر آباد میں آزادی ہند کے علمبردار حضرت مولانا فضل حق صاحب خیر آبادی اور ان کے تعلیمی مرکز کا نام تاریخ میں ہمیشہ درخشاں رہے گا۔ ٹونک میں مولانا لطف اللہ صاحب ٹونکی اور ان کا مدرسہ، کانپور میں مولانا احمد حسن صاحب کانپوری اور ان کا دار العلوم علم و فضل کے چمکتے ہوئے نشانات ہیں۔ علاوہ ازیں مشائخ کرام کی خانقاہیں جیسے پنجاب میں خانقاہِ مجددیہ، یوپی میں خانقاہِ امدادیہ اور خانقاہِ ضیفیہ (امروھہ) اسی طرح مشائخ کرام کے مقدس آستانے جیسے مہار شریف، کوٹ مٹھن شریف، تونسہ شریف، سیال شریف، گولڑہ شریف، بھیرہ شریف، علی پور شریف ان چمکتے ہوئے نقوش پر آج بھی ملک کے مختلف گوشوں میں علماء و مشائخ مدارس دینیہ و آستانہائے عالیہ کو علم و معرفت کا مرکز بنائے ہوئے ہیں اور اپنے اسلاف کی یادگاروں کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

با خبر حضرات اگر اسی ڈیڑھ سو سالہ دور کا گہری نظر سے مطالعہ کریں اور تعمق نظر سے جائزہ لیں تو انہیں برصغیر کے گوشہ گوشہ میں ایسے دینی مدارس کے چمکتے ہوئے نقوش نظر آئیں گے جنہیں صحیح معنی میں اسلاف کے دینی اور علمی مراکز کی عظمتوں کا ضامن کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مشائخ صوفیاء کی ان خانقاہوں کا تصور سامنے آئے گا جو بزرگان سلف کی روحانیت اور علم و معرفت کا گہوارہ تھیں۔ ان مدارس اور خانقاہوں میں جو تعلیم دی گئی وہ اس زہر کا تریاق تھی جو مغربی تعلیم کے ذریعے بر صغیر کے مسلمانوں کو پلایا گیا۔


تعلیم میں دینی مدارس کا حصہ
جمیع علوم کا سر چشمہ قرآن حکیم ہے خواہ وہ علوم الٰہیات سے متعلق ہوں یا طبعیات سے۔ اسی لئے ہمارے نزدیک تمام علوم بلا امتیاز اسلامی علوم ہیں۔ البتہ مغربی مدارس اور دینی مدارس کی تعلیم میں فرق ہے۔ مغربی تعلیم اسی مخصوص اندازِ فکر کا نام ہے جو اہل یورپ کے مخصوص ملحدانہ مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔ اسلامی تعلیم جو دینی مدارس سے حاصل ہوتی ہے وہ اسلامی فکر کے سانچے میں علوم کے ڈھل جانے کا نام ہے۔

اندازِ فکر کے بدل جانے سے فکر بدل جاتی ہے۔ اگر ایک انسان کو دو شخص اپنا مطمح فکر بنا لیں اور ان میں سے مثلاً ایک ماہر نفسیات ہو اور دوسرا ماہر امراض تو ہر ایک اپنے اندازِ فکر پر اس کے بارے میں غور و فکر کرے گا اور ہر ایک کا نظریہ اسی کے اندازِ فکر کے موافق ہو گا اور دونوں کے اخذ کردہ نتائج الگ الگ ہوں گے۔

اسلامی مدارس اور مغربی مدارس میں خواہ نصاب تعلیم ایک ہی ہو مگر دونوں کے اندازِ فکر کے اختلاف کے باعث نتائج و اثرات یقینا مختلف ہوں گے۔


مقصد تعلیم
مغربیت کے پرستار آج تک تعلیم کا کوئی واضح مقصد اور اس کی غرض و غایت متعین نہ کر سکے لیکن ہمارے نزدیک علوم اور ان کی تعلیم کا ایک بنیادی مقصد اور غرض و غایت ہے جسے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں بیان فرماتے ہوئے کہا
وغایتہا معرفۃ اللّٰہ عز وجل۔ (احیاء العلوم ص ۲۹ ج ۱) علوم کا مقصد اور تعلیم کی غرض و غایت اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔

انسان کا علم یا اپنی ذات سے متعلق ہو گا یا کائنات سے یا خالق کائنات سے جب اس کی نظر اپنی ذات پر پڑے گی تو اسے معلوم ہو گا کہ وہ حقائق کائنات کا جامع اور حسن خالقیت کا عظیم شاہکار ہے۔ یہ دونوں باتیں اس کے لئے خدا کی معرفت کا موجب ہوں گی۔ اس علم کی روشنی میں وہ اپنے دامن انسانیت سے وابستہ ہونے والے ہر ذرہ کو اپنے خالق اور صانع کی ہستی کے لئے دلیل سمجھے گا اور اپنے آئینۂ قلب میں اس کے حسن و جمال کی تجلیات کا مشاہدہ کرے گا۔

اسی طرح جب وہ کائنات کو دیکھے گا تو افرادِ عالم اور اجزائے کائنات کا ہر فرد اور ہر جز اس کی نظر میں اس کی حقیقت جامعہ کے اجمال کی تفصیل ہو گا۔ وہ جانے گا کہ انسان، کائنات اور خالق کائنات کے درمیان کیا تعلق ہے؟ یہ علم اس کے اخلاق کردار اور معاشرہ کی بنیاد قرار پائے گا۔

مختصر یہ کہ قرآنی اور اسلامی علوم کی تعلیم اس مقصد عظیم کے پیش نظر صرف دینی مدارس میں ہوئی اور تعلیم کا یہ گراں قدر حصہ صرف مدارس دینیہ اور مراکز روحانیہ کے حصے میں آیا۔

یہی وہ حصہ تعلیم ہے جسے دینی مدرسوں اور روحانی مرکزوں میں بیٹھ کر حضرت پیر جماعت علی شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر سید مہر شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر صاحب مانکی شریف، حضرت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن شریف، حضرت خواجہ نور محمد قبلہ عالم مہاروی، حضرت مولانا ابو الحسنات الوری ثم لاہوری، حضرت مولانا ابو البرکات قادری، حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی، حضرت مولانا پیر محمد کرم شاہ ازہری بھیروی جیسے کثیر علماء و مشائخ کرام نے حاصل کیا۔ ان میں سے موجودہ حضرات اور ان جیسے بے شمار فضلاء و صوفیائے عظام آج بھی اپنے مدرسوں اور مسجدوں میں درس و تدریس اور تلقین و تعلیم کا کام کر رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ان جیسے اکابر فضلاء نے اپنی تصانیف جلیلہ کے ذریعہ قابل قدر علمی خدمات انجام دیں۔


دینی مدارس کی تعلیم کی افادیت
اسلامی علوم دینی مدارس اور ان کی تعلیم سے متعلق جو تفصیل عرض کی گئی اس کے ضمن میں اس کی افادیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی مدارس کے ذریعہ اسلامی علوم کا احیاء ہوا۔ تعلیمات قرآنیہ اور اسلامی اندازِ فکر سے عوام کو آگاہی حاصل ہوئی۔ خدا کی معرفت اور اس کے خوف کے اثرات سے مسلمانوں کے اذہان و قلوب منور ہو گئے۔ خیر و شر بد اخلاقی اور حسن خلق کا معیار قائم ہو گیا۔ حریت فکر اور جذبۂ جہاد ان ہی مدارس دینیہ کی تعلیم سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا۔ دینی مدارس کی تعلیم ہی کا اثر تھا کہ نظریۂ پاکستان کی شدید ترین مخالفت کے دور میں بھی علماء اور مشائخ کی قیادت میں عامۃ المسلمین نے اسلامی قومیت کی بنیاد پر پاکستان کی حمایت کی اور بلا خوف لومۃ لائم اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔

ستمبر ۱۹۶۵ ء کی جنگ میں علماء اور مشائخ نے جو کردار ادا کیا وہ بھی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ دینی مدارس کی تعلیم عظیم الشان افادیت کی حامل ہے۔ البتہ اس پُرآشوب دور میں مدارس دینیہ کی حالت بہت کمزور ہے جس کے اسباب و علل پر اس مختصر گفتگو میں تفصیلی روشنی ڈالنے کی گنجائش نہیں۔ اگر یہی صورتِ حال رہی تو خطرہ ہے کہ دینی تعلیم کا یہ چراغ کہیں گل نہ ہو جائے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ عوام اور اربابِ حکومت دونوں اس سلسلے میں دلی ہمدردی اور دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔

وَمَا ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ


                                                                                                   ہوم پیج