وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں

قرآن اور آسمان

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْد

جناب معلے القاب حضرت سید سید المفسرین تاج المحدثین مولانا قبلہ کاظمی شاہ صاحب دام مجدکم۔ آداب تسلیمات مسنونہ و تکرمات مقرونہ کے بعد عرض ہے کہ مسئلہ مندرجہ ذیل میں جناب عالی کی تحقیقاتِ علمیہ اور تدقیقاتِ محققانہ کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اپنے قیمتی اوقات سے فرصت نکال کر آپ متوجہ مسئلہ متذکرہ ذیل ہوں گے۔ وعلی اللّٰہ تعالیٰ اجرکم۔

الاستفسار ما قولکم دام طولکم اندریں باب کہ
آسمان کی بابت ہم اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ وہ ایک مضبوط بنا ہے اور اس میں دروازے ہیں وہ ملائکہ کرام کا مستقر ہے اور اس میں خرق والتیام وغیرہ لوازماتِ جسمیہ کے قائل ہیں۔

قال تعالٰی وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادً۔ وَقَالَ عَزَّ مِنْ قَائِلٍ۔ أَأَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَائُ بَنَاہَا۔ رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوَّاہَا۔ وَفُتِحَتِ السَّمَائُ فَکَانَتْ اَبْوَابًا۔
استواء انفطار، انشقاق وغیرہ صفات سے ثابت ہے کہ عام اجسام کی صفات سے متصف اور حدوث و فنا میں ان کے ساتھ ملحق ہے۔

اسی طرح اجرام فلکیہ ستار ہائے ثوابت و سیارہ کا افلاک میں مرکوز ہونا اور بعض کا ثابت و ساکن اور بعض کا متحرک ہونا معلوم ہوتا ہے۔ کما یشیر الیہ قولہ تعالٰی وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَائِ بُرُوْجًا۔ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ۔ فَلاَ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ۔
بر خلاف اس کے کہ حکمائے یونانیین آسمان کو جسم بسیط اور متحرک تو مانتے ہیں مگر اس میں خرق والتیام کو ممتنع بتاتے ہیں اور اس کی قدامت کے قائل اور فنا کے منکر ہیں اور اہل سائنس جدید وجود آسمان کے منکر اور خلا کے قائل ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ سب ستارے نظام شمسی کے ماتحت سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں اور اب راکٹوں اور میزائلوں کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ ۷۰۶ لاکھ میل تک خلا میں سفر کرنے کے بعد بھی آسمان کا وجود نہیں بلکہ خلا ہی خلا ہے۔ حتیٰ کہ ان کا مصنوعی سیارہ چاند سے گزر کر سورج کے گرد گھوم رہا ہے۔

اس سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نظریۂ اہل اسلام و حکماء اہل رصد متقدمین برصواب نہیں۔ براہِ کرم اس بارے میں مفصل روشنی ڈال کر ماجور و مشکور ہوں۔

کتبہ، الفقیر حافظ محمد عفی عنہٗ

الجواب: مکرمی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
آپ کے استفسار کا مفصل جواب حسب ذیل ہے۔
تخلیق انسانی کا وہ مقصد عظیم جس کی تکمیل کے لئے فطرتِ انسانی عقل سلیم کی روشنی میں بے تاب نظر آتی ہے صرف معرفت الٰہی ہے۔ قال اللّٰہ تعالٰی
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ خازن میں ہے وقیل معناہ الا لیعرفون وہو احسن (ص ۲۰۶۔ ج ۴) اسی لئے ارشاد فرمایا اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد انسان کسی نہ کسی رنگ میں ہستی باری تعالیٰ کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کا تسلیم کرنا عقل سلیم کی روشنی میں شرعاً صحیح ہے یا نہیں؟ لیکن اس میں شک نہیں کہ اصنام و احجار بحار و اشجار خاک و نار شمس و قمر ماؤ مطر کو الٰہ ماننے والے زبان حال سے پکار رہے ہیں کہ ہم بھی الٰہ حق کی تلاش میں حیران و سرگردان ہیں۔ یہ ہماری بد نصیبی اور محروم القسمتی ہے کہ ہم نے غیر الٰہ کو الٰہ سمجھا۔ عابد کو معبود اور ساجد کو مسجود جانا لیکن ان مظاہر کائنات کی پرستش ہماری فطرت کے تقاضے کا پتہ دے رہی ہے کہ ہم بھی ہستی معبود کے مقر ہیں۔ حتیٰ کہ دہریہ نے بھی دہر کو موثر حقیقی مان کر تسلیم کر لیا کہ موثر کے بغیر اثر ناممکن ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے

دہری نے کیا دہر سے تجھ کو تعبیر
انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا

اور یہ امر بھی ظاہر ہے کہ معرفت الٰہیہ ہی ایسی چیز ہے جس کے دامن سے سعادت دارین فلاح کونین راحت ابدی اور نجات حقیقی وابستہ ہیں جس کے لوازمات سے تخلی عن الرذائل اور تجلی بالفضائل ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ اسلام جو اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین ہے اور قرآن جو اسی خالق حقیقی کا کلام بلاغت نظام ہے وہ عامۃ الناس کے لئے وضاحت کے ساتھ انہی مسائل کو بیان کرتا ہے جن سے اس کے مقصد تخلیق اور اس کے لوازمات اور مناسبات کا تعلق ہے۔ اگر عوام کے حق میں آپ دین کے ہر گوشے اور قرآن کے ہر بیان پر گہری نظر ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ جن مسائل و مضامین کا تعلق اس مقصد عظیم سے نہیں یا جن چیزوں میں الجھ کر اس کے اپنے مقصود حقیقی کے دور ہو جانے کا اندیشہ ہو قرآن اور اسلام نے ان کو ایسے مضامین کے ساتھ مخاطب نہیں فرمایا نہ انہیں بنیادی حیثیت دی۔ البتہ خواص کے لئے ایسے اشارات رکھ دئیے جن کی روشنی میں ان کے لئے وہ تمام علوم و حکم اور مسائل و مضامین واضح اور روشن ہیں جو عوام کے حق میں بجائے مفید ہونے کے مضر ہو سکتے ہیں۔ زمین و آسمان و دیگر مصنوعات کائنات میں اللہ تعالیٰ نے جس تفکر کی دعوت دی ہے وہ صرف ایسے طریقے سے ہے جس کا تعلق معرفت الٰہیہ سے ہو۔ اس کے علاوہ تفکر کے دوسرے طریقے جو معرفت الٰہی کا ذریعہ نہیں بلکہ بسا اوقات گمراہی کا سبب ہو سکتے ہیں قرآن نے پیش نہیں کئے۔ کسی چیز میں تین طرح تفکر ہو سکتا ہے۔ (۱) یہ چیز اصل حقیقت میں کیا ہے؟ (۲) اپنے اوصاف میں کیسی ہے؟ (۳) اس کا فائدہ کیا ہے؟

پہلی صورت میں کم علم عوام کے لئے گمراہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے اس طرزِ تفکر سے عوام کو بچایا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا۔ یعنی معرفت روح کے بارے میں اَلرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ سے آگے تفکر نہ کرو کیونکہ تم اتنا علم نہیں رکھتے۔ دوسری صورت کا تعلق جس جگہ معرفت الٰہیہ سے ظاہر و باہر ہو وہاں وہ اندازِ فکر شرعاً مطلوب و محمود ہے۔

قال اللّٰہ تعالٰی اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْo وَاِلَی السَّمَائِ کَیْفَ رُفِعَتْo وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْo وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْo (غاشیہ ۱۷۔ ۲۰)

تیسری صورت کا بھی یہی حال ہے کہ اگر وہ طریقہ تفکر معرفت ایزدی کا ذریعہ ہو تو عند اللہ مطلوب و مرغوب ہے ورنہ مذموم و مبغوض۔ قرآن کریم میں ہے یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَہِلَّۃِط قُلْ ہِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ۔ (بقرۃ : ۱۸۹)

چاند کے گھٹنے بڑھنے کا فائدہ اوقات، عبادات کا مفہوم ہونا ہے۔ اگر اس انداز سے اس میں تفکر واقع ہو تو بلا شک مطلوب و محمود ہے۔ مصنوعات عالم میں قرآن کریم نے جو دعوت تفکر دی ہے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ارشاد ہوتا ہے اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ مَّائٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَابَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔ (بقرۃ : ۱۶۴)

نیز ارشاد فرمایا وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاًج سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (آل عمران : ۱۹۱)

ان آیات سے معلوم ہواکہ قرآن نے ہمیں اس حیثیت سے تفکر کی دعوت دی ہے کہ اس تفکر سے ہمیں معرفت الٰہیہ کا فائدہ حاصل ہو اور ہم سمجھیں کہ ہر شے کا حقیقی فائدہ یہ ہے کہ وہ وسیلۂ معرفت خداوندی ہو۔ اس کے برخلاف جاہلیت کا نظریہ رکھنے والے مادہ پرست جو اندازِ فکر اختیار کرتے ہیں۔ وہ عموماً پہلی قسم کا ہوتا ہے اور وہ تفکر فی الماہیت ہے۔ یعنی اس بات کو سوچنا کہ اس چیز کی حقیقت کیا ہے؟ اس اندازِ فکر سے تو یہ ممکن ہے کہ مصنوعات عالم کے بعض دنیوی اور عارضی فوائد حاصل ہو جائیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ غور و فکر کا یہ طریقہ ان کے لئے معرفت الٰہی کا ذریعہ اور سعادتِ دنیوی اور نجاتِ اخروی کا وسیلہ ہو سکے۔ مختصر یہ کہ اسلام نے ایک طرف تو ہمیں گمراہ کن اندازِ فکر سے بچایا اور دوسری طرف ہمارے لئے ان مسائل کی وضاحت پر اکتفاء کیا جن کا تعلق معرفت خداوندی، سعادتِ ابدی اور نجاتِ اخروی سے تھا۔ چاند، سورج، ستاروں اور آسمانوں کے مسائل بھی اسی قسم کے ہیں۔ قرآن مجید نے ان کے موجود اور محسوس و مشاہدئہ حالات و کیفیات کو دلائل قدرت و براہین معرفت سے شمار کیا اور صرف اسی حیثیت سے ان میں تفکر کی دعوت دی ہے۔ ان کی حقیقت و ماہیت میں سوچ بچار اور ان کے احوال و تغیرات کے اسباب و علل کی چھان بین چونکہ انسان کے مقصد تخلیق سے بہت دور تھی اور اس کے عارضی فوائد کے مقابلے میں گمراہی کے خطرات بہت زیادہ اور شدید تھے۔ اس لئے قرآن مجید نے عامۃ الناس کے لئے ان کی وضاحت سے پہلو تہی کی اور ان کے بیان میں وہی انداز رکھا جو انسانوں کے لئے ان کے مقصد تخلیق کے اعتبار سے مفید ثابت ہو۔ جہاں تک آسمانوں کے وجود کا تعلق ہے۔ قرآن مجید کی روشنی میں ان کا تسلیم کرنا ضروریاتِ دین سے ہے۔ جو شخص آسمانوں کے مطلق وجود کا انکار کرے گا وہ مومن نہیں رہ سکتا۔ رہا یہ امر کہ آسمانوں کے وجود کی حقیقت و ماہیت کیا ہے؟ وہ اجسام ثقیلہ ہیں یا خفیفہ ان کے اجزاء سخت ہیں یا نرم؟ وہ لطیف ہیں یا کثیف؟ نیز یہ کہ ستارے ان میں مرکوز ہیں یا غیر مرکوز؟ ان امور کے متعلق قرآن نے کوئی قطعی حکم بیان نہیں کیا نہ ان مسائل کو اصولی و بنیادی حیثیت دی۔ جن آیات میں خلق سمٰوٰت کا ذکر ہے۔ ان کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو موجود کیا ان کا وجود کیا ہے؟ یہ امر مسکوت عنہ ہے۔ آپ نے جن آیاتِ قرآنیہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ عام اجسام کی صفات سے متصف اور حدوث و فنا میں ان کے ساتھ ملحق ہیں اور اس کے بعد آپ نے چند آیات تحریر فرمائیں جن کے پیش نظر ارقام فرمایا کہ وہ اجرام فلکیہ ستارہائے ثوابت و سیارہ کا افلاک میں مرکوز ہونا اور بعض کا ثابت و ساکن اور بعض کا متحرک ہونا معلوم ہوتا ہے وہ آیات آپ کے تحریر فرمودہ نظریات سے بالکل ساکت ہیں۔ آسمان یقینا حادث ہے مگر ان کے متعلق یہ نظریہ کہ وہ عام اجسام (کثیفہ محسوسہ) کی صفات سے متصف ہیں نیز یہ کہ ستار ہائے ثوابت و سیارہ افلاک میں مرکوز ہیں بعض ساکن اور بعض متحرک ہیں۔ علماء ہیئت کا نظریہ ہے جمہور محققین اسلام اس کو صحیح نہیں مانتے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ علماء ہیئت کا مذہب یہ ہے کہ

(۱) آسمانوں میں خرق و التیام محال ہے۔ (۲) ہر ستارہ الگ آسمان میں ہے۔ (۳) ہر ستارہ اپنے آسمان میں مرکوز ہے۔ (۴) آسمان اجرام صلبہ یعنی بہت سخت قسم کے اجسام ہیں اور جمہور محققین اسلام کا مذہب اس کے خلاف یہ ہے کہ

(۱) آسمانوں میں خرق و التیام نہ صرف ممکن بلکہ واقع ہے۔ (۲) سب ستارے ایک آسمان میں گھومتے ہیں۔ (۳) کوئی ستارہ کسی آسمان میں مرکوز نہیں بلکہ ستارے آسمان میں جاری ہیں۔ (۴) آسمان کا وجود یقینی ہے لیکن اس کا جرم سخت نہیں بلکہ وہ پانی اور ہوا کی طرح لطیف ہے یا مجوف ہے اور اس کا جوف ہوا سے پر ہے یا مجوف ہے مگر ہوا وغیرہ سے خالی ہے۔ اس میں ستارے اس طرح چلتے ہیں جیسے پانی میں مچھلی یا یہ کہ آسمان میں ستاروں کے جاری ہونے کی جگہ ایسی لطیف ہے کہ اس میں ستاروں کا چلنا آسان ہے یعنی آسمان کی وہ سطح جس میں ستارے چلتے ہیں لطیف ہے اور باقی حصہ منجمد ہے۔ امام ضحاک نے کہا کہ فلک کوئی جسم نہیں بلکہ وہ ستاروں کا مدار ہے اور اکثر کا قول ہے کہ افلاک اجسام ہیں جن پر ستارے گھومتے ہیں۔ ان کے اجسام کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ فلک ایک موج مکفوف ہے جس میں چاند سورج اور ستارے جاری ہوتے ہیں۔ امام کلبی نے کہا کہ وہ ماء مجموع ہے جس میں ستارے تیرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ سباحت (تیراکی) پانی کے بغیر ناممکن ہے۔ ہم ان کو جواب دیں گے کہ سباحت کا اطلاق پانی کے بغیر جائز ہے۔ دیکھئے تیز رفتار گھوڑے کو عربی محاورات میں سابح (تیراک) کہا جاتا ہے۔ ان تمام اقوال اور نظریات کے ثبوت میں حسب ذیل عبارات نقل کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں۔

(۱) وکل تنوینہ عوض عن المضاف الیہ من الشمس والقمر والنجوم (جلالین)
(۲)
فی فلک واحد من الافلاک وہی السماء الدنیا بدلیل قولہٖ تعالٰی اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَائَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ۔ یَسْبَحُوْنَ کَمَا یَسْبَحُ السَّمَک فِی الْمَاء۔ (تفسیر مظہری ص ۸۵ پ ۲۳)
(۳)
والسبب فی ذٰلک عند الہیئۃ انہا مرتکزۃ فی افلاک جزئیۃ۔ (تفسیر مظہری پ ۳۰ ص ۲۰۸)
اس سے آگے چند سطور کے بعد فرماتے ہیں
واما عندنا فالکواکب کل منہا فی فلک یسبحون علٰی ما اراد اللّٰہ سبحانہٗ۔ (پ ۳۰ ص ۲۰۸)
(۴)
(المسئلۃ الثالثۃ) الفلک فی کلام العرب کل شیء دائر وجمعہ افلاک واختلف العقلاء فیہ فقال بعضہم الفلک لیس بجسم وانما ہو مدار ہٰذہ النجوم وہو قول الضحاک وقال الاکثرون بل ہی اجسام تدور النجوم علیہا وہٰذا اقرب الٰی ظاہر القراٰن ثم اختلفوا فی کیفیتہ فقال بعضہم الفلک موج مکفوف تجری الشمس والقمر والنجوم فیہ وقال الکلبی ماء مجموع تجری فیہ الکواکب واحتج بان السباحۃ لا تکون الا فی الماء قلنا لا نسلم فانہ یقال فی الفرس الذی یمدیدیہ فی الجری سابح وقال جمہور الفلاسفۃ واصحاب الہیئۃ انہا اجرام صلبۃ لا ثقیلۃ ولا خفیفۃ غیر قابلۃ للخرق والالتیام والنمو والذبول فاما الکلام علی الفلاسفۃ فہو مذکور فی الکتب الائقۃ بہ والحق انہ لا سبیل الی معرفۃ صفات السمٰوٰت الا بالخبر۔ (تفسیر کبیر جلد ۶ ص ۱۴۹)
(۵)
وہٰذا المجری فی السماء ولا مانع عندنا ان یجری الکوکب بنفسہٖ فی جوف السماء وہی ساکنۃ لا تدور اصلاً وذٰلک بان یکون فیہا تجویف مملوء ہواء او جسمًا آخر لطیفًا مثلہ یجری الکوکب فیہ جریان السمکۃ فی الماء او البندقۃ فی الامنبوب المستدیرۃ مثلا او تجویف خال من سائر ما یشغلہ من الاجسام یجری الکوکب فیہ اوبان تکون السماء باسرہا لطیفۃ او ما ہو مجری الکوکب منہا لطیفا فیشق الکوکب ما یحاذیہ وتجری کما تجری السمکۃ فی البحر وفی ساقیۃ منہ وقد انجمد سائرہ وانقطاع کرۃ الہواء عند کرۃ النار المماسۃ لمقعر فلک القمر عند الفلاسفۃ وانحصار الاجسام اللطیفۃ بالعناصر الثلاثۃ وصلابۃ جرم السماء وتساوی اجزاء ہا واستحالۃ الخرق والالتیام علیہا واستحالۃ وجود الخلاء لم یتم دلیل علی شیء منہ واقوی ما یذکر فی ذٰلک شبہات او ہن من بیت العنکبوت وانہ ورب السماء لا وہن البیوت۔ انتہٰی۔(روح المعانی پ ۲۳ ص ۲۲)
عبارت منقولہ سے حسب ذیل فوائد حاصل ہوئے

(۱) محققین اسلام کے نزدیک آسمانوں کا وجود ایسا لطیف ہے جس میں تمام ستارے اس طرح جاری ہیں جیسے پانی میں مچھلی جارہی ہوتی ہے۔
(۲) آسمانوں میں خلق والتیام واقع ہے۔
(۳) ستارے آسمانوں میں مرکوز نہیں۔
(۴) ہر ستارے کیلئے الگ الگ آسمان نہیں بلکہ تمام ستارے ایک ہی آسمان میں ہیں۔
(۵) بعض محققین جیسے امام ضحاک رحمۃ اللہ علیہ ستاروں کے جاری ہونے کی جگہ  (فلک) کو جسم نہیں مانتے۔
(۶) آسمانوں کے جرم کی سختی و صلابت فلاسفہ کا مذہب ہے، اہل اسلام کا نہیں۔
(۷) فلک اور آسمان کی ماہیت و کیفیت کے بارے میں جلیل القدر ائمہ تفسیر اور محققین کا اختلاف اقوال اس امر کی روشن دلیل ہے کہ قرآن کریم نے عامۃ الناس کے لئے اس مسئلے کی وضاحت سے پہلو تہی کر کے تخلیق انسانی کے مقصد عظیم کی تکمیل کے لئے اسے کوئی اہمیت نہیں دی اور وہ کوئی ایسا بنیادی اور اصولی مسئلہ نہیں جس میں اختلاف کا امکان نہ ہو۔ ان فوائد کی روشنی میں یہ حقیقت بالکل ظاہر ہے کہ اگر کسی وقت کوئی شخص چاند، سورج سے آگے بھی چلا جائے اور اسے آسمانوں کے وجود کا احساس و ادراک نہ ہو تو کچھ بعید نہیں۔ اس لئے کہ اشیاء لطیفہ کثیف چیزوں کی طرح محسوس و مدرک نہیںہو سکتیں۔ جس کی دلیل سائنسدانوں کا یہ نظریہ ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان ایک رقیق مادہ (ایتھر) ہر وقت متحرک ہے جو تمام اجسام کا مبداء و اصل مادہ ہے لیکن حواسِ خمسہ میں سے کوئی حس آج تک اس کا ادراک نہ کر سکا۔ محض اس لئے کہ وہ نہایت رقیق و لطیف ہے۔ لہٰذا اگر آسمان بھی اسی رقت و لطافت کی وجہ سے محسوس نہ ہوں تو اس میں کون سا تعجب ہے؟ بالخصوص اس صورت میں جبکہ وہ مستقر ملائکہ ہے اور ملائکہ لطیف ہیں اس لئے ان کا مستقر بھی لطیف ہونا چاہئے۔

ہاں وہ فلاسفہ جن کے نزدیک آسمان کا جرم نہایت سخت اور کثیف اور اس میں خرق والتیام بھی نہیں ہو سکتا وہ اپنے اصول کے مطابق جواب نہ دے سکیں گے۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اسلامی نظریات کی روشنی میں چونکہ یہ مسئلہ اصولی اور بنیادی حیثیت نہیں رکھتا اس لئے اگر کسی مسلمان متکلم نے بھی یہاں فلاسفہ کے بعض اقوال کو تسلیم کر لیا ہو تو اس سے ہمارے بیان پر زد نہیں پڑتی۔ زیادہ سے زیادہ اسی کے مسلک پر اعتراض ہو گا جس نے فلاسفہ کے قول کی تائید کی ہے۔ اسی طرح وہ بعض روایات جو ضعیف ہیں یا ضعیف نہیں مگر اخبار و احاد ہیں اور ان سے بظاہر اجسام فلکیہ کی کثافت اور ثقل و صلابت مفہوم ہوتی ہے ہمیں مضر نہیں کیونکہ ایسی روایات پر کسی اصولی اور بنیادی مسئلے کا ابتناد نہیں ہو سکتا۔ ہماری بحث صرف اصولی اور بنیادی مسائل میں ہے۔ ضعیف ظنی باتیں ہمارے پیش نظر نہیں۔ یہ تقریر اس تقدیر پر ہے کہ سائنس دانوں کا آسمانوں سے گزر جانا اور چاند سورج سے آگے بڑھ جانا دلیل سے ثابت ہو جائے ابھی تک تو کسی ادنیٰ حیوان کا بھی وہاں تک پہنچنا ثابت نہیں ہوا۔ چہ جائیکہ انسان کی رسائی۔

چند ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر آج تک کوئی نہ جا سکا تو ۶ لاکھ میل کی بلند پروازی کسی کے حق میں کیونکر متصور ہو سکتی ہے؟

رہا یہ امر کہ راکٹ اتنی مسافت طے کر گیا تو اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو آسمان کے جسم لطیف سے اس کا گزر جانا اس طرح ممکن ہو گا جیسے وہ ایتھر سے گزر گیا اور اگر اصل حقیقت پر غور کیا جائے تو راکٹ کے متعلق بھی یہ دعویٰ بلا دلیل ہے کیونکہ اس کی کیفیت رفتار معلوم نہیں اس بات پر کون سی دلیل قائم ہے کہ وہ بخط مستقیم حرکت کر رہا ہے جس کی بنا پر یہ اندازہ صحیح مانا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی حرکت ایسی نوعیت کی ہو جس کی بنا پر یہ اندازہ غلط قرار پائے۔

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے راکٹ چھوڑے ہیں وہ یہ دعویٰ یقین کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ محض اندازہ لگا کر کہتے ہیں کہ ہمارا راکٹ اس رفتار کے حساب سے اتنے عرصہ میں اتنی بلندی پر پہنچ گیا۔ اس اٹکل پچو اندازے کے متعلق قرآن کریم نے پہلے ہی فرما دیا، اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ۔ (یونس : ۶۶)
ایسی صورت میں اگر ہم اس دعویٰ کو یقینی قرار دیں تو وہی مثال صادق آئے گی کہ مدعی سست گواہ چست۔ اب ان آیات پر کلام کرتا ہوں جن کے پیش نظر بیان سابق میں شبہات پیدا ہو سکتے ہیں۔
فاقول وباللّٰہ التوفیق۔
(۱)
وَجَعَلْنَا السَّمَائَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا۔ (انبیاء : ۳۲)
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آسمان کو گرنے سے محفوظ کر دیا۔ یہ نہیں کہ مطلقاً وہاں سے کسی کا گزرنا ہی محال ہے۔
(۲)
وَحَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَّجِیْمِ۔ (الحجر : ۱۷)
اس سے بھی یہ مراد نہیں کہ علی الاطلاق وہاں کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ آسمانوں کو ہم نے شیاطین کے استراق سمع سے محفوظ کر دیا۔
(۳)
وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا۔ (النباء : ۱۲) اس کے معنی یہ نہیں کہ سماوات سبع نہایت محکم پائیدار اور ایسے قوی الخلقت ہیں کہ مرور زمانہ ان میں اثر نہیں کرتا۔ وہ اپنی پائیدار پیدائش کی وجہ سے فطور و فروج کے آثار و تغیرات سے محفوظ و مصؤن ہیں۔ دیکھئے تفسیر کبیر میں اسی آیت کے تحت ہے شداد جمع شدیدۃ یعنی محکمۃ قرینۃ الخلق لا یؤثر فیہا مرور الزمان لا فطور فیہا ولا فروج۔ (تفسیر کبیر ص ۴۳۱ جلد ۸)
(۴)
ئَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَائُ بَنٰہَا رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوّٰہَا۔ (نٰزعٰت : ۲۷، ۲۸) اس آیت کے بھی یہ معنی نہیں کہ آسمان کا جسم سخت ہے بلکہ آیت کریمہ کا مفہوم ہے کہ تمہارا بنانا مشکل ہے یا آسمان کا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا اس کے ابھار کو اونچا کیا پھر اسے برابر کیا۔ لطیف چیز کا ابھار بھی لطیف ہوتا ہے۔
(۵)
وَفُتِحَتِ السَّمَائُ فَکَانَتْ اَبْوَابًا۔ (النباء : ۱۹) اصول یہ ہے کہ موصوف جیسا ہو گا اس کی صفات اسی نوعیت کی ہوں گی۔ جب وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ۔ (یٰس : ۴۰) سے امر ثابت ہو گیا کہ آسمان ایسی لطیف شے ہے جس میں ستارے سباحۃ (تیراکی) کرتے ہیں تو اس کا بست و کشاد اور اس کے ابواب بھی اس کے حسب حال اور شایان شان ہوں گے۔ دیکھئے اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی۔ (طٰہٰ : ۵) میں وہی استویٰ مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے یعنی جو اس کی جسمانیت کو مستلزم نہ ہو اسی طرح آسمانوں کا کھلنا بند ہونا اس کے دروازے علیٰ ہٰذا القیاس اس کا انفطار و انشقاق سب اس کی لطافت کے موافق ہو گا۔ اس طرح اس کے بروج اور اس میں مختلف الحال ستاروںکا پایا جانا یہ سب کچھ ایسے ہی لطیف اوصاف ہوں گے جیسے موصوف لطیف ہے۔ قرآن مجید میں یَوْمًا ثَقِیْلاً۔ قَوْلاً ثَقِیْلاً اور اسی قسم کے بکثرت الفاظ وارد ہیں لیکن آج تک کسی نے ثقل سے مادی ثقل مراد نہیں لیا کیونکہ ثَقِیْلاً یوم اور قول کی صفت ہے جب موصوف جسمانی اور مادی نہیں تو صفت کس طرح جسمانی اور مادی ہو گی اسی طرح افلاک و سماوات کے لوازم ملزوم کے حسب حال اور اس کے شان کے لائق و مناسب ہی ہو سکتے ہیں اس کے خلاف کیونکر مراد لئے جاویں گے۔ نیز قرآن مجید کی آیت ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَائِ وَہِیَ دُخَانٌ۔ (حٰم السجدۃ : ۱۱) سے بھی آسمان کے جسم لطیف ہونے کی تائید ہوتی ہے۔
(۶)
یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ۔ (الرحمٰن : ۳۳) اس آیت سے بظاہر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آسمانوں اور زمینوں سے نکل بھاگنا ممکن نہیں تو ظاہر ہے کہ آسمانوں سے گزرنا بھی محال ہو گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت سے نکل جانے اور اس کے احاطہ اختیار سے باہر ہو جانے کی نفی مراد ہے اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم زمین و آسمان سے نکل بھی جاؤ تب بھی اللہ تعالیٰ کے سلطان یعنی اس کی قدرتِ کاملہ اور قدرتِ غالبہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ یا یہ کہ قیامت کے دن اس کی قدرتِ کاملہ کے بغیر اس کے عذاب سے نہیں چھوٹ سکتے۔ آیۂ کریمہ کا سیاق و سباق ان معنی کی روشن دلیل ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر کبیر ص ۳۰، ۳۱ جلد ۸۔ تفسیر مظہری جلد ۱۰)

آخر میں ایک چھوٹے شبہ کا جواب عرض کر دوں۔ اگر کسی وقت یہ ثابت ہو جائے کہ چاند ستاروں وغیرہ میں آبادی ہے تو رسول اللہ ﷺ کی تعلیم انہیں کس طرح پہنچے گی پھر وہاں نہ قرآن ہے نہ کعبہ ہے نہ چاند ہے کیونکہ وہ خود چاند میں رہتے ہیں تو وہ روزہ، نماز وغیرہ کس طرح ادا کریں گے۔ اگر وہاں کوئی نبی مانا جائے تو حضور ﷺ خاتم النبیین نہیں رہتے۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ باوجود اختلاف احوال کے تمام مکلفین کے لئے احکام شرعیہ یکساں ہوں۔ علاوہ ازیں یہ کہ یہ اعتراض بھی فلاسفہ کے مذہب پر ہو گا اسلام اس امر کو محال نہیں جانتا کہ ایک وجود بیک وقت متعدد مقامات پر پایا جائے۔ نہ اسلامی اصول کی رو سے یہ امر ضروری ہے کہ مصنوعات عالم کی ہر چیز سب کے علم میں ہو۔ ممکن ہے کہ ایک چیز موجود ہو اور کسی مانع کی وجہ سے ہم اس کا مشاہدہ نہ کر سکیں۔ سائنس دان اور علماء ہیئت نے ایسے بہت سے ستاروں کو معلوم کر لیا جن کو پہلے فلاسفہ نہ جانتے تھے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ چاند میں رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی اور ستارہ بنایا ہو جو ان کے لئے چاند کا کام دیتا ہو اور ہمیں ابھی تک اس کا علم نہ ہوا ہو اور حضور ﷺ کے علاوہ کسی نبی کو ان کے لئے تسلیم کرنے کی اجازت نہیں۔ جب سائنس کی روشنی میں یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ فردِ واحد آنِ واحد میں کروڑوں مقامات پر موجود ہو سکتا ہے اور ہمارے لئے تو حضرت عبد اللہ بن عباس کا وہ اثر کافی ہے کہ جس میں زمین کے ہر طبقے میں آدم علیہ السلام کی طرح آدم اور نوح علیہ السلام کی طرح نوح اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرح محمد ﷺ کا وجود ثابت ہے۔ بعض محدثین نے اس حدیث میں لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ کی طرح حرف تشبیہ کو زائد قرار دیا ہے جس کا مقتضیٰ یہ ہوا کہ تمام طبقاتِ زمین میں یہ سب انبیاء مذکورین علیہم السلام بیک وقت قرار پائے جاتے ہیں اسی طرح اگر حضور ﷺ کا وجود مبارک اور ایسے ہی کعبہ شریفہ چاند میں بھی پائے جاتے ہیں اور وہاں کے سب باشندے حضور ﷺ ہی کی شریعت کے مکلف ہوں تو اس میں کونسا استحالہ ہے۔

                                                                                                   ہوم پیج