سائنس و مذہب

آفتاب بخت مشرق آہ مغرب میں چھپا
صبح مشرق، شام مغرب سے مُبدّل ہو گئی

سائنس کی عبرت ناک ترقی کے کارنامے اہل علم حضرات سے مخفی نہیں۔ عصر جدید میں اس کی ترقی بظاہر محیر العقول سہی لیکن فلسفہ قدیمہ کے حالات کا مطالعہ اس کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ زمانے کا ہر نیا دور اپنی انقلابی کیفیات میں جب گوناگوں حدتیں اور بوقلموں اسباب انکشاف و ذرائع معلومات لے کر آتا ہے تو ہر لاحق دور سابق سے منازل ارتقا میں بلند و بالا ہوتا ہے جس کی نظیر میں جنس نباتاتی و حیوانی اور نوعِ انسانی کے افراد موجود ہیں۔ ایک چھوٹے سے پودے کو دیکھ لیجئے کہ وہ اپنے ابتدائی دور میں وصف نباتیت تو رکھتا ہے لیکن اوصاف شجریت کے ظہور تام سے معرا ہے، کمزور تنے اور چند نرم و نازک پتیوں کے سوا ابھی تک کسی اور چیز سے وابستہ نہیں۔ اس کے بعد رفتارِ زمانہ بہت ہی سرعت کے ساتھ اس کو ضعف سے قوت اور نرمی سے سختی کی طرف لے جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ وہ اپنے کمالات شجریت کو پوری طرح حاصل کر لیتا ہے۔ یہی حال ہر جاندار اور تمام انسانوں کا ہے بلکہ کائنات کی تمام انقلابی کیفیات اور عالم کے تغیرات اسی نہج پر ہیں۔

ماہرین تاریخ پر یہ امر بخوبی واضح ہے کہ انسانی زندگی کا معیار ابتداء کیا تھا اور نسلاً بعد نسل اس میں کس کس طرح تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں، موجودہ زمانے میں اس کی تہذیب و تمدن اور معاشرت کا جو معیار ہے کیا ابتدایٔ بھی وہی تھا؟ اصول سلطنت اور آئین حکمرانی جس طریق پر آج یا آج سے چند صدیوں پہلے ہمارے پیش نظر ہے ابتدائے دورِ انسانی میں اسی طرح تھایا اس سے کچھ مختلف۔ ضروریاتِ انسانیہ لباس و طعام، صنعت و حرفت وغیرہ کا انقضاء کس نوعیت پر تھا؟ کیا موجودہ اور ابتدائی حالات کو یکساں قرار دیا جا سکتا ہے؟ اوائل عہد انسانی میں علوم و فنون کا معیار کیا تھا اور اب کیا ہے؟

واقعات کی روشنی میں اس امر کا تسلیم کرنا ضروری ہے کہ قدرت رفتارِ زمانہ کے ساتھ فطرتِ انسانیہ کے بالقوۃ کمالات کو بالفعل کرتی اور منظر شہود و معرضِ ظہور پر لاتی رہتی ہے چونکہ اقوام عالم کے افراد اپنے تسلسل میں جنسی اور نوعی لگاؤ کی بنا پر بہت ہی گہرا تعلق رکھتے ہیں اس لئے جوہر مشترک کا قوت سے فعل میں آ جانا (جس کا ظہور نسل لاحق میں ہے) بعید از قیاس نہیں۔ انقلابِ زمانہ اس امر کا مقتضی ہے!

ہاں، رفتارِ زمانہ جس طرح بعض بالقوۃ اشیاء کو بالفعل کرتی ہے اسی طرح اس کی باد سموم کے جھونکے درخت کی ٹہنیوں اور انسان و حیوان کے اعضاء کو بھی مضمحل اور بے کار کر دیتے ہیں اور درختوں کی قوت نباتی، حیوانوں کی قوت حیوانی اور انسانوں کی صفت انسانیت کا خاتمہ کر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ ماسبق میں بہت سے ایسے علوم و فنون جاری ہوئے جن کو رفتارِ زمانہ کی ناہمواریوں نے پامال کر ڈالا اور ان موجدان باکمال کو اس جہانِ فانی سے روپوش کر دیا۔

ان حالات میں سائنس جدید کا محیر العقول ہونا کسی طرح قابل تسلیم نہیں ہو سکتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں سائنس جدید کو برا سمجھتا ہوں بلکہ اس سلسلہ میں میرے نزدیک جو چیز قابل اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ سائنس جدید کے پرستاروں نے سائنس کو جو مرتبہ دے رکھا ہے وہ سائنس دانی کا کچھ اچھا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ مثلاً قدیم اہل مذاہب نے اپنے مذہبیات اور معتقدات کو اس کی قربان گاہ پر قربان کر دیا اور اپنے خرمن ایمانیات کو سائنس کی آگ میں جلا کر خاکستر کر ڈالا یعنی سائنس کے اصول مخترعہ کے مطابق جو چیز غلط سمجھ لی گئی اس کو کسی طرح صحیح نہیں کہا جا سکتا۔ خواہ الہام ربانی ہی اس کی صحت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہو جس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی خلقی کمزوری کے باعث ہر اس چیز کو لغو تصور کرتا ہے جو اس کے ادراک و مشاہدہ سے دور ہو۔

میرے ایک دوست نے اپنا ایک عجیب و غریب خواب بیان کیا جس کو سن کر میں نے اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا کہ واقعی انسان کا ناقص مشاہدہ اور کمزور ادراک ایک بے اصل چیز کو اصلی اور واقعی سمجھ لیتا ہے اور اصلی و واقعی چیز تک دماغ نہ پہنچے کی وجہ سے اس کو بے حقیقت قرار دے کر انکار کر جاتا ہے۔

دوست محترم یو۔ پی کے باشندے اور خاندانی رئیس ہیں۔ انہوں نے ایک نہایت حسین و جمیل عورت کو خواب میں دیکھا اور بیک نظر اس پر شیفتہ و فریفتہ ہو گئے۔ ہر چند کوشش کی کہ وہ حسینہ کسی طرح میرے عقد نکاح میں آ جائے لیکن ناکام رہے۔ بالآخرحسینہ کے اقارب نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر آپ اپنا دین اسلام ترک کر کے ہمارا مذہب عیسائی قبول کریں اور اپنی زوجۂ اول کو طلاق دے دیں نیز کل جائیداد اس حسینہ کے نام لکھ دیں تو کامیابی ہو سکتی ہے۔ بجز اس کے کوئی چارئہ کار نہ دیکھتے ہوئے تینوں کام کرنے ہی پڑے۔ مذہب بھی بدلا، زوجۂ اول کو طلاق بھی دی اور تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ بھی اس کے نام لکھ دی۔ اسٹامپ پر رجسٹری کرا کر جب فارغ ہوئے تو نہ وہ عالم تھا اور نہ وہ دوشیزہ۔

گھر بھی چھوٹا دیار بھی چھوٹا
کیا غضب ہے کہ یار بھی چھوٹا

یہ ظاہر ہے کہ عالم خواب میں فی الواقع نہ کوئی دوشیزہ تھی اور نہ اس کے عزیز و اقارب! یہ صرف صاحب خواب کے اپنے فانی اور بے اصل تخیلات و تصورات کے مناظر تھے جس کو ناقص مشاہدے اور کمزور ادراک نے جامۂ اصلیت پہنا کر گھر بار، مال و دولت، سب کچھ قربان کر دیا۔ اس پر بھی بجز کف افسوس ملنے کے نتیجہ کچھ نہ ملا۔

آپ کہیں گے خواب کوئی دلیل نہیں ہو سکتی۔ واقعی آپ کا خیال صحیح ہے مگر میں نے سنداً یا استدلالاً اس کو پیش نہیں کیا بلکہ بر سبیل تذکرہ تمثیلاً کہہ گیا ہوں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ سائنس کی بنیاد عقل اور مشاہدہ پر ہے اور صرف عقل و مشاہدہ ہی انسان کی صحیح رہنمائی کے لئے کافی نہیں۔ عقل و مشاہدہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہیں۔ مشاہدہ کا تعلق حواسِ خمسہ سے ہے اور عقل کا دماغ سے۔ مشاہدہ محکوم ہے اور عقل حاکم، مشاہدہ کی کمزوریوں اور غلطیوں کو عقل دور کیا کرتی ہے اور اگر مشاہدہ کے ساتھ عقل نہ ہوتی تو انسان اپنے مشاہدات میں ہر مرتبہ غلطی کرتا اور اس سے رہائی کا راستہ اسے کبھی نہ ملتا۔

ہمارا تجربہ ہے کہ ہم ریل میں بیٹھے ہوئے جب کہیں جاتے ہیں اور ریل اپنی پوری رفتار سے چل رہی ہوتی ہے تو ادھر ادھر کے درخت (جو زمین پر کھڑے ہوتے ہیں) بڑی تیزی سے چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مشاہدہ نے غلطی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی مگر عقل کا خدا بھلا کرے جس نے صاحب مشاہدہ کی گوشمالی کر کے اسے لغزش سے بچا لیا۔ اسی طرح رات کے وقت جب چاند بھی روشن ہو اور بادل کے ٹکڑے بھی کہیں کہیں منتشر نظر آئیں اور تیزی سے کسی سمت کو جا رہے ہوں تو اس وقت ہمیں چاند چلتا نظر آتا ہے حالانکہ یہ واقعہ نہیں۔

بہرحال مشاہدہ غلطیاں کرتا ہے اور عقل ان کی تصحیح۔ اس صورت میں مشاہدہ کا ناقص ہونا ظاہر ہے۔ اب رہی عقل سو وہ بھی نقص سے پاک نہیں۔ عقل کا کام ہے نامعلوم چیز کو معلوم کر لینا اور اس کی حقیقت سے بقدر وسعت واقف ہو جانا۔

یہ ظاہر ہے کہ جس قدر عقلا پیدا ہوئے وہ سب عقل کے مدعی رہے اور واقعی وہ اپنے دعوے میں حق پر بھی تھے پھر وہ سب عقلیات میں ایک دوسرے کے نظریہ کا نقص اور عیب نکالتے رہے اور ایک کی عقل دوسرے کے مخالف اور متضاد رہی۔ اس ماحول میں ہم کس کی عقل کو اپنا رہنما بنائیں۔

اگر ہر شخص اپنی ہی عقل کے تابع رہے تو دوسروں کی عقل اس کے نزدیک کیا مرتبہ رکھے گی؟ نہ یہ کسی کو اپنے برابر عقلمند خیال کرے گا نہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لئے دوسروں کی طرف رجوع ہو گا پھر اوروں کے نزدیک اس کی عقل کا کیا حال ہو گا؟ وہی جو اس کے نزدیک دوسروں کی دانائی کا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ صحیح رہنمائی کے معیار پر نہ اس کی عقل پوری اتری نہ اس کی یہ تو دو عقلوں کی جنگ تھی۔ اب سنیئے۔

ایک شخص کسی اہم معاملہ میں اپنی عقل سے کام لینا چاہتا ہے اور ہر پہلو پر غور و خوض کر کے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ مجھے یہ کام ضرور کر لینا چاہئے۔ مستقل ارادہ کے بعد اس کو معاً دوسرا خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔ اس کی رائے بدل جاتی ہے اور وہ اس کے نہ کرنے کو کرنے پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ جائے غور ہے کہ ایک ہی شخص کی عقل میں یہ اختلاف موجود ہے۔ ایک چیز کو کبھی اچھا اور کبھی برا سمجھنے لگتی ہے

جب کسی معاملہ میں ایک شخص کا دوسرے سے اختلاف ہو تو عقلاً ایک ثالث کی ضرورت پڑتی ہے۔ مشاہدہ کے اختلاف کا فیصلہ تو عقل نے کیا۔ اب عقل کے جھگڑوں کو کون چکائے۔ اگر عقل اختلاف سے پاک ہوتی تو اس کے اوپر کسی حاکم یا ثالث کی ضرورت نہ تھی لیکن ہم نے ثابت کر دیا کہ ایک شخص کی عقل دوسرے کی عقل کے مخالف اور معارض ہوا کرتی ہے۔ پس ایسی صورت میں لازمی طور پر عقل کے تنازعات و اختلافات کے فیصلہ کے لئے کسی چیز کو تسلیم کرنا پڑے گا اور وہ چیز ایسی ہونی چاہئے جو دوسروں کی طرح اختلافات سے پاک ہو۔ اس لئے کہ اگر وہ بھی آپس میں متنازعہ ہو تو پھر اس کے لئے بھی کسی تیسرے کی ضرورت لاحق ہو گی۔ اس طرح یہ سلسلہ غیر متناہی ہو کر ہمیشہ کے لئے ناقابل اختتام ہو جائے گا اور یہ صراحۃً باطل ہے۔ بنا بریں عقل کے ثالث کو اختلاف و تعارض کے عیوب سے مبرا ہونا چاہئے۔

وہ ثالث الہام ربانی ہے جو عقل کے تمام اختلافات کو ختم کر کے حقیقت واقعیہ کو پیش کرتا اور عقلاء کو لغزش سے بچاتا ہے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا اور اگر یہ قرآن حکیم غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پایا جاتا لیکن چونکہ یہ خالص وحی الٰہی ہے اس لئے ہر قسم کے اختلاف اور تناقض سے پاک ہے۔ ثابت ہوا کہ عقلیات کے انتہائی عروج اور ترقی کے باوجود بھی الہام ربانی اور وحی الٰہی کی ضرورت ہے۔ اسی کو مذہب کہا جاتا ہے۔ پس سائنس والوں کا اپنے گھڑے ہوئے اصول کے سامنے مذہب کو پس پشت ڈال دینا سراسر عقل کے خلاف اور نہایت افسوس ناک امر ہے۔

مذہب ایک ایسی چیز ہے جو کمالاتِ انسانیہ کا ذمہ دار اور امن کا علمبردار ہے۔ نظام قدرت کی رفتار کا تعلق اصول مذہبیہ کے ساتھ اس قدر استوار ہے کہ اگر تردید مذہب کو نظام قدرت کے درہم برہم کرنے کے مترادف قرار دیا جائے تو بعید از عقل نہ ہو گا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مذہب انسان کو ان اصولوں پر چلاتا ہے جن کے بغیر وہ اپنی ضروریاتِ زندگی اور اس کے متعلقات کو دائرہ انسانی میں رہ کر پورا نہیں کر سکتا۔ جس کی سرشت میں گناہ کا مواد بھرا ہو وہ کسی حال میں گناہ کرنے سے نہیں رک سکتا تاوقتیکہ کوئی زبردست طاقت اس کو روکنے والی نہ پائی جائے۔

انسان کی فطرت میں گناہ کا مادہ موجود ہے۔ گناہوں کا صدور اس سے مختلف حالات میں ہوتا ہے کبھی اس سے باز رہنے کے اسباب موجود ہوتے ہیں کبھی نہیں۔ مثلاً ایسے موقعہ پر گناہ کیا جائے جہاں اس کے افشا ہونے کا بظاہر کوئی احتمال نہیں یا اس گناہ پر حکومت کی طرف سے کوئی ممانعت نہیں یا اس ماحول میں اس کو گناہ نہیں سمجھا جاتا۔ اسبابِ انسداد معاصی کے ہوتے ہوئے تو کسی حد تک انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے لیکن موخر الذکر تینوں صورتوں میں اور بالخصوص صورت اخیرہ میں کوئی طاقت انسان کو گناہ سے نہیں روک سکتی۔

ملحد گرسنہ در خانۂ خالی بر خواں
عقل باور نکند کز رمضاں اندیشد

ایسی صورت میں اگر کوئی طاقت گناہ سے روک سکتی ہے تو صرف خوفِ خداوندی اور اصول مذہب کی پاسداری ہی ہے نہ کہ کچھ اور۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ پر غور کر لیجئے۔ امرأۃ عزیز کے مقاصد کی تکمیل کے اسباب میں کسی چیز کی کمی باقی تھی؟ حالات پر گہری نظر ڈالیے بجز خوفِ خداوندی اور الہام و وحی ربانی کے آپ کو اور کوئی چیز نظر نہ آئے گی جس نے زلیخا کو محروم مدعا رکھا ہو۔

معلوم ہوا کہ انسانیت کا نگہبان اور عصمت کا پاسبان مذہب ہے اور صرف مذہب! گناہ سے روکنے کے جب تمام اسباب کا فقدان ہو جائے تو اس وقت مذہب ہی اپنی طاقت سے کمزور انسان کی دستگیری کرتا اور نجاست گناہ میں ملوث ہونے سے بچاتا ہے۔ جن لوگوں نے مذہب کو بالائے طاق کر دیا ہے وہ حقیقتاً انسانیت کی حفاظت اور عصمت کی پاسبانی سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ اب ان سے بہیمیت کے افعال سرزد ہوں یا سبعیت کے، بے حیائی پر کمربستہ ہوں یا دیگر انسانیت سوز اعمال پر سب درست اور بجاہے اور ذرہ بھر بھی مقام تعجب نہیں۔

یہ ہے مغرب کی پہلی ترقی جس نے مشرق کو بھی اپنی رو میں بہا دیا اور نہایت سرعت سے اطراف عالم میں پھیلتی جا رہی ہے۔

بدل دیا رخ مشرق کو تو نے اے مغرب
تری ہوا سے بچائے خدا زمانے کو
                                                                                                   ہوم پیج