اسلام اور اشتراکیت

کوئی ذی شعور انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا کا اقتصادی اور معاشی نظام دولت کے جائز حصول اور اس کی صحیح تقسیم پر موقوف ہے۔ موقوف علیہ کا فقدان موقوف کے بطلان کا موجب ہوتا ہے۔

اس دورِ پر آشوب میں اقتصادی اور معاشی نظام کی خرابیوں کی وجہ صرف یہ ہے کہ نہ دولت کا حصول جائز طریقہ سے ہو رہا ہے نہ اس کی تقسیم صحیح طور پر کی جا رہی ہے

افراط و تفریط کا بازار گرم ہے کہیں سرمایہ پرستی اور جاگیرداری کا تسلط ہے کہیں اشتراکیت اور کمیونزم کا دور دورہ۔

جب یورپ کی چالاک و عیار بلکہ ظالم و سفاک سرمایہ پرست قوموں نے دولت کو امیروں میں محدود کر دیا اور دنیا کے کمزور انسانوں کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ظالمانہ قوت کے ساتھ ان کی آواز کو دبا دیا ان کے احساسات و جذبات کو کچل دیا اور کھٹملوں کی طرح ان کا خون چوس کر ان کی دولت بٹوری تو ان مظلوموں کے دل میں ٹھیس لگی۔ ان کے جلے ہوئے دل اور سوکھے ہوئے حلق سے آہ نکلی مگر غربت و مظلومیت کے مارے ہوئے انسانوں کی آواز میں اتنی طاقت کہاں تھی کہ وہ سرمایہ پرستی کے بنائے ہوئے جیل خانے کی مضبوط آہنی دیواروں سے باہر جا سکتی۔ وہ اٹھی اور اٹھتے ہوئے کمر شکستہ مزدور کی طرح گر پڑی اور سرمایہ پرستی کے بھیڑئیے ان مظلوم بھیڑوں کے حق سے بدستور اپنا منہ رنگتے رہے۔

جب مظلوم غریب کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا تو غیرت الٰہیہ جوش میں آئی اور اس نے کمیونزم کا عذاب نازل کر دیا جو کہ سانپوں کے پھن کچلتا ہوا اور ناجائز جاگیرداری کے بھیڑیوں کے بڑے بڑے پیشوں کو پھاڑتا ہوا آندھی کی طرح چلا آ رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ غریبوں کا خون پینے والے اس ظالم و سفاک گروہ کا ایک ایک فرد اپنے کیفر کردار کو پہنچے گا۔ خوب یاد رکھئے کمیونزم عذابِ الٰہی ہے اور عذاب ارتکاب جرائم کا ہی نتیجہ ہوتا ہے (وہ جرائم کیا ہیں؟)


سرمایہ پرستی اور جاگیرداری کا ناجائز نظام
جس چیز کی بنیاد ہی غلط ہو گی اس کا انجام کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔ سرمایہ پرستی کی بنیاد دولت کا ناجائز حصول ہے۔ جب حصول دولت ہی غلط ہے تو اس کی تقسیم کیونکر صحیح ہو سکتی ہے جو قوم سرمایہ پرستی کے ذریعہ کمیونزم کی روک تھام کرنا چاہتی ہے وہ سخت غلطی میں مبتلا ہے۔ اس کو یہ معلوم نہیں کہ کمیونزم کا مرض سرمایہ پرستی سے پیدا ہوا ہے۔

سرمایہ پرستوں نے جب ناجائز اور ظالمانہ طریقوں سے عوام غرباء کا خون چوسا اور مزدوروں کے گاڑھے پسینے کی کمائی سے اپنی تجوریاں بھریں غریب مزدور کو اپنا خون اور پسینہ ایک کر دینے کے باوجود بھی تن کے لئے کپڑا اور پیٹ کے لئے ٹکڑا نصیب نہ ہوا ان کے بچے سوکھی روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترستے رہے۔ فاقوں نے انہیں مردہ بنا دیا اور اس کو محنت و مزدوری کا صلہ اس حالت میں ملتا ہے کہ وہ بیمار پڑ جائے تو دوا نہیں، مر جائے تو کفن نہیں اور مرنے کے بعد اس کے اہل و عیال بھیک مانگ مانگ کر گزارا کریں۔ بچوں کی تعلیم کا انتظام نہیں اور ان بے رحم سرمایہ پرستوں اور جاگیرداروں کو کبھی یہ خیال نہ آیا کہ جن مزدوروں، مزارعوں اور ملازموں کی قوت بازو کے ذریعہ سے کمائی ہوئی دولت سے ہمارے خزانے بھرپور ہیں جن کی تکلیفیں ہمارے عیش و آرام کا موجب ہیں جن کے کمزور جسم ہمارے بے پناہ موٹاپے کا سبب ہیں جن کا خون پی کر ہم اس قدر موٹے ہو گئے ہیں کہ زمین ہمارے بوجھ سے پناہ مانگتی ہے۔

ان غریبوں کو بھی ان کی حاصل کردہ دولت میں سے زیادہ نہیں تو اتنا ہی دے دیں جس سے ان کے تن پیٹ کا گزارہ ہو جائے اور ان کے فاقوں کے مارے ہوئے بچوں کی قوت لایموت ہو سکے۔

اس سنگ دل طبقے نے یہ جانتے ہوئے کہ ہماری دولت و عزت، راحت و فرحت سب کچھ ان غریبوں کا صدقہ ہے، کبھی ان کے حال پر رحم نہ کیا بلکہ ہمیشہ ان کو پامال کرنے اور کچلنے کی کوشش کی اور ان کی کمائی ہوئی دولت پرسرمایہ کار سانپ بنے بیٹھے رہے تو اس کا نتیجہ اور ردِ عمل لازمی طور پر یہی ہو سکتا تھا کہ مظلوم اور غریب مزدور کے دل میں اس خونخوار طبقہ کے خلاف ایک خوفناک جذبہ انتقام پیدا ہو اور وہ سرمایہ پرستی کے خلاف ایک زبردست محاذ جنگ قائم کر دے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اس جذبۂ انتقام نے مظلوم اور غریب مزدور کے دل و دماغ کو اس درجہ متاثر اور ماؤف کر دیا کہ وہ بے چارہ عقل و خرد سے بیگانہ ہو کر جادئہ اعتدال سے دور جا پڑا اور جوشِ انتقام میں ایسا مغلوب الغضب ہوا کہ دوست دشمن کی تمیز کئے بغیر اس نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیا۔

ملکیت اور سرمایہ کاری کا تصور اس کے لئے ہوا بن گیا اور ناجائز جاگیرداری اور سرمایہ پرستی کی عداوت نے اسے جائز ملکیت اور جاگیرداری کی مخالفت پر بھی مجبور کر دیا اور وہ اپنے جذبات کی رو میں ایسا بہا کہ اس نے اسلام کے خوب صورت اور حسین اقتصادی و معاشرتی نظام کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ اسلامی نظام کے حسین چہرہ کے نورانی خدو خال اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور وہ راہِ صواب سے بھٹک گیا اور اس نے اپنی آنکھوں پر عناد کی پٹی باندھ کر تعلیمات ربانی اور وحی آسمانی کے خلاف ایک نئی تحریک کی بنیاد رکھ دی جس کا نام اشتراکیت ہے اب آپ ہی بتایئے کہ جو اشتراکیت سرمایہ داری سے پیدا ہوئی ہے وہ سرمایہ پرستی کو فروغ دینے سے کیونکر رک سکتی ہے۔


اشتراکیت کیا ہے؟
اشتراکیت اس تحریک کا نام ہے جو شخصی اور انفرادی ملکیت کو مٹا کر حصول دولت کے تمام اسباب و ذرائع اور لوگوں کی اجتماعی جدو جہد سے حاصل شدہ دولت کی تقسیم کو حکومت کے حوالے کر دینا چاہتی ہے تاکہ مجموعی دولت تمام افراد پر عدل و انصاف کے ساتھ تقسیم ہو سکے۔

اشتراکیت معاشی اونچ نیچ اور طبقاتی امتیازات، امیر و غریب کے تفاوت کی سخت دشمن ہے وہ ایک ایسی جماعت کو برسر اقتدار لانے کی حامی ہے جس میں طبقوں کا کوئی وجود نہ ہو اس لئے کہ اشتراکی نظریہ کے مطابق طبقاتی امتیاز دنیا میں ظلم اور خون ریزی کا سنگ بنیاد ہے۔

جہاں تک اصل مقصد کا تعلق ہے قریب قریب تمام اشتراکی متفق ہیں لیکن حصول مقصد کے طریق کار میں ان کے مابین شدید اختلاف پائے جاتے ہیں بعض اشتراکیوں کی رائے یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اصلاح کی جائے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ موجودہ جمہوری حکومتوں کو برقرار رکھتے ہوئے اشتراکیت کے حامیو ںکو ان پر قبضہ کر لینا چاہئے اور اپنے اقتدار کو کام میں لا کر تدریجی طور پر اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ شخصی ملکیت محدود ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو جائے تاکہ مجموعی دولت افراد ملک پر مساویانہ طریقہ سے تقسیم ہو سکے۔

جب تک طبقاتی امتیاز اور معاشی تفاوت باقی رہے اس وقت تک حکومت کا برقرار رہنا بھی ضروری ہے اور جب اشتراکیت کا پورا پورا تسلط ہو جائے اور امتیاز و تفاوت مذکور کا نام و نشان باقی نہ رہے تو پھر حکومت کی بھی ضرورت نہیں بلکہ ایسی صورت میں نظام حکومت خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اس نظریہ کو ارتقائی اشتراکیت کہا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں بعض اشتراکیوں کی رائے یہ ہے کہ موجودہ جمہوری طریقوں میں سے کسی حکومت کو برقرار رکھنا حصول مقصد کے لئے نہایت مضر بلکہ اصل مقصد کے منافی ہے۔ اس لئے تمام موجودہ جمہوری نظاموں کو مٹانا ضروری ہے۔ اس کے بغیر اشتراکیت کا غلبہ و تسلط کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ اس نظریہ کا نام انقلابی اشتراکیت یا کمیونزم ہے۔
کمیونزم کے حامی کمیونسٹ کہلاتے ہیں کمیونسٹ حصول مقصد میں تدریج یا آہستگی کے قائل نہیں۔ یہ لوگ جمہوری نظام کے بیخ و بن اکھاڑ کر اس کا نام و نشان تک مٹا دینا چاہتے ہیں۔ سرمایہ پرستی اور اشتراکیت دونوں کا منتہائے نظر اصولی طور پر مادی و جسمانی خوشحالی اور لذت پرستی کے سوا کچھ اور نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سرمایہ پرستوں کا طبقہ ایک مخصوص گروہ کے عیش و آرام کا متمنی ہے اور اشتراکی جماعت طبقاتی پابندیوں سے بالا تر ہو کر بلا امتیاز ہر فرد کے لئے راحت و آرام حاصل کرنے کی مدعی ہے۔ اسی وجہ سے امیروں اور جاگیرداروں کے ماسوا تمام لوگ سرمایہ پرستی کے نظام کو انتہائی نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں (اور عام طور پر اشتراکی نظام کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے)

اشتراکی نظام کی مقبولیت عامہ سے متاثر ہو کر بعض کم فہم اور ناعاقبت اندیش مسلمانوں نے بھی اشتراکیت کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے اور انہوں نے اسلام کو اشتراکیت کے سانچے میں ڈھالنے کی ناپاک کوشش کی۔

انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور اس بات پر صرف کر دیا کہ قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں شخصی و انفرادی ملکیت کو ناجائز ثابت کیا جائے اور اسی طرح اسلام اشتراکیت میں تبدیل ہو کر رہ جائے۔ حالانکہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو اسلام اور اشتراکیت کا اتحاد کسی نقطہ پر نہیں ہو سکتا۔ اشتراکیت کا سنگ بنیاد مادہ پرستی اور شکم پروری ہے۔ اشتراکیوں کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں جس قدر ادیان و ملل اور مذاہب پائے جاتے ہیں وہ معاشی نظام کی خرابی اور طبقہ واریت کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

اشتراکیت کا منتہائے مقصود اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دنیا میں کوئی بھوکا نہ رہے اور تمام لوگوں کی جسمانی ضرورتیں برابری کے ساتھ پوری ہوتی رہیں اور اس راہ میں جتنی رکاوٹیں ہیں ان سب کو ختم کر دیا جائے۔ اشتراکیت کی نظر میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہب اور طبقہ واریت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طریقہ نکاح و ازدواج بھی اشتراکی نقطۂ نگاہ کے بالکل خلاف ہے۔ اشتراکیوں کے نزدیک انسانی ضرورت کی ہر چیز تمام انسانوں میں برابر مشترک ہے۔ اس لئے وہ تمام دنیا کی عورتوں کو تمام دنیا کے مردوں کے لئے مشترک سمجھتے ہیں۔ جب یہ بات واضح ہو گئی کہ اشتراکیت کی نظر میں اس عالم مادیات کے علاوہ کچھ نہیں اور مقدس اسلام کا بنیادی نقطہ اس عالم رنگ و بو سے بہت دور ایمان بالغیب ہے تو پھر اشتراکیت کو اسلام کے ساتھ کس طرح مخلوط کیا جا سکتا ہے اور ان دونوں کی صلح کیونکر ہو سکتی ہے؟


اشتراکیت کے بنیادی اصول پر تنقید
ناظرین کو معلوم ہو چکا ہے کہ اشتراکیت کا بنیادی اصول طبقاتی امتیاز کو مٹانا ہے لیکن عقل سلیم کی روشنی میں یہ اصول قانونِ فطرت کے خلاف اور ناممکن الحصول ہے۔

ہم نے مانا کہ اشتراکی دنیا میں مال و دولت کے لحاظ سے تمام انسانوں کو برابر کر دیں گے لیکن طبعی اور فطری امتیازات تو وہ کسی طرح نہیں اٹھا سکتے مثلاً ایک شخص عالم ہے دوسرا جاہل، ایک عقل مند ہے دوسرا بے وقوف، ایک پاکیزہ اخلاق سے متصف ہے تو دوسرا بد خلق۔

اسی طرح فنی کارکردگی کے لحاظ سے انسانوں میں نمایاں طور پر امتیاز و تفاوت پایا جاتا ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس انسانوں کے محرکات طبعی بداہۃً مختلف ہیں۔

ایسی صورت میں کیا یہ امر یقینی نہیں کہ جو لوگ ایک قسم کی صفات کے حامل ہوں وہ بتقاضائے فطرت رفتہ رفتہ ایک طبقہ کی صورت اختیار کر لیں اور اسی طرح طبقاتی امتیازات قائم ہو جائیں۔ اس لئے اشتراکی اصول کے غلط ہونے میں ادنیٰ تردد باقی نہیں رہتا۔

حیات انسانی کا مقصد شکم پروری قرار دینا انسانیت کو حیوانیت میں تبدیل کر دینا نہیں تو اور کیا ہے؟


اشتراکیت کے مقابلہ میں اسلامی نظریہ
اب آیئے اس کے بالمقابل مقدس اسلام کے نظریہ کو ملاحظہ فرمایئے جو فطرت انسانی کے عین مطابق اور عقل سلیم کے نزدیک ہر اعتبار سے قابل تسلیم ہے۔ اسلام نے طبقاتی امتیاز کو برقرار رکھتے ہوئے ایسے اصول تعلیم فرمائے جن کی بنا پر کوئی طبقہ حد اعتدال سے آگے نہ بڑھ سکے اور کسی قسم کا ناخوشگوار تصادم پیدا نہ ہونے پائے جو امن عامہ میں خلل انداز ہو۔ ارشاد فرمایا
وَاللّٰہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ۔ (نحل : ۷۱)
اللہ تعالیٰ نے تمہارے بعض کو بعض پر رزق میں فوقیت دی۔

یہ ایک طبقاتی امتیاز ہے اس کے لئے ایک قانون مقرر فرمایا کہ
وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ ط (بقرۃ : ۱۸۳)
تم اپنے مال کو آپس میں باطل کے ساتھ نہ کھاؤ۔


اسلام میں شخصی ملکیت
مقدس اسلام نے انسانی عظمت و اہلیت کے ماتحت شخصی ملکیت کو برقرار رکھا کیونکہ اس کے بغیر کوئی شخص حصول دولت کے لئے اپنے قوائے فکریہ اور عملیہ سے آزادی کے ساتھ پوری طرح کام نہیں لے سکتا۔

ایسی صورت میں انسان کی علمی اور عملی قوتیں ضائع ہو جاتی ہیں اور اشرف المخلوقات کا علم و عمل کی قوتوں سے بالکل خالی ہو جانا حکمت تخلیق کے قطعاً منافی تھا۔ اس لئے اسلام نے شخصی ملکیت کے قوانین مقرر فرما دئیے اور صنعت و حرفت، تجارت و زراعت وغیرہ کے لئے ایسے مکمل قوانین تعلیم فرمائے جس طرح حصول دولت کے لئے تعلیم فرمائے تھے۔ اہل دولت کو مال خرچ کرنے میں ان قوانین کا پوری طرح پابند کر دیا کیونکہ مالداروں کی مطلق العنانی اقتصادی اور معاشرتی نظام کی تباہی کا موجب ہوتی ہے۔

رزق کی کمی بیشی کی بنا پر طبقاتی امتیاز اور ذاتی ملکیت جن آیات سے ثابت ہوتی ہے وہ حسب ذیل ہیں
(۱)
وَاللّٰہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ۔ (نحل : ۷۱)
اور اللہ نے بڑائی دی تم میں ایک کو ایک پر روزی میں
(۲)
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔ (النساء : ۳۲)
اور ہوس مت کرو جس میں بڑائی دی اللہ نے ایک کو ایک پر
(۳)
اُنْظُرْ کَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَلَـلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَکْبَرُ تَفْضِیْلاً۔ (بنی اسرائیل : ۲۱)
دیکھو تو سہی ہم نے دنیا میں بعض کو بعض پر کیسی برتری دی ہے اور البتہ آخرت کے درجات کہیں بڑھ کر ہیں اور اس طرح ان کی برتری بھی کہیں بڑھ کر ہے۔
(۴)
اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَائُ وَیَقْدِرُ۔ (رعد : ۲۶)
اللہ جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے
(۵)
یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَائُ وَیَقْدِرُج اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (شورٰی : ۱۲)
(اللہ تعالیٰ) جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے نپی تلی کر دیتا ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
(۶)
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَہٗ۔ (سبا:۳۹)
(اے حبیب ﷺ!) فرما دیجئے میرا پروردگار اپنے بندوں میں جس کو روزی دینا چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نپی تلی کر دیتا ہے۔

روزی کی کمی بیشی کے لحاظ سے طبقاتی امتیاز اور انفرادی ملکیت بالکل واضح ہے کیونکہ قومی ملکیت اور اشتراک کی صورت میں کمی بیشی متصور نہیں۔ ان کے علاوہ آیات میراث بھی طبقاتی تفاوت اور شخصی ملکیت پر روشن دلیلیں ہیں کیونکہ اشتراکیت اور قومی ملکیت میں میراث کا تصور بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔

اب وہ آیات ملاحظہ فرمایئے جن سے انفرادی ملکیت ثابت ہونے کے علاوہ ان اصول و قوانین پر بھی پوری روشنی پڑتی ہے جن کی پابندی سے وہ تمام خرابیاں کلیۃ دور ہو سکتی ہیں جن کا شخصی ملکیت اور طبقاتی امتیاز کی وجہ سے پیدا ہونا ممکن ہے۔ارشاد ہوتا ہے
(۷)
وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْنِ۔ (بقرۃ:۸۳)
اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتے رہنا اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کیساتھ

اگر ہر صاحب دولت اپنے والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں کے حق میں اس قانونِ الٰہی پر عمل کرے اور ان کے ساتھ احسان و صلہ رحمی کرتا رہے تو طبقاتی کشمکش اور معاشی نظام میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہونے پائے۔
(۸)
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَاخُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ وَّالْکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ (بقرۃ : ۲۵۴)
اے ایمان والو! ہمارے دئیے ہوئے رزق میں (نیک راہ میں) خرچ کرو مگر اس دن سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی، نہ دوستی، نہ سفارش اور جو لوگ (راہِ خدا میں خرچ نہ کریں) ناشکری کرتے ہیں وہی ظالم ہیں۔
(۹)
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَج وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ (اٰل عمران : ۹۲)
لوگو! جب تک راہِ خدا میں ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو گے جو تمہیں پیاری ہیں نیکی کے درجہ کو ہرگز نہ پہنچ سکو گے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
(۱۰)
وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ۔(معارج : ۲۴۔ ۲۵)
اور وہ لوگ (فلاح کے مستحق ہیں) جن کے مالوں میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں دونوں کا حصہ مقرر ہے۔
اسلام نے دولت کو ایک جگہ محدود ہونے سے بچایا ہے۔ اسی لئے میراث کا قانون جاری کیا۔ نیز ارشاد فرمایا
(۱۱)
مَا اَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ کَیْ لَایَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَائِ مِنْکُمْ۔ (الحشر : ۷)
جو کچھ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو بستیوں والوں سے بطور فَے عطا فرما دے تو وہ اللہ (جل جلالہٗ) کے لئے ہے اور رسول کے لئے اور رسول کے رشتہ داروں کے لئے یتیموں محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ صرف دولت مندوں کے درمیان گردش نہ کریں۔ نیز ارشاد فرمایا
(۱۲)
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ۔ (التوبہ : ۳۴)
اور وہ لوگ جو جمع کرتے ہیں سونا چاندی اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں سخت عذاب کی خوشخبری سنا دو۔
دولت سے بے شمار قسم کی برائیاں اور مصیبتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دولت کو صرف کرنے کے لئے پاکیزہ اصول تعلیم فرمائے۔ بھلائی اور نیکی کے کاموں میں صرف دولت کو منحصر فرما کر فضول خرچی اور بے راہروی سے روکا۔ ارشاد فرمایا
(۱۳)
وَاٰتِ ذَی الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاo اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ۔ (بنی اسرائیل : ۲۶۔ ۲۷)
اور رشتہ دار، غریب اور مسافر (ہر ایک) کو اس کا حق پہنچاتے رہو فضول خرچی نہ کرو اور فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں۔
دوسری جگہ وضاحت سے فرمایا
(۱۴)
اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَائِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ۔ (نحل : ۹۰)
بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے انصاف اور احسان کا اور ضرورت مند قرابت داروں کی امداد و اعانت کا اور تمہیں بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی سے روکتا ہے۔

اسلام نے دولت مندوں کے لئے زکوٰۃ کا قانون اسی حکمت کے لئے مقرر فرمایا ہے کہ غرباء و مساکین جو اپنی ضروریات کو پورا کر کے ذرائع و وسائل سے محروم ہیں مبتلائے تکلیف نہ رہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
(۱۵)
اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَائِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِج فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (توبہ : ۶۰)
خیرات کا مال تو بس فقیروں کا حق ہے اور محتاجوں کا اور ان کارکنوں کا جو مال خیرات کے وصول کرنے پر متعین ہیں اور ان لوگوں کا جن کے دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرنا منظور ہے اور قید غلامی سے غلاموں کی گردنیں آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے قرض میں اور خدا کی راہ یعنی مجاہدین کے ساز و سامان میں اور مسافروں کے زادِ راہ میں۔ یہ حقوق اللہ کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور اللہ بہت علم و حکمت والا ہے۔

قرآن کریم کی ان تصریحات سے اچھی طرح واضح ہو گیا کہ اسلام ایسی سرمایہ پرستی سے بھی دور ہے جس میں دولت ایک جگہ محدود ہو کر رہ جائے اور دولت مندوں کے سوا کوئی اس سے مستفید نہ ہو سکے اور اشتراکیت سے بھی اسلام کا کوئی تعلق نہیں جو انسان کی کمائی ہوئی دولت سے اس کا جائز حق بھی سلب کرتی ہے بلکہ اسلام اس اعتدال کا حامی ہے جو سرمایہ پرستی اور اشتراکیت کے بین بین ہے۔ مقدس اسلام ہر معاملہ میں افراط و تفریط سے بچا کر میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے موجودہ دور میں سرمایہ پرستی اور اشتراکیت کا تصادم دنیا کو ہلاکت کی طرف تیزی سے لئے جا رہا ہے۔ ہلاکت سے بچنے اور نجات و فلاح دارین حاصل کرنے کا واحد ذریعہ مقدس اسلام اور اس کا معاشی نظام ہے۔
 

                                                                                                   ہوم پیج