حَدَّثَنَا۔ اَخْبَرَنَا۔ اَنْبَاَنَا کا فرق

ان تمام الفاظ میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کوئی فرق نہیں لیکن امام مسلم اور دیگر ائمہ متاخرین کے نزدیک ان میں یہ فرق ہے کہ حَدَّثَنَا اسی وقت کہا جائے گا جب راوی حدیث شیخ کے الفاظ سنے یعنی شیخ پڑھتا ہو اور شاگرد سنتا ہو اور اگر کسی شاگرد نے شیخ پر قرأت کی اور شیخ نے سنا تو اس صورت میں اَخْبَرَنَا وَ اَنْبَاَنَا کہا جائے گا۔ اگر شیخ کی قرأت سننے والا تنہا ایک شخص نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ دوسرا بھی شامل ہو تو حَدَّثَنَا کہے گا اور اگر تنہا ہے تو حَدَّثَنِیْ سے تعبیر کرے گا۔ علیٰ ہٰذا القیاس اگر کئی شاگردوں کی موجودگی میں ایک شاگرد نے شیخ پر قرأت کی تو راوی اَخْبَرَنَا کہے گا اور اگر قاری تنہا تھا تو وہ اَخْبَرَنِیْ استعمال کرے گا۔


صحیحین کا اجمالی تعارف
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے مقدمہ شرح صحیح مسلم میں فرمایا کہ علمائے محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد اصح الکتب صحیحین ہیں یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم ان دونوں کے حق میں امت مسلمہ کی تلقی بالقبول ان کی عظمت کی روشن دلیل ہے۔

صحیح بخاری
علماء کے نزدیک صحت و قوت میں صحیح بخاری کا مرتبہ صحیح مسلم پر فائق ہے اور بخاری مسلم سے اصح ہے۔ اس کے فوائد صحیح مسلم کے فوائد سے بہت زیادہ ہیں اور اس کے ظاہری و باطنی محاسن و معارف بے شمار ہیں امام مسلم نے خود امام بخاری سے استفادہ کیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ امام بخاری علم حدیث میں بے نظیر ہیں۔ امام حاکم کے شیخ حسن بن علی نیشا پوری اور بعض شیوخ مغرب نے مسلم کو بخاری سے اصح قرار دیا لیکن جمہور کے نزدیک قول اول صحیح ہے۔ حافظ ابن صلاح نے علوم الحدیث میں کہا کہ صحیح مجرد میں سب سے پہلے مصنف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہیں ان کے بعد امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا مقام ہے اور ان دونوں کی کتابیں اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ صحیح بخاری کا صحیح مسلم پر راجح ہونا بچند وجوہ ہے

(۱) رواۃ بخاری رواۃ مسلم سے زیادہ ثقہ ہیں۔
(۲) اسانید بخاری کا اتصال اسانید مسلم کے اتصال سے زیادہ قوی ہے کیونکہ امام مسلم کے نزدیک راوی اور مروی عنہ کی معاصرت اور امکان لقا کافی ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فعلیت لقا ضروری ہے۔
(۳) صحیح بخاری میں مسائل فقہیہ کا استنباط لطائف عجیبہ و نکات غریبہ کا وجود بکثرت پایا جاتا ہے۔
(۴) امام بخاری کے متکلم فیہ رواۃ مسلم کے متکلم فیہ رواۃ سے بہت کم ہیں یعنی صرف تیس راوی ایسے ہیں جو بخاری کے مخصوص متکلم فیہ رواۃ ہیں اور مسلم کے متکلم فیہ رواۃ ایک سو ساٹھ ہیں۔
(۵) بخاری جامع ہے اور مسلم جامع نہیں کیونکہ مسلم میں تفسیر برائے نام ہے جن لوگوں نے اس برائے نام تفسیر کا اعتبار کیا انہوں نے صحیح مسلم کو جامع قرار دیا لیکن حق یہ ہے کہ صحیح مسلم میں تفسیر کا وجود بوجہ قلت کالعدم ہے اس لئے وہ جامع نہیں۔

وجوہ ترجیح میں ہم نے چند خصوصیات ہی کو بیان کیا ہے۔ ان کے علاوہ بھی بکثرت خصوصیات ہیں مثلاً بخاری میں تیئیس ثلاثی حدیثوں کا پایا جانا صحیح مسلم، ابو داؤد اور نسائی میں کوئی ثلاثی حدیث نہیں پائی جاتی۔ بخاری کے علاوہ ترمذی میں صرف ایک ثلاثی ہے۔ ابن ماجہ میں پانچ ثلاثیات ہیں۔


تالیف صحیح امام بخاری کی غرض
اس کتاب سے امام بخاری کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ احادیث صحیح مرفوعہ جمع ہو جائیں۔ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو استخراج احکام و استنباط مسائل کا ملکہ حاصل ہو۔


تالیف صحیح بخاری
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد حرام میں بیٹھ کر صحیح بخاری کی تالیف شروع کر دی۔ سولہ یا اٹھارہ برس میں اس کا مسودہ تیار ہوا جس کی تبییض انہوں نے مدینہ منورہ میں منبر شریف اور قبر انور کے درمیان بیٹھ کر کی۔ امام بخاری نے تین مرتبہ اپنی صحیح کو ترتیب دیااور تینوں مرتبہ کچھ نہ کچھ تغیر کیا اسی وجہ سے اس کے نسخوں میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔

صحیح بخاری کی تالیف اس طرح ہوئی کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہر ترجمۃ الباب کے لئے غسل کیا اور دو نفل پڑھے جو حدیث اس میں درج کی اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا اور اس کی صحت پر وثوق ہونے کے بعد اسے اپنی صحیح میں داخل کیا۔


حوائج و مہمات میں ختم بخاری شریف
کثیرین مشائخ اور علمائے ثقات نے حصول مرادات، کفایت مہمات، قضائے حاجات و دفع بلیات، کشف کربات، صحت امراض و مضائق و شدائد سے نجات پانے کے لئے صحیح بخاری کو پڑھا، ان کی مرادیں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے اپنے مقاصد میں کامیابی پائی اور ختم بخاری شریف ان کی مرادوں کے بر آنے میں تریاق مجرب ثابت ہوا۔ یہ ایسی بات ہے کہ علمائے حدیث کے نزدیک شہرت و استفاضہ کے درجہ کو پہنچی ہے۔ (دیکھئے اشعۃ اللمعات ج ۱ ص ۱۲ اور الحطہ فی ذکر الصحاح الستہ، مقدمہ تحفۃ الاحوذی ص ۱۶۸)

صحیح بخاری اور صحیح مسلم صحت، شہرت اور قبولیت کے لحاظ سے کتب حدیث کے طبقہ اولیٰ میں شمار کی جاتی ہیں۔ بالخصوص صحیح بخاری ان تینوں اوصاف میں صحیح مسلم پر فوقیت رکھتی ہے۔


شروح بخاری
بخاری شریف کی شروح اس قدر کثیر ہیں کہ ان کا احصاء دشوار ہے۔ جن میں فتح الباری للحافظ العلامۃ ابی الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، ۱۳ جلدوں میں اور عمدۃ القاری للعلامۃ بدر الدین العینی الحنفی متوفی ۸۵۵ ھ، گیارہ ضخیم جلدوں میں اور ارشاد الساری مؤلفہ علامہ شہاب الدین احمد بن محمد الخطیب القسطلانی متوفی ۹۲۳ھ، دس جلدوں میں عظیم ضخیم شروح ہیں۔


صحیح مسلم
یہ بات ابھی معلوم ہو چکی ہے کہ کتب حدیث میں صحیح بخاری کے بعد سب سے اصح و ارجح صحیح مسلم ہے۔


صحیح مسلم کی تالیف سے امام مسلم کی غرض
احادیث صحیحہ مرفوعہ کو بکثرت جمع کرنا اور ان کی اسانید کثیرہ کو بطرق متعددہ وارد کرنا تاکہ صحت و قوت احادیث کی تائید مزید ہو اور ان احادیث کے حجت ہونے کو زیادہ سے زیادہ تقویت پہنچے۔ استنباط مسائل امام مسلم کا مقصد نہیں۔ اس لئے وہ ایک حدیث کی اسانید متعددہ کے ساتھ متن حدیث کا اعادہ نہیں کرتے۔ اسی لئے صحیح مسلم میں تکرار نہیں پایا جاتا۔ بخلاف صحیح بخاری کے کہ ان کا مقصد استنباط مسائل ہے اور وہ متن حدیث کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جب ایک حدیث سے متعدد مسائل مستنبط کرتے ہیں تو اس کے متن کا بھی اعادہ فرماتے ہیں اور اسی استنباط مسائل کے پیشِ نظر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب کی تبویب کی ہے اور تراجم ابواب قائم کئے ہیں اور امام مسلم کی غرض چونکہ استنباط مسائل نہیں اس لئے انہوں نے اپنی کتاب میں ابواب نہیں رکھے۔
صحیح مسلم کے نسخوں میں حواشی پر جو ابواب اور ان کے عنوانات پائے جاتے ہیں وہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نہیں بلکہ بعض شراح صحیح مسلم نے قائم کئے ہیں۔ صحیح مسلم کی خصوصیات میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس کی ترتیب صحیح بخاری کی ترتیب سے احسن ہے۔ اس میں ہر حدیث ایسی جگہ وارد کی گئی ہے جو اس کے لائق ہے اور اسی جگہ اس حدیث کے ان سب طرق و اسانید کو بھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے جمع کر دیا ہے جو ان کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

جن طرق میں الفاظ کا اختلاف تھا وہاں الفاظ مختلفہ کو بیان کر دیا ہے اور ساتھ ہی زیادہ ثقات کو بھی ذکر فرما دیا ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے اس طریق کار سے صحیح مسلم میں حدیث تلاش کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ نیز حدیثوں کے طرق متعددہ اور مختلف الفاظ و زیادۃ ثقات جاننے سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جن کی تفصیل اس مختصر مضمون میں نہیں آ سکتی۔


رباعیات صحیح مسلم
صحیح مسلم ثلاثیات سے خیالی ہے البتہ اسی سے زائد اس میں ایسی حدیثیں ہیں جن کی سند میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور رسول اکرم ﷺ کے مابین صرف چار واسطے ہیں اور یہ احادیث رباعیات کہلاتی ہیں۔


ترجمہ امام بخاری
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد بن اسمٰعیل ہے اور کنیت و نسب کے ساتھ آپ کو الامام الحافظ الحجۃ ابو عبد اللہ محمد بن اسمٰعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بردزبہ کہا جاتا ہے اور امام بخاری کے لقب سے آپ مشہور ہیں۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اجداد میں سے مغیرہ ایمان لائے۔ مغیرہ کا باپ بردزبہ فارس کا رہنے والا اور مجوسی تھا۔ اس کی وفات کفر پر ہوئی۔ مغیرہ حاکم بخارا یمان جعفی کے ہاتھ پر مشرف با اسلام ہوئے اور ان کے ساتھ موالات اسلام کی نسبت انہیں حاصل ہوئی۔ اسی نسبت کی بنا پر انہیں جعفی کہا گیا۔ امام بخاری کو اسی لئے جعفی کہا جاتا ہے۔


امام بخاری کی ولادت و وفات
امام بخاری ۱۳؍ شوال بروز جمعہ ۱۹۴ھ بمقام بخارا پیدا ہوئے اور ان کی وفات شب عید الفطر ۲۵۶ھ میں ہوئی اور عید کے دن بعد نمازِ ظہر سمرقند سے چھ میل کے فاصلے پر خرتنگ میں مدفون ہوئے۔ بعض محدثین نے ان کی ولادت اور وفات کو دو شعروں میں بیان کیا

کان البخاری حافظا و محدثا
جمع الصحیح مکمل التحریر
میلادہ صدق و مدۃ عمرہ فیہا
حمید وانقضی فی نور
۶۲        ۲۵۶

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد آپ کے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ نو یا دس سال کی عمر میں علم حدیث کی طلب کا آغاز فرمایا اور گیارہ سال میں آپ کو اسانید حدیث میں اس قدر مہارت پیدا ہوئی کہ بخارا میں ایک استاد نے سند بیان کی۔ حدثنا سفیان عن ابی زہیر عن ابراہیم امام بخاری نے ادب سے عرض کیا ابو زہیر لیس لہ روایۃ عن ابراہیم بل ہو ابو زبیر (نقلہ ملاعلی قاری فی المرقاۃ) جب استاد نے اصل کی طرف مراجعت کی تو اس میں ابو زہیر کی بجائے ابو زبیر تھا۔


حصول علم حدیث کے لئے امام بخاری کا سفر اور مشائخ سے استفادہ
سولہ سال کی عمر میں امام بخاری نے ابن مبارک اور امام وکیع کی کتب حدیث کو یاد کر لیا پھر طلب علم کے لئے رحلت کی۔ شام، مصر اور جزیرہ میں دو مرتبہ تشریف لائے اور چار مرتبہ بصرہ گئے اور چھ مرتبہ حجاز میں اقامت فرمائی اور محدثین کے ساتھ کوفہ اور بغداد بے شمار مرتبہ گئے۔ امام بخاری نے فرمایا کہ میں نے ایک ہزار سے زیادہ آدمیوں کی حدیث لکھی ہے اور خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے بے شمار لوگوں نے علم حدیث حاصل کیا۔

نوے ہزار آدمیوں نے امام بخاری سے صحیح بخاری کو روایت کیا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ حفظ حدیث میں کوئی شخص مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ سند اور متن اور معرفت علل اور تمییز بین الصحیح والسقیم میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بے مثل اور بے نظیر تھے۔


امام بخاری اپنے ہم عصروں کی نظر میں
حسین بن محمد المعروف بالعجلی فرماتے ہیں میں نے محمد بن اسمٰعیل اور امام مسلم جیسا حافظ حدیث نہیں دیکھا لیکن امام مسلم اس کے باوجود بھی امام بخاری کے مرتبہ کو نہیں پہنچے۔ امام ابو عبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمی نے کہا کہ میں نے علمائے حرمین حجاز و شام و عراق کو دیکھا ان سب میں امام محمد بن اسمٰعیل بخاری جیسا اعلم وافقہ کسی کو نہیں پایا۔ امام مسلم نے امام بخاری کو مخاطب کر کے کہا
لا یبغضک الا حاسد واشہد انہ لیس فی الدنیا مثلک

ابو عبد اللہ بن اخرم نے کہا، میں نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے مسلم بن حجاج کو امام بخاری کی بارگاہ میں اس حال میں دیکھا کہ وہ صبی متعلم کی طرح امام بخاری سے سوال کر رہے تھے۔ ایک دن امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور کہا دعنی اقبل رجلیک یا استاذ الاستاذین وسید المحدثین ویا طبیب الحدیث فی عللہ۔

اور حافظ صالح بن جزرہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بغداد میں مسند درس حدیث پر جلوہ افروز ہوتے تھے۔ میں ان کے درس کا املا کراتا تھا۔ ان کی مجلس درس میں بیس ہزار سے زیادہ آدمی ہوتے تھے۔ امام بخاری مذہباً شافعی تھے اور بعض نے کہا، وہ مجتہد تھے۔


ترجمہ امام مسلم
ابو الحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری النیشا پوری ائمہ حفاظ اور اعلام محدثین سے ہیں۔ آپ نے حجاز، عراق، شام و مصر کی طرف متعدد سفر کئے۔ آپ کے شیوخ میں یحییٰ النیشا پوری، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، عبد اللہ بن مسلمہ القعبی وغیرہم ہیں۔ امام مسلم کئی مرتبہ بغداد تشریف لاے اور اہل بغداد نے آپ سے روایت حدیث کی۔ آپ کا آخری قدوم بغداد ۲۵۹ھ میں ہوا۔ امام ترمذی نے آپ سے روایت حدیث کی۔ امام مسلم کا قول ہے کہ میں نے تین لاکھ احادیث مسموعہ میں سے منتخب کر کے یہ مسند صحیح تالیف کی ہے۔ حافظ ابو علی نیشا پوری نے کہا کہ ما تحت ادیم السماء اصح من کتاب مسلم ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب نے کہا کہ جب امام بخاری متوطن نیشا پور ہوئے تو آپ کی خدمت میں امام مسلم کا آنا جانا بکثرت ہوا۔ جب محمد بن یحییٰ ذہلی اور امام بخاری کے درمیان مسئلۃ اللفظ میں اختلاف واقع ہوا اور محمد بن یحییٰ ذہلی نے امام بخاری کے خلاف اعلان کیا اور امام بخاری کے پاس لوگوں کو جانے سے روک دیا یہاں تک کہ امام بخاری نیشا پور سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ اس ابتلاء کے زمانے میں اکثر لوگ امام بخاری کو چھوڑ گئے سوائے امام مسلم کے، کہ انہوں نے امام بخاری کی زیارت سے تخلف نہیں کیا۔

ابن خلکان نے کہا امام مسلم کی ولادت ۲۰۶ ھ میں ہوئی اور وفات ۲۵ رجب ۲۶۱ ھ میں بروز اتوار شام کے وقت ہوئی۔ آپ نیشا پور سے باہر نصر آباد میں مدفون ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر پچپن برس تھی۔
 

                                                                                                     ہوم پیج