احادیث صحیحہ اور ان کے مراتب و درجات میں تفاوت

علم اصول کی بعض ضروری اصطلاحات کے تحت حدیث صحیح کی تعریف میں ہم یہ بتا چکے ہیں کہ حدیث صحیح وہ ہے جس کی سند متصل ہو اور اس کے سب راوی ثقہ، عادل اور ضابط ہوں۔ اس میں شذوذ اور علت قادحہ نہ پائی جائے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام صحیح حدیثیں قوت و صحت میں مساوی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ حفظ و ضبط اور عدالت کے مراتب میں اعلیٰ و ادنیٰ کا تفاوت ہے۔ اس طرح محدثین کے شرائط میں تشدد و تساہل کا فرق ہے۔ اسی اختلاف و تفاوت کے پیش نظر علماء نے احادیث صحیحہ کی قوت و صحت کا معیار قائم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل ضابطہ بیان کیا ہے

(۱) قوت و صحت میں سب سے اعلیٰ درجہ کی وہ احادیث ہیں جو بخاری و مسلم  دونوں کی متفق علیہ ہیں۔
(۲) ان کے بعد وہ حدیثیں ہیں جو صرف صحیح بخاری میں ہیں۔
(۳) پھر وہ جو صرف مسلم میں ہیں۔
(۴) پھر وہ جو شرائط شیخین کے موافق ہیں۔
(۵) ان کے بعد وہ حدیثیں جو صرف امام بخاری کی شرط پر ہیں۔
(۶) پھر وہ جو صرف امام مسلم کی شرط کے موافق ہیں۔
(۷) ان کے بعد ان احادیث کا درجہ ہے جنہیں بقیہ اصحاب صحاح ستہ نے اپنی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہو۔

 

                                                                                                     ہوم پیج