فضیلت حفظ حدیث

رسول اللہ ﷺ نے حدیثیں یاد کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا من حفظ علٰی امتی اربعین حدیثا فی امر دینہا بعثہ اللّٰہ فقیہا وکنت لہٗ شافعا یوم القیٰمۃ وشہیدا۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اشعۃ اللمعات میں اس حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے فرمایا
کسیکہ یاد گیر دو برساند امت مرا چہل حدیث ازکار دین ایشاں، بر انگیزد اور اخدائے تعالیٰ روزِ قیامت در زمرئہ فقہا و باشم من مراو را روزِ قیامت شفاعت کنندہ مرگناہان اور او گواہی دہندہ بر طاعت او (اشعۃ اللمعات ج ۱ ص ۱۸۶)
یعنی جو شخص یاد کرے اور پہنچائے میری امت کو چالیس حدیثیں جو ان کے امر دین سے ہوں، اٹھائے گا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن فقہا کے زمرہ میں اور میں اس کے لئے اس کے گناہوں کی شفاعت کرنے والا اور اس کی طاعت پر گواہی دینے والا ہوں گا۔

ابن عدی نے کامل میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرفوعاً روایت کی، حضور ﷺ نے فرمایا من حفظ علٰی امتی اربعین حدیثا من السنۃ کنت لہٗ شفیعا و شہیدا یوم القیٰمۃ

نیز ابن نجار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا من حفظ علٰی امتی اربعین حدیثا من سنتی اد خلتہ یوم القیٰمۃ فی شفاعتی دیکھئے جامع صغیر للسیوطی جلد ۲ ص ۱۶۹

بیہقی کی روایت کے متعلق امام احمد رحمۃ اللہ نے فرمایا ہٰذا متن مشہور فیما بین الناس ولیس لہٗ اسناد صحیح

اور امام نووی نے اپنی اربعین میں کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن اس کے طرق متعدد ہیں جس کی وجہ سے اس حدیث میں قوت پیدا ہو گئی۔ (اشعۃ اللمعات جلد ۱ ص ۱۸۷) اور روایت ابن عباس کو امام سیوطی نے ضعیف قرار دیا اور حدیث ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ کی تصحیح فرمائی۔ دیکھئے جامع صغیر للسیوطی جلد ۲ ص ۱۹۶

اس میں شک نہیں کہ ائمہ کبار نے ان حدیثوں کو تلقی بالقبول کے ساتھ اور ان پر عمل کر کے ان کے مقبول اور حجت ہونے کو تسلیم کر لیا کیونکہ علمائے کبار نے سلف و خلف میں اربعینات تصنیف کیں اور وہ حضور ﷺ کی شفاعت اور اپنی مغفرت کے لئے حضور ﷺ کی شہادت کے امیدوار ہوئے۔ قطع نظر اس سے کہ ضعاف فضائل اعمال میں مقبول ہیں۔ اس امر میں کسی شک و شبہ کے لئے گنجائش باقی نہیں کہ احادیث مذکورہ قابل قبول اور حجت شرعیہ ہیں کیونکہ تینوں حدیثیں ایک دوسرے کے لئے شاہد ہیں اور حدیث ابی سعید خدری کے صحیح ہونے کی تصریح تو خود امام جلال الدین سیوطی نے فرما دی ہے۔

خلاصہ یہ کہ احادیث رسول اللہ ﷺ کو یاد کرنا اور انہیں مسلمانوں تک پہنچانا ایسی فضیلت اور اجر وثواب کا موجب ہے کہ ایسا شخص قیامت کے دن فقہاء کے گروہ میں اٹھایا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ اس کے لئے شفیع اور شہید ہوں گے۔ بشرطیکہ ایمان اور اخلاص کامل کے ساتھ یہ عمل ہو اور مرتے دم تک کوئی ایسا گناہ سرزد نہ ہو جس سے یہ نیکی ضائع ہو جائے کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے انما الاعمال بالخواتیم

اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان، اخلاص اور حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔ اٰمین!

 

                                                                                                     ہوم پیج