کتابت حدیث

یہ درست ہے کہ عہد صحابہ میں احادیث کی تدوین کتابوں کی صورت میں نہیں ہوئی بلکہ ان کے قلوب و صدور میں یہ خزانہ محفوظ تھا لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ عہد رسالت میں مطلقاً کتابت حدیث نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیث کثیرہ سے زمانہ اقدس میں کتابت حدیث ثابت ہے بلکہ خود رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کو حدیثیں لکھنے کا حکم فرمایا۔ ابو داؤد میں ہے

عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال کنت اکتب کل شیء اسمعہ من رسول اللّٰہ ﷺ ارید حفظہ فنہتنی قریش وقالوا اتکتب کل شیء تسمعہ ورسول اللّٰہ ﷺ بشر یتکلم فی الغضب والرضاء فامسکت عن الکتابۃ فذکرت ذٰلک الی رسول اللّٰہ ﷺ فاو ماء باصبعہٖ الٰی فیہ فقال اکتب فو الذی نفسی بیدہٖ ما یخرج منہ الا حق۔(ابو داؤد جلد ۲ صفحہ ۵۱۳، ۵۱۴)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ سے ہر سنی ہوئی حدیث کو یاد کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا۔ قریش کے چند لوگوں نے مجھے روکا اور کہا کہ رسول اللہ (ﷺ) سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ (ﷺ) بشر ہیں وہ غضب اور رضا دونوں حالتوں میں کلام فرماتے ہیں۔ (قریش کی یہ بات سن کر) میں کتابت حدیث سے رُک گیا اور میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا، سب کچھ لکھ لیا کرو اور اپنی مبارک انگلی سے اپنے دہن اقدس کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس ذات پاک کے قبضہ قدرت میں میری جان مقدس ہے میں اس کی قسم کھا کر فرماتا ہوں کہ اس دہن مبارک سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔

اس حدیث میں کتابت حدیث کا صریح حکم وارد ہے اور جن روایات میں لا تکتبوا عنی سوی القراٰن آیا ہے ان کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک کے ساتھ اور کچھ نہ لکھو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قرآن غیر قرآن کے ساتھ مخلوط ہو جائے۔ معلوم ہوا کہ نفس کتابت حدیث عہد رسالت میں ثابت ہے۔ البتہ کتابی صورت میں تدوین حدیث اس وقت نہ ہوئی۔

                                                                                                     ہوم پیج