ضرورتِ حدیث

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید ایسی جامع کتاب ہے جس میں عقائد و اعمال، عبادات و اخلاق، حلت و حرمت کے احکام اور بنی نوع انسان کی تمام جسمانی اور روحانی ضرورتوں کے پورا ہونے اور دونوں جہان کی فوز و فلاح حاصل کرنے کے اصول موجود ہیں لیکن یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ ان اصولوں کی ایسی تشریحات جو پیش آنے والی ضروریات کے تمام جزئیات پر منطبق ہو جائیں قرآن مجید میں مذکور نہیں۔ ظاہر ہے کہ جب تک وہ تشریحات سامنے نہ آئیں اس وقت تک قرآنی اصول کے مطابق عمل نہیں ہو سکتا اور کوئی شخص اپنی زندگی کو اصول قرآنیہ کے مطابق بسر نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کو بحیثیت مسلمان ہونے کے حدیث کی اشد ضرورت ہے۔


استدراک
اگر اس مقام پر یہ شبہ وارد کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو کتاب مفصل قرار دیا ہے اور اس کے حق میں
تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ فرمایا ہے تو ایسی صورت میں یہ کہنا کہ اصول قرآنیہ کے لئے قرآن کے علاوہ کسی تشریح کی ضرورت ہے کیونکر صحیح ہو گا؟

تو ہم جواباً عرض کریں گے کہ قرآن مجید میں جہاں تبیان و تفصیل اور بیان وغیرہ کے الفاظ وارد ہیں ان کا یہ مطلب نہیں کہ اصول قرآن کی وہ تمام تشریحات قرآن مجید میں بیان کر دی گئی ہیں جو ہر شخص کے لئے قیامت تک پیش آنے والے تمام واقعات کی جزئیات کو حاوی ہوں۔ کیونکہ یہ مطلب قرآن مجید کی روشنی میں غلط ہے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا اور نماز اور زکوٰۃ کے بنیادی اصول بھی قرآن مجید ہی میں بیان فرمائے لیکن اصولوں کی تشریحات مثلاً ارکان صلوٰۃ کی ترتیب، تعدادِ رکعت، مقادیر زکوٰۃ اور ان کے شرائط و دیگر احکام تفصیلیہ قرآن مجید میں کہیں مذکور نہیں۔ اب اگر تَفْصِیْلاً لِّـکُلِّ شَیْئٍ اور تِبْیَانًا لِّـکُلِّ شَیْئٍ کا یہی مطلب لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید ہی میں تمام مسائل جزئیہ کی تفصیلات و تشریحات کھلے طور پر بیان فرما دی ہیں تو یہ بات بالکل خلاف واقع ہو گی جو کذب محض ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے قطعاً پاک ہے۔ معلوم ہوا کہ تفصیل و تبیان سے احکام جزئیہ کی لفظی تفصیل و تشریح مراد نہیں بلکہ وہ معنوی تشریح مراد ہے جو الفاظ قرآن کے نزول کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے نورِ نبوت کی روشنی میں عطا فرمائی۔ قرآن مجید کی آیات مخاطب کے لئے اس قدر روشن، مفصل اور واضح ہیں جس کے بارے میں کسی قسم کا اشتباہ پیدا نہیں ہوتا اور جس کو اس کلام پاک کا مخاطب کیا گیا ہے وہ مکمل شرح و بسط کے ساتھ اسے سمجھتا ہے۔


قرآن کا مخاطب
قرآن کریم کا بالواسطہ مخاطب ہر وہ شخص ہے جو احکام خداوندی کا مکلف ہے اور بلا واسطہ اس کے مخاطب صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جس مخاطب کے لئے ہم نے قرآن مجید کو
تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ مانا ہے۔ اس سے ہماری مراد مخاطب بلا واسطہ ہے۔

ہمارے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو اصول بیان فرمائے ہیں وہ سب بلکہ جملہ آیاتِ قرآنیہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حق میں بیان و تبیان اور تفصیل کا حکم رکھتی ہیں اور قرآن مجید کا ایک لفظ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کو سن کر مراد الٰہی کے سمجھنے میں رسول اللہ ﷺ کو کسی قسم کا کوئی اشتباہ واقع ہوا ہو۔ یہ نہیں کہ ہر شخص قرآن سن کر مرادِ الٰہی کی تفصیلات و تشریحات کو بخوبی سمجھ لے۔ بلکہ دوسروں کے لئے ان تشریحات کا سمجھانا اور کتاب اللہ کی تعلیم دینا رسول اللہ ﷺ کا منصب ہے۔ اسی لئے ارشاد فرمایا

یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ(س: آل عمران، آیت: ۱۶۴)
تلاوتِ آیات کے بعد تعلیم کتاب کے معنی صرف یہ ہیں کہ اصول قرآنیہ اور آیاتِ کتاب کی تفصیل و تشریح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خاص ہے۔

نیز فرمایا وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ (س: النحل، آیت: ۴۴) اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ بیان کر دیں لوگوں کے لئے اس چیز کو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔

جب ذکر اور مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ سے کتاب اللہ ہی مراد ہے جسے کتاب مفصل اور تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ فرمایا گیا تو مفصل کی تفصیل اور تبیان کا بیان کیونکر ممکن ہو گا؟ جو چیز ہر شے کا بیان کرنے والی ہو اس کا بیان تحصیل حاصل نہیں تو اور کیا ہے؟ ثابت ہوا کہ قرآن مجید کا تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ اور کتاب مفصل ہونا رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات سے ہے۔ یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ قرآن مجید کا دوسروں کے لئے تبیان و تفصیل نہ ہونا اس لئے نہیں کہ قرآن ناقص ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگ اس نورِ نبوت سے محروم ہیں جس کا ہونا تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ کے لئے ضروری ہے۔


ایک شبہ کا ازالہ
آیت قرآنیہ
وَہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلًا (س: انعام، آیت: ۱۱۴) میں اِلَیْکُمُ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن سب کے لئے مفصل و مبین ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بالواسطہ مخاطبین مراد ہیں جو ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے متعلق لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ فرمایا گیا۔ معلوم ہوا کہ ان کے حق میں کتاب کا مفصل ہونا بلا واسطہ نہیں بلکہ بواسطۂ رسول کریم ﷺ ہے۔

خلاصہ یہ کہ آیات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ تعلیم کتاب اور مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ کا بیان وظائف نبوت سے ہے اور اسی بیان اور تعلیم اور تشریح کو سنت اور حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی ضرورت اس قدر اہم ہے کہ اس کے بغیر قرآن کا سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا۔


حجیت حدیث
اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو واجب القبول اور واجب العمل قرار دیا وہی ہمارے لئے حجت شرعیہ ہے۔ قرآن مجید میں صاف مذکور ہے
مَا اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا (الحشر: ۶) رسول تمہیں جو کچھ دے دیں وہ لو اور جس چیز سے وہ روک دیں اس سے رک جاؤ۔ عہد رسالت سے لے کر آج تک امت مسلمہ اس امر پر متفق ہے کہ اس آیت میں لفظ ما اپنے عموم پر ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کے تمام ارشادات شامل ہیں۔ بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ام یعقوب آئیں اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا آپ نے گوندھنے اور گوندھوانے والی اور پیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اپنے دانتوں کو کشادہ کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی اور جو کتاب اللہ میں ملعون ہے۔ ام یعقوب نے کہا میں نے سارا قرآن پڑھا ہے اس میں کہیں میں نے وہ بات نہیں پائی جو آپ فرما رہے ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا اگر تم اسے پڑھتیں تو ضرور پا لیتیں۔ کیا تم نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا مَا اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا ام یعقوب بولیں کیوں نہیں! یہ آیت تو میں نے قرآن میں ضرور پڑھی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے یعنی وہ مَا نَہَاکُمْ میں داخل ہیں اور بحکم خداوندی فَانْتَہُوْا ان سے بچنا ضروری ہے۔ دیکھئے بخاری جلد ۲ صفحہ ۷۱۵، مسلم جلد ۲ صفحہ ۲۰۵ اصح المطابع

معلوم ہوا کہ عہد رسالت ہی سے اس آیت کریمہ کے یہ معنی سمجھ لئے گئے تھے کہ کسی حکم شرعی کی دلیل قرآن مجید کے صریح الفاظ ہی نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کے ارشادات بھی حجت شرعیہ ہیں۔ نیز ارشادِ ربانی ہے فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (النساء: ۶۵) اس آیت کریمہ میں واضح طور پر موجود ہے کہ ہر اختلاف میں رسول اللہ ﷺ کو حکم بنانا اور حضور ﷺ کے ہر فیصلہ کو بدل و جان تسلیم کرنا مدارِ ایمان ہے۔ مَا قَضَیْتَ میں مَا اپنے عموم پر ہے۔ حضور ﷺ کا ہر فیصلہ حضور کی سنت اور حدیث ہے جسے تسلیم کر لینے پر اللہ تعالیٰ نے ہمارے مومن ہونے کو موقوف فرمایا جو چیز ایمان کا موقوف علیہ ہو اس کے حجت ہونے میں کسی مومن کو کلام نہیں ہو سکتا۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (نور: ۶۳) یعنی ان لوگوں کو ڈرنا چاہئے جو رسول اللہ ﷺ کے امر کی مخالفت کرتے ہیں یہ کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا وہ درد ناک عذاب میں مبتلا ہو جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کے امر کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرانا اور ان کے حق میں وعید شدید نازل فرمانا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ امر رسول اللہ ﷺ قولی ہو یا فعلی بہر صورت واجب القبول اور حجت شرعیہ ہے۔

                                                                                                     ہوم پیج