غزالی دوراں امام اہلسنّت حضرت علامہ
سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی

غزالی زماں رازیٔ دوراں امام اہلسنّت سید احمد سعید کاظمی متعنا اللہ تعالیٰ بطول حیاتہم سرمایہ افتخار محدث بے بدل فقیہہ اور عظیم ترین محقق ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم حدیث کی خدمت میں گزارا ہے۔ مختلف علمی موضوعات پر تحقیقی تصنیفات سپرد قلم کی ہیں۔ سینہ میں ملت کا گہرا درد رکھتے ہیں اور ہر ضرورت کے موقعہ پر ملک اور قوم کے لئے گراں بہا قربانیاں دی ہیں۔ مسلک سے والہانہ لگن اور اہل سنت کے حقوق کی پامالی پر ہمیشہ مضطرب رہتے ہیں۔ سنیوں کی تنظیم کے لئے بارہا کوششیں کی ہیں۔ اس سلسلہ میں ملک کے طول و عرض میں متعدد دورے کئے اور مختلف انواع کی مساعی مشکور کی ہیں۔

حضرت کے تلامذہ کی بھی ایک طویل فہرست ہے جو بیرون ملک میں بھی دین کے متعدد شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ چشتی، قادری، نقشبندی اور سہروردی ان تمام سلسلوں میں اجازت بیعت حاصل ہے۔ تلامذہ کی طرح مریدین کا حلقہ بھی بہت وسیع ہے اور پاکستان کے قریہ قریہ میں آپ کے ارادتمند پھیلے ہوئے ہیں۔

حضرت علامہ بے حد منکسر المزاج اور متواضع شخصیت کے مالک ہیں۔ جس شخص کو بھی آپ کے ساتھ کچھ روز گزارنے کا اتفاق ہوتا ہے وہ آپ کے حسن اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ طبیعت میں سوز و گداز ہے۔ درس حدیث کے وقت اکثر آنکھیں اشکبار رہتی ہیں۔ ایک بار سراج العلوم خانپور کے سالانہ جلسہ میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کے موضوع پر تقریر کر رہے تھے کہ عجب سماں تھا۔ پنڈال میں ہزاروں کی تعداد میں سامعین بیٹھے ہوئے تھے اور سب کی آنکھوں سے سیل اشک جاری تھا۔ اسی حال میں آپ دوران تقریر اسٹیج سے گر پڑے۔ ہر شخص پر رقت کا عالم طاری تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی یاد میں لوگوں کی آنکھوں سے آنسو تھمتے نہ تھے۔ ہچکیوں میں ڈوبی ہوئی آوازیں بے اختیارانہ چیخیں، اشکوں کا سیل رواں اور پرسوز نالے۔ غرض تمام سامعین پر عجب قسم کی ازخود وارفتگی طاری تھی۔

راقم الحروف کو ۱۹۵۶ء سے حضرت کے ساتھ تعلق خاطر ہے۔ اس عرصہ میں اس گنہگار پر حضرت کی بے پناہ عنایتیں اور نوازشیں شامل حال رہی ہیں۔ بارہا آپ کی مجلسوں میں حاضری کا شرف حاصل ہوا اور آپ کی سیرت کے بے شمار واقعات لوح ذہن پر ثبت ہو رہے ہیں۔ ایک ملاقات میں مَیں نے آپ کے سامنے آپ کے حالاتِ زندگی کا تذکرہ چھیڑ دیا اور آپ کی زندگی کے بہت سے اہم واقعات معلومات کی روشنی میں آ گئے۔ یہ تمام معلومات اور یادداشتیں میں نے اپنے پاس نوٹ کر رکھی تھیں۔ اس خیال سے کہ کسی وقت ان کو سوانحی انداز پر ترتیب دے لوں گا۔ حسن اتفاق سے محترم عابد نظامی صاحب نے فرمائش کی کہ میں اس ماہِ ضیائے حرم کے لئے حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی مدظلہٗ کی شخصیت پر کچھ لکھ کر پیش کر دوں۔ مجھے سوانحی مضامین اور شخصیات پر لکھنے کا کچھ سلیقہ اور تجربہ تو نہیں ہے۔ بہرحال حضرت سے کچھ ملاقاتوں، یادداشتوں، آپ کی علمی کاوشوں اور سیرت کی جھلکیوں کا جو کچھ سرمایہ میرے پاس محفوظ ہے، اسے تلخیص کے ساتھ قارئین ضیائے حرم کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔


ابتدائی حالات
بیہقی زماں غزالی دوراں ابو النجم امام اہلسنّت سید احمد سعید کاظمی کا سلسلہ نسب سیدنا امام موسیٰ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ سے منسلک ہے۔ ۱۹۱۳ء میں آپ مراد آباد کے مضافاتی شہر امروہہ میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا اسم گرامی سید مختار احمد کاظمی تھا۔ ایام طفولیت میں ہی والد محترم کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے برادر معظم سید محمد خلیل کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زیر نگرانی ہوئی۔ سید محمد خلیل کاظمی انتہائی جید فاضل عظیم محدث اور صاحب نظر درویش تھے۔ شعر و سخن سے بھی دلچسپی تھی اور ہمیشہ حضور ﷺ کی محبت میں ڈوبی ہوئی نعتیں کہا کرتے تھے، شاہ جہاں پور کے مدرسہ بحر العلوم میں تدریسی خدمات انجام دیتے تھے اور سفر و حضر میں ہمیشہ حضرت علامہ کاظمی کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔

حضرت نے ابتداء سے انتہا تک تمام تعلیم اپنے برادر معظم سے ہی حاصل کی اور آپ ہی کے دست حق پر بیعت ہوئے۔ سترہ سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کی۔ دستار بندی کے موقع پر حضرت سید علی حسین شاہ صاحب اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کے سر پر دستار فضیلت باندھی۔ اس تقریب میں حضرت مولانا معوان صاحب رامپوری، حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی، مولانا نثار احمد صاحب کانپوری و دیگر اکابر علماء اور اعاظم مشائخ موجود تھے، جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا۔

ایام تحصیل ہی میں آپ نے امتناع کذب کے موضوع پر ایک انتہائی علمی اور پر مغز رسالہ تسبیح الرحمن عن الکذب والنقصان کے نام سے زیب رقم فرمایا۔ مختلف بدمذہبوں سے مباحثوں اور مناظروں میں حصہ لیا اور ہر بار خدا کے فضل و کرم سے غالب و کامیاب رہے۔

تدریسی زندگی
حضرت علامہ فراغت کے بعد احباب سے ملاقات کے لئے لاہور تشریف لے گئے۔ یہاں حضرت سید محمد دیدار علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ کی زیارت سے مستفیض ہوئے اور حضرت مولانا سید ابو البرکات اور مولانا سید ابو الحسنات سے ملاقات ہوئی۔ اسی اثناء میں ایک دن جامعہ نعمانیہ تشریف لے گئے۔ وہاں ایک کلاس میں حافظ محمد جمال صاحب مسلم الثبوت پڑھا رہے تھے۔ آپ بھی سماع کی خاطر ایک طرف بیٹھ گئے۔ اس وقت ماہیت مجردہ پر گفتگو ہو رہی تھی۔ آپ نے بھی اس بحث میں حصہ لیا۔ آپ کی جودت طبع اور استحضار مسائل کے ملکہ سے حافظ محمد جمال صاحب بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے دبیر انجمن خلیفہ تاج الدین صاحب سے آپ کی قابلیت کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے آپ کو جامعہ نعمانیہ میں تدریس کی پیش کش کی، جس کو آپ نے اپنے برادر معظم کی اجازت کی شرط پر منظور کر لیا۔ جامعہ نعمانیہ میں تدریس کے دوران آپ کے ذمہ نور الانوار، قطبی، مختصر المعانی اور شرح جامی وغیرہ کی تدریس مقرر کی گئی۔ رفتہ رفتہ طلبہ کا میلان آپ کی طرف بڑھنے لگا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں اٹھائیس اسباق کی تدریس آپ کے ساتھ متعلق ہو گئی۔ تدریس کا تجربہ آپ کو دوران تعلیم ہی میں حاصل ہو گیا تھا۔ زمانہ تعلیم کے آخری دو سالوں میں آپ باقاعدہ اسباق پڑھایا کرتے تھے۔ وہ مہارت یہاں کام آئی اور نعمانیہ میں آپ کی تدریس کا سکہ بیٹھ گیا۔

۱۹۳۱ء میں آپ لاہور سے واپس امروہہ تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ تک امروہہ کے مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں حضرت محمد خلیل اللہ سے مجلس ہوتی اور متعدد علمی مباحثے ہوتے۔ مشہور مناظر مولوی مرتضیٰ حسین دربھنگی سے بھی کئی بار مناظرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔

لاہور کے زمانہ قیام میں حکیم جان عالم سے آپ کے دوستانہ تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ جو لاہور سے واپسی کے بعد بھی برقرار رہے اور ان سے خط و کتابت ہوتی رہی۔ انہی کے اصرار پر آپ تقریباً دو سال کے لئے اوکاڑہ تشریف لے گئے۔ اس زمانہ میں اوکاڑہ میں گستاخان رسول کی بڑی شورش تھی۔ ہر طرف تنقیص رسالت کی مہم جاری تھی۔ آپ نے وہاں جا کر مسلک اہل سنت کی تبلیغ اور درس و تدریس کے سلسلہ کو جاری کیا۔ آپ کی مساعی سے بہت جلد فضا بہتر ہو گئی اور عظمت رسول کے نعروں سے اوکاڑہ کے در و دیوار گونجنے لگے۔


ملتان میں آمد
حضرت سید نفیر عالم ایک درویش صفت بزرگ تھے۔ آپ کے برادر معظم نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں حاضر ہوا کریں۔ چنانچہ آپ نے حضرت سید نفیر عالم کو اپنا شیخ صحبت بنا لیا تھا۔

حضرت سید نفیر عالم ہر سال ملتان میں خواجہ غریب نواز سلطان الہند معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا عرس منعقد کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں آپ کو وہاں تقریر کی دعوت دی۔ حضرت سید نفیر عالم نے جب آپ کی تقریر سنی تو دل و جان سے فدا ہو گئے اور تب سے ان کا پیہم اصرار رہا کہ آپ ملتان آ جائیں اور اہلیان ملتان کو مستفیض کریں۔ بالآخر ۱۹۳۵ء کے اوائل میں آپ ملتان تشریف لے آئے۔

ملتان آنے کے بعد آپ نے اپنے رہائشی مکان ہی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ متلاشیان حق اور تشنگان علم دور دور سے آ کر آپ کے چشمہ فیض سے سیراب ہوتے رہے۔ نومبر ۱۹۳۵ء میں آپ نے مسجد حافظ فتح شیر بیرون لوہاری دروازہ میں قرآن مجید کا درس شروع کیا۔ بعض بدبختوں نے اس درس کو ناکام کرنا چاہا۔ چنانچہ علاقہ کے تمام مخالف علماء درس میں شرکت کرتے اور دوران درس مختلف قسم کے اعتراض کیا کرتے۔ مگر خدا کے فضل سے وہ ہمیشہ ناکام رہے اور آپ کے علم و فضل کی شہرت دور دور پھیلتی گئی۔ حضرت اٹھارہ سال تک مسلسل اس مسجد میں درس قرآن دیتے رہے اور اٹھارہ سال کے طویل عرصہ کے بعد آپ نے یہاں درس قرآن مکمل کیا۔ اس اثناء میں آپ نے عشاء کے بعد حضرت چپ شاہ کی مسجد میں درس دینا شروع کیا اور پہلے مشکوٰۃ کا اور اس کے بعد بخاری شریف کا درس مکمل کیا۔

آپ کے حلقہ درس میں یوں تو سب ہی آپ کے ارادت مند تھے لیکن حاجی محمد ابراہیم صاحب کمپنی والے آپ سے خصوصی عقیدت رکھتے تھے۔ یہ گوجرانوالہ کے ایک دیوبندی مولوی عبد العزیز کے مرید و معتقد تھے۔ جب حاجی محمد ابراہیم نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو مولوی عبد العزیز گوجرانوالہ سے انہیں رخصت کرنے کے لئے ملتان آئے۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کا یہ مرید حضرت کا درس سنتا ہے تو بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے یہ لوگ تو (ـالعیاذ باللّٰہ) مشرک ہیں۔ دوسرے دن جب حاجی محمد ابراہیم کو گاڑی پر سوار کرانے کے لئے ان کے احباب گئے، ان میں حضرت کاظمی صاحب بھی تھے اور مولوی عبد العزیز بھی۔ پھر وہاں کسی نے باہم تعارف کرا دیا۔

مولوی عبد العزیز نے اس کے بعد اپنے تمام ہم خیال علماء کو اکٹھا کیا اور کہا کہ یہاں ایک بدعتی آ گیا ہے، اگر اس کے یہاں قدم جم گئے تو بڑی پریشانی ہو گی۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ حضرت ہم نے بارہا کوشش کی ہے لیکن ان کے علم اور زورِ بیاں کے آگے پیش نہیں جاتی۔ آپ کو فن مناظرہ میں بہت مہارت ہے اور علم و فضل میں بھی بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس لئے آپ ان سے مناظرہ کریں۔ چنانچہ مولوی عبد العزیز اور اس کے حواریوں نے مناظرہ کی تیاری شروع کر دی اور کئی دن صرف کر کے بے شمار کتابوں پر نشان لگائے گئے۔ حضرت کا معمول تھا کہ روزانہ صبح درس کے بعد حضرت بہاؤ الحق رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دے کر آتے تھے۔ ایک دن وہاں سے واپس آ رہے تھے تو پیغام ملا کہ مولوی عبد العزیز نے گفتگو کے لئے حاجی ابراہیم کی کمپنی میں بلایا ہے۔ حضرت کاظمی صاحب اسی وقت اور اسی حال میں کمپنی تشریف لے گئے۔ اس گفتگو میں مولوی عبد العزیز بری طرح ناکام ہوئے اور ان کی رسوائی کی خبر تمام شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور شہر کے تمام لوگ ہر طرف سے آ کر آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہونے لگے۔ اس مباحثہ کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔


قاتلانہ حملہ
مولوی عبد العزیز کی شکست کے بعد حضرت کا عروج ظاہر ہوا اور ہر طرف سے لوگ آپ کو تبلیغ و ارشاد کے لئے بلانے لگے اور مسلک اہلسنّت کی اشاعت ہونے لگی۔ اہلسنّت کے اس غلبہ سے گھبرا کر مخالفین نے آپ کے قتل کی سازش تیار کی۔ چنانچہ مولوی حسین علی واں بھچروی کا شاگرد حبیب اللہ جو چنی گوٹھ میں رہتا تھا، اس نے حضرت کو بہاولپور کے ایک گاؤں بلہ جھلن میں تقریر کی دعوت دی۔ یہ ایسی جگہ تھی کہ یہاں سے اوچ شریف کا اسٹیشن بھی نو میل تھا اور تھانہ چنی گوٹھ بھی نو میل تھا۔ ایسی دور دراز جگہ پر تین محرم کو جمعہ کے دن حضرت کو تقریر کے لئے بلایا گیا۔ جلسہ میں کلہاڑی بردار لوگ کافی تعداد میں شریک تھے۔ اچانک مولوی حبیب اللہ تقریر کے دوران چلایا، قتل کر دو۔ چنانچہ کلہاڑی برداروں نے آپ پر حملہ کر دیا۔ جلسہ میں سنی لوگ بھی تھے۔ انہوں نے آپ کی طرف سے کافی مزاحمت کی لیکن حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سر پر کلہاڑی کے پیہم وار کئے اور شدید ضربات سے آپ بے ہوش ہو گئے۔ شور مچ گیا کہ قتل ہو گیا ہے۔ تمام لوگ بھاگ گئے۔ ایک ہندو عورت آپ کو یہ کہہ کر اٹھا کر لے گئی کہ یہ سید کا بچہ ہے۔ تین دن تک آپ اس ہندو عورت کے گھر میں بے ہوش پڑے رہے۔ پھر ادھر ادھر لوگوں کو خبر ہوئی اور آپ کو ملتان لایا گیا، جہاں آپ چھ ماہ تک زیر علاج رہے۔ آپ کی عیادت کے لئے ہندوستان کے کونے کونے سے علماء و مشائخ تشریف لائے۔ ان بزرگوں میں حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب، حضرت سید محدث کچھوچھوی، حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی اور مولانا حشمت علی خان صاحب کے اسماء خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔


انوار العلوم کا قیام
دورانِ علاج ہر وقت عیادت کرنے والوں کا جم گھٹا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ اس حملہ کا تو کوئی ایسا افسوس نہیں ہے لیکن یہ حسرت دل میں رہ گئی کہ زندگی میں کوئی عظیم کام سر انجام نہیں دیا۔ منشی اللہ بخش ٹین مرچنٹ رحمۃ اللہ علیہ نے، جو اس وقت آپ کی عیادت کے لئے آئے ہوئے تھے، یہ سنتے ہی دس ہزار روپے آپ کی خدمت میں پیش کیے۔ ان کی بیگم نے اپنے سونے کے کڑے اتار کر دئیے کہ انہیں بیچ کر میری طرف سے نذر کر دیں۔ حضرت علامہ کاظمی صاحب کی اہلیہ نے بھی اپنا تمام زیور اتار کر نذر کر دیا۔ آپ نے اس رقم سے ملتان کے وسط میں زمین خرید کر جامعہ انوار العلوم قائم کر دیا۔


تحریک پاکستان
حضرت علامہ کاظمی صاحب نے بر صغیر کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ مسلم لیگ کے سٹیج سے قیام پاکستان کی توثیق کے لئے بنارس کانفرنس میں شرکت کی۔ جس زمانہ میں کانگریسی اور احراری علماء سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے، اس وقت حضرت علامہ کاظمی صاحب، حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی، پیر سید جماعت علی شاہ صاحب، مولانا ابو الحسنات، مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا عبد الغفور ہزاروی رحمہم اللہ تعالیٰ کی رفاقت میں الگ قومیت اور آزادیٔ پاکستان کے لئے سعیٔ مسلسل اور جہد پیہم کر رہے تھے۔


جمعیۃ العلماء پاکستان کی بنیاد
قیام پاکستان کے بعد حضرت علامہ کاظمی صاحب نے نئے حالات کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ وہ لوگ جو کل تک پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے، پاکستان بننے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور دیکھتے دیکھتے وہ حکومت کی نظر میں سرمۂ چشم بن کر سما گئے۔ اس وقت آپ نے اہلسنّت کے اتحاد اور تنظیم کی ضرورت محسوس کی تاکہ اہلسنّت کو سیاسی استحکام اور قوت حاصل ہو۔ اس مقصد کے لئے آپ نے مولانا ابو الحسنات سے خط و کتابت کی اور ان پر تشکیل جمعیت کے لئے زور ڈالتے رہے۔ نیز آپ نے پاکستان کے تمام علماء کے نام خط لکھے۔ تا آنکہ مارچ ۱۹۴۸ء میں تمام علماء ملتان میں جمع ہوئے، جن میں حضرت مولانا ناصر جلالی (کراچی) علامہ عبد الغفور ہزاروی (وزیر آباد) مولانا ابو النور محمد بشیر (سیالکوٹ) مولانا ابو الحسنات (لاہور) اور مولانا غلام جہانیاں (ڈیرہ غازی خان) کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔

ملتان کے اجلاس میں اہلسنّت کی تنظیم کا نام جمعیۃ العلماء پاکستان تجویز کیا گیا اور حضرت علامہ مولانا ابو الحسنات کو جمعیت کا صدر اور حضرت علامہ کاظمی صاحب کو جمعیت کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔

حضرت علامہ کاظمی نے اپنی نظامت کے دوران جمعیت کو بے حد فروغ دیا اور جمعیت کے ذریعے ملک و ملت کی بیش از بیش خدمات انجام دیں۔ جہادِ کشمیر، دستور سازی، تحریک تحفظ ختم نبوت، تبلیغ و اشاعت، سیلاب زدگان کی مدد، غرض ہر خدمت اور ضرورت کے موقع پر آپ نے جمعیت کے پرچم کو سربلند رکھا۔

جامعہ اسلامیہ میں
محکمہ اوقاف نے علوم اسلامیہ کے تخصص اور تحقیق کے لئے بہاولپور میں جامعہ اسلامیہ کو قائم کیا۔ اس جامعہ کے شعبہ حدیث میں بلند پایہ محقق اور ماہرِ حدیث کی ضرورت تھی جو اس میںقوی دستگاہ رکھتا ہو۔ محکمہ اوقاف نے آپ سے شیخ الحدیث کا منصب قبول کرنے کی درخواست کی۔ اگرچہ انوار العلوم کو چھوڑنا آپ کے لئے بارِ خاطر تھا تاہم جامعہ اسلامیہ میں اہلسنّت کی نمائندگی اور مسلک کے تحفظ کی خاطر آپ نے یہ عہدہ قبول کر لیا اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ کا یہ فیصلہ بروقت اور صحیح تھا۔ آپ نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۷۴ء تک جامعہ اسلامیہ میں شعبہ حدیث کے سربراہ کی حیثیت سے کام کیا۔ ان گیارہ سالوں میں سنی طلباء کو آپ کی وجہ سے اپنے حقوق کے حصول میں انتہائی آسانی رہی اور کئی اسامیوں پر سنی علماء کا تقرر ہوا۔

چند معرکہ آرا مناظرے
دورانِ تعلیم امروہہ میں آریا سماج کا مشہور مناظر پنڈت رام چند آیا اور اس نے تناسخ اور قدامت عالم پر مناظرہ شروع کیا۔ اس مناظرہ میں علماء اسلام نے شرکت کی اور مباحثہ میں حصہ لیا۔ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے بھی اپنے برادرِ معظم حضرت سید محمد خلیل کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ اس مباحثہ میں شرکت کی۔ پنڈت رام چند نے قدم عالم اور تناسخ پر قرآن کی دو آیتوں سے استدلال کیا اور کہا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ نیز فرماتا ہے، مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ (پ ۶ : المائدہ : ۵۹)

ان آیتوں سے ظاہر ہوا کہ بعض یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے بندر کی جون میں اور بعض عیسائیوں کو خنزیر کی جون میں تبدیل کر دیا اور یہ بعینہٖ تناسخ ہے۔ نیز حدیث شریف میں ہے کہ مرنے کے بعد شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں اڑتی پھرتی ہیں اور یہ بھی تناسخ ہے اور تناسخ قدم عالم کو مستلزم ہے۔

حضرت علامہ کاظمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جواب میں فرمایا کہ تناسخ اسے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک جاندار کی روح دوسرے جسم میں منتقل ہو جائے اور یہاں یہودی اور عیسائی مرے تو نہ تھے بلکہ زندگی میں ہی ان کی انسانی شکل کو مسخ کر کے انہیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں متشکل کر دیا تھا۔ لہٰذا یہ تناسخ نہیں تماسخ ہے اور ارواحِ شہداء کی جو آپ نے حدیث پیش کی ہے، اس میں حضور ﷺ نے برزخ اور معاد کا حال بیان کیا ہے اور آپ معاد کے قائل نہیں ہیں۔ پنڈت رام نے کہا کہ اب تو میں جا رہا ہوں، آئندہ پھر بحث کروں گا۔

حضرت علامہ کاظمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، دیکھو موت کا کوئی پتہ نہیں ہے، لہٰذا مجھے یہ بتا کر جاؤ کہ اگر تم مر گئے تو آئندہ سال کس جانور کی جون میں آ کر مجھ سے ملاقات کرو گے۔ اس جواب پر وہ بہت خوش ہوا اور جاتے وقت آپ کو اپنی گھڑی انعام میں دے گیا۔


مولوی عبد العزیز سے گفتگو اور مباہلہ
گوجرانوالہ کے مشہور دیوبندی عالم مولوی عبد العزیز نے ایک روز صبح صبح آپ کو حاجی محمد ابراہیم کی کمپنی میں بلوایا اور علم غیب کے مسئلہ پر گفتگو شروع کر دی۔ آپ نے حضور ﷺ کے علم غیب کے اثبات پر مندرجہ ذیل آیات پیش کیں

عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًاoلا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ  (پ۲۹۔ سورۃ جن۔ آیت ۳۶۔ ۳۷)

اللہ تعالیٰ غیب کو جاننے والا ہے اور وہ اپنے غیب کو کسی شخص پر ظاہر نہیں کرتا، سوا ان کے جن سے وہ راضی ہو جائے جو اس کے رسول ہیں۔

وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَائُ (پ ۴۔ سورۃ آل عمران۔ آیت ۱۷۹)

اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ تم کو اپنے غیب پر مطلع کرے لیکن اللہ تعالیٰ (اطلاع علی الغیب کے لئے) جسے چاہتا ہے، پسند کر لیتا ہے جو اس کے رسول ہیں۔

عَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُط وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا(پ ۵۔ سورۃ النساء۔ آیت ۱۱۳)

اللہ تعالیٰ نے تمام چیزیں آپ کو بتلا دیں جو آپ نہ جانتے تھے اور یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔

ان تین آیتوں کے بعد آپ نے اثبات علم غیب کیلئے مندرجہ ذیل احادیث پڑھیں

عن عمر قال قام فینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل اہل الجنۃ منازلہم واہل النار منازلہم حفظ ذلک من حفظہ و نسیہ من نسیہ (بخاری) [کتاب بدء الخلق]

حضرت عمر سے روایت ہے کہ ایک دن حضور ﷺ نے ابتداء آفرینش عالم سے حوادث کی خبریں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ جنتی جنت میں داخل ہو گئے اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو گئے۔ جس نے اس کو یاد رکھا، یاد رکھا اور جس نے بھلا دیا، بھلا دیا۔

قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فعلمت ما فی السموت والارض وفی روایۃ فتجلی کل شئ وعرفت۔ (مشکوٰۃ شریف باب المساجد)

حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جان لیا جو کچھ تمام آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔

اور ایک روایت میں یوں ہے، میرے لئے ہر چیز منکشف ہو گئی اور میں نے اس کو جان لیا۔ ان آیات اور احادیث کو سن کر مولوی عبد العزیز کہنے لگا، فتاوی قاضی خان میں ہے، جو شخص حضور ﷺ کے لئے غیب کا مدعی ہو، وہ کافر ہے۔

آپ نے فرمایا، عجیب بات ہے، میں قرآن و حدیث پیش کرتا ہوں اور تم اس کے مقابلہ میں قاضی خان کے اقوال پیش کرتے ہو اور قول بھی وہ جو قَالُوْا کے ساتھ مقرون ہے اور قاضی خان کی اصطلاح میں مقرر ہے کہ قَــــالُـوْا کے ساتھ جو قول ہو وہ ضعیف ہوتا ہے۔

مولوی عبد العزیز نے کہا، تم حنفی ہو۔ فرمایا، ہاں ۔ کہا، حنفیوں کی کتاب شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے

ان الانبیاء لم یعلموا المغیبات من الاشیاء الا ما اعلمہم اللّٰہ تعالیٰ احیانا۔
انبیا کو علم غیب نہیں ہوتا مگر ان باتوں کا جو اللہ تعالیٰ انہیں احیاناً بتلا دیتا ہے۔

آپ نے فرمایا، یہ عبارت میرے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس عبارت میں اللہ تعالیٰ کے بتلائے بغیر جاننے کی نفی ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے علم کا قائل ہوں۔


دوسرے یہ کہ اس عبارت میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو احیاناً علم غیب عطا فرماتا ہے۔ اور احیان حین کی جمع ہے۔ اب میں بتلاتا ہوں کہ ایک حین میں حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کتنا علم عطا فرمایا ہے۔ ترمذی شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دست قدرت میرے شانوں کے درمیان رکھا۔ جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینہ میں محسوس کی۔
فعلمت ما فی السمٰوٰت وما فی الارض۔ (پس میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔)


غور کرو جب ایک حین میں حضور ﷺ کے علم کا یہ عالم ہے تو احیان میں ان کے علم کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ مولوی عبد العزیز نے کہا، دکھاؤ! یہ حدیث کہاں ہے؟ آپ نے ان ہی کی کتابوں میں سے مشکوٰۃ شریف میں سے یہ حدیث نکال کر پیش کی۔ کہنے لگا، مشکوٰۃ بے سند کتاب ہے۔ میں اس کو نہیں مانتا۔ ترمذی میں دکھاؤ۔ آپ نے بسم اللہ پڑھ کر ترمذی شریف کھولی تو سامنے سورئہ ص کی تفسیر میں وہی حدیث نکل آئی۔ جب مولوی عبد العزیز کو یہ حدیث دکھائی تو وہ غصہ سے آگ بگولہ ہو گیا اور طیش میں آ کر کتاب کو پھینک دیا۔ جیسے ہی مولوی عبد العزیز نے ترمذی شریف اٹھا کر پھینکی، حضرت کاظمی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا تو گستاخ اور بے ادب ہے۔ اب میں تجھ سے مناظرہ نہیں کرتا۔ مباہلہ کروں گا۔ چنانچہ دونوں نے یہ الفاظ کہے۔ اگر میرا مقابل حق پر ہو اور میں باطل پر ہوں تو میں ایک سال کے اندر خدا کے قہر و غضب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاؤں اور اگر میں حق پر ہوں تو میرا مقابل خدا کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے۔ مباہلہ کرنے کے بعد آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔

مولوی عبد العزیز جب گوجرانوالہ پہنچے اور صبح کی نماز کے بعد قرآن مجید کا درس دینے کے لئے بیٹھے اور بولنا چاہا تو الفاظ منہ سے نہ نکلے، زبان باہر نکل آئی۔ کافی دنوں تک علاج کی کوشش کی گئی لیکن ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ کوئی مرض ہو تو اس کا علاج کیا جائے۔ یہ تو عذابِ الٰہی ہے۔ بالآخر سال پورا ہونے سے پہلے ہی وہ عذابِ الٰہی میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گئے۔

اگلا صفہ