اگر بارگاہِ نبوت سے کسی کو فیض نہ پہنچے اور آفتابِ نبوت کی شعاعیں کسی کے دل کو نہ چمکائیں تو اس کو ہرگز کوئی فضل و کمال حاصل نہیں ہو سکتا۔ نہ اس کے دل میں کوئی نور پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر فضل و کمال کا سرچشمہ صرف نبوت اور رسالت ہے۔

ختم نبوت

مرزائیوں نے مرزا صاحب کی نبوت غیر تشریعی ثابت کرنے کے لئے بعض اکابر صوفیائے کرام مثلاً شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعرانی علیہ الرحمۃ کی عبارات سے استدلال کیا ہے۔ تحقیق مقام کے لئے ہمیں سب سے پہلے مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں مرزا صاحب کے عجیب متضاد بیانات ہیں۔ کہیں تو مرزا صاحب اپنے آپ کو غیر تشریعی نبی قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جس جس جگہ میں نے نبوت اور رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اسی کا نام پا کر اسی کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ ان ہی معنوں سے خدا نے مجھے رسول اور نبی کہہ کر پکارا ہے سو اب بھی میں انہی معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ الخ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ۴) اس عبارت میں مرزا صاحب نے صاف لفظوں میں غیر تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اب اس کے خلاف نبوت تشریعی کا دعویٰ ملاحظہ فرمایئے۔
اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اول تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعۃ ہو گیا۔
پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ص ۷۰۶ اربعین ۳۔
اس عبارت میں مرزا صاحب نے کھلے لفظوں میں اپنے آپ کو صاحب الشریعۃ کہا ہے۔ کہیں سرے سے مکر جاتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے اپنی نبوت کا صفایا کر دیتے ہیں فرماتے ہیں نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو کہ بحکم خدا کیا گیا۔
(ازالہ اوھام طبع دوم ص ۱۱۴)
لاہوری مرزائی عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے مرزا صاحب کی وہ عبارتیں پیش کر دیتے ہیں جن میں نبوت کا انکار معلوم ہوتا ہے۔
اور قادیانی مرزائی! عوام کو بہکانے کے لئے غیر تشریعی نبوت والی عبارتیں دکھا دیتے ہیں۔ مرزائی اگر مرزا صاحب کو سچا سمجھتے ہیں تو قطعی طور پر انہیں صاحب شریعۃ مانتے ہوں گے کیونکہ اربعین کی عبارت منقولہ بالا میں مرزا صاحب نے غیر مبہم طور پر اپنے آپ کو صاحب شریعت قرار دیا ہے۔
لیکن ختم نبوت کے دلائل سے تنگ آ کر قادیانی مرزائی اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ مرزا صاحب غیر تشریعی نبی ہیں۔ صرف تشریعی نبوت ختم ہوئی، غیر تشریعی جاری ہے۔
نبوت کی دو قسمیں تشریعی و غیر تشریعی جن معنی میں مرزائیوں نے بیان کی ہیں وہ قرآن و حدیث اور دلائل شریعہ کے بالکل خلاف ہیں۔ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جو صاحب الشریعت نہ ہو۔ مرزائیوں کو نبوت کی اس تقسیم کے دعویٰ کی دلیل میں نہ کوئی قرآن کی آیت ہاتھ آئی نہ کوئی حدیث البتہ حضرات صوفیائے کرام مثلاً شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کی بعض عبارات سے انہوں نے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ اول تو مرزائیوں کو شرم و حیا سے کام لینا چاہئے کہ جن صوفیاء کرام کو مرزا صاحب نے ملحد اور زندیق قرار دیا ہے ان ہی کے اقوال و عبارات کو مرزا صاحب کی نبوت کی دلیل میں پیش کر رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو رسالہ تحریر اور خط مرزا صاحب نے ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ کو وحدت الوجود کا حامی بتایا اور وحدت الوجود کے قائلین کو ملحد اور زندیق کہا۔
قبل اس کے کہ ہم ان حضرات صوفیاء کی عبارات پیش کر کے اس مسئلہ کو واضح کریں اور مرزائیوں کی افتراء پردازی کا جواب لکھیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر صوفیاء کے مسلک اور ان کے مقصد کو باوضاحت بیان کر دیں۔
حقیت یہ ہے کہ صوفیائے کرام کی مقدس جماعت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ تزکیہ باطن و صفائی قلب کے بعد اپنے دل و دماغ اور روح کو انوارِ معرفت سے منور کریں اور فیوض و برکات سے مستفیض ہو کر خدائے تعالیٰ کی معرفت اور اس کا قرب حاصل کریں ظاہر ہے کہ یہ فیوض و برکات اور انوار و کمالات آفتابِ نبوت ہی کی شعاعیں ہیں اور حضور سید عالم ﷺ کی نبوت اور رسالت ہی کا فیض ہے۔ اگر بارگاہِ نبوت سے کسی کو فیض نہ پہنچے اور آفتابِ نبوت کی شعاعیں کسی کے دل کو نہ چمکائیں تو اس کو ہرگز کوئی فضل و کمال حاصل نہیں ہو سکتا نہ اس کے دل میں کوئی نور پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر فضل و کمال کا سرچشمہ صرف نبوت اور رسالت ہے۔
اس مقام پر یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ جب نبوت حضور ﷺ پر ختم ہو گئی اور آپ نے بابِ نبوت کو مسدود فرما دیا تو شاید وہ تمام فیوض و برکات بھی بند ہو گئے جو بارگاہِ نبوت سے وابستہ تھے اور نبوت کا دروازہ بند ہو جانے کی وجہ سے کسی کو مقام نبوت سے کسی قسم کا کوئی فیض نہیں پہنچ سکتا۔ اگر یہ صحیح ہو اور ختم نبوت کا یہی مفہوم لیا جائے کہ نبوت کا دروازہ بند ہو جانے سے مقام نبوت کے تمام فیوض و برکات بند ہو گئے تو صوفیائے کرام کا ریاضت و مجاہدہ کرنا اور صفائی باطن اور تزکیہ نفس کر کے مقام نبوت کے فیوض و برکات اور آفتابِ رسالت کے انوار سے مستفیض و مستنیر ہونے کی امید رکھنا بھی لغو و بے معنی ہو گا اور اس طرح صوفیائے کرام کا تمام سلسلہ تصوف اور جدو جہد سب بیکار اور لغو ہو جائے گی۔ اس شبہ کو دور کرنے اور مقصد تصوف کو کامیاب بنانے کے لئے صوفیائے کرام کا فرض تھا کہ وہ یہ بتائیں کہ ختم نبوت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ مقام نبوت اس طرح ختم ہو گیا کہ اب کسی کو کوئی فضل و کمال نبوت کے دروازہ سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ شبہ وسوسۂ شیطانی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ فیضانِ نبوت جاری ہے اور ہر صاحب فضل وکمال کو اس کی استعداد کے موافق جو کمال ملا ہے یا ملے گا اس کا سرچشمہ مقام نبوت ہی ہے اور ختم نبوت کے معنی صرف یہ ہیں کہ کسی کو امر و نہی کے ساتھ مخاطب نہیں کیا جائے گا اور شریعت نہیں دی جائے گی۔ اس کو امر و نہی کے ساتھ مخاطب کرنا ہی تشریع ہے۔ عام اس سے کہ وہ امر و نہی قدیم ہو یا جدید شریعت و نبوت میں کچھ فرق نہیں۔ نبوت شریعت ہے اور شریعت نبوت۔ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی امر ونہی سے مخاطب نہ فرمایا ہو۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔ (س: البقرۃ، آیت: ۲۱۰) ہر نبی تبشیر اور انذار پر مامور ہوتا ہے اور یہی شریعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ مقام نبوت کے فیوض و برکات بند ہو گئے لیکن فیوض و برکات نبوت جاری ہونے کا یہ مطلب بھی لینا بالکل غلط اور باطل ہے کہ فیضانِ نبوت سے کوئی نبی بن سکتا ہے۔ دیکھئے تمام عالم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمتوں سے مستفید ہو رہا ہے اور بارگاہِ الوہیت سے ہر قسم کے فیوض و برکات بندوں کو حاصل ہو رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندے فیضانِ الوہیت سے الوہیت کا درجہ بھی پا سکتے ہیں۔ حضرات صوفیائے کرام نے اپنی عبارات میں غیر مبہم طور پر اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ فیضانِ نبوت جاری ہونے سے ہماری مراد یہ نہیں کہ نبوت اور شریعت جاری ہے بلکہ امر و نہی کا دروازہ قطعاً مسدود ہو چکا ہے اور جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بعد اس بات کا دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی بات کا امر فرمایا ہے یا کسی نہی سے مخاطب کیا ہے تو ایسا شخص مدعی نبوت و شریعت ہے۔ اگر وہ احکام شرع کا مکلف ہے تو ہم ایسے شخص کی گردن مار دیں گے۔ ملاحظہ ہو (الیواقیت والجواہر جلد دوم ص ۳۸)
فان قال ان اللّٰہ امرنی بفعل المباح قلنا لہ لا یخلوا ان یرجع ذالک المباح واجبا فی حقک او مندوبا وذالک عین نسخ الشرع الذی انت علیہ حیث صیرت بالوحی الذی زعمتہ المباح الذی قررہ الشارع مباحا مامور ابہٖ یعصی العبد بترکہ وان ابقاہ مباحا کما کان فی الشریعۃ فای فائـدۃ لہٰذا الامر الذی جاء بہٖ ملک وحی ہٰذا المدعی۔ الخ۔
اگر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مباح کام کا امر فرمایا ہے تو ہم اس سے کہیں گے کہ یہ امر دو حال سے خالی نہیں۔ یہ کہ جس مباح کام کا اللہ تعالیٰ نے تجھے امر فرمایا ہے وہ تیرے حق میں واجب ہو گا یا مندوب، یہ دونوں صورتیں اس شریعت کے حق میں ناسخ قرار پائیں گی جس پر تو قائم ہے۔ اس لئے کہ جس کام کو شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مباح رکھا تھا تو نے اسے اپنی وحی مزعوم کے ساتھ مامور بہٖ یعنی ضروری اور واجب (یا مستحب) قرار دے لیا، جس کے ترک سے بندہ گنہگار یا تارک افضل ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس امر مباح کو تیرے حق میں مباح ہی رکھا جیسا کہ وہ شرعاً پہلے سے مباح تھا تو تیری اس وحی اور امر سے کیا فائدہ ہوا؟
اس کے بعد امام شعرانی فتوحاتِ مکیہ سے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت نقل فرماتے ہیں
وقال الشیخ ایضًا فی الباب الحادی والعشرین من الفتوحات من قال ان اللّٰہ تعالٰی امرہ بشیء فلیس ذٰلک بصحیح انما ذالک تلبیس لان الامر من قسم الکلام وصفتہٖ وذالک باب مسدود دون الناس۔ الخ
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃاللہ علیہ فتوحاتِ مکیہ کے اکیسویں باب میں فرماتے ہیں جو شخص اس بات کا دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کوئی امر فرمایا ہے تو یہ ہرگز صحیح نہیں، یہ تلبیس ابلیس ہے۔ اس لئے کہ امر کلام کی قسم سے ہے اور یہ دروازہ لوگوں پر بند ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں
فقد بان لک ان ابواب الاوامر الالٰہیۃ والنواہی قد سدت وکل من ادعاہا بعد محمد ا فہو مدع شریعۃ اوحی لہا الیہ سواء وافق شرعنا او خالف فان کان مکلفا ضربنا عنقہٗ والاضربنا عنہ صفحا۔
یہ بات تم پر بخوبی واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کا دروازہ بند ہو چکا ہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص بھی اس امر کا مدعی ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے امر و نہی پہنچا ہے وہ مدعی شریعت ہے عام اس سے کہ جن اوامر و نواہی کا وہ مدعی ہے وہ ہماری شرع کے موافق ہو یا مخالف، وہ بہرکیف مدعی شریعت ہی قرار پائے گا۔ اگر وہ عاقل و بالغ ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں گے ورنہ اس سے پہلو تہی کریں گے۔ (الیواقیت و الجواہر ج ۲ ص ۳۴ طبع مصر)
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ صاحب فتوحاتِ مکیہ اور امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کی ان تصریحات سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ جو شخص اس امر کا مدعی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے امر و نہی کے ساتھ مخاطب فرمایا ہے وہ مدعی شریعت ہے نیز یہ کہ حضراتِ صوفیاء کرام کے نزدیک شریعت کے معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر و نہی ہونے کے سوا کچھ نہیں۔ اب مرزا صاحب کی تصریحات سامنے رکھ کر یہ دیکھ لیجئے کہ وہ من جانب اللہ امر و نہی پانے کے مدعی ہیں یا نہیں۔
اربعین ۳ ص ۷۰۶ کی یہ عبارت ہم تفصیل سے نقل کر چکے ہیں کہ مرزا صاحب نے فرمایا یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعۃ ہو گیا۔
بس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔
مرزا صاحب کی اس عبارت سے دوباتیں بالکل واضح ہو گئیں۔ ایک یہ کہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے شریعت کے جو معنی بیان فرمائے ہیں مرزا صاحب نے ان پر مہر تصدیق ثبت فرما دی۔ دوسری یہ کہ مرزا صاحب حضرات صوفیاء کرام اور خود اپنی تصریح کے مطابق مدعی شریعت ہیں۔
اب میں ان مرزائی دوستوں سے دریافت کرتا ہوں جنہوں نے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان حضرات کے نزدیک نبوت تشریعی ختم ہو گئی، غیر تشریعی جاری ہے لہٰذا مرزا صاحب کا غیر تشریعی نبی ہونا درست ہو گیا۔ کس حد تک ان عبارات سے آپ کو فائدہ پہنچا؟ صوفیاء تو آپ کے لئے اغیار کا حکم رکھتے ہیں۔
خود مرزا صاحب جو آپ کے غم خوار ہیں اور جن کی نبوت غیر تشریعی کی خاطر آپ نے اس قدر پاپڑ بیلے انہوں نے بھی آپ کا ساتھ نہ دیا اور بول اٹھے کہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی اور اس طرح میں صاحب شریعۃ ہوں۔
مدعی سست گواہ چست والا معاملہ ہوا۔
ناظرین کرام نے اچھی طرح سمجھ لیا ہو گا کہ نبوت تشریعی کا مفہوم صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر و نہی پانا۔
چونکہ وحی منجانب اللہ امر و نہی کے ساتھ مخاطب ہونا ہے اس لئے ہر نبی تشریعی ہوتا ہے۔ اب اس کے بالمقابل نبوت غیر تشریعی کے معنی اس کے سوا اور کچھ نہیں رہتے کہ من جانب اللہ تعالیٰ امر و نہی کا خطاب پانے کے علاوہ جس قدر فضائل و کمالات ہیں مثلاً ولایت، قطبیت، غوثیت، عرفان و قرب الٰہی، مدارج سلوک وغیرہ انوار و برکاتِ نبوت غیر تشریعی ہیں کیونکہ ان سب کا سر چشمہ مقام نبوت ہی ہے۔
اس لئے اگر صوفیاء نے یہ کہہ دیا کہ نبوت غیر تشریعی جاری ہے یعنی نبوت کے فیوض و برکات بند نہیں ہوئے امت مسلمہ انوار و برکاتِ نبوت سے فیض یاب ہو رہی ہے تو یہ قول اپنے مرادی معنی کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔
مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہم مرزا صاحب کو غیر تشریعی نبی مانتے ہیں مسلمانوں کو دھوکا اور فریب دینا ہے۔
مرزا صاحب نے اپنے دعوے کے منکرین کو جہنمی، نا مسلمان اور غیر ناجی فرقہ قرار دیا ہے۔
ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ (مکتوبات مرزا بنام ڈاکٹر عبد الحکیم در حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳)
جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا رسول کو بھی نہیں مانتا۔ (حقیقۃ الوحی ص ۱۶۳)
(اے مرزا) جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہو گا وہ خدا رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔ (رسالہ معیار الاخیار ص ۸)
خدا تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے اس (میری وحی) کو مدار نجات ٹھہرایا۔ (حاشیہ اربعین ص ۷)
ان عبارات سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے منکرین کو کافر جہنمی قرار دیا۔ اب مرزا صاحب کی اس عبارت کو بھی پڑھ لیجئے، نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
یہ نتیجہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والوں کو کافر کہنا، یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث گزرے ہیں کہ وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ (تریاق القلوب حاشیہ ص ۳۲۵ طبع دوم)
مرزا صاحب اپنے منکرین کو کافر بھی کہہ رہے ہیں اور یہ بھی فرما رہے ہیں کہ صرف اس نبی کا منکر کافر ہوتا ہے جو شریعت اور احکام جدیدہ لائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا صاحب احکام جدیدہ اور شریعت کے مدعی ہیں۔
ناظرین کرام ازراہِ انصاف بتائیں کہ مرزا صاحب کی نبوت تشریعی کے دعوے میں اب بھی کچھ کلام کی گنجائش ہے۔
پھر مرزائیوں کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب غیر تشریعی نبوت کے مدعی ہیں سراسر دجل و فریب نہیں تو اور کیا ہے؟
فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَارِ


                                                                                                     ہوم پیج