فائدہ جلیلہ
فضیلت شق صدر حضور ﷺ کے طفیل باقی انبیاء علیہم السلام کو بھی عطا ہوئی جیسا کہ تابوت بنی اسرائیل کے قصہ میں طبرانی کی طویل روایت میں یہ الفاظ ہیں
کان فیہ الطشت التی یغسل فیہا قلوب الانبیاء (فتح الملہم ج ۱ ص ۱۰۰)

یعنی تابوت سکینہ میں وہ طشت بھی تھا جس میں انبیاء علیہم السلام کے دلوں کو دھویا جاتا تھا چونکہ دیگر انبیاء علیہم السلام کو بھی حضور ﷺ کی تبعیت میں حیاتِ حقیقی جسمانی عطا فرمائی گئی لہٰذا شق صدر اور قلب مبارک کا دھویا جانا بھی ان کو عطا کیا گیا تاکہ ان کی حیات بعد الوفات پر بھی اسی طرح دلیل قائم ہو جائے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی حیات بعد الممات پر دلیل قائم کی گئی اور اس طرح بلا تخصیص و تقیید مطلقاً حیاتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ثابت ہو جائے۔


قلب مبارک کا دھویا جانا
قلب اطہر کا زمزم سے دھویا جانا کسی آلائش کی وجہ سے نہ تھا کیونکہ حضور سید عالم ﷺ سید الطیبین والطاہرین ہیں۔ ایسے طیب و طاہر کہ ولادت باسعادت کے بعد بھی حضور سید عالم ﷺ کو غسل نہیں دیا گیا۔ لہٰذا قلب اقدس کا زمزم سے دھویا جانا محض اس حکمت پر مبنی تھا کہ زمزم کے پانی کو وہ شرف بخشا جائے جو دنیا کے کسی پانی کو حاصل نہیں بلکہ قلب اطہر کے ساتھ مائِ زمزم کو مس فرما کر وہ فضیلت عطا فرمائی گئی جو کوثر و تسنیم کے پانی کو بھی حاصل نہیں۔


جبریل علیہ السلام کی حاجت
عمدۃ المفسرین علامہ اسمٰعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب سدرہ سے آگے بڑھے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا
یا جبرائیل! ہل لک من حاجۃ الٰی ربک (اے جبریل! رب کی طرف کوئی حاجت ہو تو بتاؤ) جبریل علیہ السلام نے عرض کیا یا محمد! سل اللّٰہ ان ابسط جناحی علی الصراط لامتک حتّٰی یجوزوا علیہ (اے آقا محمد مصطفی (ﷺ) آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے یہ سوال کریں کہ قیامت کے دن آپ کی امت جب پل صراط سے گزرے تو میں ان کے قدموں کے نیچے اپنے پر بچھا دوں تاکہ وہ آسانی سے گزر جائیں)۔ ـ(روح البیان جلد خامس ص ۲۲۱)

جبریل علیہ السلام سے حضور ﷺ کے اس فرمانے میں یہ حکمت تھی کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نمرود نے آگ میں ڈالنا چاہا تو جبریل علیہ السلام نے عرض کیا، اے ابراہیم! کوئی حاجت ہو تو بتلایئے۔ ابراہیم علیہ السلام نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا اما الیک فلا تمہاری طرف کوئی حاجت نہیں۔

حضور ﷺ نے شب معراج جبریل علیہ السلام سے ان کی حاجت دریافت فرما کر اپنے جد کریم سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے وہ بدلہ اتار دیا۔


شب معراج موسیٰ علیہ السلام اور
امام غزالی رضی اللہ عنہ کا مکالمہ

حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ شمائم امدادیہ میں فرماتے ہیں کہ منقول ہے کہ شب معراج کو جب آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقی ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے استفسار فرمایا کہ
علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل جو آپ نے کہا ہے کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ حضرت حجۃ الاسلام امام غزالی حاضر ہوئے اور سلام باضافہ الفاظ وبرکاتہٗ ومغفرتہٗ وغیرہ عرض کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ طوالت بزرگوں کے سامنے کرتے ہو۔ آپ (امام غزالی) نے عرض کیا آپ سے حق تعالیٰ نے صرف اس قدر پوچھا تھا مَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یَا مُوْسٰی تو آپ نے کیوں اتنا طول دیا کہ ہِیَ عَصَایَ اَتَوَکَّؤُا عَلَیْہَا وَاَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیْ وَلِیَ فِیْہَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی۔ الاٰیۃ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ادب یا غزالی۔ ادب کرو اے غزالی (شمائم امدادیہ مطبوعہ قومی پریس لکھنؤ)

صاحب نبراس شارح عقائد نسفیہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب نبراس شرح عقائد نسفیہ میں فرماتے ہیں کہ امام قطب زماں ابو الحسن شاذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور ﷺ موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے سامنے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ فخر فرما رہے ہیں اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ کیا آپ کی امتوں میں غزالی جیسا کوئی عالم ہے۔ بعض لوگ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ پر انکار کیا کرتے تھے تو حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے خواب میں انہیں کوڑے مارے۔ وہ بیدار ہوئے تو کوڑوں کا اثر ان کے جسم پر تھا۔ (نبراس ص ۳۸۸)

اسی واقعہ کو امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے محاضرات میں سیدنا امام شاذلی صاحب حزب البحر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح نقل فرمایا کہ میں ایک مرتبہ مسجد اقصیٰ میں سو گیا خواب میں دیکھتا ہوں کہ مسجد اقصیٰ کے باہر وسط حرم میں ایک تخت بچھایا گیا اور فوج در فوج مخلوق کا اژدھام ہونا شروع ہوا۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کیسا اجتماع ہے؟ معلوم ہوا کہ تمام رسل و انبیاء علیہم السلام حضور سید عالم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں منصور حلاج کی سوء ادبی کے بارے میں شفاعت کے لئے حاضر ہو رہے ہیں۔ میں نے جو تخت دیکھا تو اس پر ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ تنہا رونق افروز ہیں اور تمام انبیاء علیہم السلام جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ و عیسیٰ و نوح علیہم السلام سب زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں ٹھہر گیا اور ان مقدس حضرات کی باتیں سننے لگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے حضرت محمد ﷺ سے عرض کیا، حضور! آپ نے فرمایا ہے کہ میری امت کے علماء انبیائِ بنی اسرائیل کی طرح ہیں تو ان میں سے کوئی ایک عالم دکھائیں۔ حضور ﷺ نے امام غزالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا، موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ایک سوال کیا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے دس جواب دئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا جواب سوال کے مطابق ہونا چاہئے۔ ایک سوال کا ایک جواب دینا تھا آپ نے دس جواب کیوں دئیے؟ امام غزالی نے عرض کیا۔ حضور (معاف فرمائیں) اللہ تعالیٰ نے آپ سے بھی ایک ہی سوال کیا تھا وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یَا مُوْسٰی! (اے موسیٰ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟) آپ نے اس کے کئی جواب دئیے کہ یہ میرا عصا ہے۔ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس کے علاوہ میرے اور کام بھی اس سے سرانجام ہوتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کا ایک جواب کافی تھا کہ یہ میرا عصا ہے۔ امام شاذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ منظر دیکھ کر حضور نبی کریم ﷺ تنہا تخت پر جلوہ افروز ہیں اور تمام رسل و انبیاء بالخصوص حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام، موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام، نوح نجی اللہ علیہ السلام، عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام جیسے اولوا العزم انبیاء علیہم السلام سب حضور ﷺ کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں کتنی بڑی عظمت اور جلالت محمدی کا مظاہرہ ہے میں سوچ بچار میں لگا ہوا تھا اور اپنے دل میں (بحالت خواب) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قدر و منزلت پر متعجب تھا کہ ناگہاں کسی نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری جس کی ضرب سے میں بیدار ہو گیا۔ میں نے اسے جو دیکھا تو وہ مسجد اقصیٰ کا منتظم تھا اور اس وقت مسجد اقصیٰ کی قندیلیں روشن کر رہا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا، کیا تعجب کرتا ہے؟ یہ سب حضور ﷺ ہی کے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ سن کر مجھ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوئی تو اس وقت مجھے افاقہ ہوا۔ میں نے اس منتظم مسجد اقصیٰ کو تلاش کیا مگر آج تک اسے نہ پایا۔ (روح البیان ج ۵ ص ۷۵)


ایک شبہ کا ازالہ
شاید کسی کے دل میں شبہ پیدا ہو کہ امام غزالی نے موسیٰ علیہ السلام کو (معاذ اللہ) لا جواب کر دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ محض اس لئے پیدا ہوا کہ مکالمہ کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی حیثیت ملحوظ نہ رہی۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اس وقت بحیثیت ممتحن تھے اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے امتحان دینے والے طالب علم کی حیثیت سے کھڑے ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور امتحان سوال فرمایا اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا صحیح جواب دیا۔

اگر کوئی طالب علم ممتحن کے سوال کا صحیح اور معقول جواب دے دے تو کوئی عقل مند یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے ممتحن کو لا جواب کر دیا بلکہ طالب علم کو کامیاب کہا جائے گا۔ لہٰذا امام غزالی کے متعلق یہ کہنا قطعاً غلط ہو گا کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا بلکہ یہی کہا جائے گا کہ امام غزالی رحمۃ اللہ بارگاہِ کلیمی میں امتحان دے کر خود کامیاب ہو گئے۔


ایک اور شبہ کا ازالہ
اس مقام پر یہ شبہ بھی غلط ہو گا کہ واقعی قاعدہ بھی چاہتا ہے کہ جواب سوال کے مطابق ہو اور ایک سوال کے متعدد جوابات بظاہر خلافِ اصول ہیں۔ ایسی صورت میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے جوابات اور ساتھ ہی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے جوابات سب محل نظر ہو جائیں گے۔

اس شبہ کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جواب کا سوال کے مطابق ہونا یقینا ضروری ہے لیکن جوابات کا تعدد مطابقت کے خلاف نہیں۔ البتہ یہ سوال ضرور ہو سکتا ہے کہ ایک سوال کے کئی جواب دینے میں کیا حکمت ہوگی؟ جس کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی حکمت کلام کو لمبا کرنا ہے تاکہ شرف مکالمہ زیادہ دیر تک حاصل ہوتا رہے۔ گویا امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ جواب دیا کہ اے کلیم اللہ! جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے سوال کیا تھا کہ اے موسیٰ! تمہارے داہنے ہاتھ میں یہ کیا چیز ہے؟ تو آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس خطاب کو اپنے لئے باعث عزت و افتخار جانا اور یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام فرما کر مجھے اپنا کلیم بنایا۔ لہٰذا ایک سوال کے کئی جواب دے کر کلام کو لمبا کر دوں تاکہ لذت مکالمہ دیر تک حاصل ہوتی رہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس اے کلیم الٰہی! جب آپ نے مجھے مخاطب فرما کر سوال فرمایا تو آپ کے خطاب کو میں نے اپنے لئے باعث صد عزت و افتخار جانا اور یہ محسوس کیا کہ میں کیسا خوش نصیب ہوں کہ خدا کے کلیم سے ہم کلام ہو رہا ہوں۔ آپ نے کلیم اللہ ہونے پر فخر کیا اور میں نے کلیم اللہ کے کلیم ہونے کو موجب شرف جانا اور لذت مکالمہ سے زیادہ دیر تک کیف (لطف) اندوز ہونے کے لئے کلام کو لمبا کر دیا۔


تحفہ معراجیہ
نماز مسلمانوں کے لئے معراج شریف کا تحفہ ہے اس کی کئی وجوہ ہیں
۱۔ خدا کے دربار میں حاضری معراج کا نقشہ ہے۔
۲۔ نماز معراج شریف کے موقع پر فرض ہوئی۔
۳۔ التحیات میں معراج کے انوار وتجلیات پائے جاتے ہیں۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معراج تو یہ تھی کہ حضور ﷺ اللہ کے دیدار سے مشرف ہوئے اور بے حجاب خدا کا جمال دیکھا لیکن حضور ﷺ کے سوا اس دنیا کی حیاتِ ظاہری میں جسمانی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار کسی کو نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہماری معراج حضور نبی کریم ﷺ تک پہنچ جانا ہے اس طرح کہ ہم کو حضور ﷺ سے اتنا قرب حاصل ہو جائے کہ ہم اس دنیا میں بحالت بیداری حضور ﷺ کا جمال مبارک اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

اس حکمت کے لئے تشہد میں السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ کے الفاظ رکھے ہیں۔ نماز میں اپنے قصد و ارادہ سے غیر اللہ کو بلانا ار پکارنا نماز کے فساد کا موجب ہے مگر نبی کریم ﷺ کو خطاب کے صیغہ سے پکارنا واجب ہے۔ معلوم ہوا کہ مومن بحالت نماز حضور ﷺ کی حضوری سے مشرف ہوتا ہے۔ اب اگر وہ اپنی پاکیزگی، طہارت اور محبت و اخلاص کو اس درجہ قوی کر لے کہ السلام علیک ایہا النبی کہتے وقت اس کی بصیرت نورِ جمالِ محمدی کو دیکھ سکے تو بس یہی اس کی معراج ہے کیونکہ حضور ﷺ تک پہنچنا اللہ تعالیٰ تک پہنچنا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دیکھنا اللہ تعالیٰ کا دیکھنا ہے۔ اسی لئے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں واحضر فی قلبک النبی ﷺ وشخصہ الکریم وقل السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ۔ (احیاء العلوم جلد اول ص ۱۷۵)

یعنی نماز پڑھتے ہوئے اپنے دل میں حضور ﷺ کو حاضر کرو اور اسی حال میں السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗکہو اللّٰہم اجعلنا من الواصلین۔ آمین!


ام المومنین کی حدیث
بعض لوگ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس حدیث سے غلط نتیجہ نکال لیتے ہیں۔ اس لئے اس کی وضاحت ضروری ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں جو تجھ سے بیان کرے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب کو دیکھا اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اور جو شخص یہ کہے کہ حضور ﷺ ما فی غد یعنی آئندہ ہونے والے واقعات کا علم رکھتے تھے یا یہ بیان کرے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی وحی میں سے کچھ چھپا لیا اس نے بھی اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔

اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تین مسئلے بیان فرمائے ہیں۔ ایک رؤیت باری تعالیٰ کا، دوسرا ما فی غد کا، تیسرا قرآن کریم اور احکام الٰہی کے چھپا لینے کا۔ رؤیت باری تعالیٰ پر ہم تفصیل سے کلام کر چکے ہیں۔ احکام خداوندی و قرآن مجید کو چھپا لینا معاذ اللہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حق میں ہرگز متصور نہیں ہو سکتا لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے علوم و معارف اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمائے ہیں وہ سب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے امت کو پہنچا دئیے ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ تبلیغ کے لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوا اس میں سے کوئی بات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چھپا کر نہیں رکھی ورنہ امت کا علم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مساوی ہو جائے گا جس کا کوئی بھی قائل نہیں۔

اس کے بعد مافی غد کے علم کی طرف آیئے۔ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ مراد ہرگز نہیں کہ معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ کے بتانے سے بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آئندہ آنے والے واقعات کا علم نہیں بلکہ ان کا مطلب بالکل واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر بتائے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ما فی غد کا علم ثابت کرنا اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنا ہے۔ ہمارے اس بیان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہو کر حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور ﷺ کے سامنے ایک نعتیہ قصیدہ پڑھا جس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ما فی غد کا علم ثابت کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سنا اور اس پر انکار نہ فرمایا بلکہ قصیدہ سن کر ان کے حق میں کلماتِ خیر ارشاد فرمائے اور انعام میں حلہ پہنایا۔ ہم وہ پورا قصیدہ امام ابن حجر عسقلانی صاحب فتح الباری رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب الاصابہ سے نقل کرتے ہیں

(۱)ما ان رایت ولا سمعت بواحد  فی الناس کلہم کمثل محمدٖ
(۲)
او فی فاعطٰی للجزیل لمجتدی ومتٰی تشاء یخبرک عما فی غدٖ
(۳)
واذا الـکـتـیبۃ غردت ابناؤہا بالسمہری وضرب کل مہندٖ
(۴)
فـکـانـہٗ لـیـث عـلٰی اشـبالـہٖ وسط الاناء ۃ حادر فی مرصدٖ
(۱) میں نے تمام لوگوں میں کوئی ایک شخص محمد ﷺ کی مثل نہ آنکھ سے دیکھا نہ کان سے سنا۔
(۲) انہوں نے وعدہ پورا فرمایا اور حاجت مند کو عطائے کثیر سے نوازا (اور اے مخاطب) جب تو چاہے تو تجھے ما فی غد (ہر آئندہ ہونے والے واقعہ) کی خبر دیں گے۔
(۳) اور جب لشکر کے سپاہی خوشی اور طرب میں گانے گاتے ہوئے مضبوط نیزوں اور ہندی تلواروں کی ضرب کے ساتھ حملہ آور ہوتے ہیں۔
(۴) گویا وہ رسول اللہ ﷺ (اپنے غلاموں پر) ایسے ہوتے ہیں جیسے بہادر شیر اپنے بچوں پر۔ وہ پورے حلم و وقار کے درمیان اپنی نگہبانی کے مقام پر نہایت قوی اور مضبوط رہتے ہیں۔
فقال لہ خیرا وکساہ حلۃ
حضور ﷺ نے یہ نعتیہ اشعار سن کر مالک بن عوف صحابی کے حق میں کلماتِ خیر فرمائے اور انہیں حلہ پہنایا۔ (الاصابہ جلد ۳ ص ۳۳۲)

اسی طرح حضرت سواد بن قارب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو جاہلیت کے زمانہ میں کاہن تھے اور جن ان کے تابع تھا۔ ان کے جن نے مسلسل تین راتوں میں سواد بن قارب کو نیند سے بیدار کر کے بتایا کہ مکہ میں رسول معظم ہادیٔ برحق قبیلہ بنی ہاشم سے پیدا ہو چکے ہیں اور (وہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچ گئے ہیں) اکثر جنات بھی ان پر ایمان لے آئے ہیں تم بھی چلو اور ان پر ایمان لے آؤ۔ مسلسل تین راتیں اسی طرح گزریں بالآخر حضرت سواد بن قارب کے دل میں اسلام جاگزیں ہو گیا۔ سواد بن قارب فرماتے ہیں، میں مدینہ پہنچا تو حضور ﷺ نے مجھے دیکھتے ہی یہ فرمایا خوش آمدید ہو تمہیں اے سواد بن قارب قد علمنا ما جاء بک تمہارے آنے کا سبب ہم خوب جانتے ہیں۔ میں نے عرض کیا، حضور میں نے کچھ شعر کہے ہیں سن لیجئے۔ اجازت پا کر میں نے اپنے یہ شعر حضور ﷺ کو سنائے۔

اتانی رئیی بعـد لیـل وہجعـۃ فلم اک فیما قد بلیت بکاذب
ثلاث لیـال قولـہ کل لیـلـۃ اتاک نبی من لؤی بن غالب
فشمرت عن ساقی الازارو وسطت بی الذعلب الوجناء عند السباسب
فاشہد ان اللّٰہ لا رب غیرہ وانک مامون علٰی کل غائب
وانک ادنی المرسلین شفاعۃ الی اللّٰہ یا بن الاکرمین الاطایب
فمرنا بما یاتیک یا خیر مرسل وان کان فیما جاء شیب الذوائب
فکن لی شفیعا یوم لا ذو شفاعۃ سواک بمغن عن سواد بن قارب

رات کا کچھ حصہ گزرنے اور سونے کے بعد میرے پاس میرا جن آیا جو میرے تابع ہے تو میں اپنے تجربہ میں جھوٹا نہ ہوا۔ میرا جن تین راتوں تک یہی کہتا رہا۔ تیرے پاس قبیلہ لؤی بن غالب سے ایک نبی آ گئے ہیں۔ میں نے اپنی پنڈلیوں سے اپنا تہبند اونچا کیا اور اپنی سواری میں ایک مضبوط اونٹنی کو لیا جو نہایت تیز اور میدانوں کو قطع کرنے والی ہے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں اور بے شک آپ ہر غیب پر امین ہیں اور بیشک اے آقا بزرگوں اور پاکوں کی اولاد تمام رسولوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف شفاعت کے سب سے زیادہ حق دار آپ ہی ہیں تو اے رسولوں کے سردار آپ کے پاس جو احکام آتے ہیں آپ ہمیں ان کا امر فرمائیں۔ اگرچہ ان میں زلفوں کا بڑھاپا ہی کیوں نہ ہو۔ آپ اس دن میرے شفیع ہوں۔ جس دن کوئی شفاعت کرنے والا نہ ہوگا۔ سواد بن قارب کو عذابِ الٰہی سے بچانے والا آپ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔

قال فضحک النبی ا حتّٰی بدت نواجذہٗ۔ سواد بن قارب فرماتے ہیں کہ میرے اشعار سن کر حضور ﷺ مسکرائے۔ یہاں تک کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے داڑھ مبارک ظاہر ہو گئے۔ (عینی شرح بخاری ج ۱۷ ص ۸)

دیکھئے حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے ما فی غد کا علم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے تسلیم کیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان پر انکار نہیں فرمایا۔ اسی طرح حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو قصیدہ سنایا اس میں صاف صاف کہا کہ ہر غیب پر آپ امین ہیں۔ اس پر بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انکار نہ فرمایا بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خوش ہوئے اور مسکرائے ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوا کہ مافی غد کا علم بھی حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے دینے سے ہے اور ہر غیب کی امانت بھی بہ عطاء الٰہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ثابت ہے۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ جن احادیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ما فی غد کے علم یا کسی علم کی نفی وارد ہوئی ہے تو وہاں علم ذاتی کی نفی مراد ہے۔

نکتہ: سواد بن قارب نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر غیب پر امین بتایا ہے۔ معلوم ہوا کہ غیب اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور چونکہ اجازت مالک کے بغیر امانت میں تصرف کرنا خیانت ہے اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اگر کسی کے پوچھنے کے باوجود بھی غیب کی کوئی بات نہ بتائی تو اس سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لاعلمی ثابت نہیں ہوتی بلکہ حضور ﷺ کا امین ہونا ثابت ہوتا ہے۔ وللّٰہ الحمد!


ملک و ملکوت اور آیات
اگر سوال کیا جائے کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تمام ملک و ملکوت دکھائے اور حضور ﷺ کو صرف بعض آیات! تو میں عرض کروں گا کہ
اٰیَاتِنَا میں اضافت استغراقیہ ہے اور ظاہر ہے کہ کل آیات ان سب کا مجموعہ ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ یا سننے، چکھنے، سمجھنے وغیرہ سے! ثابت ہوا کہ دیکھنے کے قابل جو آیات ہیں وہ کل آیات کا بعض ہیں۔ لہٰذا من تبعیضیہ احتراز کے لئے نہیں بلکہ بیان واقع کے لئے ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملکوت السمٰوات والارض ابراہیم علیہ السلام کو دکھائے لیکن حضور ﷺ کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خود اپنا جمال دکھایا جیسا کہ تفصیلاً گزر چکا ہے۔


خواتیم سورۂ بقرہ
مسلم شریف میں جو حدیث وارد ہے کہ معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو خواتیم سورۂ بقرہ بھی عطا فرمائیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ قرآن کریم کے حاصل کرنے میں جبریل علیہ السلام کے قطعاً محتاج نہ تھے بلکہ جبریل علیہ السلام اپنی متعلقہ خدمت کو انجام دینے کے لئے بارگاہِ محمدی میں حاضر ہونے کے محتاج تھے۔ حضور ﷺ تو بلا واسطہ جبریل علیہ السلام بھی اپنے رب کا کلام لے سکتے ہیں جس کی دلیل شب معراج خواتیم سورۂ بقرہ کا لینا ہے۔ پھر وہ آیتیں مدینہ منورہ میں بھی نازل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ایک علم کا بار بار دیا جانا درست ہے اور تکرار عطا عظمت علم کی دلیل ہے۔


معراج سے واپسی
حضور سید عالم ﷺ براق پر تشریف لائے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے
فرکب البراق وعاد الٰی مکۃ بغلس۔ یعنی حضور ﷺ براق پر سوار ہوئے اور رات کی تاریکی میں مکہ معظمہ واپس تشریف لائے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۲۳)


معراج کا سنہ، مہینہ اور تاریخ
سنہ معراج کے بارے میں محدثین کے اقوال حسب ذیل ہیں
(۱) ہجرت سے ایک سال پہلے
(۲) ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے
(۳) ہجرت سے ایک سال اور کچھ پہلے
(۴) ہجرت سے پانچ سال پہلے
(۵) بعض محدثین کا قول ہے کہ بعثت کے پانچ سال بعد معراج ہوئی اسی طرح مہینہ میں بھی حسب ذیل اقوال ہیں
(۱) ربیع الاول
(۲) ربیع الآخر
(۳) رجب المرجب
(۴) رمضان المبارک
(۵) شوال المکرم

دن میں بھی اختلاف ہے کہ کون سے دن کی رات میں حضور ﷺ کو معراج ہوئی۔ ایک قول ہے کہ پیر کی رات میں معراج ہوئی۔ دوسرا قول ہے کہ جمعہ کی رات میں ہوئی۔ واللّٰہ اعلم! (نسیم الریاض ج ۲ ص ۲۶۶)
اسی طرح تاریخ کے متعلق بھی حسب ذیل اقوال ہیں
(۱) ۱۷؍ رمضان المبارک (۲) ۱۷؍ ربیع الاول شریف
(۳) ۲۷؍ رجب المرجب (ماثبت بالسنۃ ۱۹۱، روح البیان ج ۵ ص ۱۰۶)


قول مشہور
اس بارے میں قول مشہور یہ ہے کہ معراج شریف ۲۷؍ رجب المرجب شب دو شنبہ کو ہوئی۔ (ماثبت بالسنۃ ۱۹۱، روح البیان ج ۵ ص ۱۰۶)


شب معراج کی فضیلت
امت کے حق میں شب اسریٰ سے لیلۃ القدر زیادہ افضل ہے اور حضور نبی کریم ﷺ کے حق میں شب معراج لیلۃ القدر سے زیادہ افضل ہے۔ (مواہب اللدنیہ ج دوم ص ۴)
 


                                پچھلا صفحہ                         اگلا صفحہ                                            ہوم پیج