حدی رضی اللہ عنہ  قرطاس سے متعلق ایک سوال کا جواب

٭ حضرات محترم! ابھی ابھی ایک رقعہ موصول ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ آج ظہر کے بعد کی نشست میں آپ نے حدیث قرطاس کا ذکر کرتے ہوئے آیت کریمہوَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی( النجم آیت ۳) پڑھی تھی اور اس آیت کو بنیاد قرار دیتے ہوئے آپ نے کہا تھا کہ حضورﷺ  کا ہر قول وحی خدا ہے اگر یہ امر اپنے حقیقی معنی میں ہے تو پھر ثابت ہوا کہ آپﷺ کے ہر امر پر عمل کرنا لازم ہے اور حدیث قرطاس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ایسا نہیں ہوا۔
٭ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات دینوی کے آخری ایام میں فرمایا کہ
٭ لائو میرے پاس کاغذ قلم اور دوات تاکہ میں تمہیں ایک نوشتہ لکھ دوں جو تم کو گمراہی سے بچالے اس میں کسی کی تخصیص نہیں ہے کہ فلاں یہ چیز یں لائے جملہ صحابہ کرام کو حکم تھا اور وہ سب کے سب خاموش رہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شاید سرکارﷺ کو (بوجہ بشریت) تکلیف کے احساس کا غلبہ ہے۔
وَعِنْدَنَا کِتَابُ اللّٰہِ وَھُوَ حَسْنُبَا
ترجمہ٭ اور ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور وہ ہمیں کافی ہے۔
٭ امام العادلین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس جواب کو بعض لوگ سرکارﷺ کے حکم کے خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اور اس کو نافرمانی اور سرکشی پر محمول کرتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو شخص بارگاہ رسالت مآبﷺ میں سرکشی اختیار کرے اور آپﷺ کے فرمان کی تعمیل نہ کرے اور حضور پر نورﷺ کے حکم کو بجا نہ لائے اس کامقام کیاہوگا؟
٭ یہ ایک سوال ہے اور اسکے متعلق میں نے کہا تھا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد بصیغہ امر بلا تخصیص نام اور زندگی (ظاہری زندگی)کے آخری ایام میں اس بات کا غماض ہے کہ آپﷺ اپنے ماننے والوں کا امتحان لے رہے تھے حقیقتاً لکھنا لکھوانا مقصود نہ تھا
٭ حدیث قرطاس کے تحت یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ امر دین کے معاملہ سے تھا یا نہیں؟ حالانکہ جس بات کا تعلق دین کے معاملہ سے ہواس کا انکار گمراہی کے بغیر کچھ نہیں کیونکہ دین کا خلاصہ یہ ہے کہ ضلالت سے بچا جائے اور ہدایت پر عمل کیاجائے اس حقیقت کا اعتراف نماز میں بھی موجود ہے
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اور میرا عقیدہ یہ ہے کہ حضورﷺ  جو بات امر دین سے فرمائیں وہ یقینا وحی الہی ہوگی جس کا ذکر ک کی آیت مذکورہ میں ہے سرکارﷺ کا یہ ارشادمن حیث الرسول ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اور حدیث قرطاس میں جو یہ ہے کہ لائو کاغذ قلم دوات تاکہ تمہیں نوشتہ لکھدوں کہ تم گمراہی سے بچ جائو اور ہدایت پر قائم رہو آپﷺ نے یہ ارشاد جمعرات کے دن فرمایا اور آپﷺ کا وصال مبارک پیر کے دن ہوا اس عرصہ میں نہ تو سرکارﷺ نے کوئی نوشتہ لکھوایا اور نہ ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حسبنا کتاب اللہ فرمانے پر کوئی ضلالت و گمراہی کا فتوی دیا تو کیا معاذ اللہ رسول کریم ﷺ امر دین اور حکم الہی کی بجا آوری سے پہلو تہی کرگئے؟ اور یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ قرآن مجید نے کہا
یَا اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ
ترجمہ٭ اے رسول پہنچادیجئے جو اتارا گیا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اپنے رب کا پیغام آپ نے نہ پہنچایا۔
٭ اکابر صحابہ کرام نے بھی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے حسبنا کتاب اللہ کہنے پر کوئی احتجاج نہیں کیا صحابہ کرام میں سے بعض کے اختلاف کی جو روایات ہیں اصولاً یہ اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ جب رسول کریم ﷺ نے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی بات سے اختلاف نہیں فرمایا اور اکابر صحابہ کرام نے اختلاف نہیں کیا تو پھر کسی اور کے اختلاف کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔ اختلاف کرنیوالے عظیم المرتبت صحابی تو ضرور تھے مگر یہ حضرات ابھی اس مقام پر نہ پہنچے تھے جو درجہ کمال اکابر صحابہ کرام کو حاصل ہوچکا تھا حضور اکرم ﷺ اور اکابر صحابہ کرام سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف کی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ کیونکہ اکابر صحابہ کرام کو تاجدار مدینہ ﷺ نے دین کے کمالات کے منتہیٰ پر پہنچا دیا تھا اور وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بات کو سمجھ گئے تھے۔
٭ جن حضرت نے اختلاف کیا تو انکا اختلاف بھی نیک نیتی پر مبنی تھا وہ یہ چاہتے تھے کہ فرمان رسول کریم ﷺ کی تکمیل بہر حال ہونی چاہیے۔ ان کی اس بات اور اختلاف کو رائے اور مشورہ پر محمول کیاجائے گا اور اختلاف امتی رحمتہ کا مصداق کہاجائے گا ور نہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ انکے اختلاف کے ہوتے ہوئے سرکارﷺ بھی فرما دیتے کہ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ تم کو حسبنا کتاب اللہ کہنے کا حق کس نے دیا ہے؟ تو معلوم یہ ہوا کہ آپﷺ  کا وہ ارشاد وحی الہی بھی تھا اور امردین بھی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ضرورنوشتہ لکھا جائے اور اسی پر عمل کیاجائے اگر اس مطلب کو صحیح سمجھ لیاجائے تو پھر ماننا پڑے گا کہ حضورﷺ نے اس مطلب کو پورا نہیں فرمایا اور آپﷺ نے وحی الہی کے مقصد کو نہیں سمجھا اور دین کے معاملہ کو نافذ نہیں کیا۔ ایسی باتوں کوماننا بربادی ایمان کا سبب نہیں تو اورکیا ہے۔
٭ بالفرض ان باتوں کو ممکن مان لیاجائے تو لوگ کہیں گے کہ تمہارے نبی نے آخری مرحلہ میں نہ تو وحی الہی کے مقصد کو سمجھا اور نہ ہی اسکو پورا کیا بلکہ حکم الہی پر عمل کرانے سے عاجز رہے کیا ایسی باتیں سید المعصومین ﷺ کے بارے میں برداشت کرنے کی کسی مسلمان میں ہمت ہے؟
٭ جوبات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ وحی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی مگر اس وحی سے مقصود لکھوانا نہیں تھا تو پھر کیا مقصود تھا؟ میں نے اس کا جواب یہ دیا تھا کہ اس کا مقصد محبوب ﷺ کی زبان مبارک سے ان کلمات کو ادا کرانا تھا اور بس! کیونکہ عنقریب رسول کریم ﷺ دنیا سے رخصت ہوکر آخرت کا سفر فرمانے والے تھے اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب بھی صحابہ کرام کوکوئی مشکل پیش آتی تو وہ فوراً بارگاہ رسول ﷺ میں چلے آتے اور اپنی مشکل حل کرالیتے ان کا مسئلہ حل ہوجاتا تھا لیکن اب ایسا وقت آنے والا تھا کہ وحی کا نزول بند ہونے والا تھااور سرکارﷺ عالم برزخ میں تشریف لیجانے والے تھے۔ تو اب پیش آمدہ مسائل کے حل کی صورت کیا ہوگی اگر پیش آمدہ مسائل حل نہ ہوں تو دین کی گاڑی آگے نہ چل سکے گی۔
٭ اس معمہ کو حل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو فرمایا کہ آپﷺ  ان کو حکم دیں کہ وہ کاغذ قلم دوات لے آئیں اور آپﷺ  ان کے لئے نوشتہ تحریر کریں اس وقت صحابہ کرام میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو آپﷺ کی نیابت و خلافت پرفائز ہونے والے تھے اور دین کے مسائل کو سمجھنے اور مشکل مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے آپﷺ  کی صحبت اور انوار نبوت نے ان کے سینوں کو چمکا دیا تھا اور وہ دین کے کمالات کے منتہیٰ پر پہنچ چکے تھے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ آپﷺ  اس وقت ایسے لوگ چھوڑ کر نہیں جارہے تھے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ معاذ اللہ آپﷺ  دین کو ختم کرکے جارہے تھے۔
٭ ایسے تمام اعتراضات کو ختم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا! اے محبوب آپﷺ کے ایسا فرمانے سے آپﷺ کے فیض یافتہ اکابر صحابہ کرام میں سے کوئی بول اٹھے گا اور عرض کردے گا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمیں راستہ پر چھوڑ کرنہیں جارہے کہ ہر مسئلہ کے لیے آپﷺ  کے نئے ارشاد کی ضرورت ہو۔ بلکہ آپﷺ ہمیں اس مقام پر پہنچا کر اور ایسا نور عطا فرما کرجارہے ہیں کہ سنت و احادیث کی روشنی میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے۔ مقصد وحی الہی اور منشائے نبوت یہی تھا۔ جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حسبنا کتاب اللہ کہنے سے پورا ہوگیا اگر یہ مقصد و منشا نہ ہوتا تو پھر اکابرصحابہ کرام یا حضور پرنورﷺ اور خود اللہ تعالیٰ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی اس بات کو سرکشی اور مخالفت کہتے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ باطل چیز ھادی برحق کے سامنے آئے اور وہ خاموش رہے۔ اللہ تعالیٰ کا حضورﷺ  کا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس بات پر انکار نہ کرنا اس حقیقت کو اور زیادہ واضح کررہا ہے خلفائے ثلاثہ کے سکوت سے معلوم ہوا کہ وہ حضرات بھی اس مقام پر فائز ہوچکے تھے جس مقام پرحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ میں تو کہتا ہوں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان سب کے ترجمان تھے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ ان کی زبان پراللہ تعالیٰ بولتا ہے تو وہ حضرات سمجھ گئے تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی طرف سے ایسا نہیں کہہ رہے بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ رہے ہیں اور جو بات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ہو اسکو ماننے کا نام ایمان ہے اور اسکا انکار کفر ہے۔اللہ ہم سب کو راہ ہدایت عطا کرے آمین۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج