توحید و اتباع رسولﷺ

نَحْمَدُہٗ وَنُصِلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم
بِسْمِ اللّٰہِ الَّرحْمٰنِ الَّرحِیْم

ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِالّٰلہِ شَھِیْدًا ۔( الفتح آیت۲۸)
ترجمہ٭ (اللہ تعالیٰ ) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ھدیٰ اور سچادین عطا فرما کر بھیجا تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کردے اور (رسول کی صداقت پر) اللہ تعالیٰ کافی گواہ ہے۔
٭ عزیزان محترم! یہ میلاد النبی کی روحانی عرفانی وجدانی نورانی اور بابرکت محفل ہے۔(اس محفل میلاد کا انعقاد شارجہ یعنی متحدہ عرب امارات میں ہوا تھا)
٭  اللہ تعالیٰ  کا ذکر خیر جہاں بھی ہوتا ہے اور اس کے پیارے حبیب آقائے نامدار تاجدار مدنی جناب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ  کی یاد جہاں بھی ہو وہاں  اللہ تعالیٰ  کی رحمت کے فرشتے نازل ہوتے ہیں ۔(بخاری ومسلم مشکواۃ ص ۱۹۷ )
٭ اس میں شک نہیں کہ یہ محافل بہت بابرکت اور ان میں شرکت باعث سعادت ہے کسی سے بحث کرنے کی ضرورت نہیں میں صرف اپنے جذبہ محبت اور ذوق عقیدت کے پیش نظر کچھ کلمات عرض کروں گا۔ اللہ تعالیٰ  کلمۃ الحق کو میری زبان پر جاری فرمائے اور حق قبول کرنے کی توفیق بخشے۔آمین۔
٭ قبل اس سے کہ آیت کریمہ کے مضامین پر کچھ کلام کروں۔ بطور تمہید چند باتیں عرض کرتا ہوں پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم و بیش دولاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم الصلواۃ والسلام مبعوث فرمائے ان میں سے ہر نبی و رسول اللہ تعالیٰ  کی طرف سے
ھُدیٰ لے کر آیا قرآن مجید میں ہے۔
اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدَا ہُمُ اقْتَدِہُ(پ ۷ الانعام آیت ۹۰)
ترجمہ٭ (یہ) وہی حضرات ہیں جن کو اللہ نے ھُدیٰ عطا فرمائی تو آپ(بھی) ان کے طریقے پر چلیں۔
٭ جن انبیاء کرام کا ذکر ہم نے کیا ہے یہ وہی محبوبان خدا ہیں جنکو اللہ تعالیٰ  نے ھُدیٰ دے کر بھیجا ہمارا ایمان ہے کہ ہر پیغمبر اللہ تعالیٰ  کی طرف سے
ھُدیٰ لیکر جلوہ گر ہوا حضور پُر نور کی تشریف آوری ایسے وقت میں ہوئی جسے زمانہ فطرت کہتے ہیں۔
عَلیٰ فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ
ترجمہ٭ (یعنی) مدتوں سے رسولوں کی آمد رکی ہوئی تھی۔( المائدہ آیت ۱۹)
٭ یہ وہ زمانہ تھا جب ا نبیائے کرام علیہم السلام کا جلوہ گر ہونا منقطع ہوچکا تھا حضورﷺ  سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تھے۔
٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد کے درمیان کوئی نبی و رسول نہیں ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد انقطاع نبوت کا دور تھا اورفترت کا زمانہ تھا۔ جس کا عرصہ تقریباً پانچ سو سال سے زیادہ ہے۔ ہوا یہ ہے کہ پہلے انبیاء کی تعلیمات میں لوگوں نے تحریفات کردیں۔ وہ تعلیمات جو خالص توحید پر مبنی تھیں اور ان میں بنیادی دعوت یہ تھی کہ
لَاتَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ
ترجمہ٭ یعنی  اللہ تعالیٰ  کے سوا کسی کو نہ پوجو ۔
٭ مگر لوگوں نے مظاہر کائنات کو پوجا صرف حضرت عیسی علیہ السلام کی امت کی بات نہیں بلکہ ان سے پہلے آنے والے انبیاء کرام کی امتیں بھی اس شرک میں مبتلا ہوئیں۔
٭ آپ جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  اللہ تعالیٰ  کے رسول اور اس کے کلیم ہیں۔  اللہ تعالیٰ  نے ار اللہ تعالیٰ  فرمایا
وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسیٰ تَکْلِیْمًا
ترجمہ٭ اور  اللہ تعالیٰ  نے موسیٰ سے (بلاواسطہ بکثرت) کلام فرمایا۔( النساء)
٭ ہماراایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے حضرت موسی علیہ السلام سے بلاواسطہ کلام فرمایا ہے ان کو اللہ تعالیٰ  نے توریت عطا فرمائی تھی ایسی توریت کہ
فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْرٌ
ترجمہ٭ اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا۔
٭ لیکن اس کے باوجود یہودنامسعود نے توریت کی تعلیمات کو محرف کردیا حضرت موسی کلیم اللہ کی بنیادی دعوت کو مسترد کردیا اور حضرت عزیر علیہ السلام کو ابن  اللہ تعالیٰ  کہنے لگے ک میں ہے کہ
وَقَالَتِ الْیَھُوْدٗ عُزَیْزُ نِ ابْنٗ اللّٰہ
ترجمہ٭ یہودیوں نے کہا کہ عزیر  اللہ تعالیٰ  کا بیٹا ہے۔(لتوبہ آیت ۳۰)
٭ اور عیسائیوں کا یہ مقولہ ہے کہ مسیح ابن  اللہ تعالیٰ  یعنی حضرت عیسی علیہ السلام  اللہ تعالیٰ  کے بیٹے ہیں ۔(معاذ اللہ)(لتوبہ آیت ۳۰)
٭ یہ تو تھی ان لوگوں کی بنیادی دعوت توحید میں تحریف علاوہ ازیں تعلیمات اور شرائع و احکام میں جو تحریفات سرزد ہوئیں ہیں وہ اہل علم پر مخفی نہیں ہیں ۔ اس ضمن میں آپ کو ایک عیسائی مبلغ کی بات سنائوں یہ عیسائی مبلغ ملک شام کا رہنے والا تھا اور پاکستان کے پورے علاقے میں چند سوالات لئے پھرتا رہا اور کہتا تھا کہ مجھے میرے ان سوالوں کے جواب کوئی مسلمان نہیں دے سکتا اگر کوئی ان سوالوں کے جواب دے دے تو میں مسلمان ہوجائوں گا۔(یہ عیسائی اپنے سوالات کے تسلی بخش جواب سن کر مسلمان ہوگیا) یہ شخص میرے پاس بھی آیا۔ میں نے پوچھا آپ کے وہ کونسے سوالات ہیں جن کا جواب مسلمان نہیں دے سکتے تو اس نے اپنے وہ سوالات ہمارے سامنے پیش کئے گیارہ دن مسلسل اس کے سوالات پر گفتگو ہوتی رہی ان سوالات میں سے ایک سوال توحید اور تثلیث پر بھی تھا اس نے کہا کہ ہم بھی توحید کو مانتے ہیں اورہماری توحید کو تم تثلیث سمجھتے ہو حالانکہ یہ تثلیث تمہارے ہاں بھی موجود ہے جیسا کہ
بِسْمِ اللّٰہِ الَّرحْمٰنِ الَّرحِیْم
ترجمہ٭ یعنی  اللہ تعالیٰ  بھی ہے رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ہے
٭ یہ تثلیث نہیں تو اور کیا ہے؟ اور آپ لوگ بھی گویا ایک کو تین مانتے ہو اور تین کو ایک یعنی توحید میں تثلیث اور تثلیث میں توحید اور یہی تعلیم عیسائیت کی ہے جسے تم شرک سے تعبیر کرتے ہو۔ ہم نے کہا عیسائیت اس تثلیث کو پیش کرتی ہے جو توحید کے قطعاً منافی ہے عیسائی اقانیم ثلاثہ کو معبود مانتے ہیں اور کہتے ہیں اب ابن روح القدس یہ تینوں ایک ہیں اور ایک تین ہیں اب الگ ہے ابن الگ ہے اور روح القدس الگ ہے اور اسلام میں  اللہ تعالیٰ  بھی وہی ہے رحمن بھی وہی ہے اور رحیم بھی وہی ہے عیسائیوں نے جس چیز کو پیش کیا اور مانا وہ خالص تثلیث ہے اور اسلام اور قرآن مجید نے ۔جس چیز کو پیش کیا وہ خالص توحید ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ  رحمن اور رحیم ایک ہی ذات ہے واجب الوجود جو مستلزم ہے جمیع کمالات صفاتیہ کو مگر بمقتضائے ذات وہ ایک ہے اور وحدہ لاشریک ہے ۔
٭ اس نے پھر سوال کیا کہ
انتم تقولون ان اللہ واحد
ترجمہ٭ تم کہتے ہو  اللہ تعالیٰ  واحد ہے۔
٭ واحد کے معنی کیا ہیں اور واحد کسے کہتے ہیں ؟ میں نے کہا
الواحد ینقسم علی انواع متعددۃ بای واحد تسئلنی
ترجمہ٭ یعنی واحد کی کئی قسمیں ہیں تو کس نوع کے بارے میں مجھ سے سوال کرتا ہے؟
٭  اللہ تعالیٰ  شاہد ہے کہ وہ اس کا جواب نہ دے سکا تو ہم نے اسے واحد کی قسمیں بتائیں
٭ الواحد العددی ٭ الواحد النوعی
٭ الواحد الجنسی ٭ الواحد الحقیقی

٭ واحدکی چار قسمیں ہیں واحد عددی واحد نوعی واحد جنسی اور واحد حقیقی۔ ہم  اللہ تعالیٰ  کو واحد عددی نہیں کہہ سکتے۔
ان اللہ تعالیٰ تعالیٰ عن العدد
ترجمہ٭  اللہ تعالیٰ  عدد سے بلند و بالا ہے۔
ولانقول انہ واحد نوعی
ترجمہ٭ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ  واحدنوعی ہے۔
ان اللہ تعالیٰ متعال عن الفصل والنوع
ترجمہ٭  اللہ تعالیٰ فصل اور نوع سے بھی پاک ہے۔
وکذلک لانقول ان اللہ واحد جنسی لانہ متعال عن الجنس
ترجمہ٭ اور اسی طرح ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ  اللہ تعالیٰ  واحد جنسی ہے کیونکہ وہ تو جنس سے بھی بالا تر ہے۔
٭ اب ایک واحد باقی رہ گیا ہے اور وہ
الواحد الحقیقی واحد حقیقی ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ  واحد حقیقی ہے ہم نے اس کو واحد عددی اسلئے نہیں مانا کہ الواحد نصف الانثین عدد میں دو کا آدھا ایک ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ  کو واحد عددی تصور کیاجائے تو پہلے دو تسلیم کرنے ہونگے پھر ان کو آدھا آدھا کرکے ایک ماننا ہوگا یہ تنصیف ہے اور جس کی تنصیف ہوجائے وہ واجب نہیں ہوسکتا۔ لہذا  اللہ تعالیٰ  کو واحد عددی ماننا باطل ہوگیا۔
٭ اور ہم  اللہ تعالیٰ کو واحد نوعی بھی نہیں مانتے اس لئے کہ
النوع مرکب من الفصل و الجنس والمرکب الذی یوجد بعد الترکیب حادث یعنی جنس اور فصل کے مجموعے سے نوع بنتی ہے اور یہ مرکب ہے اور جو مرکب ہو وہ حادث ہوتا ہے کیونکہ پہلے جنس اور فصل ہو اور دونوں کو ترکیب دیاجائے تو نوع کا ظہور ہوگا اور جو اس ترکیب کے بعد پیدا ہوا حادث کہلائے گا لہذ اللہ تعالیٰ  کو واحد نوعی کہنا بھی غلط ہوا اس لئے ہم اللہ تعالیٰ  کو واحد نوعی بھی نہیں مانتے۔
٭  اللہ تعالیٰ  کو واحد جنسی ماننا بھی ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ ہم تو کہتے ہیں ۔
ان اللہ تعالیٰ متعال عن الجنس لان الجنس لا یوجدالا بعد الفصل
ترجمہ٭ یعنی جنس کا وجود فصل کے بغیر ممکن نہیں اور اس میں بھی ترکیب واقع ہوگی  اللہ تعالیٰ  ترکیب سے منزہ ہے اس لئے ماننا پڑتاہے کہ اللہ تعالیٰ  نہ توواحد عددی ہے اور نہ ہی واحد نوعی و جنسی ہے۔ہم تو اس کو واحدحقیقی مانتے ہیں۔
ھوالواحدالذی لایقتضی وحدتہ الا ذاتہ
ترجمہ٭ وہ واحد ہے اور واحد حقیقی وہ ہے کہ جس کی وحدت کا تقاضا خود اس کی ذات کرے۔
٭ یعنی امر خارج سے اس کی وحدت متقاضی نہ ہو کیونکہ واحد عددی میں اثنین خارج ہے واحد سے اور واحد نوعی خارج ہے جنس اور فصل سے اسی طرح واحد جنسی میں قدر مشترک ہے اور اشتراک خود ایک امر خارج ہے ان سب کی وحدت کا تقاضا امر خارج سے ہورہا ہے اور  اللہ تعالیٰ کی وحدت وہ نہیں کہ اس کا تقاضا بھی امر خارج سے ہو بلکہ و ہ تو ایسا واحد حقیقی ہے جو قدیم ہے ا ور ازل سے اس کا متقاضی ہے کہ میں ایک ہی ہوں اور یہی واحد حقیقی ہے۔ یہ وہ توحید ہے جس کو اسلام اور قرآن مجید پیش کرتا ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ  بھی وہی ہے۔ الرحمن بھی وہی ہے اور الرحیم بھی وہی ہے۔اسلام تو کہتا ہے!
قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدْ
ترجمہ٭ یعنی میرے محبوب فرمادیجئے کہ  اللہ تعالیٰ  ایک ہے۔( الاخلاص آیت نمبر۱)
٭ واحد اور احد میں بھی فرق ہے حالانکہ دونوں عربی کے لفظ ہیں واحد بھی اور احد بھی واحد کہتے ہیں
ایک کو اور احد کہتے ہیںیکتاکو اور یکتا وہ ہے کہ جسکی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہ ہو اور اس کی کوئی مثل ہونہ ضد مثل و مثال اور شریک سے بالاتر ہو وہ یکتا ہے اور وہی واحد حقیقی ہے اور وہ  اللہ تعالیٰ  ہی ہے۔
٭  اللہ تعالیٰ جزوسے تجزی سے اور تقسیم سے پاک ہے ابن ہمیشہ اب کا جزو ہوتا ہے یعنی اب میں جب تک تجزی نہ ہو ابن کا وجود ظاہر نہیں ہوگا اور تجزی خود تقسیم کی مقتضی ہے اللہ تعالیٰ  رب العٰلمین تجزی اور تقسیم سے پاک ہے تبعّیض اور تبعض سے منزہ ہے۔
تَعَالَیٰ اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ عُلْوًّا کَبِیْرًا
٭ ہمارا رب تو وہ ہے کہ جس کیلئے مرکب ہونا تو درکنار وہ بسیط ہونے سے بھی پاک ہے کیونکہ بسیط کا مفہوم مرکب کے بعد ذہن میں ابھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ  کا واحد ہونا خارج سے متعارف نہیںاس لئے مانناپڑے گا کہ  اللہ تعالیٰ  ایک ہے اور وہ یکتا ہے اور اس کی شان ہے کہ
لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ
ترجمہ٭ یعنی نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جناگیا۔
٭ کوئی اس کا بیٹا نہیں اور نہ ہی کوئی اس کا باپ ہے ہم  اللہ تعالیٰ  کی اس الوہیت و وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں اور ہر نبی نے اسی توحید کا درس دیا مگر افسوس کہ لوگوں نے انبیاء کرام علیہم الصلواۃ والسلام کی تعلیمات کو مٹا دیا اور توحید کو شرک سے بدل دیا غیر اللہ کی عبادت ہونے لگی کسی نے اللہ وحدہ لاشریک کا بیٹا بنا ڈالا کسی نے  اللہ تعالیٰ  کا جز ومان لیا اور معاذ اللہ کسی نے  اللہ تعالیٰ  کا شریک ٹھہرالیا۔ صرف اسی پر اکتفا نہ کیا حتیٰ کہ مظاہر کائنات کی عبادت کی گئی کسی نے سورج کو پوجا کسی نے چاند کو معبود بنالیا کسی نے زمین کی پرستش کی کسی نے آسمان کے آگے آسن مارے کسی نے عناصر کے سامنے جبین رکھ دی کسی نے جواہر کو مسجود سمجھا اور کسی نے موالید کے آگے جھکنا عبادت تصور کرلیا وہ کونسی چیز ہے کہ جس کو انسان نے نہ پوجا ہو اور اس کی عبادت نہ کی ہو ۔ دنیا کے انسان اس شرک میں مبتلا رہے حالانکہ انبیاء کرام نے تو انکو توحید کی دعوت دی تھی اور  اللہ تعالیٰ  کی پرستش کا حکم دیا تھا۔ مگر لوگوں نے انبیاء کرام کے پیغام کو ترک کردیا اور ان کے دامن رحمت کو چھوڑ دیا اور شرک کے گڑھے میں گر گئے اور اپنی عاقبت تباہ کرڈالی لیکن حضرت محمد مصطفی رسول اللہ ﷺ  کی امت شرک میں مبتلا نہیں ہوسکتی کیونکہ حضور پر نور نے ار اللہ تعالیٰ  فرمایا
مَااَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ وَلِکنْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُنَافِسُوْا فِیْھَا
ترجمہ٭ یعنی میں تم پر شرک کا تو خوف نہیں کرتا مجھے اندیشہ یہ ہے کہ تم دنیا سے رغبت کرنے لگو گے۔( بخاری ج ۱ صفحہ ۱۷۹ مشکواۃ شریف صفحہ۵۴۷)
٭ حضورﷺ کا یہ فرمان حق ہے اور آج ہمارے دل میں دنیا کی رغبت پیدا ہوگئی ہے اس سے فتنے اور فسادات برپا ہورہے ہیں اور مصائب و آلام نازل ہورہے ہیں۔ حضور اقدس کے اس فرمان کی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ  کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں آسکتا۔ بخلاف سابقہ امتوں کے کہ وہ جب شرک میں مبتلا ہوتیں تو  اللہ تعالیٰ کسی نبی یا رسول کو مبعوث فرمادیتاجو اس شرک کی بیخ کنی کرکے توحید کے جلووں کو چمکا دیتا اور لوگوں کوصراط مستقیم پر گامزن کردیتا ہمارے پیارے محبوب کی تشریف آوری سے قبل یہ سلسلہ چلتا رہا جب آپﷺ  کی باری آئی تواللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو خاتم النبین بنایایعنی آخری پیغمبر بناکر بھیجا
(قولہ تعالیٰ ! مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلِکنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔الاحزاب ۳۳ نمبر۴۰)اور آپﷺ  کے بعد نبوت کا دروازہ بند کردیا۔ جب آپﷺ  کے بعد نبوت ختم ہوگئی اگر آپﷺ کی امت میں شرک اب پیدا ہوتو کون ہے جو اس شرک کا ازالہ کرسکے۔
٭ نبی اکرم نور مجسم کے غلاموں ایمانداروں میں شرک کا نہ ہونا حضورﷺ کی خاتم النبین ہونے کی دلیل ہے۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو محبوب خدا کے غلاموں پر شرک کے فتوے بھی لگاتے ہیں اور حضورﷺ کوخاتم النبین بھی مانتے ہیں۔ حضورﷺ کوخاتم النبین ماننے کیساتھ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ غلامان رسول اللہ ﷺ  شرک میں مبتلا نہیں ہوسکتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ زبان نبوت سے ظاہر ہونے والے کلمات حق ہیں۔ حق ہیں حق ہیں۔ اس پر ایک حدیث شریف پیش کرتا ہوں۔
٭ ابو دائود(عربی صفحہ۵۱۴) اورمسند احمد بن حنبل میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ صحابی رسول فرماتے ہیں
کُنْتُ اَکْتُبُ کُلَّ شَْیْ ئٍ اَسْمَعُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ
ترجمہ٭ کہ میں ہر چیز جو رسول اللہ سے سنتا تھا لکھ لیتا تھا۔
فَنَھَتْنِیْ قُرَیْشٌ وَقَالُوْ ا اَتَکْتُبُ کُلَّ شَیْ ئٍ تَسْمَعُہٗ وَ رَسُوْلُ اللّٰہ ا بَشَرٌ یَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرَضَا فَاَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَایَۃِ
٭ تو قریش نے مجھے منع کردیا اور کہنے لگے کہ توہر وہ چیز جو رسول اللہ سے سنتا ہے لکھ لیتا ہے اور رسول اللہ تو بشر ہیں کبھی غصے میں اور کبھی خوشی میں بات کرتے ہیں تو میں حضورﷺ  کی احادیث لکھنے سے رک گیا۔
فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ اِلٰی رسول اللہ ﷺ  فَاَوْمَأَ بِاَصْبَعِہٖ اِلٰی فِیْہٖ فَقَالَ اُکْتُبْ فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَایَخْرُجُ مِنْہُ اِلَّاحَقٌ
٭ میں نے اس کا تذکرہ حضورﷺ  سے کیا تو آپﷺ نے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا اور حکم دیا کہ (میری ہر بات) لکھو پس قسم مجھے اس ذات پاک کی جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے نہیں ظاہر ہوتا اس سے مگر حق۔
٭ حضورپر نور کا کیاکہنا کہ خالق کائنات جن کے تکلم کی قسمیں اٹھائے اور فرمائے
وَقِیْلِہٖ( الزخرف آیت ۸۸) اور ہمیں قسم ہے رسول کے اس بولنے کی ۔ نیز ار اللہ تعالیٰ  الہی ہے کہ
وَمَا یَنْطِقُ عَنَ الْھٰویٰ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحخیٌ یُّوْحیٰ (النجم آیت ۳۔۴)
ترجمہ٭ اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے نہیں ہوتا ان کا فرمانا مگر وحی جو(ان کیطرف) کیجاتی ہے۔
٭ آقا تو آقا آقا کے غلاموں کا یہ مقام ہے کہ خود سرکار دوعالم نے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں ار اللہ تعالیٰ  فرمایا۔
اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَ الْحَقَّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) وَضَعَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ
ترجمہ٭ بیشک  اللہ تعالیٰ  نے حق کو حضرت عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے ۔(ترمذی ج ۲ صفحہ ۲۰۹)
٭ یعنی عمر کی زبان پر حق بولتا ہے۔سرکار دو عالم کے غلاموں کا یہ مقام ہے انکے آقا کا کیا عالم ہوگا۔ حضورﷺ  نے قسم اٹھا کر فرمایا ہے۔
وَاِنِّی وَاللّٰہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ مِنْ بَعْدِیْ اَنْ تُشْرِکُوْا(بخاری ج۱ ص ۵۰۸ و ج ۲ ص ۵۸۵ مسلم ج ۲ ص۲۵۰)
ترجمہ٭ مجھے  اللہ تعالیٰ  کی قسم ہے میری امت میرے بعد شرک میں مبتلا نہیں ہوگی۔
٭ سرکار دو عالم نے قسم کیوں اٹھائی اور اس قسم کا کیا مطلب ہے قسم اٹھانے کا یہ مقصد ہوتا ہے کہ جب کوئی کسی امر واقع کا انکار کرے تو اسکے انکار کے ازالہ کیلئے قسم اٹھائی جاتی ہے یعنی قسم منکر کے مقابلہ میں ہوتی ہے اور سرکار کے سامنے دو قسم کے منکر تھے ایک مشرکین اور دوسرے منافقین کیونکہ مومنین کو تو آپﷺ  کی کسی بات میں شک نہیں ہے۔ حضورﷺ  کے فرمان میں شک کرنیوالا یا کافر ہوگا یا منافق ۔ ان دو میں سے کافرتو کھلے منکر تھے۔ اب شک کا محل صرف منافق ہی رہے۔ چنانچہ آپﷺ نے ان کا شک دور کرنے کیلئے قسم اٹھائی اور فرمایا میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اپنی امت پر شرک کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ آپﷺ کی اس قسم کے بعد بھی اگر کوئی غلامان رسول کریم کو مشرک کہے تو یقین جانیئے ایسا کہنے والا زبان رسالت پر جاری ہونے والے کلمات کو بھی تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی آپﷺ کی قسم پر ایمان رکھتا ہے۔
٭ ہمارا ایمان ہے کہ  اللہ تعالیٰ  نے حضورﷺ کو وہ ھدی عطا فرمائی ہے کہ اس ھدی کے بعد رسول اللہ ﷺ  کی امت کے غلاموں میں شرک کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا اور آپﷺ  کی یہ ھدیٰ بالکل وہی ھدیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء کو عطا فرمائی تھی لیکن ان انبیاء کی امتوں نے اس کو شرک کے ساتھ مخلوط کردیا اور توحید پر برقرار نہ رہ سکے مگر ہمارے پیارے محبوب نے ھدیٰ کے ذریعہ سے جو توحید کا پرچم بلند فرمایا وہ قیامت تک برقرار رہے گا۔ اور تو حید پر برقرار رہے گی اور اس توحید کے جلوے چمکتے دمکتے رہیں گے اورآپﷺ  ایسے زمانے میں تشریف لائے جو
عَلٰی فَتْرَتٍ مِّنَ الرُّسُلِ کا زمانہ تھا انبیاء کرام علیہم السلام کا آنا منقطع ہوچکا تھا پانچ چھ سو برس سے کوئی نبی و رسول تشریف نہ لایا۔ لوگوں نے انبیاء کی تعلیمات کو محرف کردیا تھا۔ یہودیوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کو  اللہ تعالیٰ  کا بیٹا کہہ دیا اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو  اللہ تعالیٰ  کا بیٹا بنادیا اور توحید کے دعوے کے باوجود تثلیث کے قائل ہوگئے اور برملا کہنا شروع کردیا ایک باپ (اب) ایک بیٹا(ابن) اور ایک روح القدس یہ ظلم عظیم دیکھ کر فطرت انسانی تڑپ اٹھی۔ انسانیت گریہ کناں ہوئی نجات کا راستہ نظروں سے پوشیدہ ہوچکا تھا۔ توحید کے جلوئوں کی چمک شرک کے پردوں کی اوٹ سے مستور کردی گئی۔ دعوت توحید کی آواز سننے کیلئے کان انتظار کررہے تھے۔ جنت کا راستہ دیکھنے کیلئے آنکھیں ترس رہی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت ازلیہ کے تقاضوں کو پورا فرمایا اور اپنے بندوں کو نوید مسرت سنائی اور فرمایا
ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدیٰ
ترجمہ٭ وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ھدیٰ کے ساتھ بھیجا۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج