تحسین یا تو ہین

٭ تحسین و توہین محاورہ پر موقوف ہے سچ جھوٹ پر نہیں ہر نبی کو انکی قوم بشر کہہ کر کافر ہوئی۔ یعنی اپنے جیسا سمجھا۔ ابلیس حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی کابناہوا کہہ کر کافر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے نماز روزہ کی اتنی تاکید نہیں فرمائی جتنی کہ حضور کی تعظیم کیلئے تاکید فرمائی۔ سب سے بڑا فرض حضور سید عالمکی تعظیم ہے ۔ باقی فرائض اسکی فرع ہیں۔
٭ حضرت ثابت بن قیس کا واقعہ مشہورہے ۔انکی آواز بہت بلند تھی ۔ آیت
(لاَتَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ) نازل ہوئی تو گھر میں بیٹھے روتے رہتے اور کہتے میں تو جہنمی ہوگیا میرے سارے اعمال اکارت گئے مگر حضور سید العالمین نے فرمایا
ھُوَمِنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ
ترجمہ٭ وہ اہل جنت میں سے ہے۔
٭ اور مومنوں کو حکم ہوا کہ درِ دولت پر حاضر ہوکر آواز نہ دیں بلکہ آپ ﷺ کے باہر آنے کے منتظر رہیں۔ حضور کے گستاخوں کی عقل خدا لے لیتا ہے کہ تو بہ کرکے سزا سے بچ نہ جائیں اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو چھوڑ دے تو مالک ہے مگر حضور کے گستاخوں کو چھوڑ دینا محبت کے خلاف ہے۔

وما علینا الاالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج