عبس وتولٰے کا صحیح مفہوم

٭ اس آیت مبارکہ کاصحیح مفہوم بعض لوگ نہ سمجھے اوران کو دھوکہ ہوا۔ شگنے فرمایا
عَبَسَ وَتَوَلّٰی اَنْ جآئَ ہُ اْلاَعْمٰی وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلّٰہٗ یَزَّکیّٰ(الاعمیٰ ۱ تا ۳)
ترجمہ٭ (محبوب) چیں بجیں ہوئے اور (انہوں نے) منہ پھیرا اس بات پر کہ ان کے پاس نابینا حاضر ہوا اور(چونکہ آپﷺ نے توجہ ہی نہیں فرمائی اسلئے) آپ کو کیا معلوم شاید وہ پاکیزگی حاصل کرے۔
٭ اصل قصہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سید عالم مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور حضور سید عالم کے پاس قریش مکہ کے بڑے بڑے سردار عتبہ ربیعہ ابوجہل حضرت عباس بن عبدالمطلب اور ان کے علاوہ بعض اور رئوساء بیٹھے تھے اور حضور سید عالم ان کو نہایت جانفشانی اور تندہی کے تبلیغ اسلام فرما رہے تھے۔ حضور سید عالمﷺ  کی شان میں رب تعالیٰ جل مجدہ نے فرمایا
لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُفٌ رَّحِیْمٌ (التوبہ۸تا۱)
ترجمہ٭ بے شک تمہارے پاس تم میں سے ایک عظمت والے رسول تشریف لائے ان پر سخت گراں ہے تمہارا مشقت میں پڑنا بہت چاہنے والے ہیں تمہاری بھلائی کو ایمان والوں پر نہایت مہربان بے حد رحم فرمانیوالے ہیں۔
٭ اس آیت مبارکہ میں حضور سید عالمﷺ  کا یہ وصف جمیل بیان ہوا کہ آپﷺ  تبلیغ و اشاعت دین میں بہت کوشش فرمانیوالے اور لوگوں کی بھلائی کے بہت خواہاں ہیں حضور سید عالمﷺ  کی انتہائی خواہش تھی کہ کسی طرح دین اسلام خوب پھیلے اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں۔ اسلام کی شوکت اور رونق بہت زیادہ ہو۔ حضور سید عالمﷺ  چاہتے تھے کہ اگر یہ سرداران قریش مسلمان ہوجائیں تو ساراشہر مکہ مسلمان ہوجائے گا۔ اسی اثناء میں ایک نابینا شخص عبداللہ بن ام مکتوم مجلس شریف میں حاضر ہوئے۔ اپنی معذوری کے سبب وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے کہ اس وقت آداب مجلس کا کیا تقاضا ہے اور آتے ہی بار بار کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ مجھے قرآن مجید کی تعلیم دیجئے قرآن مجید کی فلاں فلاں سورۃ سکھائیے اور میرے حال پر توجہ فرمائیے۔حضور سید عالمﷺ  کو عبداللہ بن ام مکتوم کا اس طرح تبلیغ دین میں مخل ہونا ناگوار گزرا اور اس ناگواری کے آثار چہرہ مبارک پر ظاہر ہوئے اس وقت یہ آیت قرآنی نازل ہوئی۔
٭ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کے دل کی وہ کیفیت جسے وہ لیکر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تھے وہ بھی حضور سید عالمﷺ  کے حسن کے جلوے تھے۔حضور سید عالمﷺ  ہادی بن کر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَاِنَّک لَتَھْدِیْ اِلیٰ صِرَاطِ مُّسْتَقِیْم(الشوری ۲۵)
ترجمہ٭ اور اے حبیب بیشک آپ ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرماتے ہیں۔
٭ ہدایت حضور سید عالمﷺ  کا حسن وجمال ہے حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم اپنے دل میں جونور ہدایت لیکر آئے تھے وہ بھی حسن مصطفی کا جلوہ تھا۔ اسی طرح
(لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی) میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کے بارے میں جس تذکیہ اور پاکی کا ذکر ہے وہ بھی تو حسن مصطفی کی تجلی تھی اور وہ بھی حضورﷺ  کے حسن کاجلوہ تھا اسلیے کہ تذکیہ فرمانیوالے اور پاک کرنے والے بھی تو حضور سید عالمﷺ  ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ(اٰل عمران ۱۶۴)
٭ مختصر یہ کہ اس سلسلے میں جس قدرمحاسن و مکارم حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم اپنے قلب مبارک میں لیکر حاضر بارگاہ اقدس ہوئے تھے وہ سب حسن رسالت اور جمال محمدی کے جلوے تھے حضور سید عالمﷺ  چونکہ تبلیغ دین میں مصروف تھے اور حضور سید عالمﷺ  کی خواہش تھی کہ اسلام کی خوب اشاعت ہو اور تبلیغ دین تو آپ کا خاص منصب تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
یَا اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ (المائدہ ۶۷)
ترجمہ٭ اے رسول پہنچادیجئے جو اتارا گیا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے۔
٭ اسلیے عبداللہ ابن ام مکتوم کاا س وقت مخل ہونا طبیعت مبارک پر گراں گزرا اور یہ امربھی فرض منصبی کی ادائیگی میں ان کی طرف سے خلل انداز ہونے کے سبب تھا۔
٭ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اشاعت اسلام میں کوشش کوئی ایسا کام نہیں تھا جسکو نعوذ باللہ برا کیا جائے اور اس پر عتاب ہو۔ احکام الہی کی تبلیغ تو منصب رسالت ہے لہذا اس پر عتاب ناممکن ہے۔ بات یہ تھی کہ حضور سید عالمﷺ  اپنے رب تعالیٰ کا حکم بجالانے میں اس درجہ مصروف اور مشغول تھے کہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کے دل میں جو انوار ہدایت اور جذبات تزکیہ کی شکل میں جو جلوہ ہائے حسن مصطفائی چمک رہے تھے انکی طرف بھی توجہ نہ فرمائی اور اس امر کو ملحوظ بھی نہ فرمایا کہ میرے حسن کے جلوے مجھ ہی سے ملنے کیلیے بے تاب ہیں۔ اس وقت سرکار دوعالمﷺ  کا مطمع نظراگر کچھ تھا تو صرف یہی کہ رب کریم کے فرمان تبلیغ کی بجا آوری علی الوجہ الاتم ہوجائے۔ اسی خیال میں حضور سید عالمﷺ  نے تمام امور مذکورہ سے بے توجہی فرماتے ہوئے حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کی گفتگو کو جا واقعی آداب مجلس کے خلا ف تھی۔ اپنے رب کریم کے حکم بجا لانے میں مخل سمجھا اور آپ چیں بجیں ہوئے اور آپ نے(اپنے جلوہ ہائے حسن اقدس) سے رخ پھیر لیا۔ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم بیٹھے بیٹھے چلے گئے۔ اس پر
عَبَسَ وَتَوَلّٰی نازل ہوئی۔
٭ ان کے جانے کے بعد جب حضور سید عالمﷺ  سرداران قریش کو تبلیغ دین فرماچکے تو بنف نفیس عبداللہ ابن ام مکتوم کے گھر تشریف لے گئے ان کی دل داری اور دل جوئی فرمائی ان کیلیے اپنی چادر مبارک بچھا دی پھر جب کبھی مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو حضور سید عالمﷺ  انکا بہت اکرام فرماتے اور ارشاد فرماتے
مَرْحَبًا بِمَنْ عَاتَبَنِیْ فِیْہِ رَبِّیْ(روح المعانی پارہ ۳۰)
٭ اس تفصیل کے ساتھ شان نزول سنکر معمولی عقل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب اس تمام واقعہ میں کوئی کام حکم خداوندی کے خلاف نہیں ہوا تو عتاب کس بات پر۔ لیکن ظاہراً عتاب ضرور ہے اسکی وجہ اسکے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ مولائے کریم نے جب اپنے حبیب کو اپنے حکم کی تعمیل اور اپنے فرمان کی بجا آوری میں اس بلندہمتی اور اولواالعزمی کے ساتھ مشغول پایا کہ میرا حبیب میرا حکم بجالانے میں اور میراکام کرنے میں اس قدر جانفشانی کے ساتھ مشغول ہے کہ اس نے اپنے جلوہ حسن کو بھی نظر انداز کردیا تو محبت بھرا خطاب بصورت عتاب نازل فرمایا کہ سید عالمﷺ  میرے حکم کی بجا آوری میں مصروفیت کی وجہ سے نابینا کے آنے سے چیں بجیں ہوگئے۔ نابینا کا آنا اور بولنا آپ کو گراں گزرا آپ نے اس طرف تو توجہ فرمائی کہ وہ نابینا تبلیغ دین میں مخل ہوا لیکن اس پہلو پر توجہ نہ فرمائی کہ اس کے دل میں جذبات تذکیہ اور انوار ہدایت کی شکل میں آپ ہی کے حسن کے جلوے چمک رہے ہیں۔ آپ نے ان سے رخ پھیر لیا۔
٭ اے میرے پیارے حبیب آپ میرا کام چھوڑ دیتے اور اپنے جلوہائے حسن کو اپنی توجہ سے محروم نہ فرماتے۔ غور کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اگرچہ یہ بظاہر تو عتاب تھا لیکن حقیقت میں محبت کا خطاب تھا۔
٭ اس مسئلے کو ذہن نشین کرانے کے لیے بلا تشبیہ و تمثیل عرض کرتا ہوں فرض کیجئے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ انتہائی محبت ہے اور اسکی بیوی اپنے خاوند کی فرمابردار اور اطاعت شعار ہے وہ علیل کمزور اور بخار میں مبتلا ہے سخت گرمی ہے خاوند محبت مزدوری کرکے آنیوالا ہے وفا شعار بیوی شدت گرمی میں کھانا پکانا شروع کردیتی ہے خاوند آتا ہے دیکھتا ہے کہ بیوی آگ جلا رہی ہے لکڑیاں جلنے میں نہیں آتی وہ اپنی دھن میں چولہے میں پھونکیں ماررہی ہے بخار کی وجہ سے جسم لرز رہا ہے خاوند اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر نہایت سخت لہجہ میں چلا کر کہتا ہے تویہ کیا کر رہی ہے تیرا بدن شدت بخار سے کانپ رہا ہے تو میرا حق خدمت بجالانے میں اس قدر مشغول ہے کہ تجھے اپنی صحت اور تندرسی کا بھی خیال نہیں یہ تمام گفتگو اگرچہ عتاب کا لہجہ رکھتی ہے مگر اہل عقل خوب جانتے ہیں کہ اس لہجہ عتاب میں محبت کا ایک سمندر موجزن ہے تو بلا تمثیل و تشبہہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب کو اس سورۃ میں عتاب کے لہجے میں ایسا محبت بھرا خطاب فرمایاجس کی لذت اور چاشنی اہل محبت ہی جانتے ہیں۔
٭ اس زمانہ میں بعض بدباطن لوگ
عَبَسَ وَتَوَلّٰی کو جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں اور صبح و شام اور شب و روز اسی کام میں مشغول ہیں کہ عَبَسَ وَتَوَلّٰی سے معاذ اللہ حضور سید عالمﷺ  کا معتوب ہوناثابت کریں جس سے آپ کی شان اقدس میں تو بین و تنقیص ہو۔ وہ نہیں سمجھتے کہ حضور سید عالمﷺ  کی شان اقدس میں توہین و تنقیص کی نیت سے قرآن مجید کی آیات کا پڑھنا بھی کفر خالص ہے۔
٭ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کسی مسجدکاامام تھا وہ اس بات پر قتل کیاگیا کہ وہ ہر نماز میں
عَبَسَ وَتَوَلّٰی پڑھتا تھا اور اس امام کی نیت آپﷺ  سے بغض اور عداوت کی تھی اسکی بدعقیدگی کی بنا پر اسے قتل کردیاگیا۔ کاش!آج وہی عہد فاروقی ہوتا تو ان بد باطن لوگوں کا بھی وہی حشر ہوتا۔

وما علینا الاالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج