توحید ورسالت

٭ حضرات محترم! ہم سب مسلمان ہیں۔ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَا شْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ
٭ کلمہ طیبہ و کلمہ شہادت دین کی بنیاد ہیں اس میں دو بنیادی چیزیں ہیں۔
٭ ایک تو حید اور ایک رسالت۔ توحید میں پھر دو چیزیں ہیں۔ ایک رد شرک اور اثبات توحید۔
٭
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ میں لا میں نفی ہے اورالا میں اثبات پہلے نفی پھر اثبات۔ نفی کا معنی نہ ہونا اور اثبات کا معنی ہے ہونا ۔کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ لاالہ کوئی معبود نہیں کوئی مقصود نہیں اور کوئی موجود نہیں۔ الااللہ مگر معبود ہے تو اللہ تعالیٰ مقصود ہے تو  اللہ تعالیٰ  اور موجود ہے تو  اللہ تعالیٰ تو لا میں ماسوائے  اللہ تعالیٰ  یعنی سب کی نفی اور الا میں  اللہ تعالیٰ  کا اثبات ۔ تو جب تک کہ غیر کی نفی نہ ہو معبود حقیقی کا اثبات نہیں ہوتا۔ یعنی جب تک باطل کی نفی نہ ہو حق کا اثبات نہیں ہوتا جب تک ضلالت کی نفی نہ ہو ہدایت کا ظہور نہیں ہوتا جب تک رات کی تاریکی دور نہ ہو دن کا ظہور نہیں ہوتا جب تک شرک کی نفی نہ ہو توحید کا اثبات نہیں ہوتا ۔اسلئے کہ  اللہ تعالیٰ  کے سوا کسی کو مقصود جاننا کسی کو وجود حقیقی کیساتھ موجود اور کسی کو معبود جاننا شرک ہے ۔ لہذا ہم نے کوئی شرک کا ہار نہیں پہنا ہم تو توحید کے پرستار ہیں ہمارا عقیدہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ  کے سوا وجود حقیقی کیساتھ کائنات میں کسی کا وجود ہی نہیں ہے اور جب کوئی موجود ہی نہیں ہے تو پھر شرک کا ہے کا؟ اثبات توحید کہ جس کا تعلق ہمارے حواس سے نہیں ہے ہمارے حواس کی اس لا تک رسائی نہیں ہے اور نہ ہی ہم اسکا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
لاَتُدْرِکُہْ الَا بْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الاَبْصَارَ وَھُوَا للَٰطِیْفُ الْخَبِیْرُ
ترجمہ٭ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ احاطہ کئے ہوئے ہے سب نگاہوں کا اور وہی ہے ہر چیز کی باریکیوں کا اور مشکلات کو جاننے والا ظاہر اور باطن سے خبردار۔( الانعام ایت ۱۰۳)
٭ (یعنی)شرک کی نفی اور توحید کا اثبات ہمارے حواس سے بالاتر ہے۔ اب یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہاں حواس اور عقل کی رسائی نہیں تو پھر توحید کا اثبات کیسے ہوگا؟ اور پھر خدا کو مانے گا کون؟ اور اثبات توحید کا ذریعہ کیا ہوگا؟
محمد رسول اللہ کیا مطلب؟ تمہاری تو مجھ تک رسائی نہیں لیکن تم نے میرے محبوب کو تو دیکھا ہے اس لئے میں نے اپنے محبوب کو دعویٰ توحید بنایا ہے میرے محبوب کو دیکھو اور مجھے مانو کیسے؟

میرے محبوب کے علم کو دیکھ کر میرے علم پر
انکی قدرت کو دیکھ کر میری قدرت پر
انکی سماع کو دیکھ کر میری سماع پر
انکی صفت بصر کو دیکھ کر میری صفت بصر پر
انکے جود کو دیکھ میرے جود پر
انکے حلم کو دیکھ کر میرے حلم پر
انکی صفات کو دیکھ کر میری صفات پر
انکی ذات کو دیکھ کر میری ذات پر

٭ ایمان لائو ۔ کوئی لاکھ کہتا پھرے کہ حضورﷺ  کا علم غیب ماننا شرک ہے۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کو علم غیب نہ ہو تو خدا کے علم غیب پر دلیل کہاں سے آئے گی۔ لوگ تو کہتے ہیں کہ سرکارﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں یعنی دیوار کے پیچھے کچھ نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔ اگر رسول نہیں دیکھ سکتے تو خدا کی صفت بصر پر دلیل کہاں سے آئے گی؟
٭ اگر رسول دور سے نہیں سنتے تو خدا کے سننے پر دلیل کہاں سے آئیگی میں خدا کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ رسول کا علم غیب خدا کے علم عیب کی دلیل ہے۔ خدا کا علم ہمارے ادراک سے بالا تر ہے۔ خدا وند تعالیٰ نے اپنے علم کی تجلی اپنے رسول مکرم ﷺ کو عطا فرمائی اور رسول معظم ﷺ کے اسی عطا کردہ علم کو اپنے علم کی دلیل بنایا کہ جس رسول محترم ﷺ کا علم ایسا ہے تو اس رسول ﷺ کے خدا کا علم کیسا ہوگا؟
٭ حضرات محترم!  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
فَلایُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (الجن)
ترجمہ٭ تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
٭ یعنی میں تو اپنے رسولوں پر اپنے غیب کا اظہار فرماتا ہوں تاکہ ان کا علم میرے علم پر انکا غیب میرے غیب پر انکی سماع میری سماع پر دلیل ہوجائے۔
٭ حضرات محترم! عرب میں دو مشہور قبیلے بنو بکر اور بنو خزاعہ جنکی ہمیشہ آپس میں چپقلش رہتی تھی ان میں سے ایک قبیلہ بنو بکر نے قبیلہ قریش کے ساتھ معاہدہ کرلیا کہ اگر ان پر باہر سے کوئی حملہ ہو تو وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔
٭ ادھر بنو خزاعہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ کرلیا کہ قریش بنو بکر ہم پر چڑھائی کریں تو ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے چنانچہ معاہدہ ہوگیا۔ اب کیا ہوا؟ رات کا وقت تھا حضرت ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ تہجد کا وضو کروارہی ہیں اور سید عالمﷺ لبیک لبیک فرمارہے ہیں۔ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اس وقت کوئی آواز نہیں آرہی ہے آپﷺ کس کو لبیک فرمارہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا! بنوبکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کردیا ہے اور بنو خزاعہ والے مجھ سے مدد مانگ رہے ہیں اور میں انکو جواب دے رہا ہوں کہ میں تمہاری مدد کو حاضر ہوں۔اسلئے ام المومنین حضرت میمونہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں یا رسول اللہ ﷺ
ترجمہ٭ یارسول اللہ! آپﷺ وہ سنتے ہیں جو ہم نہیں سنتے اور آپﷺ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
٭ اگر میرے آقاﷺ  میں یہ سماع اور بصر نہ ہوتی تو  اللہ تعالیٰ  کی صفت سماع اور بصر کی دلیل کہاں سے لاتے اسیطرح غزوہ موتہ کا واقعہ دیکھ لیجئے۔(اخراج ابن اسحاق میں ہے حضرت عروہ بن زبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے موتہ کی طرف ایک لشکر جمادی الاول ۸ھ میں روانہ فرمایا۔ صلح حدیبیہ کے بعد حضور سرور عالم ﷺ نے سلاطین و امراء کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجے تو تبلیغی خط حضرت بن عمیرازدی کے ہاتھ حاکم بصریٰ کے پاس بھیجا یہ شخص ایک عرب خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور عیسائی رومیوں کی طرف سے بصریٰ پر حکومت کررہا تھا حضرت حارث رضی اللہ عنہ موتہ کے مقام پر پہنچے تو بلقا کے رئیس شرجیل بن عمر غانی سے انہیں شہید کرڈالا۔ سفیر کا قتل ایک قبیح اور غیر انسانی جرم تھا حضور سید عالم ﷺ نے اسکا انتقام لینے کیلئے تین ہزارکا لشکر حضرت زید بن حارثہ کی قیادت میں روانہ فرمایا ہرقل شاہ روم کی مدد سے عیسائی عرب ایک لاکھ جنگجو مسلمانوں کے مقابلے میں آگئے اور موتہ کے مقام پر حق و باطل کے درمیان گھمسان کا رن پڑابے شمار عیسائی کام آئے اور صرف بارہ مسلمان شہید ہوئے اور یہ جنگ بغیر شکست وفتح کے ختم ہوئی۔)کہ حاکم شرجیل نے سرکشی کی اور حضور سید عالمﷺ کے نامہ مبارک کی توہین کی چنانچہ حضورﷺ  نے غلام زادہ زید بن حارثہ کو لشکر کا سردار بناکر فرمایا اگر زید بن ہارثہ شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ کو امیر بنالینا اگر وہ بھی شہید ہوجائیں تو جعفر بن ابی طالب برادر حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہ الکریم کو امیر بنالینا اگر وہ بھی شہید ہوجائیں تو پھر مسلمان جسکو چاہیں اپنا امیر بنالیں ایک یہودی کھڑا یہ باتیں سن رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اگر یہ محمدﷺ  اللہ تعالیٰ  کے سچے رسول ہیں تو جن جن کے لئے لفظ شہید انکی زبان سے نکلا ہے وہ ضرور شہید ہوگا۔
٭ چنانچہ یہ لشکر حضرت زید بن حارث کی سرکردگی میں جسمیں سرداران قریش تھے وہ ایک غلام کی قیادت میں امارت کا جھنڈا لہراتے ہوئے شہر موتہ کی طرف جارہے ہیں۔ لشکر وہاں پہنچا اور جہاد شروع ہوا اور ادھر میرے آقاﷺ  مسجد نبوی میں صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما ہیں(آنکھوں سے آنسوجاری ہیں) اور جنگ کا منظر پیش فرمارہے ہیں کہ
٭ اے میرے صحابہ سنو! زید بن حارثہ میدان جنگ میں آگیا اور اس نے داد شجاعت دی اب وہ کافروں کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔ عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا وہ جھنڈا لہراتے ہوئے میدان جہاد میں جہاد و قتال کررہے ہیں اب وہ بھی شہید ہوگئے ہیں اور امارت کا جھنڈا جعفر بن ابی طالب نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور امارت کا جھنڈا لہراتے ہوئے میدان جہاد میں آئے ہیں جہاد و قتال ہورہا ہے آپﷺ نے فرمایا اب دشمنوں نے انکا داہنا ہاتھ کاٹ دیا ہے جھنڈا بائیں ہاتھ میں ہے دشمنوں نے بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا ہے اب جھنڈا پنے منہ سے اپنی گردن کے درمیان دبا لیا ہے لو اب دشمنوں نے جعفر بن ابی طالب کی گردن کو بھی کاٹ دیا جعفر بن ابی طالب شہید ہوگئے جعفر کے دونوں بازو کٹ گئے  اللہ تعالیٰ نے جعفر کو جنت میں دوپر عطا فرمائے
٭ جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔
٭ جعفر کے گھر والوں کو شہادت کی خبر بھی سنا دو اور انکو کھانا بھی بھجوا دو کیونکہ وہ غم کی وجہ سے کھانا نہیں پکا سکتے۔
٭ حضورﷺ  نے حضرت فاطمۃ الزہرارضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جعفر کے بچوں کیلئے کھانا تیار کرو کیونکہ آج اسماء رنج و غم میں مصروف ہے۔
٭ حضرات محترم! آپﷺ مدینہ میں مسجد نبوی میں ہیں اور جن جن کا نام آپﷺ نے لیا وہ موتہ میں ایک ایک ہوکر شہید ہوا اور آپﷺ نے ہر ایک کی شہادت کا واقعہ بیان فرمایا۔
٭ اے نگاہ نبوت ﷺ! آپﷺ پر کروڑوں سلام اگر آپﷺ دور کی چیزیں نہ دیکھتے تو ہمارے پاس خدا کی صفت بصر کی دلیل کہاں سے آتی؟ اسلئے میرے آقاﷺ کے کمالات کمالات الوہیت کی دلیل ہیں۔ حضورﷺ کے افعال خدا کے افعال پر آپﷺ کے صفات خدا کی صفات پر حتی کہ آپﷺ کی ذات خدا کی ذات پر دلیل ہے اور حضور سید عالمﷺ کی ذات بے دلیل ہے کیونکہ آپﷺ خدا کی دلیل ہیں لہذا دلیل کی دلیل کہاں سے آئے؟ اسلئے کہ وہ اپنی بھی دلیل ہیں اور خدا کی بھی دلیل ہیں۔ آپﷺ دو طرفہ دلیل ہیں تو جو دو طرفہ دلیل ہو اسمیں عیب کہاں سے آئے گا؟ اسلئے انکے افعال انکی صفات انکے اعمال انکی ہر ادا ہر سکون ہر حرکت انکی ذات ہر عیب سے پاک ہے ۔ وہ محمد ہیں وہ محمد ہیں وہ محمد ہیں اور جن کیلئے کہا گیا ہے

؎خلقت مبرا ئً من کل عیب
کانک قد خلقت کماتشاء

٭ گویا میرے آقاﷺ  حسب منشا ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے ہیں آپﷺ معصوم ہیں اس لئے آپﷺ خدا کی پہلی بھی دلیل ہیں اور آخری بھی۔ حضورﷺ کا علم خدا کے علم کی آپ ﷺ کی قدرت خدا کی قدرت پر اور آپﷺ کی حیات خدا کی حی و قیوم پر دلیل ہے اور میں آپ سے کیا کہوں؟ حضورﷺ  کیسی حیات کے ساتھ زندہ ہیں؟
٭ حضرات مکرم!
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ میں محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور وہ یقیناً  اللہ تعالیٰ  کے رسول ہیں اور پھر وہ کس کس کے رسول ہیں؟ وہ ساری کائنات میں ہر ہر ذرے کے رسول ہیں یعنی وہ ارض و سما کے تحت و فوق کے چرند و پرند کے جمادات و نباتات کے جواہر و عناصر کے اعراض و موالید کے حتی کہ اٹھارہ ہزار عالم کے ہر ہر ذرے کے رسول ہیں اور رسول کا معنی ہے پیغام پہنچانا اگر آپﷺ  ہر ہر ذرے کے رسول ہیں تو خدا کا جوپیغام ہر ذرے کیلئے ہے وہ ہر ذرے کو پہنچا رہے ہیں اور یہ سیدھی سی بات ہے یا تو کوئی انکی رسالت کو محدود کرے وہ کوئی کرنہیں سکتا کیوں؟اسلئے کہ قرآن خود کہتا ہے
وَمَا اَرْسَلْنٰک اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن
ترجمہ٭ اور نہیں بھیجا ہم نے مگر رحمت تمام جہانوں کیلئے۔
٭ یعنی! میرے آقاﷺ  تمام عالموں کیلئے رحمت ہیں اور رحمت کس وجہ سے ہیں یہ وہ رسالت کی بنا پر رحمت ہیں اگر انکی رسالت کائنات کے ہر ذرے کیلئے نہ ہو تو خدا کی قسم! وہ تمام عالموں کیلئے رحمت کبھی بھی نہیں ہوسکتے۔ وہ عالم کے ہر ذرے کیلئے رسول ہیں میں نہیں کہتا خود زبان رسالت سے سنئے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَہٍ(مسلم شریف ص ۹۰)
ترجمہ٭ میں پوری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
٭ یعنی فرمایا میں فقط کسی انس و جن یا فرشتوں کیطرف رسول نہیں بلکہ میں تو ساری مخلوق کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اگر کوئی کہے کہ حضورﷺ  فلاں کیطرف رسول نہیں ہیں تو ماننا پڑے گا کہ جسکی طرف حضورﷺ  رسول نہیں وہ مخلوق نہیں اور ماسوا  اللہ تعالیٰ  سب مخلوق ہے آپﷺ  زمین کی تہہ میں سوراخوں میں رہنی والی چیونٹی کے بھی رسول ہیں اور سدرہ پہ رہنے والے جبرائیل کے بھی رسول ہیں۔
٭ حضرات مکرم! ایک دفعہ ایک اعرابی اپنے ہمراہ ایک گوہ لایا اورعرض کیا کیا یہ گوہ آپ کا کلمہ پڑھ سکتی ہے ؟ تو حضورﷺ  نے گوہ کو مخاطب کرکے فرمایا! اے گوہ! بتا میں کون ہوں؟ حدیث پاک میں آیا۔
٭ اس گوہ نے عرض کیا۔میرے آقاﷺ  میں گواہی دیتی ہوں کہ  اللہ تعالیٰ  کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ آپﷺ   اللہ تعالیٰ  کے سچے رسول ہیں۔
٭ گوہ نے آپﷺ  کو  اللہ تعالیٰ  کا رسول مانا گوہ آپﷺ  کو جانتی ہے اور کائنات کی ہر چیز آپﷺ  کو جانتی ہے اور آپ کو ماننا پڑے گا کہ کائنات کا ہر ذرا آپﷺ  کو مانتا اور جانتا ہے کہ آپﷺ  رسول خدا ہیں۔
٭ ایک مرتبہ حضور سید عالم ﷺ جنگل میں تشریف لے آئے اور ایک صحابی کو فرمایا کہ ان درختوں کو کہو کہ تم کہو محمد رسول اللہ بلاتے ہیں اور اس صحابی نے جاکر کہا وہ درخت جھومتے جھومتے حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اگر وہ درخت نہ جانتے ہوتے کہ محمدﷺ  اللہ تعالیٰ  کے رسول ہیں تو وہ کیسے آتے۔ معلوم ہوا معرفت ایک جوہر ہے ایک ادراک ہے کوئی کسی کو پہچانے یا نہ پہچانے مگر وہ  اللہ تعالیٰ  اور رسول کو پہچانتا ہے کیوں؟ اسلئے کہ وہ کائنات کے ذرے ذرے کے رسول ہیں۔
شبہ
٭ کائنات کا ہر ذرہ حضورﷺ کو جانتا ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ  کے رسول ہیں مگر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کو دیوار کے پیچھے کی خبر نہیں۔

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج