گیارہویں شریف کا ثبوت

٭ حضرات مکرم!الحمدللہ آج رات اس متبرک نورانی محفل کی حاضری کا شرف ملا۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں کہ جن سے خدا کی رحمت حاصل ہوتی ہے اور جن لوگوں کو ان روحانی مراکز سے کوئی تعلق نہیں وہ اخروی روحانی اور باطنی نعمتوں سے محروم ہیں اور تعلق والے ان تمام نعمتوں سے مستفیض ہیں اور بارگاہ غوثیت وہ مقام ہے کہ ان کے بغیر بارگاہ رسالت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا جب کسی کی بارگاہ رسالت تک رسائی نہیں ہوتی تو وہ بارگاہ ربوبیت میں کیسے جاسکتا ہے؟ یہ تمام اولیاء اللہ کی پشت پناہ ہیں اور تمام عزت و عظمت انہیں کی محرون منت ہے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو انکی بارگاہ سے متنفر ہیں۔
شبہ
٭ کسی نے کہا کہ گیارہویں شریف کیوں منائی جاتی ہے یہ رواج صحیح ہے یا غلط مستند حوالہ بیان کیاجائے۔
شبہ کا ازالہ
٭ اس کے متعلق میں اتنا عرض کرتا ہوں کہ گیارہویں کی خصوصیت کہ جس کیلئے ہم کتاب و سنت سے دلیل ثابت کریں اسکی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہم محض اپنا تعلق پیدا کرنے کیلئے ثواب کا ہدیہ پیش کرتے ہیں جسکو ہر مسلمان مانے گا اور کوئی دلیل طلب نہیں کرے گا۔
٭ البتہ ایصال وثواب کے ثبوت کیلئے مشکواۃ شریف سے روایت پیش کرتا ہوں کہ حضرت سعدؓ رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! میری والدہ فوت ہوگئی ہے میں انکی طرف کچھ ہدیہ پیش کرنا چاہتا ہوں تو آپﷺ نے فرمایا! اے سعد! ایک کنواں اپنی والدہ کے نام سے کھدوا لو تو اسکا ثواب تیری والدہ کو ملتا رہے گا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا اور اس کنویں کانام ام سعد ہوگیا معلوم ہوا کسی چیز کا غیر کے نام سے موسوم ہونا شرک نہیں بلکہ جائز ہے اور میں تو یہ کہوں گا کہ کسی بزرگ کے نام سے موسوم ہونا موجب اجر ہے۔ اب ذرہ سوچنے کا مقام ہے کہ جسکا اصل کتاب و سنت سے ثابت ہو وہ کیسے ناجائز ہوسکتا ہے باقی رہا خصوصیت کی دلیل تو اس کیلئے اتنا ضرور جان لینا چاہئے کہ یہ لوگ جو مدارس پڑھاتے ہیں اور تنخواہیں لیتے ہیں کیا صحابہ نے بھی تنخواہ لی تھی کیا صدیق اکبررضی اللہ عنہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے بھی تنخواہیں لی تھیں اور یہ جو نماز روزہ حج و زکواۃ وغیرہ کی نیت زبان سے کرتے ہو کیا صحابہ کرام مجتہدین عظام نے بھی اسیطرح زبان سے نیت کی تھی؟ ہرگز نہیں۔ لہذا تمہارا یہ کہنا کہ جو کام حضورﷺ نے نہیں کیا وہ بدعت ہے تو تم بھی بدعتی ہوئے اور گمراہ بھی کیونکہ ہر شخص نماز کی نیت زبان سے کرتا ہے حالانکہ نیت کا معنی ہے
النیۃ قصدا لقلبیعنی فقط دل کا ارادہ نیت کیلئے کافی ہے۔
٭ لہذا تمہارا ہر ایک کام کو بدعت قرار دینا اور خاص طورپر وہ فعل جسکا ماخذ کتاب وسنت ہو کوناجائزکہنا ہے ناجائز ہے۔ اسیطرح مسجد کے مینار وغیرہ بنانا اور یہ نقش نگار کا بنانا کہاں ہے اسکا ثبوت کہیں نہیں مگر یہ جائز ہے اگر کوئی انگوٹھے چوم لے تو یہ بدعت کیونکہ یہ ضعیف حدیث سے ثابت ہے۔ گردن کا مسح کرنا جوہر متوفی اس پر عمل کرتا ہے یہ بھی ضعیف حدیث سے ثابت ہے اسکو بدعت نہیں کہیں گے! اور کوئی بھی ثابت نہیں کرسکتا کہ یہ حدیث مسح علی الرقبۃ مرفوع ہے۔ تعجب ہے اس پر تو عمل کرتے ہیں اور انگوٹھے چومنے کو بدعت و گمراہی قرار دیتے ہیں تو اب لامحالہ کہنا پڑے گا کہ جو کام ثواب کی نیت سے کیاجائے وہ جائز ہے(خواہ اسکے ثبوت کیلئے حدیث ہو یا نہ ) اب بتائو کیاگیارہویں شریف ثواب کی نیت سے کی جاتی ہے یا نہیں اور جب یہ ثواب کی نیت سے کی جاتی ہے اور پھر اسکی اصل حدیث میں بھی موجود ہے تو پھر یہ کیسے ناجائز ہوگی؟
٭ شیخ محقق الشاہ عبدالحق محدث دہلوی ؓ جو حضورﷺ کے حکم سے ہندوستان میں آئے اور سرکارﷺ کی حدیث کے فیض کو جاری فرمایا اور انکو غیر بھی مانتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ آقاﷺ کے دربانوں میں سے ہیں وہ اپنی کتاب ماثبت باسنہ ص ۱۷۶ مطبعہ نل کشور میں تحریر فرماتے ہیں
ترجمہ٭ ہمارے ملک میں ان دنوں ۱۱ ربیع الثانی ہی زیادہ مشہور ہے اور غوث الاعظم کی اولاد و مشائخ عظام ہندوپاک میں گیارہویں تاریخ کو عرس مناتے ہیں نیز اسیطرح پیرو مرشد سیدنا سید ی ابوالمحاسن سید شیخ موسی حسنی جیلانی ابن شیخ کامل عارف حق معظم ومکرم ابو الفتح شیخ حامد حسنی جیلانی ایک متفق علیہ ولی اللہ تھے جنکا لقب مخدوم ثانی اور عبدالقادر ثانی تھا انہوں نے اپنے آباء کرام کی زبانی آپ کے عرس کی تاریخ گیارہویں لکھی ہے۔(مومن کے ماہ و سال از شیخ عبدالحق محدث دہلوی ص ۱۶۷ ارھ)
٭ یعنی انکے طریقوں پر چلنا نجات ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہی راہ بتائی ہے کہ ہر نمازی ہر رکعت میں یہی دعا مانگتا ہے کہ
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ٭ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ
٭ اے اللہ تعالیٰ مجھے راہ مستقیم پر چلا۔ان لوگوں کی راہ جس پر تو نے انعام فرمایا۔
٭ اور راہ مستقیم کیا ہے وہ یہ ہے اور انعام یافتہ بندے کون ہیں وہ یہ ہیں کہ
اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاء ِوَالصَّالِحِیْنَ
ترجمہ٭ جس پر اللہ نے انعام فرمایا وہ انبیاء صدیقین شہداء اور صالحین ہیں۔
٭ معلوم ہوا نجات ان دروازوں سے ملتی ہے اور یہ پیران پیر جو بے شمار ولیوں کے پیر ہیں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں اور ان کا اورانکی اولاد کا فعل میرے لئے محبت ہے اگر انکی اولاد غلط ہے تو پھر سلسلہ ہی ختم ہوجائے گا۔
٭ حضرات محترم! بے شک دین کی جڑ اور بنیاد فقط توحید ہے اور توحید کا معنی ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک جاننا اور ماننا ہے اور جاننے کے بغیر ماننا محال ہے اور مانا حقیقت توحید ہے لیکن جاننے کا ذریعہ بھی جاننا چاہیے تم اللہ تعالیٰ کو بغیر دیکھے واحدہ لاشریک مانتے ہو کیا تم میں کوئی ایساہے جس نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہو ہرگز نہیں ارے جب موسی کلیم اللہ نے عرض کی
رَبِّ اَرِنِیْ تو ارشاد ہوالَنْ تَرَانِیْ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا۔
شبہ
٭ اب اگر کوئی کہے کہ موسی علیہ السلام کی دعا رد ہوگئی تو پھر یہ دعا
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اولیاء اللہ کے حق میں کیسے قبول ہوگی۔
شبہ کا ازالہ
٭ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا رد نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ مومنین کی دعائیں بھی رد نہیں فرماتا اور اگر کوئی کہے کہ ہماری بہت سی دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اسکی وجہ یہی ہے کہ ہماری دعائیں اس قابل نہیں ہوتیں کے قبول ہوجائیں تو پھر کیا موسی علیہ السلام کی دعا بھی اس قابل نہ تھی کہ قبول نہ ہوئی میں کہوں گا کہ موسی علیہ السلام کی دعا رد نہیں کی گئی بلکہ فرمایا اے کلیم میں تو اپنی تجلی فرمائوں گا مگر تو نہیں دیکھ سکے گا اگر تو دیکھنا ہی چاہتا ہے تو اس پہاڑ کی طرف دیکھ اگر یہ اپنے مکان پر برقرار رہا تو
فسوف ترانی عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا لیکن
فَلَمَّاَ تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّاوَّخَرَّ مُوْسیٰ صَعِقًا(الاعراف ۱۴۳)
ترجمہ٭ پھر ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسی علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
٭ یعنی جب تجلی ہوئی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسی علیہ السلام بے ہوش ہوگئے اگر دعا رد کی جاتی تو پہاڑ پر تجلی نہ فرمائی جاتی پہاڑ پر تجلی فرمانا یہ دلیل ہے کہ دعا قبول کی گئی اگر دعا رد ہوتی تو تجلی فرمانے کا کیامطلب؟
شبہ
٭ اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ موسی علیہ السلام میں اتنی قوت پیدا فرمادے کہ وہ دیکھ سکیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک ذات ہے اور اسکی بے شمار صفات ہیں اور تمام انبیاء اللہ کی صفات کا مظہر ہیں اور ہمارے آقاﷺ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مظہر ہیں اور
فعل الحکیم لایخلوعن الحکمۃ حکم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ قادر تھا کہ ہماری زبان کو دوسری جگہ رکھ دیتا۔ آنکھ کان ناک پائوں اور سرو غیرہ کو اپنی جگہ بدل دیتا لیکن حکمت کا تقاضایہ تھا کہ پائوں نیچے ہوں اور سر اوپر ناک منہ کے ساتھ ہو تاکہ جو کچھ کھایا جائے تو پہلے اس کی بو معلوم ہوجائے کہ بدبودار ہے یہ چیز کھانے کے قابل ہے اور یہ چیز کھانے کے قابل نہیں ہے لہذا اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے مگر اپنی حکمت کے تحت کرتا ہے مظہر صفات میں صفات دیکھنے کی قوت پیدا فرمائی اور مظہر ذات کے اندر ذات کے دیکھنے کی قوت رکھدی اس لئے میرے آقاﷺ نے جسمانی بیداری کے عالم میں آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا دیدار فرمایا۔
شبہ
٭ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام کومظہر ذات کیوں نہ بنایا تاکہ موسی علیہ السلام بھی مظہر ذات ہوکر ذات کو دیکھتے۔
شبہ کا ازالہ
٭ اس کا جواب بس اوپر دے چکا ہوں کہ جب ذات ایک ہے تو مظہر کیسے کثیر ہوسکتے ہیں لہذا مظہر ذات بھی ایک ہونا چاہیے اور صفات کثیر ہیں لہذا مظہر صفات بھی کثیر ہوناچاہیے۔ اب پتہ چلا دعا رد نہیں کی گئی بلکہ جو کہتے ہیں کہ دعا رد کی گی ہے وہ خود رد ہوئے۔
٭ حضرات مکرم! میں عرض کررہا تھا تم نے دیکھا نہیں تو مانا کیسے؟ اگر رسالت کی زبان کی تصدیق نہ ہوتی تو ہمیں توحید حاصل نہ ہوتی۔ توحید کی معرفت حاصل نہ ہوتی لہذا جب تک رسول کو نہ مانا جائے تو اللہ تعالیٰ کو نہیں مان سکتے جس نے بارگاہ رسالت سے اعتزال کیا اسکو بارگاہ الوہیت سے کوئی تعلق نہیں میرے آقاﷺ کی تشریف آوری سے قبل کوئی سورج کو پوجتا تھا تو کوئی چاند کو کہیں ستاروں کی پوجا تھی اور کہیں درختوں کی کہیں لات و عزیٰ مسجود تھے اور کہیں نباتات و جمادات مسجود تھے۔ الغرض کفر کی ظلمت چھائی ہوئی تھی لیکن آپﷺ کی تشریف آوری کے بعد تمام سعادت مندوں نے زبان رسالت سے توحید کی معرفت حاصل کی اور سینہ نبوت سے نور معرفت حاصل کیا اسلئے بغیر سرکار دوعالم ﷺ خداتعالیٰ تک رسائی ناممکن ہے اور معرفت توحید محال ہے جب تک زبان رسالت کو پاک معصوم اور بے عیب نہ سمجھا جائے اسوقت تک آقاﷺ پر اعتماد کیسے ہوگا۔ جب اعتماد نہ ہو تو دولت ایمان چلی جائی گی کیونکہ جنکی زبان پر کبھی کبھی غلطی کا امکان ہو تو انکا ہر قول کیسے قابل اعتماد ہوگا۔
شبہ
٭ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ رسالت کے کاموں میں تو غلطی نہیں کرتے البتہ دیگر کاموں میں غلطی کرجاتے ہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ تو میں عرض کروں گا کہ یہ بات کہ دیگر کاموں میں غلطی ہوسکتی ہے تو یہ بات بھی کس نے کہی اگر یہ بات بھی اسی ذات نے کہی ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بات بھی غلط ہو۔ لہذا جب تک معصوم بے عیب اور غلطی سے پاک نہ مانوگے تو ہر بات غلط تصور کی جائے گی اسلئے آپ ﷺ ہر غلطی اور خطا سے پاک ہیں اور آپﷺ کی زبان اقدس سے حق کے سوا کچھ نکلتا ہی نہیں ۔ ابو دائود شریف کتاب العلم ج دوئم ص ۲۵ مطبوعہ مجیدی کی پہلی حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ آقاﷺ کی ہر بات لکھ لیاکرتے تھے ۔ قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے روکا
وقالوا اور انہوں نے کہاانہ بشر یتکلم فی الغضب و الرضا وہ تو بشیر ہیں کبھی غصے میں بات کرتے ہیں اور کبھی راضی ہوکر ۔ میرے آقاﷺ کیا میں آپﷺ کی ہر بات لکھ لیا کروں تو سرکارﷺ نے فرمایااکتب یاعبداللہ اے عبداللہ! میری ہر بات لکھ لیا کرو۔ اس ذات پاک کی قسم جسکے قبضہ قدرت میں میں محمدﷺ کی جان ہے ۔مایخرج منہ الاحق اس دھن پاک سے حق کے سوا کچھ نکلتا ہی نہیں۔ اور دھن کی طرف اشارہ ہی فرمایا تو جس زبان مقدس سے حق ظاہر ہو وہ غلط کیسا ہوسکتا ہے۔
شبہ
٭ اگر کوئی کہے کہ انبیاء کی غلطیوں کا ذکر تو بہت جگہ آیا ہے جیسے
فَاَ زَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا (البقرہ ۳۶)
ترجمہ٭ تو شیطان نے انہیں اس درخت کے ذریعے سے پھسلایا۔
٭ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انبیاء غلطیوں سے پاک ہوں۔
شبہ کا ازالہ
٭ تو میں یہی کہوں گا کہ نبی کی ذات کی صورۃً زلت ہوتی ہے حقیقۃً نہیں۔
٭ جیسا کہ آدم علیہ السلام نے بھولے سے دانہ کھالیا تو یہ نسیان بھی صورۃً نسیان ہے ہمارے نسیان جیسا نہیں ہے کیونکہ ہمارا نسیان غفلت سے ہوتا ہے اور انبیاء کا نسیان حکمت سے ہوتا ہے بلکہ وہ بھولتے نہیں بھولائے جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
٭ یعنی میں بھولتا نہیں بلکہ بھلایاجاتا ہوں تاکہ تمہارے لئے سنت ہوجائے اسیطرح بخاری شریف ج اول ص ۶۹ کی حدیث پڑھ لی جائے کہ آقاﷺ نے چار رکعت کی بجائے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر لیا تو بعد از فراغت ذوالیدین کھڑے ہوکر عرض کرنے لگے یارسول اللہ !
اَنَسِیْتَ اَمْ قُصِرَتِ الصَّلوٰۃ کیا آپ بھول گئے ہو یا نماز قصر کی گئی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا لم انس ولم نقصر نہ میں بھولا ہوں اور نہ قصر کی گئی ہے اگر آپ کہیں ان میں ایک بات ضرور ہونی چاہیے تو میں کہوں گا کہ ابو دائود شریف کی حدیث کو سامنے رکھ لو کہ کیا آپ نے حق کہا یانہ کہا اگر حق کہا تو مطلب کیاہوگا؟ تو مطلب یہ ہوگا کہ ذوالیدین نے نسیت کی نسبت حضورﷺ کی طرف کی اسلئے آقاﷺ نے فرمایا کہ نہ قصر ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں بلکہ میں بھلایاجاتا ہوں۔
٭ حضرات محترم! اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کا زمین پر آنا بھی حکمت سے خالی نہیں کیونکہ اگرآپ جنت میں رہتے اور زمین پر نہ آتے تو تمام اولاد جنت میں ہوتی حالانکہ جنت تو مومنین کا گھر ہے کفار و مشرکین کے رہنے کی جگہ نہیں اس لئے ابوجہل ابو لہب فرعون اور انکے خوارین کو باہر پھینکنے کیلئے زمین پر تشریف لائے۔
٭ اسکی مثال ایسی ہے کہ جیسا کہ ایک مالدار امیر آدمی ایک خوبصورت محل میں رہتا ہو جسکے تکیے بستر ریشمی ہوں اور وہ خوشبوئوں سے معطر ہو تو اب ایمان سے کہنا وہ اگر رفاء حاجت کیلئے اپنے گھر سے باہر ٹٹی خانہ میں جائے اور دشمن کہے کہ میں نے اسکو مکان سے باہرنکال دیا تو یہ عجیب بات ہوگی وہ مالک مکان ہے وہ نجس باہر ڈالنے کیلئے گیا ہے تو اسی طرح آدم علیہ السلام ابو جہل ابو لہب اور فرعون جیسے خبیثوں کو باہر پھینکنے کیلئے زمین پر تشریف لائے کیونکہ یہ نجس ہیں اور جنت نجس و خبیث کیلئے نہیں بنائی گئی بلکہ وہ جگہ ابوبکررضی اللہ عنہ عمررضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم جیسے پاکوں کی جگہ ہے اور آدم اور حوا جب جنت سے باہر تشریف لائے تو فقط دو تھے لیکن جائیں گے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں اور دیگر مومنین کیساتھ ۔ لہذا آدم علیہ السلام کا غلبہ ہوا کہ شیطان کاکیونکہ شیطان اس وقت پچھتائے گا اور کہے گا کہ میں نے دو کو نکالا تھا مگر اب لاکھوں اور کروڑوں مومنین جنت میں جارہے ہیں لہذا انبیاء کی زلت صورۃً ہوتی ہے حقیقۃً نہیں ہوتی بلکہ حقیقت میں اطاعت عبادت اور معرفت ہوتی ہے۔

؎آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے
دیداہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

شبہ
٭ اگر کوئی کہے کہ بے عیب ذات تو صرف خدا کی ہے مخلوق تو بے عیب نہیں ہوسکتی۔
شبہ کا ازالہ
٭ تو میں کہوں گا اللہ تعالیٰ اپنی الوہیت میں بے عیب ہے رسول اپنی رسالت میں بے عیب ہے خدا خالق ہونے میں بے عیب نبی اپنی مخلوق ہونے میں بے عیب ہے خدا اپنے مالک ہونے میں اور نبی اپنے مملوک ہونے میں بے عیب ہے خدا اپنے واجب الوجود ہونے میں بے عیب ہے خدا پنے معبود ہونے میں بے عیب ہے اور نبی اپنے عبد ہونے میں بے عیب ہے۔
٭ حضرات مکرم!میں کہہ رہا تھا کہ ہمارا ایمان ہے کہ اصل دین توحید ہے لیکن اسکے حصول کا ذریعہ رسالت ہے اور بارگاہ رسالت میں پہنچنے کا ذریعہ یہی اولیاء اللہ ہیں اور ہماری روحانی غذا یہاں سے آتی ہے کیونکہ جسطرح کپڑا پاک کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پانی کپڑے کو مس کرے اور دھویاجائے تب پاک ہوگا۔ اسیطرح روح کی پاکی کیلئے ضروری ہے کہ روحانی لوگوں کے ساتھ تعلق ہو اور نجات کا ذریعہ بھی انہیں لوگوں کا دروازہ ہے آج بڑا پر فتن دور ہے ایمان کی حفاظت ضروری ہے عمل میں کمزور ہوتو ایمان پار پہنچا دیگا اگر ایمان کے اندر کمزوری آگئی تو بیڑا غرق ہوجائیگا کیونکہ عمل بغیر ایمان کے کام نہیں آتا دنیا میں کوئی فرد ایسا نہ ہوگا جسکی کوئی نیکی نہ ہو اور بغیر نبی ولی کے کوئی نہیں ہوگا جسکے اندر برائی نہ ہو اتنا یاد رکھنا کہ عمل کی کمی سے نجات ضرور ہوگی مگر درجات میں کمی ہوگی اور اگر ایمان نہیں ہے تو پھر نجات ناممکن ہے لہذا ایمان کی حفاظت کی جائے اور اصل ایمان توحید ہے اور توحید بغیر رسالت کے محال ہے۔ لہذا کوئی رابطہ قائم کریں اور یہ رابطہ محبت مصطفی ﷺ ہے اسلئے حضورﷺ نے فرمایا
لَایُؤْمِنُ اَحَدْکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَلِدِہٖ وَوَالَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (بخاری شریف ج ۱ ص۶)
ترجمہ٭تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ مجھے پیارا نہ جانے اپنے آپ سے اور اپنے والدین سے اور اپنی اولاد سے اور تمام لوگوں سے۔
٭ یہ رابطہ ایک پل ہے جیسے پل کے بغیر ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نہیں جاسکتے اسیطرح اس رابطہ کے بغیر بارگاہ ربوبیت حاصل نہیں ہوسکتی اور محبت کی علامت نماز روزہ حج زکواۃ اور امرو نواہی کو بجا لانا ہے اگر کسی نے اور امرونواہی کا کلیتہ انکار کردیا تو وہ دل کلیتہ خالی اور فانی ہے اور جس نے انکار نہیں کا بلکہ اقرار کرتے ہوئے عمل میں کمزوری کردی ہے تو یاد رکھنا جتنا عمل کی کمی ہوگی اتنا محبت کی کمی ہوگی تم نے سن لیا ہوگا کہ ایران میں زلزلہ آیا اور ستر ہزار آدمی ہلاک ہوئے تو اس سے یہ مت سمجھنا کہ سب گناہ گار ہونگے نہیں ان میں محبوب خدا اور اولیاء اللہ بھی ہونگے لیکن ولی کی ہلاکت ہلاکت نہیں بلکہ شہادت ہے اور گناہ گاروں کی ہلاکت کو عذاب تصور کیاجائے۔ آج خدا سے خوف کرنا چاہیے کل یہ وقت ہاتھ نہ آئیگا جس دل میں خوف خدا نہیں وہ دل زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے لہذا عمل کی کمزوری کو دور کیاجائے ۔ایک تاجر کیطرح جو دن بھر اپنی کمائی کو رات کو شمار کرتا ہے انسان بھی رات کو اپنے گناہوں کو شمار کرے اور پھر اس سے توبہ کرے۔ حضرت مولانا رومیؓ فرماتے ہیں ہم آخری امت کیوں ہیں اسلئے ہیں کہ پچھلی امتوں کے واقعات سے عبرت حاصل کریں انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے اپنی بات سمجھائی کہ ایک شیر بھیڑیا اور ایک لومڑی شکار کیلئے روانہ ہوئے ایک ہرن ایک گائے اور ایک خرگوش شکار کیا جب شکار سے واپس آئے اور شکار کی تقسیم کا وقت آیا تو شیر نے بھیڑے سے کہا کہ تقسیم کسطرح کیجائے تو اس نے جواب دیا کہ ظاہر ہے کہ گائے آپ کیلئے ہرن میرے لئے اور خرگوش لومڑی کیلئے تو شیر نے غصہ میں آکر ایک طمانچہ مارا اور سر پھوڑ دیا اب لومڑی کو بلایا کہ بتائو تقسیم کیسے کیاجائے تو لومڑی نے کہا سرکار گائے تو اب تناول فرمالیں ہرن شام کو کھانا اور خرگوش آپ کیلئے صبح کا ناشتہ ہے تو شیر یہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ یہ تقسیم تجھے کس نے بتائی ہے تو لومڑی نے جواب دیا کہ اس ہرن نے مجھے سبق دیا ہے کہ تقسیم اسطرح کی جاتی ہے بلکہ اگر میں ایسا کرتی جیسے اس نے(بھیڑیا) نے کیا تو میرے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوتا لیکن تونے کرم کیا کہ مجھ کو بعد میں بلایا لہذا ہمیں چاہئے کہ گذشتہ واقعات سن کر عبرت حاصل کریں کہ انہوں نے کیاکام کیئے اورکس وجہ سے ہلاک ہوئے۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج