رسول کائناتﷺ

قرآن مجید میں رب تعالیٰ جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے۔
تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا(الفرقان آیت ۱)
ترجمہ٭ بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے (مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
٭
العالمین میں جمیع عالم داخل ہیں خواہ عالم اجسام ہوں خواہ عالم ارواح عالم مثال ہو یا عالم امر عالم بیداری ہو یا عالم خواب عالم دنیا عالم برزخ یا عالم آخرت حضور سید عالم تمام اولین و آخرین کی طرف رسول بن کر تشریف لائے۔ حضور کی رسالت عام ہے اور جمیع کائنات اور کل عالم اسمیں داخل ہیں۔ خود زبان رسالت نے فرمایا
اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃ (مشکوۃ باب فضائل سید المرسلین )
ترجمہ٭ مجھے کل مخلوقات کی طرف بھیجا گیا ہے۔
٭ غرضیکہ حضور تاجدار مدنی کائنات کے ہر فرد کی طرف مبعوث ہوئے اور عالم کا ذرہ حضور کی رسالت کے دائرے میں ہے۔ حضور کی رسالت عام ہے اور حضور کل عالم کی طرف اللہ کے رسول بن کر تشریف لائے۔
٭ اگر یہ کہا جائے کہ بعض تفاسیر میں مذکورہ ہے کہ حضور فقط جن و انس کی طرف مبعوث ہوئے یا ثقلین اور ملائکہ کے رسول ہیں تو جمیع اشیاء کی طرف مبعوث ہونا کیسے سمجھ آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں
العالمین وارد ہے۔ دیکھئے آپ ہر روز نمازوں میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پڑھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ العالمین کا رب ہے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ فقط ثقلین کا رب ہے یا ثقلین یعنی جن و انس اورفرشتوں کا رب ہے۔ وہاں بھی العالمین سے مراد کل کائنات ہے۔ اللہ تعالیٰ سارے جہانوں کا رب ہے تو جیسے وہاں کوئی تخصیص نہیں اسی طرح یہاں بھی کوئی تخصیص نہیں اللہ تعالیٰ جل مجدہ سب جہانوں کا رب ہے اور اس کے حبیب حضورﷺ  سب جہانوں کے رسول ہیں لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والے اور تمام جہانوں کے رسول ۔
٭ حضورﷺ  کے مخاطب ثقلین اور ملائکہ کا ہونا بعض علماء نے جو بیان کیا اسمیں ادنیٰ تامل سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ سب سے افضل مخلوق میں یہ تین گروہ ہیں ان کا بیان گویا کل مخلوقات کا بیان ہے کیونکہ یہ تین گروہ اعلیٰ ہیں اور باقی سب ادنیٰ یہ متبوع میں اور سب ان کے تابع اس لیے ان تین گروہ یعنی جن و انس اور ملائکہ کا ذکر گویا سب کا ذکر ہے ورنہ یہ نہیں کہ فقط یہی تین گروہ مراد ہوں اور اگر ایسا کیا جائے کہ رب العالمین میں
العالمین سے فقط یہی تین گروہ مراد ہونگے اور یہ باطل ہے وہاں کوئی تخصیص نہیں تو یہاں بھی کوئی تخصیص نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عام ہے۔ بے شک وہ سارے جہانوں کا رب ہے۔ اسی طرح ہمارے آقا حضورﷺ  سارے جہانوں کے رسول ہیں۔
٭ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ ملائکہ اور جن و انس کے لیے تو حضورﷺ  کی رسالت اور پیغام رسانی سمجھ آگئی لیکن جمادات اور نباتات کوحضورﷺ  کی رسالت کا کیا مفہوم ہے۔ جمادات و نباتات کو حضورﷺ  نے کونسے پیغام پہنچائے اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ کی پیغام رسانی کا کیا مطلب ہے۔
٭ دیکھئے! قرآن مجید میں رب تعالیٰ نے فرمایا
وَاِنَّ مِنْ شَیْیِٔ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ
ترجمہ٭ اور کوئی چیز نہیں جو اسکی حمد کے ساتھ اسکی تسبیح نہ کرتی ہو۔(بنی اسرائیل ۴۴)
٭ نیز فرمایا
کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَ تَسْبِیْحَہٗ
ترجمہ٭ ہر ایک (شے) نے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جان لیا(سورۃ النور آیت ۴۱)
٭ کوئی شے ایسی نہیں جو اللہ کی تسبیح نہ کرتی ہو اور اسکی حمد نہ بجالاتی ہو بلکہ ہر شے اللہ کی بارگاہ میں
صلوٰۃ ادا کرتی ہے اپنی اپنی شان کے لائق نماز پڑھتی ہے کل مخلوق جن میں جمادات نباتات سب شامل ہیں انہیں تسبیح و تحمید اور صلوٰۃ کس نے سکھائی؟ ضرور ذکر الہی کا یہ پیغام ان تک اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضورﷺ  کی وساطت سے پہنچایا۔
٭ یاد رہے کہ رسالت ہر ایک لیے یکساں نہیں ہوا کرتی بلکہ ہر ایک کے لائق ہوا کرتی ہے۔ چاند سورج دریا پہاڑ بادل ہر شے کو اسکے لائق احکام حضورﷺ  نے پہنچائے۔ بنی نوع انسان میں بھی سب کے لیے یکساں احکام نہیں۔ جہاد ان پر فرض ہے جن کے لیے شرائط جہاد ہوں اسی طرح حج اور زکوۃ بھی ان لوگوں پر فرض ہے جن کے لیے حج اور زکوۃ کی شرائط پائی جائیں۔ مقیم اور مسافر بیمار اور تندرست مرد اور عورت ہر ایک کے لیے مختلف اوقات اور مختلف حالات میں نماز کے مختلف احکام ہیں اور یہ بات بالکل ظاہر ہے حالانکہ انسانیت میں تمام یکساں ہیں مگر احکام مختلف ہیں۔ معلوم ہوا جو جس حال میں ہے اس کے لیے ایسے ہی احکام ہونگے۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج