دوقومی نظریہ

٭ حضرات محترم! سب سے پہلے اور مقدم کونسا نظریہ ہے۔ کانگریس نے اپنا پہلا اور مقدم نظریہ وطن کو سمجھا اور مسلمانوں نے اپنا پہلا اور مقدم نظریہ مذہب کو جانا ہماری آزادی کا موجب فقط مذہب ہے اور جنہوں نے اپنی آزادی کا موجب وطن کوجانا انکے وطن کیجانے کے بعد انکی آزادی بھی گئی۔مگر مسلمانوں کی آزادی کا موجب مذہب ہے تو مذہب چھوڑنے سے انکی آزادی چلی جائے گی بلکہ مقید ہوجائیں گے یہ تو ایسا ہے کہ کوئی شخص درخت کی ٹہنی پر بیٹھ کر تنے کو کاٹنا شروع کردے تو یقیناً وہ ہلاکت کے گڑھے میں جاگرے گا۔ تو ایسا شخص اپنی بنیاد کو خود خراب کررہا ہے ہماری آزادی کی بنیاد مذہب ہے اور ہمارے مذہب کی بنیاد اور حقیقت حضور کریمﷺ  ہیں اور جو حضورﷺ  کا غدار ہوگا وہ اسلام کا حقدار کیسے ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
اسلام اور سائنس
٭ مجھے کسی شخص نے کہا کہ سائنس تو بہت ترقی پر ہے اور اسلام جہاں تھا وہیں ہے اسکی تو کوئی ترقی نہیں۔ میں نے کہا جسکو تم ترقی کہہ رہے ہو وہی تو تنزلی ہے ہلاکت اور بربادی ہے۔ سائنس والے اس کوشش میں ہیں کہ ایسے آلات تیار کیئے جائیں کہ جب چاہیں جہان کو ان واحد میں تباہ کردیں۔تو یہ تباہی اور موت ہے۔اور اسکے برعکس اگر حیاۃ لینی ہے تو میرے آقائے مدنی تاجدار حرم ﷺ کے درپر آجائے اور حیات ابدی حاصل کرلے کیونکہ جو بھی آپﷺ کے دامن میں آیا حیات ابدی پاگیا اور کفار جو آپ ﷺ سے وابستہ نہیں ہوئے انکے لئے  اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
اِنَّکَ لَاتُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَا ئَ اِذَا وَ لَّوْ امُدْبِرِیْنَ
ترجمہ٭ بے شک آپ نہیں سناتے مردوں کو اور نہیں سناتے بہروں کو پکار جب وہ پیٹھ پھیرے جا رہے ہوں۔
٭ یعنی وہ مردہ ہیں اگرچہ چلتے پھرتے ہیں دنیا میں مسلمانوں جیسے معاملات کرتے ہیں اور مومن اگرچہ قبر میں ہے لیکن پھر بھی زندہ ہے کیونکہ وہ سرکارﷺ کے دامن میں ہے ایک شخص خواب میں مناسک حج ادا کررہا ہے تو ان احکام میں سائنس کی ر سائی نہیں ہوسکتی کیونکہ سائنس کا تعلق مادہ سے ہے اور احکام الہی کا تعلق (روح) مذہب سے ہے۔ جہاں مادہ ختم ہوتا ہے وہاں سے روح کی ابتدا ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے موٹر اور ہوائی جہاز۔ انکی کبھی بھی ٹکر نہیں ہوئی۔ موٹر کی ٹکر موٹر سے گاڑی کی ٹکر گاڑی سے ہوجاتی ہے کیونکہ دونوں زمین پر چلنے والی ہیں سائنس کی مثال بھی موٹر جیسی ہے(کبھی کبھی انکے نظریات میں بھی ٹکرائو ہوتا رہتا ہے) لہذا کبھی نہیں ہوسکتا کہ موٹر جہاز سے ٹکرائے اسیطرح کبھی نہیں ہوسکتا کہ سائنس اسلام کا مقابلہ کرے یا کرسکے۔ بلکہ سائنس کی رسائی اسلام کی ابتدا تک بھی نہیں اور اسلام کا مبداء توحید
لاالہ الا اللہ ہے توحید کا ذریعہ رسالت ہے تو جب رسالت کا دامن نہ پکڑا جائے تو توحید سمجھ نہیں آسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب قبر میں سوال ہوگا کہ من ربک تیرا رب کون ہے؟ تو مومن کہے گاربی اللہ میرا رب  اللہ تعالیٰ  ہے۔ تو بات اسی پر ختم نہ ہوگی فرشتے پھر پوچھیں گےمن دینک تیرا دین کیا ہے تو کہے میرا دین اسلام ہے۔ ان دو سوالوں پر نجات نہ ہوگی کیوں؟ اسلئے کہ  اللہ تعالیٰ  کو ماننے کا دعوی کرنیوالے تو ہزاروں ہیں اور مختلف ادیان کے پیرو کار بھی ہزاروں ہیں تو کیا رسالت مآب ﷺ کے ساتھ بھی انکا تعلق ہے؟ تو جب تک حضورﷺ  کی پہچان نہ ہوگی ربی اللہ کہنا اسکو فائدہ نہ دے گا اسکی نجات نہ ہوگی۔ بلاشبہ اصل مقصد توحیدہے لیکن توحید (خالص) حاصل کرنیکا ذریعہ رسالت ہے۔ تو فرشتہ جسوقت کہے گا کہ ماتقول فی حق ھذا رجل یعنی تو اس رجل مقدس کے بارے میں کیا کہتا ہے کیا تو اسکو پہچانتا ہے یا نہیں تو مومن پہچان لے گا کہ یہ میرے آقاﷺ ہیں اور کہہ ے گا ھذا محمد رسول اللہﷺ اگرچہ مومن نے دنیا میں اپنے آقاﷺ کی زیارت نہیں کی اور کافر جیسے ابوجہل اور ابولہب ہیں بارہا دیکھا ہے وہاں نہ پہچان سکیں گے کیونکہ لعنت کفر نے انہیں اندھا کردیا ہے۔ تو یہاں قلب کی آنکھ کی ضرروت ہے۔ مومن کا قلب نور معرفت سے منور ہوتا ہے اسلئے پہچان لیتا ہے اور کافر کا دل ظلمت کفر کی سیاہی سے سیاہ ہوتا ہے اسلئے نہیں پہچان سکتا اور یہ پہچان اور نور معرفت حاصل کرنا محبت سے ہے اسلئے سرکارﷺ نے فرمایا
لَا یُؤ مِنْ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ(بخاری ج ۱ص۶)
ترجمہ٭ تم میں کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ زیادہ پیارا نہ جانے آپ ﷺ کو اپنے آپ سے اور اپنے والدین سے اور اپنی اولاد سے اور تمام لوگوں سے۔
٭ لہذا ایمان حضورﷺ  کی محبت ہے اور ایمان کی بنیاد حضورﷺ  ہیں اور آپ ﷺ کی محبت کے نشان صوم وصلواۃ اور حج و زکواۃ وغیرہ ہیں۔
شبہ
٭ بخاری شریف میں ہے
سَیَاْتِیْ عَلَی لنَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقٰی مِنَ الدِّیْنِ اِلَّا اِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْآنِ اِلَّارَسْمُہٗ الْقُر اٰنَ لاَیُجَاوِزُ حَنَاجِرَ ھُمْ یُحَقِّرَاَحَدُکُمْ صَلٰوتَہٗ مَعَ صَلاَ تِھِمْ وَصِیَامَہٗ مَعَ صِیَامِھِمْ(بخاریمسلم بحوالط مشکوٰۃ ص۳۸/۵۳۵)
ترجمہ٭ یعنی ایک زمانہ آئے گا اور اس زمانہ میں ایک قوم ہوگی بہت نمازیں پڑھیں گے اور لوگ اپنی نمازوں کو انکی نمازوں کے سامنے حقیر جانیں گے اور وہ لوگ قرآن بہت اچھا پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا انکی مسجدیں کھچا کھچ بھری ہوئی ہونگی مگر ہدایت سے خالی ہونگی اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے۔
شبہ کا ازالہ
٭ ابودائود شریف میں ہے
حُبُّکَ الشَّیْ ئَ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ
ترجمہ٭ جہاں محبت ہوگی وہاں محب محبوب کے عیوب دیکھنے سے اندھا اور سننے سے بہرہ ہوجائیگا ۔
٭ اور امام بخاری ؓ نے
الادب المفرد میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محبت والی آنکھ محبوب کے عیب دیکھنے سے ہوتی ہے اور محبت والا کان محبوب کے عیب سننے سے بہرہ ہوتاہے اور یہ بات تو وہاں ہے جہاں محبوب میں عیوب ہوں اور وہ محب کو نظر نہیں آتے اور جو محبوب بے عیب ہو اور جو سرتاپا محمد ہو اور پھر اسکے اندر عیب نکالے جائیں تو یہ کتنا غضب ہے اور عیب نکالیجانے کے بعد پھر اپنے آپ کو محب بھی کہلوائے اور مومن ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ دعوی بغیر دلیل کے غیر سموع ہوتا ہے۔ لہذا مومن کہلوانا بغیر دلیل کے غیر مسموع ہوگا اور جہاں خدا رسول کی محبت ہوگی وہاں خدا کا خوف ہوگا اور جہاں خوف الہی ہو وہاں معرفت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اولیاء اکرام خوف الہی کا مرکز ہوتے ہیں اور جہاں خدا کا خوف نہ ہو وہاں انسانیت نہ ہوگی اسیطرح خدا کے مانے بغیر انسانیت حاصل نہیں ہوگی اور خدا پر اعتماد ہونہیں سکتا جہاں تک نبی پر اعتماد نہ ہو کیونکہ نبی کے کہنے سے تو ہم نے خدا کو مانا لہذا جسکے اندر خوف ہے اسکے اندر معرفت بھی ہے اور معرفت خوف سے پیدا ہوتی ہے جیسے بغیر وردی کے اگر کوئی چور کو پکڑنا چاہے تو چور بلا خوف لڑنے لگے گا اور اس سے نہیں ڈرے گا کہ یہ غیر حکومتی آدمی ہے اگر کوئی شخص سپاہی کی وردی میں چور کو پکڑنے لگے تو چور خوف زدہ ہوجائیگا کہ یہ حکومت کا آدمی ہے قید کردے گا کہ معرفت تھی کہ یہ حکومت کا آدمی ہے تو خوف زدہ ہوا معرفت نہ تھی تو نہ ڈرا معلوم ہوا جہاں معرفت ہے وہاں خوف ہے اور یہ خوف تمام برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ کنزالعمال ج اول ص ۲۶۷ میں ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کا زمانہ تھا اور یحی بن عمر خذاعی تابع کا ایک کوچہ سے گذر ہوا تو وہاں سے ایک عورت نے دیکھا تو وہاں سے ایک خوبرو نوجوان عورت نے اپنی کنیزہ کی مدد سے بہت مکروحیلہ کے ساتھ اپنی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی اور آپ رضی اللہ عنہ اسکے قریب ہوئے تو فوراً یہ آیت یاد آگئی
اِنَّ الَّذِئْنَ اتَّقَوْااِذَا مَسَّھُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّیْطَانِ تَذَکَّرُوْافَاِذَاھُمْ مُّبْصِرُوْنَ
ترجمہ٭بے شک وہ لوگ جو اللہ سے ڈریں جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھوتا ہے وہ فوراً خبردار ہوجاتے ہیں تو اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
٭ جیسے ہی یہ آیت یاد آیت تو بے ہوش ہوکر گر پڑے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد اٹھا کر گھر لے آئے۔ ذرا ہوش آنے پر والد نے بے ہوش ہونے کیوجہ پوچھی۔ تمام حالات بتانے لگے تو وہی آیت یاد آئی اور پھر بے ہوش ہوگئے اور روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ رات کا موقع تھا۔ تعجیل میں رات ہی کو تجہیز و تکفین کردی گئی۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ امور خلافت میں مصروف تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو خبر نہ دی گئی صبح آپ رضی اللہ عنہ کو علم ہوا آپ رضی اللہ عنہ تعزیت کیلئے تشریف لائے اور آپ رضی اللہ عنہ کی قبر پر تشریف بھی لیے گئے قبر پر کھڑے ہوکر فرمایا
یَا فُلاَنُ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ فَاَجَابَہُ الْفَتٰی مِنْ دَاخِلِ الْقَبْرِ یاعمر قد اَعْطَا نِیْھِمَا رَبِّیْ فِی الْجَنَّۃِ مَرَّتَیْنِ(شرح الصدور)
ترجمہ٭ اے فلاں جو اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ جوان نے قبر سے آواز دی اے عمر! مجھے میرے رب نے یہ دولت عظمیٰ جنت میں دوبار عطا فرمائی ہے۔
٭ یعنی اس سے ثابت ہوا کہ قبر پر کھڑا ہوکر پکارنا شرک نہیں بلکہ طریق فاروقی کو زندہ کرنا ہے۔
شبہ
٭ ممکن ہے حضرت یحی بن عمرو خذاعی کو زندہ قبر میں دفن کیاگیا ہو اس لئے انہوں نے یہ جواب دیا ہو۔
شبہ کا ازالہ
٭ اگر بالفرض وہ زندہ درگور کیے گئے تو وہ قبر میں جاکر زندہ کیسے رہے اور دو جنتیں کیسے مل گئیں کیا زندہ کو جنت مل جاتی ہے اور پھر امیر المومنین رضی اللہ عنہ کو یہ کیوں نہ کہا گیا کہ میں زندہ درگور کیاگیا ہوں مجھے باہر نکالا جائے باقی رہا یہ کہ جب ہم مزارات اولیاء پر جاتے ہیں فریاد کرتے ہیں تو کوئی جواب نہیں ملتا تو میں عرض کروں گا وہ سننے والے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تھے اگر تم سننا چاہتے تو ان جیسی صفات پیدا کرو کہاں ہم کہاں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ۔

چہ نسبت خاک را یا عالم پاک

اگر تم اہل ہوگئے تو یقیناً سنو گے لیکن گناہ حجاب بن گئے اسلئے محجوب ہوگئے۔ حضورﷺ  نے فرمایا
عن ابی ہریرہؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہﷺ یَقُوْلُ وَالَّذِیْ نَفَسِیْ بِیَدِہٖ لَیَنْزِلَنَّ عیسیٰ ابنُ مَرْیَمَ ثُمَّ لَاِنْ قَامَ عَلٰی قَبْرِیْ فَقَالَ یَامُحَمَّدُ لَاْجِیْبَنَّہٗ
٭ اسے ابویعلی نے روایت کیا ہے
ترجمہ٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے۔ مجھے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ عیسیٰ ابن مریم ضرور آسمان سے نازل ہوں گے۔ اس کے بعد اگر وہ میری قبر پر آکر یا محمد کہہ کر پکاریں تو میں ضرور انہیں جواب دوں گا۔(بحوالہ مقالات کاظمی ج ۳ ص ۸۶)
٭ اور یہ ولی مظہر نبی ہوتا ہے اس لئے آقائے دوجہاں ﷺ نے فرمایا
مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی عَیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ فَلِیَنْظُرْ اِلیٰ اَبِیْ ذَرِّغَفَارِی
ترجمہ٭ جس شخص کو یہ بات اچھی لگے وہ عیسی بن مریم کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ ابو ذر عفاری کو دیکھ لے۔
٭ اسی طرح حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کو فرمایا
یَاعَلِیُّ اِنَّ فِیْکَ مَثَلُ عِیْسیٰ
ترجمہ٭ اے علی بے شک تمہارے اندر عیسی علیہ السلام کی مثل ہے۔
٭ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ سب آقاﷺ کے مظہر ہیں اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا
لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الْمُبَشِّرْاتِ
٭ یعنی نبوت کے اجزا ختم ہوگئے مگر ایک جز مبشرات یعنی خواب کا باقی رہا اور یہ جز قیامت تک باقی رہے گی اور مومن جب تک مظہر نہ ہو وہ مومن نہیں ہوسکتا لہذا مظہریت کا انکار گویا اپنے مومن ہونے کا انکار ہوگا اور تمام کائنات باری تعالیٰ کے حسن وجمال اور قدرۃ کا مظہر ہے اگر پھول سے حسن و جمال ظاہر ہوتو ہم مانتے ہیں اور اگر عبد سے حسن وجمال اور قدرت ظاہر ہوتو ہم انکار کرتے ہیں۔ یہ عداوت کے اور کیاہوگا؟ہمارے نزدیک مومن کامل وہی ہے جو مظہر رسالت مآب ﷺ ہے اور کوئی مظہر ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کا تعلق اور محبت آقاﷺ کے ساتھ صحیح نہ ہو۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج