رحمت الہی

٭ حضرات مکرم! حضور سید عالمﷺ  بااعتبار نورانیت و روحانیت کے کائنات کے ذرے ذرے میں موجود ہیں یعنی کائنات کی کوئی چیز آپﷺ  کی نورانی اور روحانی تجلی سے خالی نہیں۔ آقادوعالمﷺ  کا تعلق تمام اشیاء سے ہے جسکا معنی حاضر و ناظرہے۔
شبہ
٭ اگر حضورﷺ  کو حاضر و ناظر مانتے ہو تو آپﷺ نے ہجرت کیوں فرمائی اور معراج کیوں کی کیونکہ انسان وہاں جاتا ہے جہاں پہلے نہ ہو اور پھر خلافت کا کوئی معنی بھی نہیں رہتا کیونکہ بادشاہ کے ہوتے ہوئے بھی تخت پر بیٹھنے کا تصور قائم نہیں ہوتا۔
شبہ کا ازالہ
٭ ہجرت فرمانایا معراج فرمانا یا خلافت کے احکام کا جاری ہونا جسمانیت کے اعتبار سے ہوتا ہے اسیطرح امامت کا مسئلہ رہا کیونکہ امام وہ ہوتا ہے جو مع الجسدموجود ہوفقط روح امام نہیں بنتا اور ہمارا حاضر و ناظر ماننا روحانیت کے اعتبار سے ہے جو رسالت کا اقرار کرتا ہے اسے یہ ماننا پڑے گا کہ مرسل علیہ کیساتھ علمی عملی رابطہ قائم ہو اور ظاہر ہے کہ ہمارے آقاﷺ جمیع اشیاء کیطرف رسول ہیں۔ تو آپﷺ  کا علمی اور عملی رابطہ قائم ہو تو جب یہ رابطہ قائم ہوا تو آپﷺ  کا حاضر و ناظر ہونا بھی خود بخود واضح ہوگیا۔ حاضر و ناظر ہونا دو طرح کا ہوتا ہے۔
٭ ایک تو یہ کہ اپنی ذات اور وجود کے ساتھ ہر جگہ موجود ہو ۔
٭ دوسرا یہ کہ ذات اور وجود ایک جگہ ہو اور اسکی نظر اور علم میں ہر چیز ہو۔
٭ رہا تصرف کہ جہاں چاہے ذات اور وجود کیساتھ موجود ہوجائے۔
شبہ
عِنْدَہٗ مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ لَایَعْلَمُھَا اِلَّاھُوَ میں حصر ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے کسی کو علم غیب نہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭
مفاتیح مفتاح کی جمع ہے اور مفتاح کا معنی ہے کنجی اور کنجی وہاں ہوتی ہے جہاں تالا ہو جہاں تالا نہ ہو وہاں کنجی کا خیال بھی قائم نہیں ہوتا اور تالا وہاں ہوتا ہے جسکو کبھی کبھی کھولا بھی جائے۔ جو ہر وقت کھلا ہو وہاں تالے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو مطلب یہ ہوا کہ غیب کے خزانوں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جب ان خزانوں کو کھولتا ہے تو کن پر کھولتا ہے؟ اگراللہ تعالیٰ اپنے اوپر کھولتا ہے تو ان خزانوں کو کھولنے سے پہلی اللہ تعالیٰ کو علم نہیں ہوتا گویااللہ تعالیٰ ان تالوں کا محتاج ہے اور اگر غیروں پر کھولتا ہے تو وہ غیر کون ہیں؟ وہ رسل ہیں کیونکہ وہ تمام خلق سے برگزیدہ ہیں
فَلاَ یُظْہِرْ عَلیٰ غَیْبِہٖ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ(س جن آیت ۳۷۔۳۶)
ترجمہ٭ وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا سوائے انکے جن سے وہ راضی ہوجائے جو اسکے رسول ہیں۔
مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی لْغَیْبِ وَلٰٰکِنْ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَائُ
ترجمہ٭ اوراللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ تمہیں غیب پر مطلع کرے ۔ ہاں اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے جسے چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔( س آل عمران آیت ۱۷۹)
٭ یعنی اللہ تعالیٰ غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر رسولوں میں سے جسکو چن لے۔ اگر آیت کا مطلب وہی ہوتا جسکو مخالف بیان کرتے ہیں تو حضورﷺ  صحابہ کے سامنے اعلان کردیتے کہ میرے پاس کوئی خزانے نہیں ہیں بلکہ فرمایا
اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ الْاَرْضِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ
ترجمہ٭ خزائن الارض کی کنجیاں میرے پاس ہیں(بخاری شریف ج دوئم ص ۵۸۵ و ص ۶۲۸اور مسلم شریف ج اول ص ۱۹۹ )
٭ اب اس کا کیا جواب دو گے؟ معلوم ہوا آیت کا مطلب تم نے سمجھا ہے وہ غلط ہے۔
عِنْدَہٗ مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ میں ذاتی حصر کا ذکر ہے اور اعطیت مفاتیح الارض میں عطائی کا بیان ہے۔
٭ حضرات محترم!مسلم شریف کی حدیث ہے
فَصَعِدَ الرِّجَالُ وَالنِّسَا ئَ فَوْقَ الْبُیُوْتَ وَتَفَرِّقَ الْغِلْمَانُ وَالْخَدَمْ فِی الطُّرُقِ یُنَادُوْنَ یَا مُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ یَا مُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ
ترجمہ٭ تو عورتیں اور مرد گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور غلام گلی کوچوں میں متفرق ہوگئے نعرہ لگاتے پھرتے تھے یا محمدﷺ یارسول اللہ ﷺ یا محمدﷺ یارسول اللہ ﷺ۔ (مسلم شریف ج دوئم ص ۴۱۹)
٭ اس حدیث مقدسہ سے بات متشرح ہوتی ہے کہ یارسول اللہ کہنا جائز بلکہ سنت صحابہ رضی اللہ عنہ ہے۔ اگر کوئی اسکے خلاف کرے تو پہلے اس حدیث مقدسہ کے الفاظ کو مٹائے وہ ان الفاظ کو مٹانہیں سکتا تو یارسول اللہ کہنے سے بھی نہیں روکنا چاہئے۔
شبہ
٭ اور جب دعا مانگتے ہیں تو پھر
یااللہ یا اللھم کہتے ہیں تو یہ تفاوت کیوں؟
شبہ کا ازالہ
٭ جب حدیث پاک میں یارسول اللہ کہنا مذکور ہوگیا اور یہ صحابہ رضی اللہ عنہ کی سنت ہوگئی اور نعرہ تکبیر میں بھی سنت متواترہ سے اللہ اکبر کہنا ثابت ہوگیا۔ تو اعتراض کس بات پر۔ اب رہا
یا اللہ یا اللھم تو ذرا سوچنے کی بات ہے کہ یا (نداء) کیساتھ مخاطب کو اپنی طرف متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے تو جس وقت ہم دعا میں یااللہ یااللھم کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے غافل ہوتا ہے اور یاکیساتھ ہم اسکو متوجہ کرتے ہیں کیونکہ باری تعالیٰ پر غفلت طاری نہیں ہوتی۔ وہ ان جیسے امور سے پاک اور منزہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اے اللہ اپنی رحمت کہ جتنا ہم چاہتے ہیں اتنا ہی ہماری طرف مبذول فرمادے اور ظاہر ہے کہ رحمت ہمارے آقاﷺ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
٭ اور دوسری جگہ ہمیں سبق دیا کہ
لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ
ترجمہ٭ میری رحمت سے ناامید نہ ہو بلکہ میری رحمت کا طلب گار ہو۔
٭ جب یا اللہ کا مطلب بھی یہی ہوا کہ تیری رحمت ہماری طرف زیادہ متوجہ ہو اور وہ رحمت حضورﷺ  ہوں تو گویا یااللہ کہہ کر آقاﷺ کواپنی طرف متوجہ کررہے ہیں۔تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یا اللہ کہنا جائز ہو اور یارسول اللہ کہنا نا جائز ہو؟ حالانکہ یارسول اللہ کہنا
لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ کے تحت رحمت کی پکار ہے۔ جسکی طرف خود باری تعالیٰ اذن فرمارہا ہے کہ اگر میرا تقرب چاہتے ہو تو میری رحمت کے دامن میں آجائو جب یہ ثابت ہوا کہ یا اللہ اور یارسول اللہ کا مطلب ایک ہے تو پھر بھی یارسول اللہ کہنے سے روکنا بغیر عداوت کے اور کیاہوسکتا ہے۔

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج