نسبت رسولﷺ

٭ میرے لئے بڑی مسرت اور سعاد ت کا موقع ہے کہ مجھے ایک عظیم روحانی بزرگ حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب جو ثانی ہوکر بھی لاثانی تھے۔ انکے عرس پاک کی تقریب سعید میں انکے روحانی صاحبزادے حضرت سید علی حسین شاہ صاحب کی موجودگی میں کچھ کہنے اور کچھ سننے کا موقع مل رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ ایسے روحانی لمحات زندگی میں کبھی کبھی میسر آتے ہیں۔
عظمتوں کی اساس
٭ میرے محترم حضرت مولانا ایوب الرحمن صاحب نے فرمایا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شان اور فضیلت کے متعلق کچھ بیان کروں۔ اس ضمن میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل کی تفصیل تو قیامت تک ہی ختم نہ ہوگی۔ البتہ اجمال کے طورپر یہ عرض کردوں کہ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اصحاب رسول ﷺ یعنی اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ کے ساتھی ہیں اور کسی کی فضیلت اور عظمت کو سمجھنے کیلئے اسکی نسبت اور اضافت کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ جسطرح رسول اللہ میں رسولﷺ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ضمانت ہے عظمت رسولﷺ کی اسیطرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اضافت اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف سند اور ضمانت ہے عظمت اور فضیلت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی۔
مقام صحابیت
٭ فضیلت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے متعلق صرف ایک بات عرض کردوں کہ تمام جہانوں کے اغواث ابدال اقطاب صلحاء نقباء عرفا اور تمام عابدین عارفین متقین مومنین صالحین اور اولیاء کاملین جمع ہوجائیں اور ان میں سے کسی نے سرکارﷺ کا جمال پاک اپنی ظاہری آنکھوں سے اپنی حیات ظاہری میں نہ دیکھا ہومگر سینکڑوں برس انہوں نے اتقاء اختیار کیا ہو سینکڑوں برس انہوں نے شب بیداری سے کام لیا ہو راتوں کو جاگ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو اور ان میں روزے رکھے ہوں حج کیئے ہوں زکواۃ دی ہو اور کوئی نیکی بھی نہ چھوڑی ہو مگر خدا کی قسم! اسکے باوجود یہ سب مل کر بھی ایک صحابی کے مقام کو نہیں پہنچ سکتے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے لئے سجدے کرنیکا وہ ثواب نہیں رکھا جو ایمان اور محبت کیساتھ مصطفی ﷺ کے دیکھنے کا ثواب رکھا ہے۔ بخاری شریف میں حدیث ہے ۔ حضور سید عالم ﷺ غزوہ احد میں جلوہ فرما تھے اور ایک مشرک جس کے چمڑے کے تھیلے میں کھجوریں بھری ہوئی تھیں کھاتا ہوا آرہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت شامل حال ہوئی اور اسکی نگاہ جمال نبوت پر پڑی۔ سرکار دو عالم ﷺ کی ذات مقدسہ تو منبع فیوض و برکات ہے چنانچہ اسکی نگاہ جمال مصطفی ﷺ پر جب پڑی تو دل کی گہرائیوں میں اتر گئی اور وہ کہنے لگا
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُقَاتِلْ اَوْ اُسْلِمْ
٭ سرکار آپ ﷺ مجھے بتائیے کہ پہلے آپ ﷺ کے دشمنوں سے لڑوں؟ کہ پہلے آپ ﷺ پر ایمان لائوں اور کلمہ پڑھوں؟
٭ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
اَسْلِمْ تُمَّ قاَتِلْ
٭ تو پہلے ایمان لائو اور کلمہ پڑھ اور پھر جہاد کر۔
٭ دوسری بات اس نے یہ پوچھی کہ اگر میں آپ ﷺ کے دشمنوں سے لڑتے لڑتے قتل ہوجائوں تو میرا ٹھکانا کہنا ہوگا؟ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا
٭ تیرا ٹھکاناجنت ہوگا یعنی تو سیدھا جنت میں جائے گا۔
٭ یہ سن کر کھجوریں اس نے پھینک دیں فورا کلمہ شہادت پڑھ کر ایمان لایا تلوار سنبھالی اور کافروں سے لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔ اللہ اکبر۔ سرکارﷺ کی نگاہ پاک اس شخص کی لاش پر جب پڑی تو حضور سرور کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا
عَمِلَ قَلِیْلاً وَاُجِرَ کَثِیْرًاً
٭ اس شخص نے عمل تو تھوڑے کیئے مگر ثواب بہت پاگیا۔
٭ یہ تو بخاری شریف میں ہے اور یہی روایت طرق متعددہ سے دیگر محدثین نے روایت کی ہے۔ مسند ابو یعلی سنن ابو دایود اور مصنف عبدالرزاق میں یہی روایت ان الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا
٭ اسے دیکھو! اسلام لایا ایک سجدہ کرنا نصیب نہیں ہوا اور سیدھا جنت میں چلا گیا۔
٭ اور بات بالکل سچی ہے ایک سجدہ کرنا نصیب نہیں ہوا نماز پڑھنے اور عبادت کرنیکا تو اسے موقع ہی نہیں ملا نہ حج کرنیکا موقع ملا نہ زکواۃ دینے کا لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ایمان لانیکے بعد اس نے اپنی محبت بھری نگاہوں سے سرکارﷺ کو دیکھا یا نہیں دیکھا؟ ہاں دیکھا۔ اللہ اکبر۔ سارے غوثوں قطبوں کو جمع کرلو سب کا اتنا مرتبہ نہیں جتنا اس اکیلے شخص کا مرتبہ ہے میں کہتا ہوں کروڑوں اغواث و اقطاب کی فضیلت اسکے آگے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اسلئے کہ مصطفی ﷺ کا جمال پاک اسنے محبت و ایمان کیساتھ اپنی حیات ظاہری میں اپنی نظروں سے دیکھا اور خدا نے سجدوں کا وہ ثواب نہیں رکھا جو ایمان و محبت کیساتھ اپنے محبوب ﷺ کو دیکھنے کا رکھا ہے تو ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جیسی عبادت تو کئی بجالاہی نہیں سکتا۔ کیونکہ انکی عظمت و فضیلت کی ضمانت وہ اضافت و نسبت ہے جو ذات رسول ﷺ  کیطرف ہورہی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے عداوت
٭ یہاں اتنی بات اور عرض کردوں کہ جن لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے کوئی بغض ہے تو وہ سمجھ لیں کہ یہ بغض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے نہیں بلکہ اس ذات پاک سے ہے جن کیطرف انکی نسبت ہے اور جنکی صحبت انکو حاصل ہے اور یہی بات میں اہل بیت اطہار کے بارے میں کہوں گا کہ حضور سید عالم ﷺ کی آل پاک ہی مضاف ہے رسول پاک ﷺ کی ذات کی طرف اور اس آل رسول ﷺ کی عظمتوں کی ضمانت ہی اضافت و نسبت رسول ﷺ ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی عظمت کی ضمانت بھی وہ نسبت رسول ہے۔ ہم آل پاک کو اسلئے مانتے ہیں کہ وہ آل رسول ﷺ ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو بھی اسلئے مانتے ہیں کہ وہ اصحاب رسول ﷺ ہیں۔
مسئلہ باغ فدک۔ ایک غلطی کا ازالہ
٭ عزیزان گرامی !اگر آپ اجازت دیں تو ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کردوں بعض لوگوں نے حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر طعن کیا اور بعض نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنایا اور کہا کہ دیکھئے! ان حضرات نے اہل بیت کی حق تلفی کی اور باغ فدک حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرارضی اللہ عنہ کو نہیں دیا حالانکہ انہوں نے اسکا مطالبہ بھی کیا اور جو اہل بیت کو انکا حق نہ دے بتائے وہ کون ہے؟
٭ میں ایسے حضرات سے پوچھتا ہوں کہ تم نے سیدہ فاطمۃ الزہرارضی اللہ عنہ کی ذات مقدسہ کے بارے میں یہ تصور کیسے کرلیا کہ وہ حدیث رسول ﷺ سن کر حدیث سنانیوالے پر نارض ہوجائیں؟ کیونکہ حضرت سید نا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے تو یہ حدیث پاک سنائی۔
سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکنَا صَدَقَۃً (بخاری ج ۲ ص ۵۷۶)
٭ تو پھر حدیث سن کر کیا حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرارضی اللہ عنہ نے حدیث کا انکار فرمایا اور یہ کہا کہ یہ میرے والد ماجد حضرت رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بے شک رسول مقبولﷺ نے فرمایا
٭ تو بتائے یہ کہنا کسقدر غلط ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزھرارضی الہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محض اس وجہ سے ناراض ہوگئیں اور وصال تک انہوں نے حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ سے کلام ہی نہیں کیا کیونکہ انہوں نے باغ فدک نہ دے کر اور یہ حدیث سنا کر حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرارضی اللہ عنہ کی حق تلفی کی تھی ۔نعوذ باللہ۔
٭ میرے عزیزو! میں یہاں عرض کر دوں کہ حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ قیامت تک آفتاب سے زیادہ چمکتے رہیں گے کہ
وَاللّٰہِ لَقَرَاٖبَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہ ﷺ اَحَبَّ اِلَیَّ اَنْ اَصِلَ مِنْ قَرَابَتِیْ (بخاری ج ۲ ص ۵۷۶)
٭ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ  کی قرابت میرے نزدیک میری قرابت سے بہت زیادہ عزیز ہے ۔
٭ اے صدیق اکبررضی اللہ عنہ! آپ رضی اللہ عنہ پر کروڑوں رحمتیں ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تو ارشاد فرمایا کہ ۔ میری قرابتیں قربان ہوجائیں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی قرابت پر۔ لیکن یہ کہتے ہیں کہ سیدنا فاطمۃ الزھرارضی اللہ عنہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئیں۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ میں کہتا ہوں کہ حضرت سیدنا فاطمۃ الزھرارضی اللہ عنہ اور حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی توآپس میں کوئی ناراضگی باقی نہ رہی لیکن آج لوگ ان پر ناراض ہیں۔
٭ حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرارضی اللہ عنہ کچھ کبیدہ خاطر ہیں۔ اس لئے نہیں کہ میں نے حدیث رسول ﷺ ان کو سنائی ہے بلکہ اس لئے کہ میرا اجتہاد ان کے اجتہاد سے بہتر ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مولائے کائنات حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ساتھ لیا اور سیدہ رضی اللہ عنہ کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کو قاصد بنا کر یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ عرض کردیں کہ
اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی پاک طیبہ و طاہرہ بیٹی کے مقدس دروازے پر ان کا بوڑھا غلام حاضر ہے اور جب تک رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی راضی نہیں ہونگی ابوبکر دروازے سے واپس نہیں جائے گا اللہ اکبر۔
٭ حدیث پاک میں آتا ہے کہ
حَتّٰی رَضِیَ فَرَضِیَتْ
٭ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ سیدہ فاطمۃ الزھرارضی اللہ عنہ سے راضی ہوگئے اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزھرارضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے راضی ہوگئیں۔
٭ وہ تو سب راضی ہوگئے لیکن یہ آج تک ان پر ناراض ہیں اور سچ پوچھئے تو وہ ناراض تھی بھی نہیں وہ تو صرف اجتہاد کے اختلاف کی بناء پر بتقاضائے بشریت کچھ کبیدہ خاطر تھیں کیونکہ سیدہ فاطمۃ الزہرارضی اللہ عنہ کا اجتہاد صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے اجتہاد سے کچھ مختلف تھا اور اس قسم کے اجتہادی اختلاف کی بناء پر انبیاء کرام میں بھی اس قسم کی کبیدہ خاطری وقتی طورپر پیدا ہوجاتی تھی اور اگر یہ وہاں کسی سزا کا مستوجب نہیں تو حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے معاملے میں کیوں کر سزا اور طعن کا باعث ہوسکتا ہے؟
٭ مثال کے طورپر حضرت موسی علیہ السلام جب قوم کو حضرت ہارون علیہ السلام کے حوالے کرکے طورپر تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو دیکھا کہ قوم بچھڑے کی پوجا میں مبتلا تھی۔ انہوں نے یہ حال دیکھا تو جلال میں آگئے ابھی حضرت ہارون علیہ السلام کچھ کہنے نہ پائے تھے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے انکی داڑھی پکڑ لی اور انکے سر کے بال نوچ لیئے حضرت ہارون علیہ السلام نے عرض کیا!
٭ حضور! میری داڑھی نہ پکڑیئے میرے سر کے بال نہ نوچیے۔
٭ تب حضرت موسی علیہ السلام کا جلال رفع ہوا۔ آپ سے پوچھتا ہوں کہ حضرت ہارون علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں یا نہیں؟ تو اس وقتی ناراضگی کی بناء پر کس پر فتویٰ لگائیں گے آپ؟ حضرت ہارون علیہ السلام پر یا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر؟ بات اتنی سی ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے محض اجتہادی طورپر یہ سمجھا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی غلطی ہے حالانکہ حضرت ہارون علیہ السلام کی واقعی کوئی غلطی نہ تھی چنانچہ جب معاملہ صاف ہوا تو دونوں میں کوئی ناراضگی نہ رہی۔
اہل سنت کا عقیدہ
٭ میرے عزیزو! میں فقط اتنی سی بات عرض کردینا چاہتا ہوں کہ میں سنی آدمی ہوں اور میرا عقیدہ اہل سنت کا عقیدہ ہے آپ یہ سن لیں کہ بعض لوگ سنی ہوکر بھی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ میں سنی ہوں اور میرا عقیدہ یہ ہے کہ سید عالم حضرت محمدﷺ کے بعد سرکار کی امت میں سب سے افضل حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ ہیں انکے بعد حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہیں ان کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں انکے بعد حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہیں اور اسی ترتیب خلافت کے مطابق ترتیب فضیلت کا قائل ہوں رہا احب ہونا تو باوجود حضرت ابوبکر صدیقث کی فضیلت کے یہ ہوسکتا ہے کہ ا حبیت حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ ہو کیونکہ احب ہونا اور بات ہے اور افضل ہونا اور بات ہے۔ مسئلہ آپ لوگوں کے ذہنوں کے قریب لانے کیلئے مثال دیتا ہوں۔
٭ شاہ عبدالغنی نے فرمایا کہ ایک بوڑھا باپ تھا اور اسکا ایک نوجوان بیٹا تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ بیٹا معمار کاکام کرتا تھا۔ گرمی کے دن تھے باپ نے انتظار کیا کہ بیٹا آئے تو اسکے ساتھ کھانا کھائے لیکن بیٹے کو ذرا دیر ہوگئی باپ نے جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سخت دھوپ میں دیوار بنانے کاکام کررہا ہے۔ باپ نے کہا بیٹے اتر آئو! کیونکہ تمہارا وقت تو پورا ہوچکا ہے۔ مگر بیٹے نے کہا اباجان ذرا سا ٹھہر جائے تھوڑا سا کام باقی ہے میں ابھی آجاتا ہوں ۔ بوڑھے باپ سے برداشت نہ ہوا کہ اسکا بیٹا سخت دھوپ میں کام کرتا رہے وہ گھر گیا اور اپنے بیٹے کے چھوٹے بیٹے کو لے کر دھوپ میں آکر کھڑا ہوگیا۔ اب اس نے دیکھا کہ میرا چھوٹا بیٹا بھی ان کی گود میں دھوپ میں جل رہا ہے تو اوپر سے کہنے لگا!
٭ ابا جی ! اسے تو گھر پہنچا دو۔
٭ بوڑھے باپ نے کہا بیٹے! اگر تجھ سے اپنے بچے کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی تو مجھ سے تیری تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فوراً نیچے اترآیا۔
٭ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ نوجوان بیٹے کے نزدیک باپ افضل تھا یا بیٹا؟ یقیناً باپ افضل تھا لیکن ایمان سے کہنا احب کون تھا؟معلوم ہوا افضل ہونا اور بات ہے اور احب ہونا اور بات۔ ثابت ہوا کہ اہل بیت سے محبت رکھنا یہ رفض نہیں ہے بلکہ سرکارﷺ کے صحابہ سے ادنی سا بغض رکھنا یہ رفض ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ حُب کمال ہے اور بغض عیب ہے۔ محبت جنت کی دلیل ہے اور بغض دوزخ کا راستہ ہے۔ محبت کسی کی جتنی ہی ہو محبوب ہے پسندیدہ ہے۔ اس میں عظمت ہے برکت ہے سعادت ہے محبت کتنی ہی ہو نعمت ہے اور بغض ذرا سا بھی تو وہ لعنت ہے۔
٭ بس اتنی سی بات سمجھ لیں کہ اہل بیت اطہار کے بارے میں بھی یہی بات ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی یہی بات ہے۔ اہل بیت رضی اللہ عنہ کا بغض مومن کے اندر پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا بغض مومن کے اندر آسکتا ہے چنانچہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی محبت جتنی بھی ہو عین ایمان ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی محبت جتنی بھی ہو عین ایمان ہے۔
٭ خدا وند کریم سے دعا کریں کہ وہ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہ کے بغض سے بچائے۔ آمین۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج