مسئلہ وسیلہ

٭ حضرات محترم! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَائَ اللہ غنی ہے اورتم سب فقیر۔ وہ غنی ہمیں کوئی چیز بغیر وسیلہ نہیں دیتا۔ ماں باپ کے وسیلہ سے جسم فرشتہ کے وسیلہ سے شکل اساتذہ کے ذریعہ سے علم پیرومرشد کے وسیلہ اور ذریعہ سے ایمان مالداروں کے ذریعہ سے مال اور ملک الموت کے ذریعہ سے موت دیتا ہے غرضیکہ کوئی نعمت بغیر وسیلہ نہیں دیتا۔ دنیا ادنی اور تھوڑی ہے۔ آخرت اعلیٰ اور ہے۔ جب دنیا حقیر بغیر وسیلہ کے نہیں مل سکتی تو آخرت جو دنیا سے اعلیٰ ہے بغیر وسیلہ کے کیونکر مل سکتی ہے۔ قرآن اور ایمان دینے کیلئے پیغمبر علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ ہمارے اعمال کی مقبولیت مشکوک ہے اور حضورﷺ اور اولیاء اللہ کی مقبولیت یقینی ہے جب مشکوک اعمال وسیلہ بن سکتے ہیں تو یقینا مقبول بندے بدرجہ اولیٰ وسیلہ بن سکتے ہیں اورہمارے اعمال کا وسیلہ انبیاء اور اولیاء و علماء ہیں تو یہ حضرات وسیلہ کے بھی وسیلہ ہوئے۔ حضور سید عالمﷺ کی بعثت سے پہلے تین سو سال تک بت حرم کعبہ میں رکھے رہے۔ حضور نبی الکریمﷺ کے دست اقدس سے خانہ کعبہ کو پاک اور صاف کیاگیا۔ معلوم ہوا کعبہ معظمہ جو خدا کا گھر ہے وہ بھی بغیر وسیلہ سرکارﷺ کے پاک نہ ہوسکا تو ہمارے دل اس ذات کریم ﷺ کے بغیرجو(یزکی) کا فاعل ہے کیسے پاک ہوسکتے ہیں؟
 

وما علینا الاالبلاغ المبین
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج