وماہوعلی الغیب بضنین کی انوکھی تشریح

٭ حضرات محترم! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا ھُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنِ
ترجمہ٭ اور وہ غیب(بتانے) پر بخیل نہیں۔( آیت ۲۴س اتکویر)
٭ ھویعنی وہ سے مراداللہ ہے یارسول اللہﷺ یا جبریل امین ہیں یا قرآن۔
٭ اگر اللہ تعالیٰ مراد ہے تو معنی یہ ہوگا کہ وہ غیب بتانے پر بخیل نہیں۔ مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم کو غیب بنانے میں بخیل نہیں یعنی بخل نہیں فرماتا اس اعتبار سے بھی رسول اکرم ﷺ کو علم غیب عطا کیاجانا ثابت ہوتا ہے اور اگر
ھو (وہ) سے مراد حضور سید عالم ﷺ ہیں تو معنی یہ ہونگے کہ وہ غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ تو اس اعتبار سے بھی سرکار مدینہ ﷺ کا علم غیب ثابت ہوتا ہے۔ اسلئے کہ اگر وہ غیب سے بے خبر ہیں تو اسکے بتانے میں بخل نہ کرنا کے کیا معنی ہونگے؟ اگر (ھو) سے مراد جبریل علیہ السلام مراد لیں تو پھر بھی بات وہیں آتی ہے کہ جبریل علیہ السلام غیب بتلانے میں بخیل نہیں ظاہر ہے کہ جبریل علیہ السلام بجز نبی اور رسول کے کسی کو کچھ نہیں بتاتے۔ الا ماشاء اللہ لہذا جبرائیل علیہ السلام نے جب رسول ﷺ کو غیب بتانے میں بخل نہ کیا تو قطعی طورپر حضور سید عالم ﷺ کو علم غیب حاصل ہوا۔ اگر ھو(وہ) سے مراد قرآن ہوں تو معنی یہ ہونگے کہ قرآن غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ یہ امر ظاہر ہے کہ قرآن رسول اکرم ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہوا ہے جوکہ علم غیب اپنے اندر رکھتا ہے تو بہرحال مذکورہ آیۃ کریمہ سے ہر طرح سرکارﷺ کا علم غیب ثابت ہوگیا۔

وما علینا الاالبلاغ المبین
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج