مسئلہ حاضر و ناظر

٭ حضرات محترم! حاضر اس وجود کو کہتے ہیں جو غائب بھی ہوسکے اور ناظر آنکھ کی پتلی سے دیکھنے والے کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نہ غائب ہوسکتا ہے اور نہ آنکھ کی پتلی سے دیکھتا ہے کیونکہ وہ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے لہذا حقیقی معنی کے اعتبار سے خداوندتعالیٰ کو حاضر وناظر نہیں کہہ سکتے اسلئے قرآن و احادیث میں کسی جگہ اللہ تعالیٰ  کانام حاضرو ناظر نہیں آیا۔ ہاں البتہ مجازی معنی کے اعتبار سے سمیع و بصیر اور شہید کے معنی میں اللہ تعالیٰ  کو حاضر وناظر کہہ سکتے ہیں۔ حقیقی معنی کے اعتبار سے حاضر و ناظر ہونا اللہ تعالیٰ  کی شایان شان نہیں بلکہ اسکے حبیب ﷺ کی شان کے لائق ہے اسطرح کہ آپﷺ مخلوق ہونیکی حیثیت سے غائب بھی ہوسکتے ہیں اور جسمانی ہونیکی وجہ سے آنکھ کی پتلی سے بھی دیکھتے ہیں۔
٭ حضرات محترم! حاضر وناظر ہونا دو طرح سے ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اپنی ذات اور وجود کیساتھ موجود ہو اور دیکھے۔ دوسرا یہ کہ ذات اور وجود ایک جگہ ہو اور اسکی نظر اور علم میں ہر چیز ہو۔ اللہ تعالیٰ  زمان و مکان کی قید سے پاک ہے اگر اسکے حبیب ﷺ کو ہرزماں و مکاں میں مانا جائے تو یہ شرک نہیں اسلئے کہ شرک اسوقت ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ  کی کسی صفت میں شرکت ہو اور ہم ابھی بتا چکے ہیں کہ زماں و مکان کی قید سے اللہ تعالیٰ  پاک ہے۔ اگرچہ صوفیا کرام نے ذات اقدس اور علم مبارک دونوں کیساتھ حضور اکرمﷺ کو حاضر و ناظر مانا ہے۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی اور دوسری مستند کتابوں سے معلوم ہوتا ہے مگر چونکہ یہ دعوی ایسے دلائل سے ثابت ہوتا ہے جسکے منکر کو ضال اورمفل نہیں کہہ سکتے ۔ اسلئے ہم پہلی صورت سے قطع نظر کرتے ہوئے دوسری صورت پر کلام کرتے ہیں۔ طبرانی نے سند صحیح حدیث
اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَدْ رَفَع لِیَ الدُّنْیَا فَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْہَا وَاِلٰی مَاھُوَ کَائِنٌ فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلیٰ کَفِّیْ ھٰذِہٖ
ترجمہ٭ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بے شک اللہ تعالیٰ  نے میرے لئے تمام دنیا کو اٹھا لیااور میں اس دنیا کو دیکھ رہا ہوں اور جو کچھ اسمیں قیامت تک ہوگا سب کچھ دیکھ رہا ہوں جسطرح میں اپنی اس کف د ست کو دیکھ رہا ہوں۔(کنزالعمال ج ۶ ص ۹۵ طبع قدیم وطبع جدید)
٭ معلوم ہوا کہ قیامت تک ہر شے کو رسول اکرم ﷺ اپنی نظر اقدس سے دیکھ رہے ہیں۔ علماً حاضر و ناظر ہونیکا یہی معنی ہے۔ جو شخص حدیث رسول ﷺ کا انکار کرے۔ وہ گمراہ اور بے دین ہے لہذا ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ  کے حبیب اپنے علم کے ذریعہ ہر چیز پر حاضر و ناظر ہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ
ترجمہ٭ میں زیادہ قریب ہوں ہر مومن کے ساتھ اسکی جان سے ۔(کتاب الفرائض)
٭ اس حدیث پاک نے نبی پاک ﷺ کے حاضر وناظر کے مسئلہ کو خوب حل فرمایا۔ اگر تم مومن ہو۔ تو آپ ﷺ کو حاضر وناظر سمجھنا۔ تمہارے لئے ضروری ہے کیونکہ نبی کریم نے
بِکُلِّ مُؤْمِنِ کی قید لگائی ہے۔
شبہ
٭ اگر نبی کریم ﷺ حاضر وناظر ہیں تو معراج کی رات لامکان پر کیوں تشریف لے گئے معلوم ہوا ہر جگہ حاضر وناظر نہ تھے ورنہ جانے کا کیا مطلب؟
شبہ کا ازالہ
٭ اللہ تعالیٰ  تو ہر جگہ حاضر و ناظر ہے
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ
ترجمہ٭ اور ہم اسکی شہ رگ سے زیادہ اسکے قریب ہیں۔
٭ جب اس نے نبی محترم کو لامکان پر بلایا اور
قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی فرمایا تو اسکے حاضر و ناظر ہونے میں کوئی فرق لازم نہیں آتا۔ تو آپ ﷺ کے تشریف لیجانے سے بھی آپ ﷺ کے حاضر وناظر ہونے میں فرق لازم نہیں آئیگا۔ اسیطرح ارشاد گرامی ہے
وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُم شَہِیْدًاً
ترجمہ٭ اور یہ (نگران) رسول(خاص) تم پر گواہ ہوں۔( البقر آیت۱۴۳)
٭ شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اسی آیت کے تحت فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے اوپر گواہ ہوں کیونکہ آپ ﷺ اپنے نور نبوت سے تمہارے سب احوال اور اقوال سے باخبر ہیں وہ رسول ﷺ تمہارے درجات ایمان تمہارے نیک و بد اعمال اور تمہارے اخلاص اور نفاق سب کو پہچانتے ہیں ۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی لکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے سب احوال اور اقوال پر حاضر ناظر ہیں اور اسیلئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام نامی شاہد رکھا ہے۔

زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد
وآخر دعوانا ان الحمد لللہ رب العالمین

 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج