امتناع نظیر۔ حصہ دوم

٭ حضرات محترم! سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمدﷺ کی مثل اور نظیر محال بالذات ہے اور ممتنع ٹھہری ہے۔ اس لئے کہ حضورﷺ اول مخلوق اور آخری مبعوث ہیں۔ اب اگر دوسرے محمد کا وجود فرض کریں تو وہ اول نہ ہوا۔ کیونکہ ابتداخلق ہوچکی ۔ جسکی واپسی عقلاً محال بالذات ہے پس اگر دوسرا ہو بھی تو اول نہ ہوگا جب اول نہ ہوا تو حضورﷺ کی مثل بھی نہ ہوا ۔ دوسرے محمد کا وجود حضورﷺ کی خاتمیت کے منافی ہے جسوقت بھی اسکا وجود فرض کریں گے تو سرکارﷺ کی خاتمیت کے عدم کو بھی ماننا پڑے گا گویا دوسرے محمد کے وجود نے حضور اکرمﷺ کے کمال خاتمیت کو ختم کردیا تو جو شخص اپنے مقابل کے کمال کو ختم کردے وہ اسکی مثل نہ ہوگا بلکہ افضل ہوگا۔ لہذا دوسرے محمد کا وجود محال بالذات ہے۔ دوسرا محمد حضرت نبی کریم ﷺ کے کمال خاتمیت کے منافی ٹھہرا اور اس سے معاذ اللہ کلام الہی کا کذب بھی لازم آیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضور کریم ﷺ کو خاتم النبین فرمایا ہے دوسرے کا وجود اس کلام کی تکذیب کا موجب ہوگا اور کلام الہی کی تکذیب محال ۔ لہذا دوسرے محمد کا پیدا ہونا بھی محال ہے۔ صل اللہ تعالیٰ علی سیدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ وبارک وسلم

وما علینا الاالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج