امتناع نظیر۔ حصہ اول

٭ حضرات محترم! اللہ تعالیٰ  کے قادر مطلق ہونیکے معنی یہ ہیں کہ جو چیز حق سبحانہ و تعالیٰ کے شایان شان ہے اسکی قدرت کے ماتحت ہے۔اسیکو ممکن کہتے ہیں اور جو چیز محال ہے یعنی نہیں ہوسکتی وہ اپنی ذات میں عیب دار اور ناقص ہونیکی وجہ سے اس قابل نہیں کہ تحت قدرت باری تعالیٰ ہوسکے اس سے اللہ تعالیٰ  کا عاجز ہونا لازم نہیں آتا۔ بلکہ اس امرمحال کا فی نفسہ خراب اور ناقص ہونا ثابت ہوتا ہے پیشاب سے وضو نہیں ہوسکتا اس سے وضو کرنیوالے کا عجز ثابت نہیں ہوتا بلکہ پیشاب کا عیب دار اور ناقص ہونا ثابت ہوتا ہے کہ اس میں اس امر کی صلاحیت نہیں کہ اس سے طہارت اورپاکیزگی حاصل کی جائے جو باتیں شان الوہیت کے لائق نہیں ۔ ان کا تحت قدرت نہ ہونا عین کمال ہے مثلاً اپنے جیسا معبور پیدا کرنا اپنی ذات کو معاذ اللہ فنا کردینا اپنے لئے بیوی اولاد بھائی رشتہ دار بنانا اسیطرح جھوٹ بولنا حضرت محمد عربی ﷺ کی نظیر پیدا کرنا۔ ان سب باتوں کیلئے ضروری ہے کہ تحت قدرت باری تعالیٰ نہ ہوں ورنہ اسکی توحید اسکی حیات لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ اسکا صدق اسکے حبیبﷺ کا خاتم النبین ہونا سب کی نفی ہوجائیگی حالانکہ ان تمام امور کا حق ہونا واجب اور ضروری ہے۔ نظیر حضرت محمد ﷺ سے مراد یہ ہے کہ وجود میں حضور سید عالم ﷺ کیطرح تمام مخلوق میں سب سے پہلے پیدا ہو اور بعثت دینوی میں سب نبیوں کے بعد ہو اور ظاہر ہے کہ اب ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ کائنات کی پیدائش ہوچکی اب اولیت ممکن نہیں اسیطرح تمام انبیا مبعوث ہوچکے جن میں سید عالم ﷺ بھی شامل ہیں اگر کوئی نظیر حضرت محمد عربی کی فرض کیجائے تو ہمارے آقا تاجدار مدنی ﷺ کے بعد ہی ہوگا اس صورت میں حضرت محمد ﷺ خاتم النبین نہ رہیں گے کیونکہ آپ ﷺ کے بعد آپﷺ کا مثل نبی بن کر آئے گا جو کہ محال ہے لہذا حضرت سید عالم ﷺ کا نظیر پیدا ہونا محال ہے۔بہرنوع تاجدار مدنی ﷺ ممتنع النظیرہیں آپ جیسا پیدا نہیں ہوسکتا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور دیکھ کر اہل عرب بولے

؎محمدﷺ دوسرا پیدا جہاں میں ہو نہیں سکتا

٭ بلکہ حضورﷺ کا جس سے تعلق ہوگیا وہ بھی بے مثل ہوگیا اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے
یَانِسَائَ النَّبِیِّ لَسْتُنٍ کَاَحَدِمِّنَ النِّسَائِ
ترجمہ٭ اے نبی کی (پاک) بیویو! تم عورتوں میں سے کسی کی مثل نہیں۔( الاحزاب آیت۳۲)
٭ یعنی اے میرے حبیبﷺ کی بیویو! تم جہاں بھر میں کسی کی مثل نہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ  نے اپنے حبیبﷺ کی ازواج مطہرات کو دنیا کی ہر عورت کے مقابلے میں بے مثل فرمایا حالانکہ وہ عورتیں تھیں اور دنیا میں اور عورتیں بھی تھیں مگر ازواج مصطفی ﷺ کی کوئی مثل نہیں۔ کیوں! اسلئے کہ انکا تعلق اللہ تعالیٰ  کے پیارے حبیب ﷺ سے ہوا کیونکہ آپﷺ بے مثل ہیں اسلئے آپﷺ کی پاک بیویاں بھی بے مثل ہوئیں۔ پس آپ ﷺ کیساتھ جسکا تعلق ہوجائے وہ بھی بے مثل ہوجاتا ہے۔
شبہ
٭ یہاں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جب حضور سید عالم ﷺ سے تعلق رکھنے والا بے مثل ہوسکتا ہے تو اسی تعلق کیوجہ سے سرکارﷺ کی امت بھی بے مثل ہوگی اور قاعدہ ہے بے مثل بے مثل کی مثل ہوتاہے۔ لہذا ہم سرکار ﷺ کی مثل ہوئے۔
شبہ کا ازالہ
٭ حضورﷺ اپنے مرتبہ میں بے مثل ہیں اور امت اپنے مرتبہ میں بے مثل ہے جسطرح قرآن میں ہے کہ
کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتُ لِلْنَّاسِ( آل عمران آیت۱۱۰)
ترجمہ٭ تم بہترین امت ہو۔ ان سب امتوں میں جو لوگوں کیلئے ظاہر کی گئیں۔
٭ یعنی اے محبوب ﷺ کے غلامو! تم ایسی بہترین امت ہو جو لوگوں کے واسطے نکالی گئی ہو گویا تم تمام امتوں میں بہترین امت ہو اور تم رسولوں کی امتوں میں بے مثل امت ہو۔ جیسے حضورﷺ تمام انبیاء میں بے مثل ہیں۔ حدیث پاک میں ہے جب تک میں جنت میں نہ جائوں گا کوئی نبی بھی جنت میں نہ جائیگا اور جب تک میری امت جنت میں نہ جائیگی اور کوئی امت جنت میں نہیں جائیگی۔ اب اس سے واضح ہوگیا کہ سرکار ﷺ کا بے مثل ہونا اپنے رتبہ کے لائق ہے اور امت کا بے مثل ہونا اپنے مرتبہ کے موافق ہے(واللہ اعلم)

وما علینا الاالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج