النبی اولیٰ بالمومنین من انفسھم

حضورﷺ  ہم سے دور نہیں یہ اور بات ہے کہ ہم خود ہی حضورﷺ  سے دور ہوں ورنہ حضورﷺ  کی شان تو یہ ہے کہ آپ ہماری جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔ قران مجید میں ہے۔
اَلنَّبِیُّ اَوْلیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ (الاحزاب آیت ۶)
٭ معنی یہ ہیں کہ یہ نبی ایمان والوں کے ساتھ ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔ اگر حضورﷺ  ہم سے دور ہوں تو پھر حضورﷺ  سے ہمارا رابطہ کیسے ہوگا اور ہمیں رسالت کا فیض کیسے حاصل ہوگا۔ دیکھئے یہ آسمان کا سورج ہم سے دور نہیں جو جہاں بیٹھا ہے لاہور کراچی ملتان میں وہ کہتا ہے سورج میرے قریب ہے حالانکہ سورج تو ایک ہے اور وہ سورج سب کے قریب ہے یہ اور بات ہے کوئی شخص شامیانہ تان لے تو وہ خود سورج سے دور ہوگیا۔ شامیانہ ہٹا کر دیکھے تو سورج کو اپنے قریب پائے گا یہ تو دنیا کے سورج کا حال ہے اور جو ساری کائنات کا سورج میں اور تمام اشیاء کا مبدأ ہیں ان کے قرب کا کیا عالم ہوگا۔ بے شک ان کی شان یہی ہے کہ وہ تو ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
اَلنَّبِیُّ اَوْلیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ(الاحزاب آیت ۶)
٭ صحیحین کی حدیث ہے کہ حضورﷺ  سورج گرہن کی نماز پڑھا رہے ہیں اور نماز پڑھاتے ہوئے کچھ آگے بڑھے اور پھر پیچھے آئے۔ نماز کے بعد صحابہ کرام نے وجہ پوچھی تو حضورﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کو میرے سامنے کردیا میں نے ارادہ کیا کہ جنت کے انگور کا خوشہ توڑ لوں اگر میں توڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے۔
٭ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو فقط جنت اور دوزخ کی مثالی صورتیں تھیں اور جنت دوزخ کی حقیقت نہیں تھی لیکن یہ بات صحیح نہیں کیونکہ اگر کوئی شخص اپنے گھر سے کسی دوسرے مقام پر جائے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ شخص تو آگیا لیکن اپنی حقیقت اپنے گھر چھوڑ کر آیا تو جب حضورﷺ  نے فرمایا کہ جنت اور دوزخ میرے سامنے لائی گئیں تو بے شک وہ فی الحقیقت جنت اور دوزخ ہی تھیں ان کی مثالی صورتیں نہیں تھیں اگر حقیقت نہ ہوتی تو حضور نے کیوں فرمایا کہ میں نے چاہا جنت کے انگور کا خوشہ توڑ لوں۔ کیا مثالی صورت کو کھایا جاتا ہے اگر مثالی صورت کو کھایا جاسکتا ہے تو کاغذ پر انگور کی مثالی شکل بنی ہوئی ہے اسے کوئی کھا کر دکھائے اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ  نے دوزخ کی حرارت بھی محسوس فرمائی اگر دوزخ کی حقیقت نہ ہوتی تو حرارت کیوں محسوس ہوتی۔ کیا مثالی سے بھی حرارت محسوس ہوسکتی ہے۔
٭ بعض لوگ یہ شبہ بھی وارد کرتے ہیں کہ اتنی بڑی جنت دوزخ کیسے ممکن ہے کہ ایک دیوار میں سما جائیں۔ یہ شبہ اس لیے پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو فراموش کردیا۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ اتنی بڑی جنت دوزخ کو اپنے حبیب ا کے سامنے دیوار قبلہ میں رکھ دے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نشانیاں دکھائی ہیں۔ آفاق اور انفس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم نشان موجود ہیں غور فرمائیے ہماری آنکھ کیسی چھوٹی سی ہے لیکن یہی چھوٹی سی آنکھ بڑی سے بڑی شے کا احاطہ کرلیتی ہے تو معلوم ہوا کہ بے شک اللہ تعالیٰ ضرور قادر ہے کہ وہ جنت اور دوزخ کو ایک دیوار میں رکھ دے۔
٭ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضورﷺ  کو دوزخ کی حرارت محسوس ہوئی اور حضورﷺ  نے اس کا ذکر بھی فرمایا تو کیا آتش دوزخ سے جلنے کا خوف تھا ۔ افسوس! ایسی بات کوئی مومن نہیں کرسکتا کوئی جلنے کا خوف کہے تو خود ہی اپنا انجام سوچے میں یہ کہتا ہوں کہ حضورﷺ  اس لیے پیچھے ہٹے کہ کہیں دوزخ کی آگ بجھ نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ دشمنان رسول کیلیے دوزخ کی آگ بھڑکتی ہی رہے۔ حضورﷺ  کی شان کا کیا کہنا حدیث شریف میں تو یہ مضمون آیا ہے کہ جب حضورﷺ  کے غلام پل صراط سے گزریں گے تو دوزخ فریاد کرے گی اور کہے گی۔
جُزْ یَا مُؤْمِنُ فَاِنَّ نُوْرَکَ اَطْفَاَ نَارِیْ
ترجمہ٭ اے مومن! تو جلدی سے گزر جا کیونکہ تیرے نور نے میری نار کو بجھا دیا ہے۔
٭ مقام غور ہے جب غلاموں کا یہ حال ہے کہ دوزخ بھی پناہ طلب کررہی ہے اور بجھ جانے کے خوف سے فریاد کررہی ہے تو حضورﷺ  کے نور کا کیا عالم ہوگا۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج