جوازنداء یا رسول اللہﷺ

٭ حضرات محترم! سورۃ یونس کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ  اپنے محبوبﷺ  کو حکم دیتا ہے۔قُلْ یَااَیُّھَا النَّاسُ (آیت۱۰۸) الناس سے قیامت تک پیدا ہونیوالے تمام انسان مراد ہیں۔ اب قابل غور امر یہ ہے کہ وہ تمام بنی آدم رسول کریم ﷺ کے سامنے حاضر ہیں تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ سے کوئی انسان غائب نہیں بلکہ آپﷺ سب پر حاضر ہیں۔ لہذا اگر ہم نے حضورﷺ  کو حرف یاکیساتھ پکاریں تو ہم نے غائب کو نہ پکارا بلکہ حاضر کو پکارا اور حاضر کو یا کیساتھ آواز دینا مخالفین کے نزدیک بھی جائز ہے۔ پس ندا یارسول اللہ جائز ہوئی اور اگر وہ بنی آدم مخاطبین نبی کریم ﷺ سے غائب ہیں تب بھی ندا مذکور جائز ہوئی کیونکہ اگر ندا جائز نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ  اپنے محبوب کو غائبین کی ندا فرمانیکا حکم نہ دیتا یہ حکم اس امر کی دلیل ہے کہ غائب کو یا کیساتھ پکارناجائز ہے۔ بہرنوع دونوں صورتوں میں ندا یا رسول اللہ جائز ہوئی۔ اگر کہاجائے کہ قرآن کی ندا تو قیامت تک ایک دوسرے کے ذریعہ لوگوں تک پہنچتی رہے گی اور حضور سید عالمﷺ کو ہماری ندا پہنچنے کا کونسا ذریعہ ہے تو کہیں گے کہ مومنین کی صلواۃ وسلام اور تمام اعمال کا آپﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہونا۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ جن احادیث کی صحت کو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں اور یہ ندا اگر درود شریف کیساتھ ہے تو شامل صلواۃ ہوکر پہنچے گی ورنہ عمل تو بہر حال ہے لہذا اعمال نا موں کے ضمن میں بارگاہ رسالت مآب ﷺ تک یقینی طورپر پہنچے گی۔ جب ہر حالت میں ہماری ندا کا بارگاہ نبوی تک پہنچنا ثابت ہوگیا تو جس طرح یَااَیُّھَا النَّاسُ کہناجائز اور صحیح ہے اسیطرح یارسول اللہ کہنابھی جائز ہے۔
سائل٭ جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کرنیوالوں کے کفر میں شک کرے اور ان سے میل جول رکھے اسکے بارے میں کیاحکم ہے ۔
جواب٭ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ  اور اسکے رسول ﷺ کی توہین کرے اور انبیاء اور اولیاء کی شان میں تنقیص کرے اور صحابہ کرام ازواج مطہرات و شعائر اللہ تعالیٰ  کی توہین کرنیوالا ہو غرضیکہ کوئی ہو اور کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو ۔ اسکو اسلام سے دور کا بھی واسطہ اور لگائو نہیں وہ قطعی کافر ہے اور جو شخص ایسے شخص یا آدمی کے کافر ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے ایسے اشخاص سے میل جول رکھنا ممنوع ہے۔
٭ حضرات محترم!تقویت الایمان کا فتوی ہے کہ خدا کے سوا کسی کو نہ مانو۔اسماعیل دہلوی خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء اولیاء صدیقین شہداء اور صالحین ماننے کا قائل نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ خداوند قدوس جو خالق و مالک ہے سمیع و بصیر ہے۔ اسکے ہوتے ہوئے کسی کو ماننا خدا وند قدوس کی توہین ہے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک لڑکی کی شادی ہوئی تو اسکی والدہ نے اسکو نصیحت کی کہ بیٹی خاوند کا بڑا رتبہ ہے وہ مالک مجازی ہے۔ اسکا ہر حکم ماننا تجھ پر فرض ہے اسکے سوا کسی کو نہ ماننا لڑکی خاوند کے گھر آئی تو والدہ کی نصیحت یاد تھی۔اسلئے شوہر کا بہت احترام کرتی تھی۔ ایک دن خاوند نے اس سے کہا کہ دیکھ یہ میرے والد محترم ہیں اور یہ میری والدہ مکرمہ ہے یہ میرے چچا ہیں اور یہ میرے داد ا ہیں انکا ادب اور احترام بھی تم پر فرض ہے ۔ تو وہ کہنے لگی کہ میری والدہ نے کہا تھا کہ خاوند کے سوا کسی کو نہ ماننا لہذا میں کسی شخص کو نہیں جانتی تیرے سوا ہرگز کسی کو نہ مانوں گی اب بتائیے! وہ عورت کس قدر بے وقوف ہوئی والدہ کا کہنا بالکل حق تھا لیکن اسکا مطلب یہ نہ تھا کہ خاوند جسکے ادب اور احترام کا حکم دے اسکا بھی ادب نہ کرنا۔ بلکہ مطلب فقط یہ تھا کہ جس نظر سے خاوند کو دیکھنا چاہئے اس نظر سے کسی کو نہ دیکھنا باقی جسکے ادب و احترام کا حکم دے تو ضرور بجالانا کیونکہ یہ بھی اسکی فرمان برداری میں شامل ہے۔ مگر اس نے اپنے خاوند کے کہنے کے مطابق اسکے عزیز و اقارب کا ادب نہ کیا۔ تو اس نے(گویا) اپنے خاوند کو نہ مانا۔ بلاتشبیہ و تمثیل سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ  کے ماننے کا یہ مطلب نہیں کہ جن مقدس ہستیوں کے ادب کرنیکا اس نے حکم دیا ہے۔ انکا بھی ادب نہ کیاجائے بلکہ خدا کے ماننے کا مطلب یہ ہے کہ جن پاکبازوں کے ماننے کا اس نے حکم دیا ہے۔ انہیں ضرور ماناجائے۔ البتہ شرک نہ کیاجائے۔ اسلئے کہ عبدیت کے تعلقات صرف ایک ہی ذات کیساتھ قائم ہوسکتے ہیں جسکانام پاک اللہ رب العزت ہے ہر شخص جانتا ہے کہ عورت کے جو تعلقات اپنے خاوند سے ہوتے ہیں اسمیں کسی کی شرکت نہیں ہوسکتی۔ بلاتشبیہ و تمثیل بندہ کے جو تعلق اپنے معبود حقیقی کیساتھ ہیں انمیں کسی کی شرکت نہیں ہوسکتی مگر جسطرح اللہ تعالیٰ  نے اپنے محبوبوں کو منوایا ہے اسطرح نہ مانا جائے تو اللہ تعالیٰ  کو بھی نہ مانا۔ ایک سوال اور ہے بعض لوگ کہتے ہیں مصیبت کے وقت بندوں کے پاس جانا شرک ہے۔ بس دعا کرنا چاہئے۔
٭ اسکا جواب یہ ہے یہ صحیح ہے کہ خدا کے سوا کسی کو حقیقی مددگار جاننا اور ماننا کفر وشرک ہے مگر اسکے یہ معنی نہیں کہ محبوبان حق کو ناکارہ سمجھ لیاجائے اور یہ کہاجائے کہ اللہ تعالیٰ  کی عطاکردہ قدرت سے بھی یہ کچھ نہیں کرسکتے دیکھو قیامت کے دن ایسی مصیبت ہوگی کہ دنیا کی مصیبتیں اسکے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں مگر خدا کے بندے ایسی مصیبت کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور اپنی مصیبت کا حال بیان کریں گے توحضرت آدم علیہ السلام  فرمائیں گے
اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ
ترجمہ٭ میرے غیر کی طرف جائو۔
٭ تقویتۃ الایمان کے فتوی کے مطابق تو آدم علیہ السلام  کو فرمانا چاہئے تھا کہ احمقوآج تک تم شرک میں مبتلا ہورہے ہو۔ قیامت کے دن بھی تمہیں خدا یاد نہیں رہا عجیب بندے ہو۔ اب بھی بندوں کے پاس آتے ہو۔ ارے ! ہمارے پاس آنا تو شرک ہے خدا کے پاس جائو۔ مگر وہ غیر اللہ کا راستہ بتائیں گے۔ اسیطرح عیسی علیہ السلام تک تمام انبیاء یہی فرماتے آئیں گے کہ غیر کیطرف جائو حتی کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہونگے اور سرکارﷺ بھی یہ نہ فرمائیں گے کہ دنیا میں تم بزرگوں کے پاس جاتے رہے شرک کرتے رہے۔ اب قیامت کے دن بھی بندوں کے پاس آتے ہو۔ کیا تم نے تقویتۃ الایمان کا فتوی نہیں سنا تھا کہ جسکانام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مالک و مختار نہیں۔ میرا کیااختیار ہے۔ جائو خدا تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں مگر قربان جائیے سرکار کی شان رحمت پر کہ فرمائیں گے
انا لہا
٭ یعنی اسکام کیلئے میں ہی ہوں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بندے سب سے پہلے حضورﷺ کی خدمت میں کیوں حاضر نہ ہوئے۔ اسلئے کہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ  کے محبوبوں کی بارگاہ میں مصیبت کیوقت جانے کا جواز ہر نبی کی شریعت کے مطابق ثابت نہ ہوتا۔ اب تمام انبیاء کا اس امر پر اجماع ثابت ہوگیا کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ  کے محبوبوں کے پاس جانا جائز ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر پہلی مرتبہ دیگر انبیاء کے پاس نہ جاتے تو انکو یہ کس طرح معلوم ہوتا کہ یہ وہ کام ہے اور یہ وہ بڑی مصیبت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام  سے لیکر عیسیٰ علیہ السلام  تک کوئی نبی بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال سکتا بلکہ اس مصیبت کو دور کرنیوالے حضورﷺ  کی ذات اقدس ہی ہے۔ جن کو کہیں پناہ نہ ملے انکی پناہ گاہ حضورﷺ  کی ذات اقدس ہی ہے۔

وما علینا الاالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج