شبہ
٭ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
قُلْ لَّا اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفَعًا وَّ لَا ضَرًّا
ترجمہ٭ فرمادیجئے میں اپنی جان کیلئے خود کسی نفع کا مالک نہیں اورنہ کسی نقصان کا۔(پ۹ س الاعراف آیت۱۸۸)
٭ جب نبی اپنے نفس کیلئے نفع و ضرر کا مالک نہیں ہوسکتا تو اوروں کیلئے کیسے مالک ہوسکتاہے؟
شبہ کا ازالہ
٭
قُلْ لَّا اَمْلِکْ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا تک آیتہ تو آپ نے پڑھ لی ذرا آگےاِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ کو بھی پڑھیئے تاکہ پتہ چلے کہ حضورﷺ اپنے نفس کیلئے کیسے نفع و نقصان کے مالک ہیں؟ ہمارا بھی یہی دعوی ہے کہ حضورﷺ  ذاتی طورپر کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ بمشیت اللہ اور باذن اللہ ہر چیز کے مالک ہیں یہی معنی ہے مختار کل کا اور حضور سید عالم ﷺ توخداکی خدائی کے مختار کل ہیں اورخدا تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کام کرنا کہ خدا فرمائے کہ یہ کام ایسے کرنا ہے اور آپ کا محبوب کہے کہ نہیں تو یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں کیونکہ وہ نبی ہی کیا ہے جو خدا کے حکم کے خلاف کام کرے۔ نبی تو وہ ہے کہ
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّْوْحٰی
ترجمہ٭ وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے نہیں ہوتا ان کافرمانا مگر وحی۔( النجم آیت ۳ تا ۴)
٭ یعنی محبوب کا کوئی فعل خدا کی مرضی کے خلاف نہیں ہوتا۔ آپﷺ تمام اشیاء پر مختار ہیں لیکن باذن اللہ اور مختار ہونے کی گواہی قرآن نے دی ہے کہ
اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ
ترجمہ٭ اے محبوب! ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے۔( کوثر آیت ۱)
٭ بعض لوگ کوثر سے مراد حوض لیتے ہیں واقعی ایک حوض کانام کوثر ہے لیکن یہاں وہ حوض مراد نہیں جیسا کہ سلطان المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا
اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ ای الخیرالکثیر کسی نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ کیا کوثر سے مراد حوض کوثر ہے تو آپ نے فرمایاھوایضاً من الخیر الکثیر یعنی وہ بھی خیر کثیر میں شامل ہے اس لئے اس آیت کی تفسیر یوں کی گئی کہ
الخیر الکثیر الخیر کلہ دینوی اور اخروی ہرنعمت الکوثر میں موجود ہے۔
٭ امام رازی رضی اللہ عنہ نے یہاں ایک عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ
٭ یعنی اے محبوب ﷺ ہم نے جو آپ کو خیر کثیر عطا فرمائی ہے۔تو آپ اسکے بدلے میں اپنے رب کیلئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ  نے وہ خیر کثیر دیکر واپس کرلی ہے کیونکہ جہاں موہوب لہ ہبہ کے بدلے کوئی چیز واہب کودے دے توواہب کی شان کے لائق نہیں کہ اس ہبہ کو واپس کرلے لہذا آپﷺ نماز پڑھ لیں اور قربانی کردیں تاکہ آئندہ آنیوالوں کے دماغ سے یہ بات منقطع ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ  نے آپﷺ کو خیر کثیردیکر واپس کرلی ہے اور پھر یہ رب العزت کی شان کے لائق بھی نہیں کہ کوئی نعمت دیکر واپس کرلے۔
شبہ
٭ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
قُلْ لَّا اَقُوْلُ لَکُمْ عَنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ( الانعام آیت ۵۰)
ترجمہ٭ آپﷺ فرمائیں (اے مشرکو) میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ  کے خزانے ہیں۔
٭ یعنی اے محبوب! کہہ دیجئے کہ میرے پاس کوئی خزانے نہیں ہیں جب کوئی خزانہ نہ ہوا تو آپﷺ  مختار کس چیز کے ہوئے۔
شبہ کا ازالہ
٭ افسوس ہے کہ آپ لکم کے خطاب سے یہ سمجھ نہ پائے کہ یہ خطاب مومنین کو ہے یا کفار و مشرکین کو یہ خطاب مومنین کو ہرگز نہیں ہے بلکہ کفار و منافقین و مشرکین کو ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس خزائن ہیں یہاں کہنے کی نفی ہے ہونیکی نفی نہیں نہ کہنا اور چیز ہے اور نہ ہونا اور چیز ورنہ اسمیں کوئی شک نہیں کہ آپﷺ کے پاس خزائن ہیں کیونکہ صحیح بخاری میں ہے کہ
اِنِّی قَدْاُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَائِنِ الْاَرْضِ اَوْمَفَا تِیْحَ الْاَرْضِ
ترجمہ٭ بے شک ضرور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں یا زمین کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں۔(بخاری ص ۹۵۱)
شبہ
٭ یہ تو زمین کی کنجیوں کی بات ہوئی آسمان کی کنجیوں کا اثبات کرو۔
شبہ کا ازالہ
٭ حضور سید عالم ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے تو جبریل نے ایک سبز کپڑا پیش کیا جس میں سفید موتی تھے اور کہا کہ زمین کی کنجیاں تو آپﷺ کو دنیا میں مل گئی ہیں اور آسمان کی کنجیاں یہ ہیں۔(مسند امام احمد) اور بخاری شریف میں ہے کہ
اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَ خَازِنٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْ
ترجمہ٭ اللہ تعالیٰ  دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنیوالا ہوں اور خازن ہوں۔(بخاری ص ۴۳۹)
شبہ
٭ اگر حضور سید عالم ﷺ خازن ہیں تو خود بھوکے کیوں رہے۔ شکم اقدس پر پتھر کیوں باندھے۔ صحابہ قتل کیوں ہوئے حتی کہ کربلا والوں کی امداد نہ فرماسکے اور خود بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیٹا لینے کیلئے مشتاق رہیں۔ ایک بیٹا بھی انکو نہ دے سکے اگر قاسم و خازن ہوتے تو انکی بھی مدد کی ہوتی۔
شبہ کا ازالہ
٭ یہ کہنا کہ بی بی صدیقہ ام المومنین بیٹے کیلئے بے تاب رہیں جھوٹ اور اختراء ہے کیونکہ مال اور اولاد زینت ہیں اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
اِلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنُیَا(سورہ کہف)
٭ یعنی مال اور اولاد حیوۃ دینوی کیلئے زینت ہیں اور امہات المومنین زینت کی طلب گار نہ تھیں اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیوٰۃَ الدَّنْیَا زِیْنَتَہَا الایہ(الاحزاب)
ترجمہ٭ اگر تم دنیا کی زندگی اور اسکی زینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں مالی فائدہ دوں اور حسن سلوک کیساتھ تمہیں چھوڑ دوں۔
٭ یعنی اللہ تعالیٰ  کو یہ بات ناگوار ہے کہ میرے محبوبﷺ کے صحن میں دنیا کی طلبگار ہوں بلکہ میرے محبوبﷺ کے صحن میں وہ رہ سکتی ہے جو دنیا کی خواہش سے آزاد ہو اور میرے محبوبﷺ کی محبت اسکے دل میں جاگزیں ہو۔ امہات المومنین کے دل میں زینت (مال اور اولاد) کی آرزو بالکل نہ تھی بلکہ آپ کے دل سرکارﷺ کی محبت سے لبریز تھے۔ اگر انکے دلوں میں زینت کی آرزو ہوتی تو اللہ تعالیٰ  کبھی بھی انکو اپنے حبیبﷺ کے صحن میں نہ رہنے دیتا ۔
٭ اور یہ کہنا کہ حضور تاجدار مدنی ﷺ نے صحابہ کرام و شہداء کربلا کی امداد نہیں فرمائی یہ بھی نا سمجھی کی دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ  نے بہت سے نبیوں کو بھیجا اور امتیوں نے انہیں ناحق قتل کیا اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِالْحَقِّ(البقرۃ آیت ۶۱)
ترجمہ٭ اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔
٭ یعنی لوگوں نے ناحق نبیوں کو قتل کردیا اور نبیوں کا محافظ اللہ تعالیٰ  ہے۔ اگر نبیوں کا محافظ اللہ تعالیٰ  ہے تو کیا اللہ تعالیٰ  اپنے نبیوں کی مددنہ کرسکا کیا وہ انکی امداد فرمانے سے عاجز تھا اور انہیں خاموشی سے قتل ہوتے دیکھتا رہا بڑی عجیب بات ہے۔
٭ حضرات محترم! یہ تو ایسی بات ہے کہ ایک امیر مالدار آدمی سخت گرمیوں میں روزہ رکھے ۔ گرمی کی شدت سے وہ نڈھال ہوجائے اور لوگ اسے طعنہ دیں کہ تو غریب ہے تجھے روٹی اورپانی میسر نہیں۔ تو یہ کتنی لغو بات ہوگی دراصل روزہ کی حالت میں کھانے پینے میں رب کی رضا نہیں ہے۔ لہذا وہ خاموش ہے جہاں رب کی رضا نہیں وہاں وہ کیسے کھائے پیئے۔ اسیطرح اگر حضرت امام حسین علیہ السلام زمین پر پائوں مارتے تو حوض کوثر کے چشمے پھوٹ پڑتے لیکن وہاں رضا نہ تھی۔ اسلئے فرمایا کہ ان حضرات کو حضورﷺ کی رضا سے شہادت نصیب ہوئی جیسا کہ بخاری ص ۶۳ جلد ۲ باب غزوہ خیبر پر مذکور ہے کہ حضور سید عالمﷺ بمع صحابہ خیبر کی طرف تشریف لے جارہے تھے اور حضرت عامر رضی اللہ عنہ آگے آگے نعتیہ اشعار پڑھ رہے تھے۔ سرکارﷺ  نے اشعار محمودہ سنے تو فرمایا یہ کون اشعار پڑھ رہا ہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حضور! یہ عامر ہے اپنے قلب کو آپ کی محبت سے تازہ کررہا ہے تو سرکارﷺ نے فرمایا
یرحمہ اللہ اور آقاﷺ جسکے لئے بھی یہ لفظ فرماتے وہ شہیدہوجاتا تو جسوقت یہ کلمہ حضورﷺ سے سنا تو عرض کیاقد وجبت حضور! آپ نے ایسا فرمایا تو واجب ہوگیا کہ یہ جنگ میں ضرور شہید ہو اور واپس ہرگز نہ آئیگا اور عرض کیا کہ حضورﷺ لولا استعتنا آپﷺ نے اسکو دنیا میں باقی نہ رکھا۔ کاش ! اگر یہ دنیا میں باقی رہتا تو ہم اس سے بہت فائدے اٹھا تے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کا اس بات پر یقین تھا کہ آقا ﷺ جسکو چاہیں دنیا میں رکھیں مالک ہیں اور جس کیلئے شہادت چاہیں تو پھر بھی مالک ہیں۔ اسلئے ابن تیمیہ کو بھی کہنا پڑا اقامہ اللہ مقام نفسہ فی امرہ ونہیہ و وعدہ و وعیدہ لہذا اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ اور ہمیں یہ سبق ملا کہ کسی شہادت نصیب ہو وہ بھی آقائی رضا سے ہے اور جہاں رضا ہو وہاں امداد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
٭ باقی رہا یہ کہ آقاﷺ جب خازن ہیں تو بھوکے کیوں رہے؟
٭ اسکا جواب یہ ہے کہ حضورﷺ کا فقر اختیاری تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا (
لَوْشِئْتُ لَسَارَتُ مَعِیَ جِبَالَ الذَّہَبِ) اگر میں چاہوں اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کروں تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ ساتھ چلیں۔آپ نے کہا کہ حضورﷺ  کو خیر کثیر عطا کی گئی حالانکہ خیر کا تعلق معنی سے ہے جیسے حلم و کرم اور علم وغیرہ لہذا خیر سے مراد معانی ہوئے نہ کہ اعیان۔
شبہ کا ازالہ
٭ اسکو مخالفین بھی مانتے ہیں کہ کوثر سے مراد حوض کوثر لیا جائے اور حوض کوثر اعیان میں سے ہے نہ کہ معنی سے لہذااسے معنی کے ساتھ مخصوص کرنا باطل ہے۔

وما علینا الاالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج