شبہ
٭ اگر کوئی کہے کہ نبیوں کو اجتہاد کی کیا ضرور تھی وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔
شبہ کا ازالہ
٭ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کی بنا پر ہی اجتہاد کیا اگر وہ اجتہاد نہ کرتے تو امت کیلئے اجتہاد کی دلیل کہاں سے پیدا ہوتی؟ اسلئے انبیاء کا اجتہاد اجتہاد امت کی دلیل ہے۔ صحیح مسلم باب اختلاف جلد ثانی میں امام مسلم نے ایک حدیث وارد کی ہے۔ حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ
٭ دو عورتیں تھیں جن کا ایک ایک بچہ تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک بچہ کو بھیڑیالے گیا دونوں عورتوں نے دعوی کیا کہ بچنے والا بچہ میرا ہے اور دونوں نے اپنا اپنا دعوی حضرت دائود علیہ السلام کی عدالت میں پیش کیا آپ نے وہ بچہ بڑی عورت کو دے دیا۔ چھوٹی عورت نے کہا اس فیصلہ کو حضرت سیلمان علیہ السلام کی عدالت لے چلیں۔ جب یہ دونوں عورتیں حضرت سیلمان علیہ السلام کی عدالت میں پہنچیں تو آپ نے ایک چھری منگوائی اور فرمایا دونوں عورتوں کو راضی کرتا ہوں تو بڑی عورت بڑے سکون سے بیٹھی رہی مگر چھوٹی عورت بلبلا اٹھی اور بے تحاشا رونے لگی اور کہنے لگی اس بچہ کے دو ٹکڑے نہ کیئے جائیں اور اسے بڑی عورت کے حوالہ کیاجائے یہ بچہ میرا نہیں ہے اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے وہ بچہ چھوٹی عورت کے حوالے کردیا۔ اب ایمان سے کہنا یہ جو فیصلہ ہوا اجتہاد پر مبنی تھا کہ نہیں تھا یقینا تھا۔ اگر اجتہاد کوئی غلط چیز ہے تو پھر یہ اعتراض پہلے حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سیلمان علیہ السلام پر آئیگا اور امام صاحب کی باری تو بہت دیر بعد آئیگی کیونکہ سرکار کی ہجرت کے ۸۱ سال بعد آپ کی پیدائش ہے اور اگر اس اجتہاد کو رائے قرار دیگر امام صاحب کو اہل الرائے کہتے ہو تو پھر ان انبیاء علیھم السلام کے بارے میں کیا حکم لگائو گے؟
٭ میں تو کہوں گا کہ حضور سید عالمﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء کی نیابت انبیاء ہی کرتے تھے اور میری نیابت میری امت کے علماء کریں گے اور وہ کون ہیں؟ وہ مجتہدین ہیں میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
٭ انبیاء پر وحی نازل ہوتی تھی اور مجتہد کی عقل پر اللہ مسائل شرعیہ کا القا کرتا ہے اجتہاد بھی ایک نور ہے اور نبوت بھی ایک نور ہے نبوت کا دروازہ اب بند ہوگیا۔ مگر اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ اب اجتہاد کے شرائط دشوار ہیں۔ مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ نبوت کیطرح اجتہاد بھی ختم ہوگیا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ امام مہدی مجتہدبن کر تشریف لائیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے زمانہ میں اجتہاد فرمائیں گے اور انکا اجتہاد امام اعظم کے اجتہاد کے موافق ہوجائیگا اور امام اعظم کو اس سے عظمت مل جائیگی عیسیٰ علیہ السلام تو پہلے ہی معزز ہیں۔
٭ بہرحال اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہے یہ دین تو قیامت تک کیلئے ہے اگر آپ اجتہاد کو بندکرتے ہیں تو دین کی گاڑی وہیں رک جائیگی جہاں اجتہاد رک جائیگا اور میں مطلقاً اجتہاد کی بات کررہا ہوں۔ اسمیں اصول مجتہدین کی روشنی میں انکے منہاج پر بے شمار مسائل کا حل بھی شامل ہے۔
٭ ایک مرتبہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے دعوی کیا کہ فقہ کا جو مسئلہ مجھ سے پوچھو ! میں بتائوں گا ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا حضور! ایک عورت کا خاوند گم ہوگیا ہے اور مرگیا ہے۔ موت کی خبر سن کر ظن غالب حاصل ہونے کے بعد عدت گذارنے کے بعد عورت نے دوسری شادی کرلی اولاد ہوگئی کچھ عرصہ بعد پہلا خاوند واپس آگیا۔ اب یہ عورت پہلے خاوند کی ہے یا دوسرے خاوند کی ۔ مگر آپ اجتہاد نہیں کرسکتے کیونکہ آپ اجتہاد کے قائل نہیں ہیں اگر آپ حدیث کا حوالہ دیں گے تو وہ من گھڑت ہوگی موضوع ہوگی ایسا واقعہ سرکار کے زمانہ میں پیش آیا نہیں۔ اب جناب قتادہ بڑے پریشان ہوئے اور کہا اے ابو حنیفہ کیا ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی ہے تو آپ نے فرمایا۔ حضور! ہم مصیبت نازل ہونے سے پہلے ہی مصیبت رفع کرنیکی کوشش کرتے ہیں حضرت قتادہ خاموش ہوگئے۔ فرمایا کوئی اور بات قرآن کی تفسیر کے حوالہ سے دریافت کرو تو پھر کھڑے ہوگئے اور آپ نے پوچھا اس آیت کے کیا معنی ہیں۔
قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ اَنَا ٰاتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرُفُکَ(سورۃ نمل ۴۰)
ترجمہ٭ جسکے پاس کتاب کا علم تھا اسنے کہا میں اسے آپ کے پاس اس سے پہلے لے آتا ہوں کہ آپ کی پلک جھپکے
٭ قتادہ نے کہا آصف بن برخیا نے یہ دعوی کیا تھا اور اسکی وجہ یہ تھی کہ انہیں اسم اعظم آتا تھا۔تو امام اعظم نے پھر پوچھا۔ اچھا یہ بتائیں کیا یہ اسم اعظم حضرت سیلمان علیہ السلام کو بھی حاصل تھا۔ اب ذرا سوچ میں پڑے اور کہا کہ نہیں۔ امام صاحب نے فرمایا۔ آپ ذرا خود ہی سوچیں کہ نبی کے زمانہ میں غیر نبی کا علم نبی سے زیادہ ہوسکتا ہے؟ یہ سن کر حضرت قتادہ خاموش ہوگئے۔
٭ حضرات محترم! امام اعظم پر لوگوں نے بڑے بڑے الزامات لگائے اور اہل الرائے کہا۔ اگر آپ کی مراد قرآن و حدیث کے خلاف رائے ہے تو خدا کی قسم امام اعظم کا بلکہ ہر اہل الرائے کا دامن اس سے پاک ہے اسطرح تمام مجتہدین کا دامن اس سے پاک ہے۔ نہ امام مالک نہ شافعی اور نہ امام احمد بن حنبل اہل الرائے ہیں۔ جب امام احمد بن حنبل کے سامنے امام اعظم کا ذکر ہوتا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور انکے اذیتیں مصیبتیں جھیلنے اور برداشت کرنے پر بڑی بڑی دعائیں دیتے تھے جب امام مالک سے امام اعظم کے بارے میں پوچھاگیا تو آپ نے فرمایا۔ ابو حنیفہ وہ ہستی ہیں کہ اگر مٹی کے ستون کوسونے کا ستون ثابت کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں یہ انکی قوت استدلال کا عالم تھا اور امام شافعی تو ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ اگر کوئی فقہ حاصل کرنا چاہے تو وہ انکے شاگردوں سے علم حاصل کرے اور انکے فقہی اصول پڑھے۔
٭ حضرات محترم! کوفہ اہل علم حضرات کی چھائونی تھی تمام علماء فضلاء مجتہدین و محدثین فقہا و ادبا اورکثیر اہل علم صحابہ اور تابعین تعامل اہل مکہ و مدینہ سب کوفہ میں لائے۔ حضرت امام اعظم نے ان تمام صحابہ اور تابعین کے علوم کو سمیٹا ۔
٭ امام اعظم کے شاگردوں میں ابو یوسف امام محمد امام زفر رضی اللہ عنہ نے اختلاف کیا اور انہوں نے جو اختلاف کیا وہ امام اعظم کے اصولوں کو سامنے رکھ کر انکی روشنی میں اختلاف کیا وہ اختلاف کیوں ہوتا تھا؟ اسلئے ہوتا تھا کہ وہ مجتہد مطلق نہ تھے بلکہ وہ مجتہد فی المذہب تھے اور جہاں اختلاف ہو وہاں ہی اجتہاد ہوتا ہے اور اختلاف کوئی بری چیز نہیں ہے اختلاف سے وسعتیں آسانیاں اور گنجائشیں پیدا ہوتی ہیں۔ بہر حال بے شک امام مالک امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اور امام اوزاعی رضوان اللہ علیھم الجمعین نے فقہ مدون کی ہے مگر خدا کی قسم فقہ حنفی کیطرح کی فقہ مدون نہیں ہوئی ہے اور فقہ حنفی وہ ہے کہ جس میں حلال و حرام اور احکام شرعیہ کا پورا ڈھانچہ پیش کیا گیا ہے اور اسکا مخزن قرآن ہے اور اسکا مخرج حدیث ہے کتاب و سنت اور تعامل صحابہ اور تعامل اہل بیت کو مخرج اور مخزن قرار دیکر امام اعظم نے فقہ کو مدون کیا اور ایسی فقہ مدون کی کہمہد لیکر لحد تک کوئی مرحلہ کوئی مسئلہ اور کوئی حادثہ قیامت تک کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آسکتا جسکا جواب فقہ حنفی میں نہ ہو ۔ یہ مکمل اور اکمل فقہ ہے اور تمام امت مسلمہ کے مزاجوں کے مطابق ہے۔ میں تمام آئمہ کا احترام کرتا ہوں مگر امام ابو حنیفہ کی مثال نہ مشرق میں نہ مغرب اور نہ یمن میں ملتی ہے نہ اندلس و شام میں ملتی ہے اور نہ سند ھ اور ہند میں ملتی اور یہ سینکڑوں سال گذرگئے مختلف بلاد میں معمول پر رہی اور دنیا کا کوئی قانون اسکی مثال پیش نہیں کرسکتا یہ آپ کی فقہ کا مختصراً جائزہ پیش ہوا۔ آپ کے مناقب بیشمارہیں۔ آپ کے تقوی اور پرہیز گاری کی بھی بے شمار مثالیں ہیں۔ چند ایک سماعت فرمائیں۔
تقوی و پرہیز گاری
٭ حضرات محترم! آپ کے تقوی کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ کوفہ میں بکری گم ہوگئی۔ تو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ بکری کی طبعاً عمر کتنی ہوسکتی ہے تو لوگوں نے بتایا اسکی عمر طبعاً سات سال تک ہوسکتی ہے تو آ پ نے اس خوف سے کہ کہیں وہ مسروقہ حالت میں ذبح ہوکر فروخت نہ ہوجائے اور پھر میں کھا بیٹھوں چنانچہ آپ نے سات سال تک بکری کا گوشت نہ کھایا۔ ایک دفعہ آپ نے جاریہ خریدنا چاہی مگر اس اختیاط اور خوف میں نہ خرید سکے کہ کسطرح اور کیسی خریدوں۔ اس خوف سے بیس سال گذر گئے۔ آپ ریشمی کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ کارندے بہت سے کپڑے بیچ کر واپس آے تو اتفاق سے کسی کپڑے میں عیب تھا۔ آپ نے پوچھا کیا تم نے کپڑے کا عیب بتایاتھا؟ انہوں نے بتایا ہم بھول گئے اور یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کن کے ہاں فروخت ہوا ہے بہت کوشش کی مگر پتہ نہ چل سکا۔ آپ نے وہ تمام رقم غربا اور مساکین میں تقسیم کردی۔ یہ نہیں کہ وہ مال حرام تھا بلکہ حلال تھا۔ مگر کمال ورع و تقوی کیا تھا۔ آپ یہ سن چکے ہیں آپ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے امام صاحب کی چالیس سال کی تہجد کہاں گئی تو چالیس سال تہجد سے محروم رہے میں نے کہ کہ صد افسوس! کہ وہ امام جو خشیت الہی اور خوف خدا میں تمام رات گذار دے وہ شخص جو رات بھر آہ و بکامیں مشغول رہے توکیا وہ تارک تہجدہے تو امام صاحب کیسے تارک تہجد ہوگئے جنکے چالیس سال خشیت الہی میں گذر گے اور انہوں نے عشاء کے وضو سے فجر کی نمازیں پڑھیں۔ تفصیل کا وقت نہیں ورنہ انکے تقوی کی بے شمار مثالیں ہیں۔
تقلید
٭ بعض لوگوں نے کہا کہ تم جب تمام آئمہ کو حق مانتے ہو تو سب کی فقہ پر عمل کرو۔ کسی ایک امام کی پیروی کیوں کرتے ہو۔ میں نے کہ بلاشبہ سب امام حق پر ہیں اور میں سب کو حق پر مانتا ہوں۔ دین کے مسائل کسی اصولی ضابطے پر مبنی ہوتے ہیں اور ہر قانون کسی ضابطے پر مبنی ہوتا ہے۔ جب آپ حج پر جاتے ہیں تو پہلے تین چکروں میں رمل کرتے ہیں ۔ وہ کیوں ہوا تھا کہ مشرک یہ نہ کہیں کہ سرکارﷺ کے صحابہ مدینہ جاکر کمزور ہوگئے ہیں اور یہ ظاہر ہوکہ وہ پہلو انوں کی طرح طاقتور ہوکر آتے ہیں۔ ان پر رعب چھا جائے مگر اب چودہ سو سال گذر گئے اب نہ کوئی حضورﷺ کا صحابی ہے اور نہ انکو کمزور دیکھنے والا کوئی مشرک ہے؟ لیکن اب بھی اس پر عمل ہوتا ہے معلوم ہوا شرع کے احکام کسی اصول پر مبنی ہوتے ہیں کسی مسئلہ میں ایک حکمت ہوتی ہے اور ایک علت جب علت نہ رہے تو حکم بھی نہیں رہتا اور حکم ہمیشہ علت پر بھی نہیں رہتا کبھی حکمت پر بھی ہوتا ہے اور حکمت کوئی ایسی چیز نہیں کہ کبھی ہواور کبھی نہ ہو۔اور ہر بات ایک اصول پر ہوتی ہے اور تقلید کی حکمت آپ جانتے ہیں علت نہیں شروع دور میں لوگوں میں رضائے الہی کی تڑپ اور خوف خدا تھا اور ان میں نفس پرستی کا شائبہ تک نہ تھا اور جس عالم مجتہد سے جو بات پوچھتے اس پر عمل کرتے تھے چوتھی صدی تک وہی معاملہ رہا لیکن جب دور آگے بڑھا تو لوگ نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑے اور اب تو یہ حال ہے کہ لوگ بیک وقت تین طلاقیں دے دیتے ہیں اور احناف کا یہ مسلک ہے کہ اگر بیک وقت تین طلاقیں دے دیں اگرچہ وہ خلاف سنت ہے مگر وہ واقع ہوجائیگی اور عورت حلالہ کے بغیر واپس نہیں آسکتی ہمارے ایک حنفی سنی نے تین طلاقیں دے دیں ہم نے مسئلہ بتا دیا مگر اسنے کہا کہ غیر مقلدمولانا تویہ کہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں رجوع کرلو میں نے کہا بھائی تم حنفی ہوتو کہنے لگا وہ بھی تو عالم ہیں اور اس نے رجوع کرکے اپنا کام چلالیا۔ اسیطرح اگر آج ہم عام اجازت دے دیں کہ جس عالم کی پیروی کرلو جو چاہو پوچھ کر عمل کر لو تو کیاہوگا؟ تو جہاں جسکا نفس امارہ راضی ہوگا وہ اپنے نفس امارہ کی پیروی میں نفسانی خواہشات کی تکمیل میں وہ ویسا ہی کریگا۔ تو یہ بات غلط ہے اسلئے کہ جب ہم نے کسی ایک امام کے ایک مسئلہ کو ظن غالب کے تحت حق سمجھا تو دوسرے مسئلہ میں ناحق کی بدگمانی کرنا بالکل بے دلیل ہوگا۔ لہذا انکے تمام مسائل کو ظن غالب کی بنا پر حق ہی جانیں گے اور جب حق جان لیا تو پھر حق سے اعراض کرنا مناسب نہیں لہذا ہمیں ایک ہی امام کی تقلید کرنا ہوگی۔
٭ خوب یاد رکھیئے کہ امام اعظم کی عظمت اتنی بلند ہے جہاں ہمارا وہم و گمان بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اور یہ بھی یاد رکھئیے کہ فقہ حنفی کے سوا اور کوئی قانون پاکستان کے مسلمانوں کے مزاج کے موافق نہیں ہے۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج