امام اعظم رضی اللہ عنہ بحثیت فقیہ اعظم

کنیت
٭ حضرات محترم! بعض لوگوں نے امام اعظم رضی اللہ عنہ  کی کنیت ابو حنیفہ کو آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی طرف منسوب کیا ہے جو کہ صحیح نہیں اور علماء نے اسکا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی کوئی لڑکی نہیں ہے صرف آپ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا حضرت حمادرضی اللہ عنہ ہے اور کہا ہے کہ لغت عراق میں لفظ حنیفہ کا معنی دوات ہے کیونکہ تدوین فقہ احکام فقہ اور مسائل فقہ کے لکھنے کیلئے آپ لازم الدوات ہوگئے۔ اس ئے آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو حنیفہ قرار پائی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ
اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفَا(النحل آیت۱۲۳)
ترجمہ٭ اے محبوب کہ آپ دین ابراہیم کی پیروی کریں وہ جو باطل سے الگ حق طرف مائل تھے۔
٭ یعنی آپ تمام ادیان باطلہ سے بیزار ہیں۔ ہر حق ہر صداقت ہر حقانیت ہر اچھائی اور ہر حسن ملتِ حنیفہ میں پایاجاتا ہے اس میں کسی باطل کو کوئی راہ نہیں۔ شریعت اسلامیہ اور ملت حنیفہ کے انوار و برکات آپ رضی اللہ عنہ کے رگ و ریشے میں رچ بس گئے اور پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس ملت حنیفہ کی وہ خدمت انجام دی اور اس شفقت کا مظاہرہ کیاجو باپ اپنے بیٹے سے کرتا ہے۔ اس اعتبار سے بھی آپ رضی اللہ عنہ ابو حنیفہ ٹھہرے اور بعض نے یہ قول بھی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہوکہ تم اس شخص کو اس کنیت سے یاد کرو تاکہ انکی عظمت کا چمکتا ہوا نشان تمہارے دلوں میں باقی رہے۔ اگرچہ آپ رضی اللہ عنہ نہ صحابی اور نہ اہل بیت سے ہیں مگر صحابہ اور اہل بیت کی تفقہ اور اجتہاد کا نچور اور عطر پیش کیا۔
ولادت باسعادت
٭ بعض نے ۷۰ھ کا قول نقل کیا مگر صحیح یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارک ۸۰ھ میں ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام نعمان آپ کی ولادت اور آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم کانام ثابت ہے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کے دادا کے نام کے بارے میں بھی کئی قول ہیں کسی نے طائوس کہااور کسی نے زوطہ کا قول نقل کیا اور کسی نے مرزبان بھی کہا ہے اور کسی نے نعمان بھی کہا ہے اسطرح آپ رضی اللہ عنہ کانام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت بن نعمان ہے۔ جو لوگ امام ابو حنیفہ کے خلاف تعصب رکھتے ہیں وہ لوگوں کے سامنے اس اختلاف کو امام ابو حنیفہ کی عظمت کے خلاف بیان کرتے ہیں مگر اس قسم کے اختلاف کو کسی کی عظمت کے خلاف بیان کرنا بہت بڑی غلط بات ہے اور اس میں بڑے بڑے اکابر ملت شامل ہیں۔ خود امام بخاری رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیجئے آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہے آپ کانام محمد ہے آپ کے والد کانام اسماعیل اور آپ کے داد ا کانام مخیرہ ہے اور آپ کے پر داداکے نام میں اختلاف ہے کسی نے ان کانام بردزبہ کہا کسی نے احنف کا قول کیا ہے تو اس اختلاف کو امام بخاری رضی اللہ عنہ کی عظمت کے خلاف استعمال نہیں کرسکتے اور پھر ان لوگوں پر تعجب ہے جو اس قسم کے اختلاف کو امام اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
٭ بہر نوع امام اعظم کے دادا کے نام میں اختلاف ہے اور امام بخاری کے پر دادا کے نام میں اس سے بھی زیادہ اختلاف ہے تو یہ اختلاف کسی کی عظمت کے خلاف استعمال نہیں کیاجاسکتا۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مسلمان ہونے سے پہلے آپ کے دادا کانام زوطہ اور لقب طائوس تھا جب آپ مسلمان ہوئے تو آپ کا اسلامی نام نعمان رکھا گیا۔ اسی طرح امام اعظم کا پورا نام امام الاعظم ابو حنیفہ النعمان بن ثابت بن نعمان ہے۔
دعائے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم
٭ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے دادا آپ کے والد ماجد کو لیکر حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کے صاحبزادے حضرت ثابت کیلئے بہت دعا فرمائی اور فرمایا۔ اے اللہ! تو نعمان اور ثابت کی ذریت میں برکت فرما۔ اسلئے امام اعظم کے پوتے حضرت اسماعیل بن حماد نے کہا کہ ہمارے لئے یہ فضیلت ہے کہ ہمارے حق میں حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم مولائے کائنات کی وہ دعا مستجاب ہوئی کہ اے اللہ! نعمان اور ثابت کی ذریت میں برکت فرما اور ہم انکی ذریت میں ہیں یہ ایک فضیلت ہے اور اہل بیت اطہار کی طرف سے فیوض و برکات کا ایک وسیلہ ہے۔
٭ حضرات محترم! رہے متعصبین تو انہوں نے آپ کے دادا کے نام کے اختلاف کو یوں اچھالا ہے کسی نے آپ کے دادا کو غلام کہہ دیا اور یہ کہہ دیا کہ فارس میں گرفتار ہوگئے اور انکو بنی قائم اللہ کی ایک عورت نے غلام کی حیثیت سے خرید لیا لہذا امام ابو حنیفہ غلام کی نسل میں غلام زادے ہیں لیکن اسکا جواب امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے پوتے اسماعیل بن حماد نے دیا ہے کہ
نحن الحر من ابنائے فارس فرماتے ہیں ہم آزاد ہیں اور ابنائے فارس ہیں اور خدا کی قسم ہم پر کبھی غلامی طاری نہیں ہوئی۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے والد ماجد آپ کی صغرسنی میں ہی وفات پاگئے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نکاح حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ آپ انکی تربیت میں رہے اور آپ کے فیوض و برکات امام اعظم کو پہنچے اور یہ وہی فیوض و برکات ہیں جنکا ظہور آگے چل کر ہوا۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ  ہوش سنبھالنے کے بعد ریشمی کپڑے کی تجارت میں مشغول ہوئے۔ حضرت شعبی بہت بڑے علمائے محدثین اور تابعین میں سے ہیں۔ امام دار قطنی اور امام بخاری نے اقرار کیا ہے امام شعبی نے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ایک حدیث روایت کی ہے ایک حدیث کی روایت یہ انکی بات ہے۔ اس پر میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن یہی امام شعبی کو فی رضی اللہ عنہ نے امام اعظم رضی اللہ عنہ  کی بچپن میں انکی صلاحیت انکی نیکی اور شرافت طبعی کو دیکھ کر علوم دینیہ کے حصول کا مشورہ دیا اور امام اعظم رضی اللہ عنہ نے علوم دینیہ کے حصول کو اپنا مشغلہ بنالیا اور اس زمانہ کے مشائخ اور علماء سے علوم حاصل کیئے اور علم حدیث میں آپ کے چار ہزار مشائخ ہیں۔ جن سے روایت حدیث کی ہے اور علم حدیث حاصل کیا ہے۔
٭ بعض لوگوں نے تعصب کی بنا پر ایک غلط قسم کی روایت حضرت امام اعظم کی طرف منسوب کی ہے اور وہ بھی انتہائی تعصب پر مبنی ہے وہ خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں جلد تیرھویں میں امام ابو یوسف کی طرف منسوب روایت کہ امام صاحب نے مجھ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ تم علوم دینیہ حاصل کرو تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کونسا علم حاصل کروں ؟ اگر فقط قرآن اورکسی مکتب میں بیٹھ کر پڑھوں تو بہتر کوئی حافظ پیدا ہوگیا تو پھر میں نے علم حدیث کا پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ اگر تم نے علم حدیث حاصل کرلیا تو مدرس بن جائو گے اور علم حدیث کی تدریس کرتے کرتے بوڑھے ہوجائو گے حواس کمزور ہوجائیں گے حافظہ کمزور پڑجائیگا اور شاگرد طعن کریں گے کہ فلاں روایت بھول گئے اور فلاں روایت غلط بیان کردی تو اسطرح شاگردوں کے تیروں کا نشانہ بنتے رہوگے۔ تو اس پر امام صاحب نے فرمایا اچھا مجھے اسکی کوئی حاجت نہیں۔ پھر امام صاحب نے لوگوں سے پوچھا کہ میں علم کلام کی تحصیل کروں تو لوگوں نے کہا اگر آپ نے اسمیں کوئی کمال حاصل کرلیا تو علم کلام کے تحت عقائد کے معاملے میں کوئی ایسی بات کہہ جائیں کہ لوگ آپ کو زندیق کہیں گے۔ پھر امام صاحب نے علوم عربیہ اور صرف و نحو کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس سے تم ایک مدرس بن جائوگے پھر تم ساری عمر اسمیں رہوگے اور دو تین دینار تنخواہ ہوگی تو کوئی وقار نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ علم فقہ حاصل کرلوتومسند افتاء پر بیٹھو گے لوگ فتوے لیکر آئیں گے بہت شہرت ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ اس شہرت سے تمہیں منصب قضا بھی مل جائے۔ چنانچہ میں نے فقہ پڑھی۔ یہ مسخ شدہ روایت جسکی کوئی اصل اور بنیاد نہیں اور بالکل واقع کے خلاف انتہائی حسد اور بغض کی بنا پر امام صاحب کی طرف منسوب کردی گئی ہے جو کسی صاحب علم و عقل اور منصف مزاج کے نزدیک ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ بڑا تعجب ہے کہ امام سید احمد طحطاوی حنفی نے بھی اس روایت کو نقل کردیا اور علامہ طحطاوی کے حوالہ سے آپ کے متعصبین بھی اس روایت کو لیتے گئے حتی کہ در مختار نے بھی اس روایت کو لے لیا۔ تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ امام ابو حنیفہ کی طرف اس مسخ شدہ مضمون کی نسبت بالکل غلط اور باطل ہے اور واقع کے خلاف ہے اور امام صاحب کے واقعات نے خود اسکی تردید کردی ہے جیسا کہ آپ حافظ قرآن بھی تھے اور ہر رمضان المبارک میں ایک ختم رات کو کرتے اور ایک ختم دن کو کرتے اور ایک ختم تراویح میں پڑھاتے اور بعض روایات میں یوں بھی آیا ہے کہ تراویح کے بعد رات کو نفل پڑھتے اور ایک ایک نفل میں ایک ایک ختم کلام پاک فرماتے جو اتنا جید حافظ قرآن ہو اور ایک رکعت میں پورا پورا قرآن پڑھ لے اسکی طرف یہ روایت کیسے صحیح ہوسکتی ہے؟ خود انکے حافظ قرآن ہونے نے اس روایت کو باطل قرار دے دیا۔
٭ ایک روایت اسی مضمون کی اسطرح ہے جسکو شمس الائمہ نے مناقب ابو حنیفہ میں نقل کیا ہے کہ میں نے جب علم حاصل کرنے کا رادہ کیا تو میں نے سوچا کہ میں کیاکروں تو فرماتے ہیں کہ میں نے ہر علم کو فرداً فرداً پڑھا اور ہر علم کو اپنا نصب العین بنایا اور اسکے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ کسی ایک علم کو اپنا مشغلہ قرار دوں اور مقصد حیات بنائوں تو میں نے علم فقہ کا انتخاب کیا اگر اس روایت کو سامنے رکھا جائے تو بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ آپ نے تمام علوم پڑھے ہیں نہ کہ صرف فقہ پڑھی اور آپ پر یہ اعتراض کرتے ہیں صرف و نحو اور لغت نہیں پڑھی اور اسی وجہ سے انکا ایک قول نقل کرتے ہیں کہ امام صاحب سے کسی نے مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی نے کسی کو پتھر مارکر ہلاک کردیا تو اس کا کیاحکم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا
ولورماہ بابا قبیس
٭ اس سے قصاص نہیں لیاجائے گا اگرچہ وہ کسی پر جبل ابو قبیس کو بھی اٹھا کر دے مارے۔ آپ جانتے ہیں اور بچے بھی جانتے ہیں کہ اسمائے ستہ مکبرہ کا اعراب حالت جری میں یاء کے ساتھ ہوتا ہے حالت نصبی میں الف کے ساتھ اور حالت رفعی میں واو کے ساتھ۔ معترض کہتے ہیں تمہارے امام اعظم کو یہ بھی معلوم نہ تھا یہاں (بابی قبیس) کہنا چاہیے تھا(بابا قبیس) کہنا درست نہیں۔ آپ یاد رکھئیے امام اعظم رضی اللہ عنہ  کا یہ فرمانا ہرگز ہرگز اسلئے نہ تھا کہ انہیں نحو نہیں آتی تھی بلکہ اسکی وجہ یہ تھی کہ اہل کوفہ کی لغت میں اسمائے ستہ مکبرہ کا اعراب ہر حالت میں الف کیساتھ آتا ہے۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ  نے اسی عراقی اور کوفی لغت میں فرمایا(
ولورماہ بابا قبیس) اور آپ کو معلوم ہے عرب کے مختلف قبائل کے لغات اپنے اپنے ہیں قبیلہ بنی تمیم کا لغت کچھ اور ہے قبیلہ بنو طے کا لغت کچھ اور ان اختلافات لغات کی بنا پر امام صاحب پر اعتراض کرنا انتہائی ظلم و ستم ہوگا۔
٭ بہرحال یہ بڑے بڑے علماء علم صرف و نحو میں علوم عربیہ اور علوم ادبیہ میں ہوئے ہیں انہوں نے امام ابو حنیفہ کی قیادت کو قبول فرمالیا اور سب نے انکا احترام کیا انکے دل میں آپ کا احترام ہو نہ ہو آپ خود اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہونگے ہمارے دل میں تمام علماء اہل سنت کا احترام ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ علمائے حق کے اس احترام کو لیکر اس دنیا سے جائیں۔
٭ حضرات محترم! امام اعظم رضی اللہ عنہ  نے تمام علوم میں کمال حاصل کیا اور علم فقہ کو اپنا مقصد حیات بنایاسارا قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور قرآن کا ایک ایک حرف اپنے اندر انوار و برکات رکھتا ہے حلال کو اپنانے اور حرام سے بچنے کیلئے جسکا ذکر قرآن میں اجمالاً ہے جاننے کیلئے فقہ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ آپ سے سوال ہے کہ آپ لاکھ نوافل پڑھیں عبادتیں کریں لیکن سود کھاتے رہیں رشوت لیتے رہیں لوگوں کا حق مارتے رہیں تو کیا آپ کی دعائیں آپ کی تلاوتیں اور دعائے سحری گریہ وزاری مستجاب اور مقبول ہوں گی؟ ہرگز نہیں۔
٭ حضرات محترم! قرآن کی کوئی آیت انسان کو فائدہ نہیں دے سکتی تاوقتیکہ وہ حلال و حرام کی تمیز نہ کرے اور جب تک وہ حلال کو اختیار نہ کرے اور حرام سے نہ بچے۔ اس وقت تک کوئی نیکی کوئی پاکیزگی کوئی دعا کوئی نماز اس کیلئے کارآمد نہیں ہوسکتی۔ جب تک کہ انسان حلال و حرام کے علم کو نہ جانے اور اسی حلال و حرام کے علم کو علم فقہ کہاجاتا ہے۔ اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ طلاق بائن اور رجعی میں کیافرق ہے۔ آپ ذرا قرآ ن و حدیث سے بتا دیں۔ تو آپ اسکے جواب میں یہ آیت پڑھ دیں کہ
ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھْدٰی وَدِیْنِ الْحَقِ( فتح آیت۲۸)
٭ کیا اس آیت سے اس سوال کا جواب ہوگیا نہیں ہوا۔ قرآن کا ایک ایک حرف اپنے مقام پر برکتیں عطا کرتا ہے اپنے محل پر نور اور روحانیت عطا کرتا ہے مگر انسان وہ محل حرام و حلال کے علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا اور یہی علم(حلال و حرام کی تمیز کرنا) علم فقہ ہے۔ اسیطرح آپ سے اگر کوئی بیع و شرا کے مسائل پوچھے تو آپ اسکے جواب یہ حدیث پڑھ دیں کہ
کَلِمَتَانِ خَضِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ
٭ کیا اس حدیث پاک سے ان مسائل کا جواب ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں ہوگا۔ حالانکہ حدیث مقدسہ کا ایک ایک لفظ نور ہے مگر وہ اپنے محل پر ظاہر ہوگا اگر آپ نے حلال و حرام میں تمیز نہیں کی تو حدیث تو حدیث بلکہ قرآن کے کسی مضمون سے آپ کو فائدہ نہیں ہوگا۔ مختصراً یہ کہ علم فقہ وہ علم ہے کہ جسکے بغیر کوئی علم آپ کیلئے مفید نہیں ہوسکتا۔
٭ قرآن نے فرمایا
قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ( الزمرآیت۹)
ترجمہ٭ آپ فرمادیجئے کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جانتے۔
٭ یہ عموم ہے اور سرکار نے حدیث میں فرمایا کہ
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ
ترجمہ٭ ہر مسلمان پر علم کا حاصل کرنا فرض ہے۔
٭ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَافَّۃً ط فَلَوْلَانَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃِ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنْذِ رُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ( التوبہ آیت۱۲۲)
ترجمہ٭ اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ سب مسلمان(ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں تو کیوں نہ نکلی انکے ہرگر وہ سے ایک جماعت کہ وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کریں اور اپنی قوم کیطرف واپس آکر انہیں ڈرائیں تاکہ وہ (گناہوں) سے بچے رہیں۔
٭ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب مسلمان ایک ساتھ فقہ حاصل کرنے کیلئے نہیں جاسکتے۔
فَلَوْلَانَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِیْ الدِّیْن تو کیوں نہ نکلی انکے ہر گروہ سے ایک جماعت کہ وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ یعنی سارے مسلمان علم فقہ حاصل کرنے کیلئے نہیں جاسکتے۔ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ تمہارے ہر فرقے میں سے ایک گروہ علم فقہ حاصل کرنے کیلئے چلا جاتا تاکہ وہ دین میں علم فقہ حاصل کرے۔
وَلِیُنْذِرُوْاقَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْن
ترجمہ٭ اور اپنی قوم کی طرف واپس آکر انہیں ڈرائیں تاکہ وہ گناہوں سے بچتے رہیں۔
٭ حضرات محترم! قابل غوربات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فقہ کے علم کو کتنا اہم قرار دیا ہے اور یہ وہ زمانہ تھا کہ اس زمانہ کے بڑے بڑے علماء محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ اس زمانہ میں لوگ فقہ کی طرف سے بالکل غافل تھے اسلئے ان محدثین نے فقہ میں امام اعظم سے تلمذ حاصل کیا۔ ان میں سے وکیع بن الجراح عبداللہ بن مبارک سفیان ثوری وغیرہ جیسے اجلہ محدثین و مجتہدین نے امام اعظم سے فقہ کی تعلیم پائی اور دیگر تمام علوم بھی امام اعظم سے حاصل کیے اور ان میں چالیس مجتہدین اس قابل ہوگئے کہ وہ فقہی مسائل میں بحث کرسکیں ان کی بحث سننے کے بعد آپ فیصلہ فرماتے دیگرآئمہ ثلاثہ کی عظمتوں کو سلام مگر امام احمد بن حنبل اور امام شافعی ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے فقہ حاصل کرنی ہے وہ امام ابو حنیفہ کے درسے فقہ حاصل کرے حالانکہ امام شافعی نے آپ کا زمانہ نہ پایا اور امام اعظم کے وصال کے دن ۱۵۰ھ میں پیدا ہوئے مگر فقہی علم امام محمد جو امام اعظم کے شاگر دتھے سے حاصل کیا اور امام محمد نے امام شافعی کی والدہ سے نکاح کیا تھا وہ سب فقہی ذخیرہ امام اعظم سے بواسطہ امام محمد امام شافعی کو پہنچا اسلئے تمام مومن امام شافعی کے استاد امام محمد کے متشکر تھے۔ امام شافعی کے دل میں امام اعظم کا بڑا مقام تھا۔ یہاں تک کہ جب آپ کے مزار پر حاضری کیلئے حاضر ہوئے تو فقہ امام اعظم کے مطابق نماز پڑھی۔ تو آپ کے شاگردوں نے پوچھا حضور یہ کیا ہوا؟ آپ تو صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے ہیں اور رفع یدین کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اس مزار پر مجھے امام اعظم کی بارگاہ میں حیا آتی ہے کہ میں اپنے اجتہاد پر عمل کروں۔ بے شک اللہ والوں کو اللہ والوں کی بارگاہ میں حیا آتی ہے کہ اپنے اجتہاد پر عمل کریں اور جسمیں حیا ہوہی نہیں اسے حیا کہاں سے آئیگی۔ امام اعظم کی جلالت شان کا یہ عالم تھا کہ انکے وصال کے بعد بھی آئمہ مجتہدین انکی عظمت و جلالت کا دم بھرتے تھے اور لحاظ کرتے تھے اور ساتھ ہی امام شافعی کا یہ عقیدہ بھی واضح ہوگیا کہ وصال کے بعد صاحب مزار دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں اسلئے تو امام شافعی کو حیا آئی کہ کہیں میرا قنوت پڑھنا اور رفع یدین کرنا امام اعظم کو ناگوار نہ گذرے۔ سب آئمہ کے عقائد ایک ہیں سب اہل سنت ہیں البتہ فقہی مسائل میں اختلافات ہیں اور یہ اختلافات از روئے حدیث مبارک امت کیلئے باعث رحمت ہیں حدیث شریف میں ہے
اِخْتِلاَفُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ
ترجمہ٭ میری امت کا اختلاف تمہارے لئے رحمت ہے ۔
٭ ان اختلافات میں ہمارے لئے وسعتیں اور گنجائشیں پیدا ہوئیں اور ان وسعتوں اور گنجائشوں میں اللہ کی بے شمار رحمتیں ہیں اسکی قرآن اور احادیث میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ لوگ امام صاحب پر سب سے بڑا اعتراض اہل الرائے ہونے کا کرتے ہیں اور اہل الرائے کا مطلب ہے کہ وہ قرآن و سنت کے خلاف اپنی رائے پر عمل کرتے تھے۔
٭ حضرات محترم! امام اعظم کا یہ مذہب ہے کہ پہلے کلام اللہ پھر سنت رسول اور آخر میں فعل صحابہ پر عمل کیاجائے گا۔اور اگر ہمیں کوئی بات قرآن و حدیث میں نہیں مل رہی تو ہم جو قول بھی اختیار کریں گے وہ کسی نہ کسی صحابی کا عمل ہوگا عمل صحابہ سے ہم باہر نہیں نکلیں گے۔ یہ امام اعظم کا اصول ہے۔ ہاں البتہ تابعین کا جہاں تک تعلق ہے تو آپ نے فرمایا وہ بھی رجال ہیں مجتہدہیں اور ہم بھی رجال ہیں مجتہد ہیں ہم اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کریں گے مگر صحابہ کے قول و فعل سے باہر ہرگز نہیں جائیں گے۔ خواہ لوگ اسکو ضعیف حدیث پر عمل کرنا کیوں نہ کہہ دیں جیسے ترمذی شریف ہے۔امام ترمذی بعض احادیث کے ضعف کی طرف اشارہ کر کے فرمادیتے ہیں کہ
٭ اس ضعیف حدیث پر اہل علم کا عمل ہے۔
٭ اورمیں کہوں گا جس ضعیف حدیث پر اہل علم کا عمل آجائے وہ حدیث قوی ہوجاتی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حدیث قابل عمل ہے اور امام اعظم مجتہد تھے وہ اہل الرائے نہ تھے۔ اہل اجتہاد کو اہل الرائے کہنا یہ تمہاری اپنی مرضی ہے اور قرآن میں اجتہاد کاذکر موجود ہے۔ انبیاء علیھم السلام سے اجتہاد ہوا۔ حضرت دائود علیہ السلام حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلمان علیہ السلام نے اپنے اپنے فیصلوں میں اجتہاد کیا۔ اسیطرح حضرت موسیٰ علیہ السلام  اور حضرت ہارون علیہ السلام نے بھی اجتہاد کیا۔

 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج