روح ایمانﷺ

٭ حضرات محترم! اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مجدددین و ملت الشاہ احمد رضا خاں رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی محتاج تعارف نہیں ۔ اب ہمارے پاس علم و عمل کا کوئی سرمایہ ہے تو اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات مقدسہ کا یہ فیض ہے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی پر عمر بھر بھی بولتے رہیں کم ہے۔ وہ علم و عمل کے بحر ناپیدا کنار تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایمان کی روشنی عطا فرمائی۔ حب رسول ﷺ کا درس دیا اور میرا عقیدہ ہے کہ ایمان کی بنیاد حضور ﷺ کی محبت ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لَایُوّْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ
ترجمہ٭ حضورﷺ نے فرمایا! تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت اسکے والد اسکی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہوجائے۔(بخاری شریف)
٭ ہمارے ایمانوں کی جان ہمارے ایمانوں کی روح ہمارے ایمانوں کا مدار اور ہمارے ایمانوں کی بنیاد سرکارﷺ کی محبت ہے۔
شبہ
٭ لوگ کہیں گے کہ ایمان کی بنیاد تو اللہ تعالیٰ کی محبت ہونی چاہیے۔
شبہ کا ازالہ
٭ میں کہوں گا کہ محبت کا مرکز حسن ہے اور اللہ تعالیٰ کے حسن کا مظہر اتم حضرت محمدﷺ ہیں۔ اسلئے حضورﷺ سے ہٹ کر نہ تو اللہ تعالیٰ کی محبت ہوسکتی ہے اور نہ اطاعت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہ (النساء)
ترجمہ٭ جس نے رسولﷺ کی اطاعت کرلی اس نے اللہ  کی اطاعت کرلی۔
٭ ہم اللہ تعالیٰ  کاکلام نہیں سن سکتے۔ اللہ تعالیٰ  کاکلام ہمیں حضورﷺ کے ذریعہ سے پہنچا۔ اللہ تعالیٰ  کی رضا اور ناراضگی کا علم ہمیں سرکارﷺ سے ہوا ۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ  کس بات سے راضی ہوتا ہے اور کس بات سے ناراض؟ ہم اللہ تعالیٰ  کو راضی کرنے کیلئے کیاروش اختیار کیں اور اللہ تعالیٰ  کی اطاعت کیسے کریں؟تو اللہ تعالیٰ  نے ایک معیار مقرر فرما دیا اور بتا دیا ۔ اگر مجھے راضی کرنا چاہتے ہو تو میرے رسول ﷺ کو راضی کرلو۔ رسول ﷺ کی اطاعت کرلو اللہ تعالیٰ  کی اطاعت ہوگئی رسول ﷺ کو راضی کرلو اللہ تعالیٰ  راضی ہوگیا۔ رسول ﷺ سے محبت پیدا کرلو اللہ تعالیٰ  کی محبت پیدا ہوگئی کیونکہ حضورﷺ  کی ذات مقدسہ حسن الوہیت کا مظہر اتم ہے۔ حضورﷺ  آئینہ جمال الوہیت اور حسن ازل کی تجلی اول ہیں۔ لہذا حضورﷺ  کی محبت عین اللہ تعالیٰ  کی محبت ہے اور حضورﷺ  سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ  کی محبت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہی درس امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ نے ہمیں دیا ہے۔ اب ان چند ابتدائیہ کلمات کے بعد چند گذارشات اس آیت کے ضمن میں جامع اور مختصراً پیش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ  میری زبان پر کلمۃ الحق جاری فرمائے اور حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ  نے ارشا د فرمایا
وَمَا اَرْسَلْنَکَ اِلَّارَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ
ترجمہ٭اے محبوب! نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت تمام عالموں کیلئے۔(س انبیاء آیت ۱۰۷ پ ۱۷)
٭ نحوی توجیہات سے قطع نظر تفسیر روح المعانی سے ایک عبارت نقل کرتا ہوں کہ
وما ارسلنک فی حال من الاحوال الاحال کونک رحمۃ او ذارحمۃ اوراحمالھم
ترجمہ٭ اے محبوب ہم نے آپ کو کسی حال میں نہیں بھیجا صرف اس حال میں بھیجا کہ آپ تمام جہانوں پر رحم فرمانے والے ہیں۔(روح المعانی جلد ۹ ص ۱۵۵)
٭ اور
وَمَا اَرْسَلْنَک میںک ضمیر خطاب کا مصداق محمد رسول اللہ ﷺ ہے آج تک اس پر امت محمدیہ کا اجماع ہے اور رحمۃ اللعالمین میں کوئی تخصیص نہیں۔ العالمین عام ہے عالم کا معنی ماسوا اللہ ہے اور عالمین اسکی جمع ہے اور عالم سے مراد وہ چیز بھی ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ  کا علم اور اللہ تعالیٰ  کہ معرفت حاصل ہو گویا کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ  کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

ہرگیاہے کہ از زمین روید
وحدہ لاشریک لہ گوید

٭ ہر مصنوع اپنے صانع پر دلیل ہے کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ  کی ذات کو جاننے کا ذریعہ ہے ہر چیز جو اللہ تعالیٰ  نے پیدا کی وہ اللہ تعالیٰ  کے ماسوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ  تو پیدا ہونے سے پاک ہےتَعَالَ اللّٰہُ عَنْ ذٰالِکَ عُلُوَّا کَبِیْرًا
٭ حضرات محترم! العالمین میں اللہ تعالیٰ  کے سوا جو کچھ ہے شامل ہے اور العالمین میں کوئی تخصیص نہیں ہے وہ اپنے عموم پر ہے۔
٭ الحمدللہ رب العالمین میں بھی کوئی تخصیص نہیں ہےاللہ تعالیٰ  کیلئے تمام تعریفیں ہیں جو
العالمین کا رب ہے۔ یہاں العالمین میں کوئی تخصیص نہیں ہے اللہ تعالیٰ  کے سوا سب العالمین میں داخل ہیں۔ اگراللہ تعالیٰ  رب العالمین ہے تو حضورﷺ رحمۃ العالمین ہیں۔ نہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سے کوئی چیز باہر ہے اور نہ مصطفی ﷺ کی رحمت سے کوئی چیز باہر ہے۔
٭ حضورﷺ کی تمام صفات ذاتی اور ازلی نہیں ہیں بلکہ عطائی ہیں۔ حضورﷺ کی ہر صفت اور ہرکمال اللہ تعالیٰ  کا عطا کیا ہوا ہے بلکہ حضورﷺ  مظہر ذات و صفات ہیں میرے آقا کا علم اللہ تعالیٰ  کے علم کا ظہور ہے اگر حضور ﷺ کا علم غیب نہ ہوتا تو ہم اللہ تعالیٰ  کے علم غیب پر دلیل کہاں سے لاتے۔ حضورﷺ  کی قدرت اللہ تعالیٰ  کی قدرت پر دلیل ہے سرکار ﷺ کے اختیارات اللہ تعالیٰ  کے اختیارات پر دلیل ہیں۔ حضورﷺ  کی سماع اللہ تعالیٰ  کی سماع پر دلیل ہے حضور ﷺ  کی بصر اللہ تعالیٰ  کی بصر پر دلیل ہے سرکارﷺ کی رحمت اللہ تعالیٰ  کی رحمت پر دلیل ہے۔ ساری کائنات العالمین میں شامل ہے اور حضورﷺ  العالمین کیلئے راحم ہیں۔
٭ مصدر اسم فاعل کے معنی میں بھی آتا ہے اسم مفعول کے معنی میں بھی آتا ہے۔ عادل عدل کے معنی میں آتا ہے خلق مخلوق کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں رحمۃ راحم کے معنی میں ہے اور
ارسلنک کے مفعول سے ضمیر خطاب کا ذوالحال ہے اور رحمۃ اس سے حال ہے اور معنی کیاہوئے؟ کہ اے حبیب! ہم نے آپ ﷺ کو اسی حال میں بھیجا ہے کہ آپ ﷺ سارے جہانوں پر رحم فرمانیوالے ہیں۔ راحم کا معنیرحم کرنے والا یہ اسم فاعل ہے۔ اسم فاعل کسے کہتے ہیں؟من قام بہ الفعلجسکی ذات کیساتھ کوئی کام قائم ہووہ فاعل ہے جیسے کاتب کتابت کا فعل اس سے قائم ہے لہذا وہ کاتب ہوا۔ ضارب ضرب کا فعل اس کیساتھ قائم ہے لہذا وہ ضارب ہوا۔ لہذا راحم کون ہوگا جسکے ساتھ رحم کا فعل قائم ہوگا تو وہ راحم ہوگا۔
٭ کسی فعل کا کسی ذات کیساتھ قائم ہونا کس بات کا تقاضہ کرتا ہے۔ ذات ہی نہ ہو تو فعل کاقیام کس کیساتھ ہوگا؟ فعل کا قیام ذات کیساتھ ہوگا تو تب فاعل بنے گا۔ تو جب ذات ہی نہ ہو تو فعل کاقیام کس کیساتھ ہوگا؟ جب العالمین میں عموم ہے تو معنی یہ ہوئے کہ
اے محبوب ا! آپ اولین موجودین اور آخرین سب کے لئے کیلئے راحم ہیں
شبہ
٭ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب آپ ﷺاولین اور آخرین میں ہیں ہی نہیں تو آپ ﷺ ان کیلئے راحم کیسے ہونگے؟
شبہ کا ازالہ
اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیٰ
ترجمہ٭ اللہ تعالیٰ  نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا۔
٭ سب سے پہلے حضورﷺ  نہ ہوں تو پھر حضور ﷺ اولین کیلئے راحم کیسے ہونگے؟ اور العالمین کیلئے حضورﷺ  کا راحم ہونا کس بنیاد پر ہوگا؟تو اس نکتہ کو بھی صاحب روح المعانی نے عارفین کا قول نقل کرکے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کاالعالمین کیلئے راحم ہونااس امر پر مبنی ہے کہ العالمین فرع ہے اور سرکارﷺ اسکی اصل ہیں اور ہر اصل کے اندر فرع کیلئے رحمت ہوتی ہے ماں بچے کی اصل ہے اسکے دل میں بچے کیلئے رحمت ہے جسکی بنیاد پر بچہ پرورش پاتا ہے کیونکہ اصل کے اندر فرع کیلئے طبعاً رحمت ہوتی ہے لہذا العالمین کیلئے حضور کی ذات پاک میں طبعاً رحمت ہے اصل پہلے ہوتی ہے اور فرع بعد میں اسلئے سرکارﷺ نے فرمایا
اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیٰ اس حدیث پاک کو مجدد الف ثانی نے اپنے مکتوب شریف میں بھی درج فرمایا ہے اور اسکا انکار تو گویا چمکتے ہوئے سورج کا انکار کرنا ہے۔
(باقی تشریح خطبات کاظمی حصہ سوئم رحمت عالم میں دیکھئے)

وما علینا الاالبلاغ مبین
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج