ایک علمی نکتہ

اِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَۃِ
٭ اس آیت میں اور اس جیسے اور مقامات پرجہاں
اذ آیا ہے تو اس سے پہلے اذکرو مخذوف ہوتا ہے۔ جسکے معنی ہیںیادکرو مطلب یہ ہے کہ اے محبوب! فلاں موقع کا علم تو آپ کو ہے لیکن توجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم آپ کو یاد دلاتے ہیں ایک جگہ فرمایااِذْ قَالَ مُوْسیٰ لِقَوْمِہٖ اے محبوب! اس وقت کو یاد کرو کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کہا ۔ اگر حضور سید عالم ﷺ کو پہلے علم نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ فلاں واقعہ یاد کرو کیونکہ یوں خطاب اسی کو ہوتا ہے جسکو گذشتہ واقعات کا علم ضرور ہو۔ پس ثابت ہوا کہ حضور سید عالم ابتداء آفریش عالم سے سب کچھ ملاحظہ فرماتے رہے ہیں جسکی اللہ تعالیٰ اب یاد دلارہا ہے۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج