حقیقت شہادت

(۶ جمادی الثانی بمقام پپلاں والی مسجد اندرون بوہڑ گیٹ ملتان)
٭ حضرات محترم! شہادت کا لغوی معنی ہے
الشہادۃ الحضور یعنی شہادت بمعنی حاضر ہونا اور فقط یہی معنی نہیں بلکہ مع المشاہدۃ اما بالبصر او بالبصیرۃ حاضر ہونا ساتھ مشاہدہ کے اور وہ مشاہدہ بصر کیساتھ ہو یا بصیرت کیساتھ۔ یہ اجمال ہے اب اسکی تفصیل عرض کرتا ہوںجو چیز دیکھنے سننے اور چھونے سے تعلق رکھتی ہے اسکے ساتھ حاضر ہونا یہ شہادت ہے ۔ اگر فقط حاضر ہوا تو اسکو حضور کہیں گے شہید نہیں کہیں گے۔ یایوں سمجھئے کہ ایک شخص نیند میں ہے اور آپﷺ سے سوتے میں لائے اور واپس لے گئے تو یہ شہید نہ ہوگا وہ تو سویا ہوا تھا نہ سنتا تھا اور نہ دیکھتا تھا اور نہ ہاتھ سے چھوسکتا تھا اور شہادت ایسے مقام کانام ہے کہ جہاں سننا دیکھنا اور چھونا پایاجائے۔ آپ جانتے ہیںالشہاد ۃ الحضور مع المشاہدۃ اما بالبصراو بالبصیرۃ حاضر ہونا ساتھ مشاہدہ کے اور وہ مشاہدہ بصر کیساتھ ہویا بصیرت کیساتھ۔ جب تک مشاہدہ نہ ہو اسکی حاضری کانام شہادت نہیں ہو سکتااور مقتول فی سبیل اللہ کو شہید اسلئے کہاجاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمتوں کا ادارک اور مشاہدہ کرتا ہے اور اسی کو شہید کہاجاتا ہے۔ دنیا کے نزدیک شہید وہ ہے جو کفار کیساتھ جنگ کرتے کرتے مقتول ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید وہ ہے جو اللہ کی بارگاہ میں اللہ کے عطاکردہ مرتبے کاادراک اور مشاہدہ کرے فقط جنگ میں قتل ہونیکا نام شہادت نہیں ہے مثلاً ایک شخص جنگ میں اس کوشش میں ہے کہ کسیطرح میری جان بچ جائے اور وہ اپنی جان اللہ کی راہ میں نہیں دینا چاہتا مگر کسی کافر کے وار سے قتل ہوجاتا ہے وہ لوگوں اور فقہا کے نزدیک تو شہید ہے مگر اللہ کے نزدیک شہید نہیں ہے اور اسکے برعکس ایک اور شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اللہ اور اسکے محبوب کی محبت میں اپنی جان دینا چاہتا ہے مگر موقع ہی نہیں ملا کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان دے تو خدا کی قسم خواہ وہ بستر پر بھی فوت ہوجائے قیامت کے دن شہیداء میں سے اٹھے گا۔
شبہ
٭ بعض لوگوں نے کہا کہ قتل تو شہید ہورہا ہے اور اسکی تکلیف کا علم سرکارﷺ کو کیسے ہوگیا کہ اسے چیونٹی کے بچہ کے کاٹنے سے بھی کم تکلیف ہو جبکہ وہ بے دردی کے ساتھ قتل ہورہا ہے۔
شبہ کا ازالہ
٭ پہلی بات تو یہ ہے کہ سرکارﷺ نے جو فرما دیا وہ حق ہے اس پر اللہ نہیں کرنا چاہئے اور دوسری بات یہ ہے کہ حضور سید عالم ﷺ ہماری جانوں سے بھی ہمارے زیادہ قریب ہیں۔ اب میرے جسم کے اعضاء مجھ سے قریب ہیں آپ اگر میرے جسم کے کسی حصہ کو دبائیں مجھے خبر ہوجائیگی۔ اسیطرح قربان آقا ﷺ کے مقتول فی سبیل اللہ شہید ہوا اور علم آقا ﷺ کو ہے حتی کہ اس تکلیف کا علم بھی آقا ﷺ کو ہوگیا۔ یہ ہے کہ اصل وجہ یہ شہادت کی روح محبت ہے۔ مثلاً آپ سے آپ کی بیوی یا بچے نے کہا کہ فلاں چیز خرید دو تو اگر آپ کو ان سے محبت ہے تو فوراً وہ چیز خرید کر دے دیں گے اگر محبت نہیں ہے تو جیب سے رقم نکالنا دشوار ہوگا۔ جب محبت کے بغیر رقم جیب سے نہیں نکلتی تو جان کیسے نکلتی ہے؟
شبہ
٭ آپ کہیں گے کہ جنگ وغیرہ میں ہزاروں جانیں نکلتی ہیں تو کیا سب جانیں اسی طرح مقتول فی سبیل اللہ ہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ سب جانیں جو خدا اور رسولﷺ کی محبت کے بغیر جاتی ہیں ویسے ہی جاتی ہیں انہیں ان شہدا کے ساتھ کوئی نسبت نہیں یہ ایک شیوہ بربریت ہے اور یہ میرے موضوع سے بھی باہر ہے۔
٭ بہر کیف شہداء محبت میں جان دیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ جب تک خدا اور رسولﷺ  کی محبت نہ ہو جان نہیں دی جاسکتی ۔کیونکہ جو مخمور ہوتا ہے اور شراب محمدی میں سرشار ہوتا ہے۔ محبوب کی مستی میں دیدار کی آرزو میں اور محبت کے نشہ میں چور ہوتا ہے اور انتہا میں پہنچ کر اپنے حال سے بے خبر ہوکر جان دے دیتا ہے اور یہ شہید ہوتا ہے اور اسکا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا ہے کہ جب زلیخا کو زبان مصر نے تکلیف دی کہ تو مملوک پر مفتون ہوگئی ہے تو زلیخا نے تمام طعنہ زنوں کو جمع کیا اور انکے ایک ہاتھ میں چھری دیدی اوردوسرے ہاتھ میں ایک میوہ دے دیا اور کہا کہ یوسف علیہ السلام جس وقت سامنے آئیں تو اس وقت میوئوں کو کاٹنا تو جس وقت یوسف علیہ السلام سامنے آئے اور انکی آنکھیں حضرت یوسف علیہ السلام کے رخ انور کے دیدار میں مصروف ہوئیں اور ادھر میوے کاٹے تو انکے ہاتھ کٹ گئے اور انہیں پتہ نہ چلا اور یہ نہ کہا کہ ہائے افسوس ہاتھ کٹ گئے بلکہ یہ کہا کہ
حَاشَ لِلّٰہِ مِاھٰذَا بَشَرًا اِنْ ھٰذَا اِلَّامَلَکٌ کَرِیْمٌ
ترجمہ٭ پاکی ہے اللہ تعالیٰ کیلئے یہ بشر نہیں یہ تو نہیں ہے مگر کوئی معزز فرشتہ۔( س یوسف آیت ۳۱)
٭ یعنی یہ بشر ہی نہیں کوئی فرشتہ اتر کر آیا ہے۔ اب بتائیے کہ جہاں حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت اور انوار ہوں وہاں ہاتھ کٹ جانے کی خبر نہیں اور پھر جہاں محبت محمد مصطفی ﷺ  اور آپﷺ کے انوار ہوں وہاں جان کا پتہ کیسے چل سکتا ہے۔ اس لئے حضورﷺ  نے فرمایا
اَلشَّہِیْدُ لَایَجِدُاَلَمَ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدْاَ حَدُکُمْ اَلَمَ مَسِّ الْقرْصَۃِ
ترجمہ٭ طبرانی نے ابو قتادہ سے روایت کی کہ رسولﷺ  نے فرمایا کہ شہید موت کی تکلیف صرف اتنی پاتا ہے جتنی کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔(شرح الصدور عربی ص ۱۴)
٭ آج اگر کوئی ک کی بات کا انکار کرے تو اسے کیاکہاجائے۔ تو اس سلسلہ میں میں اتنا عرض کروں گا کہ جب تم کسی ماہر جراحی کے پاس جاتے ہو اور وہ تمہیں نشہ آور دوائی پلاکر بیہوش کرکے اپریشن کرتا ہے زخمی کرتا ہے اور پھر زخم سیتا ہے اور تمہیں درد کا احساس بھی نہیں ہوتا تو جہاں عشق کا نشہ چڑھ جائے تو اسکو اپنی جان کی تکلیف کیسے محسوس ہو؟ بخاری شریف ص ۵۶۸ جلد دوئم میں ہے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو کفار نے لوہے کے پنجرہ میں قید کردیا۔ کھانے اور پینے کو بغیر شراب اور خنزیر کے نہ دیتے تھے۔ مگر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کبھی شراب اور خنزیر کیطرف ہاتھ نہ اٹھایا۔ کفار نے کہا تمہارے مذہب میں حالت اضطرار میں خنزیر کا گوشت کھانا جائز ہے کیوں نہیں کھاتے تو آپ نے فرمایا اگر میں کھائوں گا تو تم خوش ہوگے اور تم میرے محبوب ﷺ کے دشمن ہو میں اپنے محبوب ﷺ کے دشمنوں کو خوش نہیں دیکھ سکتا۔ حتی کہ جب قتل کیلئے لوہے کے پنجرہ سے باہر لائے گئے تو کفار نے پوچھا کوئی تمنا ہو تو ظاہر کرو۔انہوں نے کہا مدت ہوگئی لوہے کے پنجرہ میں کھڑا ہوں ہلنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ نماز نہیں پڑھ سکا۔ دو رکعت نماز پڑھنے دی جائے مورخین اور ارباب سیر نے آپ کی ایک اور خواہش کا اظہار کیا ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ قتل کے وقت میرا چہرہ مدینہ کی طرف کردینا۔ مگر کفار نے کہا ہم مدینے والے کی دشمنی میں تو قتل کررہے ہیں ہم تمہاری یہ خواہش پوری نہیں کرسکتے البتہ دو رکعت نفل پڑھ سکتے ہو چنانچہ آپ نے دو رکعت نفل پڑھی اورقیام و رکوع اور سجدوں میں جلدی کی تو کسی نے پوچھا کہ ہم نے تو یہ سوچا تھا کہ جی بھر کر قیام و رکوع و سجود کروگے مگر آپ نے تو جلدی کی۔ کیوں؟آپ نے فرمایا ہاں دل تو چاہتا تھا کہ لمبا قیام رکوع و سجدہ کروں مگر اس خیال سے جلدی کی کہ کہیں تم لوگ یہ کہو کہ مصطفی ﷺ  کے غلام موت کے خوف سے نمازیں لمبی کردیتے ہیں اور میں یہ داغ محبوب پر لگانا نہیں چاہتا تھا۔ اسلئے نماز میں جلدی کی ہے تو آپ نے اس وقت سات اشعار پڑھے اور شعراء سے پوچھیں! اشعار انتہائی سکون اور اطمینان کی حالت میں تیار ہوتے ہیں۔ تو معلوم ہوا شہدا کو تلوار کے سامنے بھی اتنا سکون ہوتا ہے کہ اتنا کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ ان سات اشعار میں سے دو اشعار بخاری شریف میں موجود ہیں۔ وہ یہ ہیں

فلست ابالی حین اقتل مسلما
علی ای جنب کان فی اللہ مصرعی
وذاک فی ذات الا لہ وان یشاء
یبارک فی اوصال شلو ممزع

ترجمہ٭ مجھے کوئی خوف نہیں جب کہ مسلمان ہوکر قتل کیا جارہا ہوں جس پہلو پر لٹا دیں لٹا دیں میرا مقتول ہونا فی سبیل اللہ ہے اور کافرو! میرا منہ تو بدل سکتے ہو میرا دل نہیں بدل سکتے۔ دل مدینہ کی طرف ہوگا اور اگر میرا رب چاہے تو میرے جسم کے ذروں کو غبار بناکر مدینہ منورہ کی گلیوں میں پہنچا دے اسکے لئے کچھ محال نہیں۔
٭ بہرحال میں نے مختصراً شہید کے بارے میں بتا دیا ۔ تفصیل کی گنجائش نہیں۔

 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج