ثبوت اعراس

(۶ جمادی الاول)
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤُمِنَیْنَ اِذْ بََعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاَ مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوَا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْن(ال عمران آیت۱۶۴)
٭ حضرات محترم! بارگاہ پیران پیر رضی اللہ عنہ کے عرس پر حضرت مخدوم صاحب کی محبت و اصرار نے مجھے حاضر کیا میں چند مسائل شرعیہ جو اس محفل کے انعقاد کیساتھ وابستہ ہیں انکا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ لفظ عرس اس مبارک تقریب کو کہاجاتا ہے کہ جس دن کسی بزرگ کا یوم وصال ہو۔ اس دن اسکی روح کو ایصال ثواب کرنے اور ان سے روحانی فیض پانے کانام عرس ہے۔
شبہ
٭ یہ کہاجاتا ہے کہ یہ عرس حضورﷺ اور صحابہ کے زمانہ میں نہ تھے اور نہ ہی انکے بارے میں کوئی شرعی دلیل ہے لہذا ایسا کام جسکی اسلام میں کوئی اصل نہ ہو وہ ضلالت و گمراہی ہے۔
شبہ کا ازالہ
٭ میں عرض کروں گا جو کام حضورﷺ نے نہ کیا ہو اسکو ضلالت و گمراہی قرار دینا غلط ہے اسکے بارے میں بخاری شریف کی دو حدیثیں پیش کرتا ہوں پہلی حدیث مبارکہ تو یہ ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ جہاد شروع ہوا تو صحابہ خصوصاً وہ جنکے سینوں میں قرآن مجید کی امانت رکھی ہوئی تھی بکثرت شہید ہونے لگے اور وہ وقت تھا کہ کہیں قرآن پتھروں پر کہیں کھجورں کے پتوں پر اور کہیں ہڈیوں پر لکھا ہوا تھا۔ تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قاریان و حفاظ قرآن کریم بکثرت شہید ہورہے ہیں کہیں کلام الہی ہم سے ضائع نہ ہوجائے لہذا قرآن کو یکجا جمع کیاجائے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا
کَیْفَ اَفْعَلْ شَیْأًلَمْ یَفْعَلْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یعنی میں وہ کام کیسے کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسمیں خیر کا پہلو ہے اور اسمیں ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے لیکن حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے وہی جواب دیا۔ مراجعت کلام کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرِیْ لِلَّذِیْ شَرَحَ لَہٗ صَدْرَ عُمَر حتی کہ جس امر کیلئے اللہ تعالیٰ نے عمر کا سینہ کھولا تھا اسی امر کیلئے میرا سینہ بھی کھول دیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مشورہ بہت اچھا ہے اور واقعی اس کام میں بھلائی ہے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ جو کاتب وحی اور صاحب امانت و دیانت تھے کوبلایا اور وہی بات دھرائی جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کی تھی اور ویسے ہی مراجعت کلام ہوئی اور زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایاحَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرِیْ لِلَّذِیْ شَرَحَ لَہٗ صَدْرَ اَبِیْ بَکْرٍوَعُمَر حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس امر کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا سینہ کھولا تھا اسی امر کیلئے میرا سینہ بھی کھول دیا اور میں نے جان لیا کہ قرآن ضرور جمع کیاجائے۔ اس میں خیر ہے۔
٭ اب سوچنے کی بات ہے کہ حدیث شریف قیامت تک آنیوالوں مسلمانوں کیلئے مشعل راہ اورراہ ہدایت ہے کہ جس کام کو حضور سید عالم ﷺ نے نہ کیا ہو اور اسکی ممانعت بھی نہ ہو اور اسمیں خیر اور بھلائی کا پہلو ہو تو وہ کام جائز ہے۔ اسیطرح ان اعراس کا اصل مقصد ایصال ثواب ہے اور یہ جائز ہے اور اسکی اصل بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت سعد حضور اقدسﷺ  کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہے اور میں انکی طرف سے کچھ صدقہ پیش کرنا چاہتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا اسکے نام سے کنواں لگائیں جسکا ثواب اسی کو ملتا رہے گا اسکے علاوہ حضورﷺ خود جنت البقع میں تشریف لے جاتے تھے اور فرمایا ! تم بھی ایسا کیاکرو معلوم ہوا کسی کی قبر پر جانا جائز ہے۔ جمع قرآن سے بھی معلوم ہوگیا کہ یہ بدعت(ضلالہ) نہیں ہے اگر یہ (قبر پہ جانا) بدعت ہے تو جمع قرآن بھی بدعت ہوگیا لیکن قرآن بدعت ہو نہیں ہوسکتا۔
٭ اگر آج ہم اس اصل مقصد کو فوت کردیں تو یہ ہماری غلطی ہے ہمیں چاہیے کہ اس غلطی کو دور کریں۔ آج تو ہماری نمازوں میں بھی اصل مقصد فوت ہوگیا ہے۔ اسطرح ہم حج روزہ وزکوۃ میں بھی اصل مقصد سے دور ہوگئے ہیں۔ اس سے یہ نہ کہاجائے کہ نماز روزہ حج اور زکوۃ کو چھوڑ دیں بلکہ یہ کہاجائے گا کہ اس غلطی کو دور کریں اور اصل مقصد کوحاصل کرنیکی کوشش کریں۔ اسیطرح یہ نہ کہاجائیگا کہ عرس کو چھوڑ دو بلکہ یہ کہاجائیگا کہ جو زیادتی خلاف شرع بات پائی جائے اسکو مٹانے کی کوشش کی جائے نہ کہ اعراس سے روکاجائے جن حضرات قدسیہ کے ہم اعراس مناتے ہیں انکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًٰا فَقَدْاٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ
ترجمہ٭ کہ جس نے میرے ولیوں کے ساتھ دشمنی رکھی اس سے میرا اعلان جنگ ہے۔
٭ جسکے ساتھ خدا جنگ کرے وہ کسی طرح نجات نہیں پاسکتا ولیوں سے بغض وحسد والا نجات سے محروم رہے گا۔
٭ رہا عرس کا مطلب! عرس ماخوذ ہے عروس سے حدیث میں ہے حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا کہ مومن جب قبر میں صحیح جواب دیتا ہے تو حکم ہوتا ہے
نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعرُوْسِ نتیند کر جیسے عروس نتیند کرتی ہے اور عروس کا معنی خوشی بھی ہے اور خوشی محبوب کے ملنے سے حاصل ہوتی ہے ۔ اور جب موت کا فرشتہ محبوب کے وصال کی خوشخبری دیتا ہے تو مومن کے لبوں پر تبسم ہوتا ہے۔ اور یہی اولیاء اللہ کی پاک زندگی ہے اسلئے حدیث میں عروس کا لفظ آیا کہ محبوب حقیقی کی ملاقات کا وقت آگیا ہے۔ بعض لوگ حاضر ہوکر قرآن کے ختم پڑھ کر پیش کرتے ہیں کوئی بکرا وغیرہ ہدیہ پیش کرتے ہیں بعض دیگر نذرانے پیش کرتے ہیں مگر جاتے وقت خالی ہاتھ نہیں جاتے لیکن یہ سب کچھ رضا پر موقوف ہے یہ عرس پاک مختصر تزکرہ تھا اب اگر کوئی عرس کو ناجائزکہے تو اپنے اکابر کو دیکھے شاہ ولی اللہ صاحب اور انکے والد شاہ عبدالرحیم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رضی اللہ عنہ اور دیگرحضرات کا بھی یہی طرز عمل تھا۔ باقی رہا سرود وغیرہ تو یہ امر مختلف فیہ ہے لہذا اس سے آپ خاموش رہیں اور میں چونکہ صابری چشتی ہوں چند شرائط کیساتھ جائز قرار دیتا ہوں اگر کوئی تجاوز کرتا ہے تو اسکی اپنی کمی ہے ہم اللہ تعالیٰ والوں کو مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ والوں کو ماننا درحقیقت اللہ تعالیٰ کو ماننا ہے کبھی کسی مسلمان نے ابو جہل ابو لہب وغیرہ کا عرس نہیں کیا بلکہ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا عرس کیا ہے۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج